روس میں صدارتی الیکشن کی ضرورت؟

(آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بین اینسل سے این پی آر کے انٹرویو کے بنیادی تصورات)

روس میں صدارتی انتخابات کے تناظر میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ جب نتائج پہلے سے واضح ہوں تو ولادیمیر پیوٹن جیسے طاقتور رہنما انتخابات کا انعقاد کیوں کرتے ہیں؟ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بین اینسل کے خیالات کے مطابق اس کے چند اہم محرکات درج ذیل ہیں:

بین الاقوامی اور مقامی جواز

آمرانہ مصلحت کے تحت انتخابات محض حکومت سازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ڈھال ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر کئی ممالک خود کو جمہوری دکھا کر مغربی دنیا، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ بہتر سودے بازی اور فوجی اتحاد برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ مقامی سطح پر پیوٹن کا مشہور "70/70 فارمولا" (70 فیصد ٹرن آؤٹ اور 70 فیصد ووٹ) اس بات کا ثبوت پیش کرنے کے لیے ہے کہ عوام واقعی ان سے محبت کرتے ہیں۔ یہ 95 فیصد جیسے غیر حقیقت پسندانہ نتائج کے مقابلے میں زیادہ "اصلی" دکھائی دیتا ہے۔

با اثر طبقات اور اپوزیشن کو قابو میں رکھنا

انتخابات طاقت کی نمائش کا ایک ذریعہ ہیں۔ جب ایک رہنما بھاری اکثریت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنی سیاسی حریفوں اور مخالفین کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اس کے خلاف اٹھنا بے سود ہے۔ یہ اپوزیشن کی ہمت توڑنے کا ایک نفسیاتی حربہ ہے۔

اقتدار پر قبضہ کے سخت اور نرم طریقے

پروفیسر اینسل کے مطابق آمرانہ نظام انتخابات جیتنے کے لیے دو طرح کے طریقے استعمال کرتے ہیں:

  1. سخت طریقے: جن میں بیلٹ بکس کو دھاندلی کے ذریعے بھرنا، یا نتائج میں براہ راست تبدیلی کر دینا (جیسا کہ بیلاروس میں دیکھا گیا)، تاہم اس میں عوامی ردِعمل اور خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
  2. نرم طریقے: جو جدید اور زیادہ مؤثر ہیں، جن میں مخالفین پر مقدمات چلا کر انہیں نااہل کرنا (جیسے الیکسی نوالنی کے ساتھ ہوا)، یا میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے صرف حکومتی بیانیے کی تشہیر کرنا شامل ہے۔

انتخابات کے خطرات

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات ایسے حربے ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر آمریت کی گرفت کمزور ہو تو انتخابات عوامی غم و غصے کے اظہار کا راستہ بن سکتے ہیں، جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں زیمبیا کے کینتھ کونڈا کے ساتھ ہوا، جہاں ریفرنڈم اور کثیر الجماعتی انتخابات ان کی اقتدار سے بے دخلی کا سبب بنے۔

خلاصہ یہ کہ روس جیسے ممالک میں انتخابات کا مقصد قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ پہلے سے موجود نظام کو مستحکم کرنا، عوامی حمایت کا بھرم قائم رکھنا، اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ بچانا ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کے لیے یہ محض ووٹنگ نہیں بلکہ ان کی سیاسی مقبولیت کا ایک سوچی سمجھی "پرفارمنس" ہے۔