قرآن مجید کی طباعت کا نظام

قرآنِ مجید کو کسی عام کتاب کی طرح تیار نہیں کیا جاتا۔ دنیا میں بے شمار کتابیں چھپتی ہیں، جلد بندی سے گزرتی ہیں اور بازاروں تک پہنچ جاتی ہیں، مگر مصحف شریف کی تیاری ایک منفرد اور نہایت مقدس عمل ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی فیکٹری میں نہیں بلکہ عقیدت، احتیاط اور احترام کے ماحول میں تیار ہو رہا ہے۔ یہاں صرف سیاہی اور کاغذ کی بات نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی امانت کی حفاظت مقصود ہوتی ہے جس کے ہر حرف، ہر نقطے اور ہر حرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ایک مصحف ہمارے ہاتھوں تک پہنچنے سے پہلے طویل محنت، مسلسل حرکت میں رہنے والی مشینوں، اور سینکڑوں ماہرین کی پرکھ سے گزرتا ہے۔

دورِ اول میں قرآنِ کریم کی حفاظت اور تدوین

اسلام کے ابتدائی دور میں قرآنِ مجید کتابی شکل میں موجود نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی نازل ہونے والی آیات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سناتے تو وہ انہیں حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ محفوظ کرنے کی غرض سے مختلف چیزوں پر لکھ لیتے تھے، جیسے: کھجور کی شاخیں، جانوروں کی ہڈیاں، چمڑے اور پتھر کے تختے وغیرہ۔

جب اسلام کی سرحدیں وسیع ہونے لگیں تو صحابہ کرام کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں قراءتوں میں اختلاف یا کسی حصے کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ پیدا ہو جائے۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ قرآنِ مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا جائے۔ یہ قرآنِ کریم کی پہلی باضابطہ تدوین تھی۔ بعد ازاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کو ایک متفقہ قراءت کے مطابق نقل کروایا گیا اور مختلف علاقوں میں بھیجا گیا، تاکہ امتِ مسلمہ کی تلاوت میں وحدت برقرار رہے۔ اسی وقت سے قرآنِ مجید نہایت حفاظت کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔

قرآن مجید کی طباعت کے مراحل

قرآن مجید تیاری کے دوران جن مراحل سے گزرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

(۱) خطاطی کا مرحلہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن کمپیوٹر پر لکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرآنِ مجید کا ہر حرف پہلے ہاتھ سے لکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں معروف خطاط شیخ عثمان طہٰ گزشتہ تین دہائیوں سے یہ عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کا اندازِ کتابت منفرد ہے۔ وہ اس بات کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ ہر صفحہ ایک آیت سے شروع ہو اور ایک آیت ہی پر ختم ہو، تاکہ حفظ اور تلاوت میں آسانی رہے۔ کمپیوٹر کا استعمال صرف سرورق اور تزئینی ڈیزائن تیار کرنے تک محدود رہتا ہے۔

(۲) طباعت کا مرحلہ

خطاطی مکمل ہونے کے بعد صفحات کو ڈیجیٹل شکل دی جاتی ہے۔ ماہرین ان صفحات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، پھر انہیں دھاتی پلیٹوں پر منتقل کیا جاتا ہے۔ ہر پلیٹ پر آٹھ صفحات رکھے جاتے ہیں اور پھر انہیں پرنٹنگ مشینوں میں نصب کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک اور اہم چیز سامنے آتی ہے: وہ ہے کاغذ۔ قرآنِ مجید کے لیے عام کاغذ استعمال نہیں ہوتا۔ اس کے لیے خصوصی معیار کا کاغذ تیار کیا جاتا ہے، جو مضبوط، نرم اور دیرپا ہوتا ہے۔ جب کاغذ کا بڑا رول مشین میں نصب کیا جاتا ہے تو طباعت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ تیز رفتار مشینیں دھاتی پلیٹوں سے صفحات کو کاغذ پر منتقل کرتی ہیں، پھر یہ صفحات مرحلہ وار کاٹے جاتے ہیں، جو ایسے مجموعے کی شکل اختیار کرتے ہیں جس سے ایک مکمل مصحف تیار ہوتا ہے۔ کاغذ کے ایک ہی رول سے نو لاکھ صفحات اور ہزاروں مجموعے تیار کیے جا سکتے ہیں۔

قرآنِ مجید کی طباعت میں معمولی ترین غلطی بھی ناقابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے ہر دو منٹ بعد مشین سے نمونے نکال کر جانچے جاتے ہیں۔ اگر کسی حرف، نقطے، یا حرکت میں معمولی سی خرابی بھی نظر آ جائے تو فوراً الارم بجا دیا جاتا ہے اور پوری مشین روک دی جاتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسانی مہارت اور تکنیکی احتیاط مل کر ایک مقدس ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔

(۳) صفحات کی ترتیب، سلائی اور جلد بندی کا مرحلہ

طباعت مکمل ہونے کے بعد تربیت یافتہ کارکن صفحات کو درست ترتیب سے جمع کرتے ہیں۔ اس کے بعد صفحات کو دھاگے کے ذریعے سیا جاتا ہے تاکہ مصحف مضبوط اور پائیدار رہے۔ پھر آتا ہے جلد بندی کا آخری مرحلہ۔ اسی مرحلے میں مصحف وہ خوبصورت شکل اختیار کرتا ہے جسے ہم اپنے گھروں، مساجد، اور ہاتھوں میں دیکھتے ہیں۔

