تنظیمِ اسلامی کی جدوجہد، امیرِتنظیم کی نظر میں

درج ذیل گفتگو معروف عالمِ دین مفتی طارق مسعود صاحب کے ساتھ جناب شجاع الدین شیخ کے ایک انٹرویو سے اخذ کی گئی ہے۔

تعارف اور ابتدائی زندگی

شجاع الدین شیخ بتاتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر کراچی کے پرانے علاقے بنس روڈ میں پلے بڑھے۔ یہی ان کی رہائش رہی اور وہیں ان کی ابتدائی تربیت اور تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے زیادہ تر کامرس کی لائن اختیار کی اور چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی فیلڈ میں آگے بڑھے۔ پاکستان کی معروف فرم ای۔ ایف۔ فرگوسن میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ٹریننگ مکمل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات بھی کیا۔

ان کی دینی دلچسپی کا آغاز بچپن ہی سے ہو گیا تھا۔ اسکول کے زمانے میں انہیں چند ایسے اساتذہ ملے جنہوں نے عربی زبان سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ اسی طرح محلے میں بھی کچھ ایسے اساتذہ موجود تھے جن سے دینی استفادہ حاصل ہوتا رہا۔ کالج کے زمانے میں انہیں کئی جید علماء کی مجالس میں بیٹھنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ ان علماء میں مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی اور مفتی عبدالرؤف سکھروی جیسے بزرگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ مفتی زرولی خان کے دورۂ تفسیر میں بھی انہیں شرکت کا موقع ملا جو شعبان اور رمضان میں منعقد ہوتا تھا۔

اسی زمانے میں انہیں مفتی نظام الدین شامزی کے دروس میں شرکت کا بھی موقع ملا اور تقریباً دس سال تک ان کے دروس میں حاضر ہوتے رہے۔ یوں علماء کی صحبت اور دینی ماحول نے ان کے ذہن اور فکر کو گہرائی کے ساتھ متاثر کیا۔

خاندان کی تربیت اور حلال رزق کی اہمیت

اپنی دینی تربیت کے حوالے سے وہ خاص طور پر اپنے والدین کی تربیت کو اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کے والد اور دادا دونوں پاکستان کسٹمز کے محکمے میں ملازم رہے، لیکن اپنی دیانت داری اور ایمانداری کے لیے معروف تھے۔ شجاع الدین شیخ کے مطابق دین کی طرف آنے میں حلال رزق اور گھر کی تربیت کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو دین کی طرف متوجہ ہونے کی توفیق دے تو اس کے پیچھے والدین کی تربیت اور پاکیزہ کمائی کا بڑا اثر ہوتا ہے۔

محلے میں ایک استاد ایسے بھی تھے جو جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور تصوف کے ایک سلسلے سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ ان کی صحبت نے بھی ان کے اندر دینی جذبہ پیدا کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

ڈاکٹر اسرار احمد سے تعلق اور تنظیم اسلامی میں شمولیت

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمد کو سننا تقریباً 1991ء یا 1992ء میں شروع کیا۔ ان کی گفتگو اور قرآن فہمی کے انداز نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ کچھ عرصہ ان کے بیانات سنتے رہنے کے بعد 1998ء میں انہوں نے باقاعدہ تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی۔

ان کے مطابق یہ سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا۔ پہلے علماء کی صحبت سے استفادہ ہوا، پھر ڈاکٹر اسرار احمد کے دروس اور فکر سے تعلق پیدا ہوا، اور آخرکار عملی طور پر تنظیم اسلامی کے ساتھ وابستگی اختیار کر لی۔

تنظیم اسلامی میں تدریس کے لیے معیارات

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ تنظیم اسلامی میں ہر شخص کو درس دینے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ اس کے لیے کچھ باقاعدہ معیارات مقرر ہیں۔ سب سے پہلے کسی شخص کو تنظیم کے اندر ایک خاص حد تک پختگی حاصل کرنا ہوتی ہے جسے تنظیم کی اصطلاح میں “ملتزم” کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد تجوید کا امتحان پاس کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت میں واضح غلطیاں نہ ہوں۔ پاکستان میں جہاں بھی کوئی شخص ہو، اسے مقامی سطح پر کسی اچھے قاری کے سامنے تجوید کا امتحان دینا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس معیار پر پورا نہ اترے تو وہ باقاعدہ درس نہیں دے سکتا، البتہ تعلیم کے طور پر کسی کتاب کو پڑھ کر سنا سکتا ہے۔

