مذہبی اختلاف کا سبب اور نمٹنے کا اصول

معروف عالمِ دین مفتی طارق مسعود صاحب نے اپنے ایک خطاب میں مذہبی اختلاف کا سبب بیان کیا ہے اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے ایک بنیادی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ ذیل میں ہم اس بیان کے مرکزی موضوعات کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔ آخر میں خطاب کا لنک دیا گیا ہے۔

’’دائرہ اسلام‘‘ سے خارج کرنے کا دور

مفتی صاحب نے ابن انشا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دائروں کی اقسام ہوتی ہیں۔ جیسے بچے جیومیٹری سیکھتے ہیں جس میں دائروں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ تو ابن انشا نے طنزاً‌ اُن دائروں میں ایک دائرہ اسلام کا بھی بتایا، اور ان کی کتاب میں ایک کارٹون دکھایا گیا ہے جس میں کوئی مولانا صاحب ایک دائرے کے درمیان میں کھڑے ہیں اور ڈنڈے سے لوگوں کو باہر نکال رہے تھے۔ ابن انشا کے مطابق دائرہ اسلام وہ دائرہ ہے جس میں پہلے لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا، آج کل اس سے نکالا جاتا ہے۔

الفاظ کے بکھیڑوں سے بچنے کی ضرورت

مفتی صاحب نے مسلم اور مسلمان کے الفاظ پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت میں جو لفظ ملتا ہے وہ ’’مسلم‘‘ ہے۔ مسلمان دراصل مسلم ہی کو کہتے ہیں، اور یہ فارسی کے قاعدے سے وجود میں آیا ہے جیسے طالب سے طالبان بنا۔ اسی طرح مسلم سے مسلمان بنا جس کے معنی بہت سے مسلم کے ہیں۔ اردو میں فارسی کے بہت الفاظ ہیں، جیسے تشنگانِ علم وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں، جیسے اللہ کو خدا کہہ دینے سے کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمان عمل میں تو زیرو ہوتا جا رہا ہے لیکن الفاظ کے بکھیڑوں میں پڑا ہوا ہے۔ زبان ایک قدرتی چیز ہے، لوگ اپنی آسانی کے لیے الفاظ ایجاد کرتے ہیں، اس میں کانٹ چھانٹ کرنا بڑی مشکل پیدا کر دے گا۔

مفتی صاحب نے زبان کے قدرتی ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زبان خودبخود وجود میں آتی ہے، لوگ جس چیز میں آسانی دیکھتے ہیں اسے خود وضع کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل ’’پروگرام تو وَڑ گیا‘‘ کا ایک جملہ عام ہو گیا ہے، جو کسی نے بیٹھ کر نہیں بنایا بلکہ قدرتی طور پر رواج پا گیا ہے۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا کہ بلوچستان کے کسی پہاڑ پر شہد لینے گئے تو ہزار فٹ بلندی پر چڑھے، شہد کا چھتہ کاٹ رہے تھے تو ڈر تھا کہ کہیں پاؤں پھسلے اور ’’پروگرام نہ وڑ جائے‘‘۔ اب لوگ اس لفظ کے برے معنی کی طرف نہیں جاتے بلکہ جو معنی رائج ہے وہی لیا جاتا ہے کہ ’’پروگرام کا بیڑہ غرق ہو گیا‘‘۔

مذہبی اختلاف سے نمٹنے کا بنیادی اصول

مفتی صاحب نے بنو قریظہ کے مشہور واقعے کا حوالہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچ کر پڑھیں۔ راستے میں نماز کا وقت ہو گیا تو صحابہ میں دو رائے ہو گئیں: بعض نے کہا کہ نبی کا حکم ہے تو ہم نماز قضا کریں گے اور وہیں پہنچ کر پڑھیں گے۔ بعض نے کہا کہ نبی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کریں، بلکہ جلدی پہنچنے کا حکم تھا، اس لیے ہم وقت پر نماز پڑھیں گے۔ دونوں گروہوں نے اپنی رائے پر عمل کا، کسی نے دوسرے کو برا بھلا نہیں کہا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس پہنچے تو آپؐ نے کسی کو ملامت نہیں کی۔

