خطابات

ذوالفقار علی بھٹو کے تین نمایاں کارنامے

“بھٹو زندہ ہیں” کی وضاحت کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو دراصل اپنی جرأت اور پاکستان اور مسلم دنیا کے متعلق اپنے وژن اور کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں مکمل تحریر

مسلم دنیا تاریخ کے نئے موڑ پر

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مسلم ممالک نے اپنی سیاست، معیشت اور دفاع کا انحصار مغربی طاقتوں پر رکھا جس کے نتائج سامنے ہیں، اب ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کا وقت آگیا ہے … مکمل تحریر

مذہبی اختلاف کا سبب اور نمٹنے کا اصول

مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنے ایک خطاب میں مذہبی اختلاف کا سبب بیان کیا ہے اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے ایک بنیادی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کا طریقہ بھی بتایا ہے مکمل تحریر

صدر ٹرمپ، مذہب اور سیاست

’’نیشنل پریئر بریکفاسٹ‘‘ کی 74ویں سالانہ تقریب کے دوران امریکی صدر نے مذہب کے ساتھ سیاست کو بھی موضوعِ گفتگو بنایا ہے جس کی وجہ سے ان کا خطاب عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے مکمل تحریر

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے اس علمی و فکری کردار کو سراہا جو مسلسل قومی سطح کے اہم معاملات پر غور و فکر اور مکالمے کے مواقع فراہم کرتی ہے، ایسے فورمز اہلِ دانش کو مختلف زاویہ ہائے نظر سننے کا موقع دیتے ہیں مکمل تحریر

پروفیسر خورشید احمد کے افکار

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک تقریب سے پروفیسر خورشید احمد کی اپنی ذاتی زندگی، دو قومی نظریہ، اسلامی ریاست، امتِ مسلمہ، نوجوانوں کی ذمہ داریاں، علم و تحقیق، و دیگر عنوانات پر تفصیلی گفتگو۔ مکمل تحریر

بوریت کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر آرتھر بروکس کے مطابق آپ کا بور ہونا آپ کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی بور نہیں ہوتے تو آپ کی زندگی سے مقصدیت ختم ہو جائے گی اور آپ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مکمل تحریر

خدا کو پہچاننے کا میرا سفر

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے حالیہ مباحثہ کے تناظر میں خدا کے وجود اور مذہب و سائنس کے تعلق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے مکمل تحریر
Page 1 of 3 اگلا صفحہ