اس کے بعد عربی گرامر کا امتحان ہوتا ہے۔ اس امتحان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قرآن کا ترجمہ کرتے وقت بنیادی غلطیاں نہ ہوں اور کم از کم اتنی سمجھ موجود ہو کہ الفاظ کا مفہوم درست طور پر بیان کیا جا سکے۔ یہ امتحان بھی مرکز کی طرف سے پورے پاکستان میں منعقد کیا جاتا ہے اور اس میں کم از کم اسی فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

ان مراحل کے بعد مدرسین کی سالانہ تربیتی نشستیں بھی منعقد ہوتی ہیں جن میں قرآن فہمی کے آداب، اصول تفسیر، اصول حدیث اور معروف تفاسیر کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کن مقامات پر احتیاط ضروری ہے اور تفسیر بالرائے سے کیسے بچنا ہے۔

ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کسی شخص کو درس کی مسند پر بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ شجاع الدین شیخ کے مطابق جب وہ تنظیم میں شامل ہوئے تو اللہ کے فضل سے ان کی تجوید پہلے سے اچھی تھی اور انہوں نے رجوع الی القرآن کورس بھی کیا ہوا تھا، اس لیے انہیں آغاز ہی میں تدریس کی ذمہ داری دے دی گئی۔

ڈاکٹر اسرار احمد کی شخصیت اور انداز

وہ ڈاکٹر اسرار احمد کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اندر امت کا درد بہت شدید تھا۔ معاشرے میں پھیلتے ہوئے منکرات اور بگاڑ کو دیکھ کر ان کے دل میں جو کڑھن پیدا ہوتی تھی وہ ان کے چہرے اور گفتگو دونوں میں نظر آتی تھی۔

تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جو لوگ ڈاکٹر اسرار احمد سے ذاتی طور پر ملتے تھے وہ ان کی شخصیت کا ایک مختلف پہلو دیکھتے تھے۔ نجی ملاقاتوں میں وہ بہت خوش مزاج اور شائستہ گفتگو کرنے والے انسان تھے۔ وہاں کبھی کبھی ہلکی پھلکی مزاحیہ گفتگو بھی ہو جاتی تھی۔

ان کے مطابق ڈاکٹر اسرار احمد کے چہرے پر جو جلال اور رعب نظر آتا تھا وہ دراصل امت کے بگاڑ پر ان کی اندرونی بے چینی کا اظہار تھا۔

تنظیم اسلامی کا ہدف اور سیاسی موقف

شجاع الدین شیخ کے مطابق فرد کا اصل نصب العین اللہ کی رضا کا حصول اور آخرت کی کامیابی ہے۔ کوئی بھی اجتماعی جدوجہد اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب فرد اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر اس میں شامل ہو۔

تنظیم اسلامی کا اجتماعی ہدف اقامت دین کی جدوجہد ہے۔ ان کے نزدیک ختم نبوت کے بعد دین کو قائم کرنے کی ذمہ داری امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہے اور اسی مقصد کے لیے تنظیم اسلامی کام کر رہی ہے۔

جہاں تک انتخابی سیاست کا تعلق ہے تو تنظیم اسلامی اس میں براہ راست شامل نہیں ہوتی۔ تاہم ملکی حالات، حکمرانی اور سیاسی معاملات پر رائے دینا اور تبصرہ کرنا اس کے دائرہ کار میں شامل ہے۔