اس واقعے سے قیامت تک کے لیے اصول مل گیا کہ اگر حدیث کی تشریح میں اجتہادی اختلاف ہو تو وہ برا نہیں ہے۔ حدیثِ نبویؐ ہی کی رو سے یہ اصول بھی موجود ہے کہ مجتہد اگر غلطی کرے تو بھی اسے ایک اجر ملتا ہے، اور اگر وہ صحیح نتیجے پر پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔

اہلِ سنت کے چار اماموں کے مکاتبِ فکر

مفتی صاحب نے چاروں اماموں کے مکاتب فکر کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ جب اہل سنت میں ائمہ کرام نے اجتہاد کیا اور مسائل کو تحریری شکل میں لانا شروع کیا تو چار مکاتب فکر وجود میں آئے۔ امام ابوحنیفہ کے طریقے کو حنفی کہا گیا، امام شافعی کو شافعی، امام مالک کو مالکی، اور امام احمد بن حنبل کو حنبلی کہا گیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان چاروں اماموں میں اکثر مسائل پر اتفاق تھا، کچھ پر اختلاف تھا جو ہمیشہ کے لیے باقی رہ گیا۔ علمائے کرام کے مطابق یہ اختلاف اب ختم کرنا ممکن نہیں کیونکہ خود صحابہ کرام میں بھی اختلاف تھا۔ مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے کا مسئلہ، دونوں طرح صحابہ سے ثابت ہے۔

فرقوں کے ناموں کی اہمیت

مفتی صاحب نے فرقوں کے ناموں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شافعی، حنفی وغیرہ لوگوں کے دیے ہوئے نام ہیں۔ البتہ یہ غیر مسلموں کے مقابلے میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے آپس میں فرق کرنے کے لیے ہیں۔ جب مذہبی اختلاف کی بنیاد پر مسلمانوں میں مختلف مکاتبِ فکر وجود میں آ گئے تو ان کا ایک دوسرے سے فرق کرنے کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی اور نام دینا پڑا۔

انہوں نے ایک مثال دی کہ ہندوستان میں جب کچھ لوگ (وفات کے بعد ایصالِ ثواب کے لیے) تیسرا اور چالیسواں کرتے تھے اور کچھ نہیں کرتے تھے۔ تو لوگوں نے اپنی آسانی کے لیے نام دے دیے۔ جو نہیں کرتے تھے ان کا تعلق زیادہ تر دیوبند کے مدرسے سے تھا، اس لیے انہیں دیوبندی کہا گیا۔ اور جو تیسرا اور چالیسواں کرتے تھے، ان کا تعلق زیادہ تر بریلی سے تھا، اس لیے انہیں بریلوی کہا گیا۔

مفتی صاحب نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ میں صرف مسلمان ہوں، دیوبندی یا بریلوی نہیں ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دوسرے کو غیر مسلم مان رہا ہے۔ جو لوگ تیسرا کرتے ہیں وہ اسے قبول نہیں کریں گے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ اس لیے مکاتبِ فکر کا آپس میں فرق کرنے کے لیے یہ نام رکھے گئے ہیں، البتہ غیر مسلموں کے مقابلے میں ہم سب مسلم ہیں۔

اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے درمیان فرق

مفتی طارق مسعود نے شیعہ اور سنی کے درمیان بنیادی فرق بیان کیا:

  • شیعہ حضرات کا بنیادی دعویٰ پنجتن پاک، اہل بیت اور حضرت علی کو دوسرے صحابہ پر فضیلت دینا ہے، نیز وہ اماموں کو بہت زیادہ درجہ دیتے ہیں۔ اہل تشیع صحابہ کرام کی اکثریت کو نہیں مانتے۔ جبکہ مسائل میں وہ دو نمازیں اکٹھی پڑھتے ہیں، تین طلاق کو ایک نہیں مانتے، حضرت عمر کے فیصلوں کو قبول نہیں کرتے، اور متعہ کو جائز سمجھتے ہیں۔
  • جبکہ اہل السنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث، خلفاء راشدین اور تمام صحابہ کو ماننا ہے، ہر نماز اپنے وقت پر پڑھنی ہے، متعہ حلال نہیں، اور تین طلاقیں تین ہوتی ہیں۔ اہل سنت کا اصول اور طریقہ یہ ہے کہ پہلے قرآن سے مسئلہ دیکھا جائے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے، اس کے بعد صحابہ کرامؓ سے۔ اہلِ سنت کو مختصراً‌ سنی کہا جاتا ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے ’’ما انا علیہ واصحابی‘‘ یعنی جو میرے اور صحابہ کے طریقے پہ چلے گا، تو شیعہ حضرات چونکہ صحابہ کو نہیں مانتے اس لیے ہم اہلِ سنت کو نجات یافتہ فرقہ سمجھتے ہیں۔ البتہ ہم لڑائی کے قائل نہیں ہیں کہ اختلاف کی وجہ سے کسی کو تنگ کیا جائے یا طعنہ دیا جائے۔

اختلاف کے باوجود باہمی احترام

مفتی صاحب نے زور دے کر کہا کہ چاروں ائمہ کرام قرآن و حدیث اور صحابہ کرامؓ کو مانتے ہیں اور بدعت کے خلاف ہیں۔ ان کے درمیان بعض مسائل کی تشریح میں اختلاف ضرور ہے لیکن کوئی عداوت نہیں بلکہ ایک دوسرے کا احترام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اختلاف اب ختم کرنا ممکن نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ امت کی صلاحیتیں جہاد کے میدانوں میں اور بے حیائی اور بدعت کے خاتمے میں خرچ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں اہل السنت و الجماعت ہی حق پرست فرقہ ہے کیونکہ وہ نبی اور صحابہ کے طریقے پر چلتے ہیں۔ شیعہ حضرات سے ہمیں اختلاف ہے لیکن اس میں ہم دلائل سے کام لیتے ہیں اور لڑائی کے قائل نہیں ہیں۔

معاشرتی معاملات میں مذہبی تقسیم کی اہمیت

آخر میں مفتی صاحب نے عملی زندگی کی مثال دی کہ جب رشتہ لینے جائیں تو لوگ پوچھتے ہیں کہ تم دیوبندی ہو یا بریلوی؟ اگر کوئی صرف مسلمان کہے تو سامنے والا کہے گا کہ کیا میں ہندو لگ رہا ہوں؟ چنانچہ جہاں ضرورت ہو وہاں یہ نام استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ رشتہ دینے والا یہ جاننا چاہتا ہے کہ لڑکا کن عقائد و نظریات کی پیروی کرتا ہے، وہاں اپنے آپ کو صرف مسلمان کہنے سے بات نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی فرقہ نہیں، وہ دراصل اپنی سوچ کو چھپا رہے ہیں۔ ان کی سوچ تو کسی نہ کسی مکتب فکر سے ضرور ملتی ہے، اور جب وہ خود کو صرف مسلمان کہیں گے تو دوسرے کو غیر مسلم ماننا پڑے گا۔ اس لیے ضرورت کے مطابق ان ناموں کا استعمال مناسب ہے۔ البتہ بلاوجہ اور بلاضرورت اپنے نام کے ساتھ دیوبندی، بریلوی، حنفی، شافعی لگانا فرقہ واریت کو فروغ دینا ہے۔

https://youtu.be/3eh70KcBmlA


اقسام مواد

خلاصہ جات, خطابات