خطابات
زندگی سنوارنے کا آخری دور
زندگی کے چالیسویں اور پچاسویں دہائی کے سال ایک ایسا اہم موڑ ہوتے ہیں جہاں انسان کو یہ تلخ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جتنا وہ سمجھتا ہے۔ مکمل تحریر
انسان کو کتنی زمین چاہیے؟
سو سال پہلے ٹالسٹائی نے ایک کسان کی کہانی لکھی تھی۔ وہ کسان ایک محنتی اور عام سا کسان تھا۔ وہ بہت زیادہ لالچی اور برا انسان نہیں تھا مگر اس کے ذہن میں ایک ہی بات سوار رہتی تھی کہ اگر میرے پاس تھوڑی اور زمین ہو جائے تو مکمل تحریر
پاکستان کا سیاسی بحران
خواجہ محمد سعد رفیق کی ایک گفتگو کی تدوین یہاں پیش کی جا رہی ہے جس میں انہوں پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کی ہے۔ مکمل تحریر
مغرب کے خوابِ غفلت کا نتیجہ
کشور محبوبانی کے نزدیک مغرب کے ’’خوابِ غفلت‘‘ میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اپنی طاقت کا علم نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کو تسلیم کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔ مکمل تحریر
سقوطِ اندلس کا آخری باب
ڈاکٹر شیخ یاسر قاضی کے ایک خطاب کا خلاصہ جس میں انہوں نے 1492ء میں مسلم اقتدار کے خاتمہ سے لے کر 1609ء تک اندلس کے حالات و واقعات کا ذکر کیا ہے۔ مکمل تحریر
ذوالفقار علی بھٹو کے تین نمایاں کارنامے
“بھٹو زندہ ہیں” کی وضاحت کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو دراصل اپنی جرأت اور پاکستان اور مسلم دنیا کے متعلق اپنے وژن اور کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں مکمل تحریر
مسلم دنیا تاریخ کے نئے موڑ پر
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مسلم ممالک نے اپنی سیاست، معیشت اور دفاع کا انحصار مغربی طاقتوں پر رکھا جس کے نتائج سامنے ہیں، اب ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کا وقت آگیا ہے …
مکمل تحریر
مذہبی اختلاف کا سبب اور نمٹنے کا اصول
مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنے ایک خطاب میں مذہبی اختلاف کا سبب بیان کیا ہے اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے ایک بنیادی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کا طریقہ بھی بتایا ہے مکمل تحریر
Page 1 of 3 اگلا صفحہ