ووٹ دینے کے حوالے سے تنظیم کی پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی رکن ووٹ دینا چاہے تو کم از کم دو باتوں کا خیال رکھے: ایک یہ کہ جس جماعت کو ووٹ دیا جا رہا ہے اس کے منشور میں کوئی صریح خلاف اسلام بات نہ ہو، اور دوسرا یہ کہ جس امیدوار کو ووٹ دیا جا رہا ہے وہ کھلے کبیرہ گناہوں میں مبتلا نہ ہو۔

معاشرتی اصلاح اور منکرات کے خلاف جدوجہد

شجاع الدین شیخ کے مطابق تنظیم اسلامی اپنی اجتماعی جدوجہد کے تین بڑے میدان سمجھتی ہے: معاشرت میں بے حیائی کے خلاف کام، معیشت میں سودی نظام کے خلاف جدوجہد اور سیاست میں سیکولر سوچ کے خلاف آواز اٹھانا۔

اسی مقصد کے تحت تنظیم اسلامی پورے پاکستان میں ہر تین ماہ بعد “منکرات آگاہی مہم” چلاتی ہے۔ اس مہم کے دوران کارکنان مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں، لٹریچر تقسیم کرتے ہیں اور معاشرے میں پھیلنے والی خرابیوں کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ صرف علمی گفتگو کافی نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں ایسے مسائل کے خلاف اجتماعی دباؤ بھی ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ جب تک عوامی سطح پر مضبوط ردعمل سامنے نہ آئے حکمران طبقات منکرات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتے۔

خواتین میں دینی کام کا طریقہ

خواتین کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ تنظیم اسلامی میں ان کا نظم موجود ہے لیکن اسے محدود رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کی بنیادی ذمہ داری اس کا گھر اور خاندان ہے۔

تاہم ایسی خواتین جن کی گھریلو ذمہ داریاں کم ہو چکی ہوں اور جنہیں گھر سے اجازت بھی ہو، وہ اپنے قریبی علاقوں میں خواتین کے لیے دروس اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کر سکتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں عموماً مقامی سطح تک محدود ہوتی ہیں تاکہ خواتین کو دور دراز سفر نہ کرنا پڑے۔

قرآن اکیڈمیوں کے تحت رجوع الی القرآن کورسز میں خواتین کے لیے باقاعدہ باپردہ انتظام موجود ہوتا ہے۔ ان کورسز میں تجوید، عربی گرامر اور قرآن فہمی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جو خواتین ان مراحل سے گزر کر کچھ صلاحیت حاصل کر لیتی ہیں انہیں محدود دائرے میں درس دینے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔

نصابِ تعلیم میں قرآن مجید کی شمولیت کی جدوجہد

شجاع الدین شیخ بیان کرتے ہیں کہ اسکولوں کے نصاب میں قرآن مجید کو شامل کرنے کی جدوجہد دراصل ایک الگ ادارے کے ذریعے شروع ہوئی جس کا نام “دی علم فاؤنڈیشن” رکھا گیا۔ یہ ادارہ تنظیم اسلامی سے ادارتی طور پر الگ ہے، تاہم اس کے قیام میں ایسے تاجر حضرات شامل تھے جو دینی فکر رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں قرآن کو باقاعدہ جگہ ملے۔ ان حضرات کا خیال یہ تھا کہ عام طور پر قرآن کی تعلیم صرف دینی حلقوں تک محدود رہ جاتی ہے، جبکہ ملک کے کروڑوں بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اگر قرآن کو اسکول کے نصاب کا حصہ بنا دیا جائے تو ایک پوری نسل قرآن سے جڑ سکتی ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ 2009ء میں اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی اور 2010ء سے اس پر عملی کام شروع ہوا۔ اس منصوبے کی بنیادی فکر یہ تھی کہ جس طرح بچے اسکول میں انگریزی اور اردو پڑھتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس زبان میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں، اسی طرح اگر وہ اپنی تعلیمی زندگی کے دوران قرآن کو بھی باقاعدہ نصاب کے طور پر پڑھیں تو ان کے اندر قرآن فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے قرآن مجید کے ترجمے اور مختصر تشریح پر مبنی ایک ایسا نصاب تیار کرنے کی کوشش کی گئی جو تعلیمی نظام کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس میں صرف ترجمہ ہی شامل نہیں تھا بلکہ مختصر وضاحتیں، اخلاقی اسباق اور تعلیمی مشقیں بھی شامل کی گئیں تاکہ طلبہ اسے ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر پڑھ سکیں۔

