صدر ٹرمپ، مذہب اور سیاست

"قومی دعائیہ ناشتہ" (National Prayer Breakfast) روایتی طور پر ہر سال فروری کی پہلی جمعرات کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن (ریاست ڈسٹرکٹ آف کولمبیا) میں منعقد ہوتا ہے۔ دہائیوں سے اس کی میزبانی واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کا انٹرنیشنل بال روم کرتا رہا ہے جس میں امریکی صدر، اراکینِ کانگریس اور دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں مندوبین شرکت کرتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ چند برسوں میں اس ایونٹ کی نوعیت میں کچھ اس طرح سے تبدیلی آئی ہے کہ اب ایک مختصر اور نجی تقریب کیپیٹل ہل (U.S. Capitol) کے اندر منعقد کی جاتی ہے جس میں صرف اراکینِ کانگریس اور صدر شرکت کرتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی مہمانوں کے لیے ایک بڑی اور الگ تقریب اسی دوران واشنگٹن ہلٹن میں جاری رہتی ہے۔ تقریب کی یہ روایت سماجی اور سیاسی ہم آہنگی کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانی جاتی ہے جہاں مختلف مذاہب اور نظریات کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔

اگرچہ واشنگٹن میں منعقد ہونے والا نیشنل پریئر بریکفاسٹ اپنے آغاز سے ہی ایک ایسی تقریب سمجھی جاتی ہے جس میں سیاست پس منظر میں چلی جاتی ہے اور مذہب، دعا اور رواداری کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، لیکن اِس سال یہ روایت ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے، اس لیے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی گفتگو کا حصہ بنایا ہے۔

صدر ٹرمپ کا اندازِ خطاب ہمیشہ غیر روایتی رہا ہے اور اس موقع پر بھی وہ اسی پہچان کے ساتھ سامنے آئے۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ ان کے دورِ صدارت میں امریکہ میں مذہب کو دوبارہ طاقت ملی ہے اور مذہبی آزادی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے مذہب کے لیے وہ اقدامات کیے ہیں جو ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آئے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ کہاں تک درست ہے، اس سے قطع نظر، امریکہ کی سیکولر سیاست کے تناظر میں یہ سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کیا مذہب کو اس طرح سیاست کے ساتھ متعلق کرنا اس تقریب کے اصل مقصد سے مطابقت رکھتا ہے؟

اس تقریر میں صدر ٹرمپ نے سنجیدہ گفتگو کے ساتھ مزاح پر مبنی ذاتی تاثرات بھی شامل کیے۔ انہوں نے خود پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک عام انسان ہیں، کامل نہیں، اور انہیں بھی روحانی طور پر بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ ایسے جملوں پر سامعین نے مسکراہٹ کے ساتھ ردِعمل دیا، لیکن ناقدین کے نزدیک یہ انداز تقریب کی سنجیدگی کے خلاف تھا۔

نیشنل پریئر بریکفاسٹ کو عام طور پر ایک غیر سیاسی اجتماع سمجھا جاتا ہے، مگر صدر ٹرمپ کے خطاب میں سیاست واضح طور پر موجود تھی۔ انہوں نے مذہب سے وابستہ لوگوں کو سیاسی معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ یہی نکتہ اس تقریر کو محض ایک مذہبی خطاب کے بجائے ایک سیاسی بیان بنا گیا۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے مستقبل میں ایک بڑے قومی دعائیہ اجتماع کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد قوم کو ایک بار پھر خدا کے تصور کے تحت متحد کرنا ہے۔ حامیوں کے نزدیک یہ اعلان قومی یکجہتی کی علامت ہے، جبکہ ناقدین اسے مذہب اور سیاست کے خطرناک امتزاج کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کا یہ خطاب ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ بے لاگ گفتگو، غیر صدارتی انداز، "who cares" کا رویہ، سب کچھ ایک ہی تقریر میں موجود تھا۔ یہ خطاب نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے بھی غور و فکر کا باعث بن گیا ہے۔

نیشنل پریئر بریکفاسٹ کا پیغام ہمیشہ اتحاد اور دعا رہا ہے، لیکن اس سال یہ تقریب اس سوال کے ساتھ ختم ہوئی ہے کہ کیا مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا اب ممکن بھی رہا ہے یا نہیں؟

 

References:
  • Trump: 'I've Done More for Religion Than Any Other President' — