ذوالفقار علی بھٹو کے تین نمایاں کارنامے

مشاہد حسین سید اس گفتگو میں مظہر عباس کے اس جملے سے آغاز کرتے ہیں کہ “بھٹو زندہ ہیں” — اور پھر خود اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو دراصل اپنے کارناموں اور وژن کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے مطابق بھٹو اس لیے زندہ ہیں کہ انہوں نے نہایت مشکل حالات میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک 1971ء میں ٹوٹ چکا تھا اور یہ ہماری تاریخ کا کمزور ترین مرحلہ تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ 20 دسمبر 1971ء کو اقتدار سنبھالنے کے صرف چند ہفتوں بعد، جنوری 1972ء میں ملتان میں ایک اہم اجلاس بلایا گیا، جہاں یہ تاریخی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانا ہے۔ اس وقت بہت سے ماہرین، جن میں ڈاکٹر عبداللہ عثمانی بھی شامل تھے، نے وسائل اور صلاحیت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اس منصوبے کو ناممکن قرار دیا۔ مگر بھٹو کے ذہن میں وہی سوچ تھی جسے نیلسن منڈیلا کے اس قول سے بیان کیا جا سکتا ہے: ’’یہ ہمیشہ ناممکن لگتا ہے جب تک کہ یہ ہو نہ جائے۔‘‘

مشاہد حسین سید اس دور کی سیاسی فضا کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1970ء کی دہائی میں بھٹو کی قیادت نے عوام، خصوصاً متوسط طبقے میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ جلسوں میں لگنے والے نعرے اس عوامی وابستگی کی عکاسی کرتے تھے، اور پورے پاکستان کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

مشاہد حسین سید اپنے اس اعزاز کا تذکرہ کرتے ہیں کہ 1975ء میں جب وہ امریکہ میں اپنی تعلیم کے سلسلہ میں قیام پذیر تھے اور وہاں ’’پاکستان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن آف امریکہ‘‘ کے صدر تھے، تب انہیں ذوالفقار علی بھٹو سے متعدد ملاقاتوں کا موقع ملا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان طالب علم ہونے کی حیثیت سے انہوں نے بھٹو سے خارجہ پالیسی پر سوالات کیے اور بھٹو نے سنجیدگی سے ان کے ساتھ مکالمہ کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک بے خوف اور عوامی لیڈر کی نشانی تھی۔

مشاہد حسین سید اپنی گفتگو میں ذوالفقار علی بھٹو کی تین بڑی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں:

  1. پہلی کامیابی نیوکلیئر پروگرام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے 1972ء میں فیصلہ کر کے جن لوگوں کے ساتھ کام کا آغاز کیا ان میں منیر احمد خان، عبدالقدیر خان، غلام اسحاق خان، اے جی این قاضی اور آغا شاہی شامل تھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ایک سویلین کوشش تھی، جس میں کسی پیچیدہ بیوروکریسی پروٹوکول کے بغیر ایک دوٹوک ہدف دیا گیا کہ ’’بم بناؤ‘‘۔
    اسی سلسلے میں وہ امریکہ کے دفاعی مشیر ہنری کسنجر کے 1976ء کے دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہیں، جب انہوں نے بھٹو کو خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ مگر بھٹو اپنا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔
  2. دوسری بڑی کامیابی کے طور پر وہ 1973ء کی عرب-اسرائیل جنگ کا ذکر کرتے ہیں، جب بھٹو نے سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی۔ پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس نے مصر اور شام کی مدد کی، اور بعض اسرائیلی طیارے بھی مار گرائے۔ بعد میں مشاہد حسین سید نے جب شام کے صدر حافظ الاسد کا انٹرویو کیا تو اس میں انہوں نے بتایا کہ بھٹو نے انہیں اسرائیل کے خلاف دمشق کے دفاع کے لیے پاکستانی افواج بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔
  3. مشاہد حسین سید کے مطابق بھٹو کی سوچ نہ صرف تیسری دنیا کے اتحاد بلکہ عالمِ اسلام کی یکجہتی (Pan-Islamism) پر بھی مبنی تھی۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے اسلامی ممالک کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم (اسلامی کانفرنس لاہور 1974ء) پر جمع کیا، جس میں شاہ فیصل، شیخ زاید، انور سادات، یاسر عرفات اور دیگر اہم رہنما شامل تھے۔

آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آج پاکستان کو دفاعی اور سفارتی سطح پر جو مقام حاصل ہے، اس کی بنیاد پچاس سال پہلے بھٹو نے رکھی تھی۔ ان کے نزدیک بھٹو کی اصل طاقت ان کا وژن، حوصلہ اور جرأت تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی یاد اور قیادت کو زندہ قرار دیا جاتا ہے۔

facebook.com/reel/2019036245325292


اقسام مواد

خطابات