ابتدا میں یہ کام بہت محدود پیمانے پر شروع ہوا۔ چند افراد کی ایک چھوٹی سی ٹیم تھی جس میں شجاع الدین شیخ بھی شامل تھے۔ انہوں نے معروف تراجم اور تفاسیر کو سامنے رکھتے ہوئے مواد تیار کرنا شروع کیا۔ شروع کے مرحلے میں دارالعلوم کورنگی سے فارغ التحصیل چند علماء نے بھی معاونت کی جن میں قاری ضیاء الرحمٰن صاحب شامل تھے، جو ایک معروف قاری ہیں اور محمد علی جناح سوسائٹی کی ایک مسجد کے امام بھی رہے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ ایک ٹیم تشکیل پاتی گئی۔

2010 میں اس نصاب کا پہلا حصہ شائع ہوا اور اس کے بعد اسکولوں کی انتظامیہ سے رابطے کیے گئے، انہیں اس پروگرام کے مقاصد سمجھائے گئے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنے اداروں میں قرآن کے اس مضمون کو شامل کریں۔ کراچی کے تقریباً بیس بائیس اسکولوں میں اس کا آغاز کیا گیا۔ اس ابتدائی مرحلے میں تقریباً ڈھائی ہزار طلبہ اس پروگرام سے وابستہ ہوئے۔

یہ سلسلہ بتدریج آگے بڑھتا رہا اور کچھ عرصے بعد اس منصوبے کی خبر حکومتی سطح تک بھی پہنچ گئی۔ اس وقت وفاقی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور بلیغ الرحمٰن صاحب وفاقی وزیرِ تعلیم تھے۔ مفتی عدنان کاکاخیل کے ذریعے اس منصوبے کا تعارف ان تک پہنچایا گیا اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب ان کے سامنے یہ منصوبہ پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے ایک اہم تعلیمی اقدام قرار دیا۔ چنانچہ 2017ء میں وفاقی حکومت نے ایک سرکاری گزیٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک طلبہ کو ناظرہ قرآن پڑھایا جائے گا اور چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن مجید کا ترجمہ سات سالوں میں مکمل کروایا جائے گا۔ یہ ایک بڑا قدم تھا، تاہم اس کے بعد ایک اور مرحلہ باقی تھا۔

2018ء میں اس منصوبے کے حوالے سے بعض حلقوں کی طرف سے اعتراضات سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں اس کے نتیجے میں فرقہ واریت کے مسائل پیدا نہ ہو جائیں۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے بلیغ الرحمٰن صاحب نے ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارس‘‘ سے رابطہ کیا۔ یہ دراصل پاکستان کے پانچ بڑے دینی تعلیمی وفاقوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، اہل تشیع اور جماعت اسلامی کے تعلیمی بورڈ شامل ہیں۔ ان وفاقوں کے نمائندہ علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ وہ اس نصاب کا جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس میں کوئی ایسا پہلو شامل نہ ہو جو کسی مکتب فکر کے لیے قابل اعتراض ہو۔ اس کمیٹی میں ہر وفاق کی طرف سے ایک جید عالم شامل تھا۔

دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل شامل تھے جو وفاق المدارس العربیہ کے اہم علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کی نمائندگی مولانا ارشد سعید کاظمی نے کی، جو معروف عالم دین مولانا سعید کاظمی کے بھائی ہیں۔ اہل حدیث مکتب فکر کی طرف سے مولانا نجیب اللہ طارق شامل تھے جو فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے تعلیمی حلقے کی طرف سے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اس کمیٹی میں شریک ہوئے، جو مولانا گوہر رحمان کے صاحبزادے ہیں۔ اہل تشیع کی نمائندگی اسلام آباد کے جامعہ الکوثر کے علماء نے کی۔ اس کے علاوہ علم فاؤنڈیشن کی طرف سے شجاع الدین شیخ اس کمیٹی کا حصہ تھے۔

