"گریٹر اسرائیل" حالیہ جنگوں کے تناظر میں

الجزیرہ کے پروگرام ’’دی ٹیک‘‘ میں میزبان کیوِن ہرٹن نے کہا کہ ایک زمانے میں جس خیال کو ناقابلِ عمل یا انتہا پسندانہ سمجھا جاتا تھا، آج وہی خیال اسرائیلی قیادت کی زبان میں عام ہوتا جا رہا ہے اور عملی میدان میں بھی نظر آ رہا ہے۔ یہ خیال ہے ’’عظیم اسرائیل‘‘ کا، ایک ایسا تصور جس کے تحت اسرائیل کی سرحدیں دریائے فرات سے دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہوں۔

رملہ میں مقیم الجزیرہ کی نامہ نگار نور عودۃ نے بتایا کہ یہ کوئی ضمنی یا اضافی نظریہ نہیں، بلکہ آج اسرائیل میں برسرِاقتدار جماعت کا بنیادی عقیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ اتنا مرکزی ہو چکا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن بھی اسے چیلنج نہیں کرتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ قیامِ اسرائیل کے تقریباً 80 برس بعد بھی اس ملک کی سرحدیں متعین نہیں ہیں، اور یہ غیر یقینی صورتحال ہی توسیع کے اس منصوبے کو ہوا دیتی ہے۔

کیون ہرٹن نے یاد دلایا کہ سیاسی صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرٹزل نے اپنی ڈائری میں ایک ایسی یہودی ریاست کا ذکر کیا تھا جس کی سرحدیں مصر کی ندی سے فرات تک پھیلی ہوں — جو کہ دراصل بائبل کی عبارت (پیدائش 15:18) کی عکاسی ہے۔ لیکن آج یہ محض ایک نظریاتی مشق نہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج کنٹرول حاصل کر لے گی۔ ایک ایسا علاقہ جو لبنان کا دسواں حصہ بنتا ہے۔ لاکھوں شہریوں کو ان کے گھر بار چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

نور عودۃ نے کہا کہ موجودہ صورتحال اور ماضی کی اسرائیلی کارروائیوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ 1978ء اور 1982ء میں جب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضہ کیا تھا تو وہاں کے لوگ اپنی زمینوں پر موجود رہے تھے، بالکل اسی طرح جیسے فلسطین میں ہوا۔ لیکن اب اسرائیل غزہ سے سیکھے گئے ’’رفح اور بیت حانون ماڈل‘‘ پر عمل کر رہا ہے، یعنی پہلے علاقے کو آبادی سے خالی کرنا، نسلی صفائی کرنا، گھر مسمار کرنا، اور پھر اس ويرانے پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کا حصہ بنا لینا۔

نور عودۃ نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کو ایک اہم موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس جنگ نے اسرائیلی دائیں بازو کو یہ باور کرا دیا کہ مزید زمین پر قبضہ کرنے کی کوئی بین الاقوامی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ اسرائیل نے جب مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں، لبنان اور اردن کے کچھ حصے، اور مصر کے صحرائے سینا پر قبضہ کیا تھا تو اسے کسی بین الاقوامی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اسی دور میں جابوتنسکی کا نظریہ پھر سے زندہ ہوا کہ: ’’صہیونیت صرف طاقت سے زندہ رہ سکتی ہے‘‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل میں توسیع پسندی صرف دائیں بازو تک محدود نہیں۔ نور عودۃ کے مطابق اولین بستیاں قائم کرنے والے نام نہاد ’’اسرائیلی بائیں بازو‘‘ کے لوگ تھے۔ آج اسرائیل میں بائیں اور دائیں کے درمیان فرق معاشرتی مسائل پر ہے، استعماری توسیع پر نہیں۔ آج مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریباً 8 لاکھ غیر قانونی اسرائیلی آبادکار قیام پذیر ہیں۔

ستمبر 1999ء میں لیکود پارٹی کے پلیٹ فارم نے دریائے اردن کو اسرائیل کی مستقل مشرقی سرحد قرار دے کر فلسطینی ریاست قائم کرنے کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ اور نیتن یاہو، جو تاریخ کے طویل ترین عرصے تک وزیرِ اعظم رہے، نے اس نظریے کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔

نور عودۃ نے 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات کو ایک ’’سنہری موقع‘‘ قرار دیا جو اسرائیلی حکومت کو ملا۔ ان کے مطابق اس حکومت کے اتحادی معاہدے کا مرکز ہی مغربی کنارے پر قبضہ تھا۔ 7 اکتوبر نے نہ صرف اندرونی مخالفت کو خاموش کیا، بلکہ امریکہ (بائیڈن اور پھر ٹرمپ انتظامیہ) کی مدد سے بیرونی دنیا کو نظر انداز کرنے کا موقع بھی دیا۔ اسرائیل نے اسے ایک ایسا موقع سمجھا جس میں وہ ’’زمین تو چاہیے، لیکن لوگ نہیں‘‘ کے نظریے پر عمل کر سکیں۔ چنانچہ نسل کشی، بے دخلی اور تباہی کا راستہ اختیار کیا گیا۔

آج اسرائیلی وزراء — سموٹرچ، بن گویر اور خود نیتن یاہو — کھل کر گریٹر اسرائیل اور دمشق تک توسیع کی بات کرتے ہیں۔ نور عودۃ نے کہا کہ اس کی ایک ہی وجہ ہے: ’’استحقاق (impunity)‘‘۔ جب کوئی روک نہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں۔ مخالف رہنما یائیر لاپید نے بھی عظیم اسرائیل کے منصوبے کو چیلنج نہیں کیا، کیونکہ اسرائیلی عوام تیزی سے ’’دائیں‘‘ طرف جا رہے ہیں۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اسرائیل اس سب علاقے پر قبضہ کر لے تو بھی ٹھیک ہے۔ جبکہ وائٹ ہاؤس سے اس کی کوئی تردید نہیں آئی۔

آخر میں، نور عودۃ نے خبردار کیا کہ یہ جنگ صرف فلسطینیوں، لبنانیوں یا ایرانیوں کی زندگیاں نہیں خراب کر رہی، بلکہ عالمی استحکام کو خطرہ ہے۔ خوراک کی سلامتی خطرے میں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے ماحول میں یورپ سمیت اسرائیل کے روایتی اتحادی بھی اس توسیع پسندانہ اور نوآبادیاتی فوجی جنون کی اس قیمت کا جائزہ لے رہے ہیں جو عالمی سطح پر سب کو کسی نہ کسی درجے میں ادا کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ صرف بین الاقوامی سیاسی حالات نئے ہیں۔ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے حوالے سے اسرائیلی رہنماؤں کو لگتا ہے کہ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘۔ کیونکہ دنیا پہلے ہی غضبناک ہے، عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، اور نیتن یاہو عدالتی فیصلے کی رو سے ’’مطلوب‘‘ ہیں۔ تو پھر کیوں نہ ’’آخری حد تک جائیں‘‘۔ اب لاکھوں متاثرین کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا، اس لیے ہر حد پار کرنے کا رجحان نظر آ رہا ہے۔

نور عودۃ نے گفتگو کا اختتام اس حساس سوال پر کیا کہ ’’طاقت ہی حق ہے‘‘ کا اصول دنیا کا کیسا مستقبل طے کرے گا؟ ایسا رویہ جس میں کسی قانون یا حد کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ اور کیا انصاف سے محروم لاکھوں بے گھر لوگ انصاف کا راستہ خود تلاش نہیں کریں گے؟

https://youtu.be/J4xI5uwSlKE