(۴) سینکڑوں ماہرین کی نگرانی میں منظوری کا مرحلہ

اگرچہ مصحف ظاہری طور پر مکمل ہو چکا ہوتا ہے لیکن اسے ابھی باقاعدہ منظوری حاصل نہیں ہوتی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً آٹھ سو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی ہر نسخے کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے۔ جب مکمل اطمینان ہو جاتا ہے کہ کوئی غلطی موجود نہیں، تب اس پر منظوری کی مہر ثبت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مصاحف کو ڈبوں میں پیک کر کے دنیا بھر کے ممالک میں روانہ کیا جاتا ہے۔

دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن

قرآنِ مجید پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے، اسی لیے اس کے تراجم ستر سے زائد زبانوں میں کیے جا چکے ہیں، جن میں: یورپی زبانیں، ایشیائی زبانیں، اور افریقی زبانیں شامل ہیں۔ جبکہ بینائی سے محروم افراد کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے ابھرے رسم الخط میں خصوصی مصاحف تیار کیے جاتے ہیں، جن کی الگ سے جانچ اور تصدیق کی جاتی ہے۔

قراءتوں اور رسم الخط کے مختلف انداز

اگرچہ قرآن ایک ہی ہے لیکن اس کی قراءت اور رسم الخط کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں۔ مشہور روایاتِ قراءت یہ ہیں:

روایتِ حفص عن عاصم

یہ آج دنیا میں سب سے زیادہ رائج قراءت ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، ترکی، ہندوستان اور حجاز میں۔

روایتِ ورش عن نافع

یہ مراکش، الجزائر، تیونس اور مغربی افریقہ میں عام ہے۔ اس کی پہچان مخصوص مدود اور مغربی رسم الخط ہے۔

روایتِ قالون عن نافع

یہ لیبیا، سوڈان اور مغربی افریقہ کے بعض علاقوں میں پڑھی جاتی ہے۔

مصاحف کی مختلف اقسام

عثمانی مصحف

واضح نسخ خط میں لکھا جاتا ہے، اور ہر صفحہ ایک آیت پر ختم ہوتا ہے۔ یہی انداز شیخ عثمان طہٰ نے اختیار کیا۔

مغربی مصحف

اس میں اندلسی طرز کا مائل خط اور مختلف علاماتِ وقف استعمال ہوتی ہیں۔

جامع مسجد کا بڑا مصحف

یہ بڑے سائز میں ہوتا ہے اور مساجد میں لکڑی کے رحل پر رکھا جاتا ہے۔

جیبی مصحف

چھوٹے سائز کا یہ نسخہ مسافروں، طلبہ اور فوجیوں کے لیے نہایت آسان ہوتا ہے۔

رنگین تجویدی مصحف

اس میں تجوید کے قواعد مختلف رنگوں سے ظاہر کیے جاتے ہیں تاکہ مبتدی آسانی سے سیکھ سکیں۔

تفسیر والا مصحف

اس کے حاشیوں میں مختصر تفسیر لکھی جاتی ہے، جیسے تفسیر جلالین یا تفسیر سعدی۔

وقف و ابتدا کا مصحف

اس میں صحیح مقاماتِ وقف کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ تلاوت کے دوران معنی برقرار رہیں۔

ڈیجیٹل مصحف

ٹیکنالوجی کے اس دور میں قرآن صرف کاغذ تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر کی اسکرینوں پر بھی موجود ہے۔ قرآنی ایپس کے ذریعے اب تلاوت سنی جا سکتی ہے، ترجمہ اور تفسیر پڑھی جا سکتی ہے، آیات اور الفاظ تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سہولیات حافظ، محقق، طالبِ علم اور امام سب کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے۔

کاغذ اور اسکرین کا فرق

اگرچہ ڈیجیٹل سہولتیں بہت بڑھ چکی ہیں مگر مطبوعہ قرآن کی تاثیر آج بھی منفرد محسوس ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص مصحف کھولتا ہے اور اس کے صفحات پلٹتا ہے تو دل میں ایک خاص خشوع پیدا ہوتا ہے۔ ہاتھ اس کے وزن کو محسوس کرتے ہیں اور روح اس کی موجودگی سے مانوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس موبائل یا اسکرین پر تلاوت کے دوران دنیاوی مصروفیات اور نوٹیفکیشن انسان کی توجہ بٹا سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے تمام تر ارتقاء کے باوجود ایک سوال آج بھی باقی ہے: کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب کاغذی مصحف کی ضرورت باقی نہیں رہے گی؟ شاید ذرائع بدل جائیں، انداز بدل جائیں، مگر وہ کاغذ جس نے صدیوں سے اللہ جل جلالہ کے کلام کو اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے، اس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی۔

اختتامیہ

قرآنِ مجید کی تیاری محض ایک صنعتی عمل نہیں بلکہ عقیدت، علم، مہارت، اور ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔ ہاتھ سے لکھی گئی پہلی سطر سے لے کر آخری منظوری کی مہر تک، ہر مرحلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ واقعی ایک ایسی کتاب ہے کہ اِس جیسی دنیا کی کوئی اور کتاب نہیں ہے۔

https://youtu.be/VFr8n2nplDY


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات