جان میجر کی ’’بیک ٹو بیسکس‘‘ مہم
اخلاقی بیانیے کی ایک سیاسی تمثیل

جان میجر برطانوی سیاست کا ایک اہم نام ہیں جنہوں نے 1990ء سے 1997ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اس نامور سیاستدان نے مارگریٹ تھیچر کے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ جان میجر کا سیاسی سفر غیر معمولی تھا کیونکہ وہ تعلیمی اعتبار سے رسمی سکولنگ سے محروم رہنے کے باوجود برطانیہ کی اعلیٰ ترین سیاسی منزل تک پہنچے۔ ان کے دورِ حکومت میں "ماسٹریخت" معاہدے پر دستخط اور یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی کی پالیسیوں کو نمایاں حیثیت حاصل رہی، تاہم ان کی پارٹی یورپ کے معاملے پر شدید تقسیم کا شکار رہی۔ انہوں نے "بیک ٹو بیسکس" (Back to Basics) کے نام سے ایک سماجی بیانیہ متعارف کرایا، جسے بعد میں اخلاقی تنازعات نے نقصان پہنچایا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو تاریخی شکست ہوئی، جس کے بعد جان میجر نے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دے دیا۔ مجموعی طور پر انہیں ایک پرعزم اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جن کا دور برطانوی سیاست میں ایک نازک اور اہم موڑ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

90ء کی دہائی کا آغاز برطانیہ کے لیے ایک پیچیدہ اور مبہم دور تھا۔ امریکہ اور روس کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری "سرد جنگ" کے خاتمے نے بین الاقوامی سیاست کے ایک نئے دھارے کو جنم دیا تھا۔ یورپی اتحاد کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات نازک موڑ پر تھے، اور مارگریٹ تھیچر کے طویل اور انقلابی دور کے بعد کنزرویٹِو پارٹی ایک نئی سمت کی تلاش میں تھی۔ ایسے میں وزیراعظم جان میجر نے قدامت پسندی کے ایک نئے بیانیے کو جنم دیا: "بیک ٹو بیسکس"۔ یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سماجی منشور تھا جو ملک کو بنیادی اخلاقی اقدار کی جانب لوٹانے کا ایک وعدہ تھا۔ تاہم، یہی مہم ایک ایسے سیاسی المیے میں بدل گئی جس نے نہ صرف جان میجر کی حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا بلکہ برطانوی سیاست میں اخلاق اور عمل کے درمیان گہرے تضاد کو بھی عیاں کر دیا۔

جان میجر نے "بیک ٹو بیسکس" کا باقاعدہ اعلان 1993ء میں کیا لیکن اس کی بنیادیں ان کے اقتدار سنبھالتے ہی قائم کی جا چکی تھیں۔ تھیچرازم کے معاشی و سماجی انقلاب کے بعد ایک قسم کی اکتاہٹ اور اخلاقی بے راہ روی کا احساس عام تھا۔ معاشرے میں خاندانی ڈھانچے کمزور ہو رہے تھے، جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا تھا، اور ایک عمومی احساس تھا کہ مادی ترقی کے باوجود سماجی رشتے بکھر رہے ہیں۔ جان میجر، جو خود تھیچر کے نرم خو اور مفاہمت پسند جانشین کے طور پر جانے جاتے تھے، انہوں نے محسوس کیا کہ قوم کو ایک مضبوط اخلاقی بیانیے کی ضرورت ہے۔ ان کی نظر میں "بنیادیات" کی واپسی کا مطلب تھا:

  • خاندان کو مرکزی حیثیت دینا،
  • والدین کی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا،
  • تعلیمی نظام میں نظم و ضبط کو بحال کرنا،
  • اور شہریوں میں انفرادی ذمہ داری کا جذبہ پیدا کرنا۔

یہ ایک ایسا پیغام تھا جو خاص طور پر دیہی اور مضافاتی علاقوں کے روایتی کنزرویٹِو ووٹروں کے دل کو چھونے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جو شہریت اور ثقافت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں سے خائف تھے۔ البتہ اس اخلاقی بیانیے کے پیچھے ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی بھی کارفرما تھی۔ کنزرویٹِو پارٹی یورپی معاہدہ ماستریخت (Maastricht) کی منظوری کے معاملے پر شدید طور پر منقسم تھی۔ پارٹی میں "یوروسپٹک" (Eurosceptic) اور "یوروفائل" (Europhile) دھڑوں کے درمیان کشمکش عروج پر تھی۔ ایسے میں "بیک ٹو بیسکس" ایک ایسے متحد کرنے والے نعرے کے طور پر سامنے آیا جو داخلی اختلافات پر پردہ ڈال سکتا تھا اور پارٹی کو ایک ایسے مشن کے گرد جمع کر سکتا تھا جو ہر قدامت پسند کے لیے قابلِ فہم تھا۔ یہ ایک ایسی کوشش تھی جس میں مارگریٹ تھیچر کے معاشی لبرل ازم کے بجائے سماجی قدامت پسندی کو مرکز میں رکھا گیا، شاید یہ سوچ کر کہ یہی وہ دائرہ ہے جہاں پر پارٹی اپنا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