یہ کمیٹی تقریباً تین سال تک کام کرتی رہی۔ اس دوران اسلام آباد میں بیس کے قریب طویل نشستیں ہوئیں جن میں ہر نشست کئی کئی گھنٹے جاری رہتی تھی۔ علماء اس نصاب کے ہر حصے کو تفصیل سے دیکھتے، ترجمے کے الفاظ پر بحث ہوتی، تشریح کے جملوں کا جائزہ لیا جاتا اور جہاں ضرورت محسوس ہوتی وہاں اصلاح کی جاتی۔ بعض اوقات علماء اپنے اپنے مدارس میں اس مواد کو لے جا کر اپنے طلبہ اور اساتذہ سے بھی اس پر مشورہ کرتے تھے۔ بالآخر 28 جنوری 2020ء کو یہ مرحلہ مکمل ہوا اور پورے نصاب پر تمام مکاتب فکر کے علماء نے باقاعدہ دستخط کر دیے۔ اس طرح سات حصوں پر مشتمل مکمل نصاب، جس میں قرآن مجید کا ترجمہ، مختصر تشریح اور اخلاقی اسباق شامل تھے، ایک متفقہ شکل میں سامنے آ گیا۔

اس عمل کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کا اس طرح کسی قرآن کے ترجمے اور تشریح پر متفق ہونا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس اتفاقِ رائے نے اس منصوبے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔ اس کے بعد مختلف صوبوں میں اس نصاب کو بتدریج متعارف کرایا گیا۔ خیبر پختونخوا نے اس معاملے میں سبقت حاصل کی اور وہاں کی حکومت نے اس نصاب کو سرکاری اسکولوں میں نافذ کرنا شروع کر دیا۔ پنجاب میں بھی اس پر خاصی پیش رفت ہوئی اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے اس کو نصاب میں شامل کرنے کے اقدامات کیے۔

آج صورت حال یہ ہے کہ لاکھوں طلبہ اس نصاب کے ذریعے قرآن مجید کے ترجمے اور بنیادی فہم سے گزر رہے ہیں۔ شجاع الدین شیخ کے مطابق اس وقت تقریباً تئیس لاکھ طلبہ اس پروگرام کے تحت قرآن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر یہ عمل مسلسل جاری رہا تو آنے والے برسوں میں ایک ایسی نسل سامنے آ سکتی ہے جس نے اپنی تعلیمی زندگی کے دوران باقاعدہ قرآن کو ترجمے اور مفہوم کے ساتھ پڑھا ہوگا، اور یہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی اصلاح میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

تنظیم اسلامی میں شمولیت کا طریقہ

تنظیم اسلامی میں شامل ہونے کے لیے پہلے لوگوں کو تنظیم کے بنیادی لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ اس کی فکر اور مقصد کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص شامل ہونا چاہے تو وہ بیعت کے ذریعے تنظیم کا حصہ بن سکتا ہے۔

بیعت کے الفاظ دراصل اللہ کی اطاعت، گناہوں سے بچنے اور دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے کے عہد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مردوں اور خواتین کے لیے بیعت کے الفاظ قدرے مختلف ہیں، تاہم بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دے۔

نکاح کو آسان بنانے کی ضرورت

شجاع الدین شیخ کے مطابق ڈاکٹر اسرار احمد نے نکاح کو آسان بنانے کی تحریک پر بہت زور دیا تھا۔ ان کے نزدیک معاشرے میں شادی کو غیر ضروری رسموں اور اخراجات کی وجہ سے مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

اسی طرح معاشرے میں بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جن کے لیے نکاح کا راستہ آسان ہونا چاہیے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر معاشرہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور نکاح کو آسان بنایا جائے تو بہت سی معاشرتی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

ان کے نزدیک عفت اور حیا کا تحفظ معاشرے کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور نکاح اس مقصد کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

https://youtu.be/svG_KhgE6kE


اقسام مواد

انٹرویوز, خلاصہ جات