بدقسمتی سے یہ مہم شروع ہوتے ہی اپنے ہی تضادات کا شکار ہو گئی۔ جان میجر کی کابینہ اور پارٹی کے اراکین ایک کے بعد ایک ایسے اسکینڈلز میں ملوث پائے گئے جنہوں نے "بنیادی اقدار" کے تمام دعوؤں کو پامال کر دیا۔ وزراء کی غیر اخلاقی تعلقات میں ملوث ہونے کی خبریں، ارکانِ پارلیمنٹ کا رشوت اور مفاد کے ٹکراؤ کے معاملات، اور ذاتی طرز عمل میں بے ضابطگیوں کے واقعات نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ اخبارات نے خوب طنزیہ انداز میں حکومت کے اخلاقی خطابات اور ان کے اراکین کے رویے کے درمیان فرق کو نمایاں کیا۔ عوام کے سامنے یہ تصویر ابھر کر آئی کہ حکمران طبقہ عوام کو تو اخلاقیات کا درس دے رہا ہے، لیکن خود ان اصولوں کو اپنے لیے غیر لازم قرار دے چکا ہے۔ "بیک ٹو بیسکس" کا نعرہ جلد ہی طنزیہ کالموں اور تبصرات کا نشانہ بن گیا، اور عوامی محفلوں میں اس کا تذکرہ ایک مذاق کی طرح ہونے لگا۔

اخلاقی بیانیے اور عملی کارکردگی کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تضاد کنزرویٹِو پارٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ عوام نے اس مہم کو حکومت کی بے عملی اور زمینی حقائق سے دوری کی علامت کے طور پر دیکھا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں کنزرویٹِو پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور ٹونی بلیئر کی لیبر پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ شکست صرف ایک سیاسی شکست نہیں تھی، بلکہ ایک بیانیے کے مکمل بکھر جانے کا اعلان تھی۔ "بیک ٹو بیسکس" مہم کنزرویٹو پارٹی کے اس زوال کی ایک اہم وجہ کے طور پر تاریخ میں درج ہو گئی، جو اس بات کا ثبوت تھی کہ عوامی زندگی میں اخلاقی بالادستی کا دعویٰ کرنے والوں کو اپنے دامن بھی پاک صاف رکھنے چاہئیں۔

آج کئی دہائیوں بعد جان میجر کی "بیک ٹو بیسکس" مہم برطانوی سیاسی تاریخ کے طالب علموں کے لیے ایک گہرا سبق بن چکی ہے۔ یہ واقعہ سیاست میں اخلاقیات کے استعمال کے خطرات کو واضح کرتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب دعوے اور عمل ایک دوسرے کی نفی کریں۔ یہ مہم اس بات کی بھی عکاس ہے کہ کس طرح ایک سیاسی جماعت، وقتی بحران سے نمٹنے کے لیے، ایک ایسے بیانیے کو اپنا سکتی ہے جو اس کے اپنے ڈھانچے کو سہارا دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ جان میجر کی ذاتی نیک نیتی پر تو شاید ہی کوئی انگلی اٹھائے، لیکن ان کی سیاسی بصیرت پر ضرور سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے سماجی مرض کی تشخیص تو کی جسے عوام محسوس کر رہے تھے، لیکن اس کا علاج ایک ایسی دوا سے کرنے کی کوشش کی جو خود ان کی حکومت کے لیے زہر ثابت ہوئی۔

"بیک ٹو بیسکس" کا سفر ایک ایسی سیاسی تمثیل بن کر رہ گیا ہے جس کا اختتام المناک ہوا۔ یہ ایک ایسا نعرہ تھا جو سادگی اور صداقت کی واپسی کا خواب دکھاتا تھا، لیکن اپنے ہی پیدا کردہ تناقضات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہ نعرہ جان میجر کے دورِ حکومت کے ساتھ کچھ اس طرح سے وابستہ ہو گیا ہے کہ آج بھی ان کا تذکرہ اس نعرے کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ مہم برطانوی سیاست میں ایک بنیادی سوال چھوڑ گئی: کیا ریاست کو اخلاقیات کا محافظ بننا چاہیے؟ اور اگر بننا چاہیے، تو کیا یہ کام وہ قانون سازی اور خطابات سے کر سکتی ہے، یا اس کے لیے لازم ہے کہ حکمران طبقہ خود اس کا نمونہ بن کر دکھائے؟ "بیک ٹو بیسکس" کا المیہ یہی ہے کہ اس نے سوال تو اٹھایا، لیکن اپنے عمل سے جواب دینے میں ناکام رہی، اور اسی ناکامی نے اسے تاریخ کے صفحات میں محفوظ کر دیا۔


اقسام مواد

مضامین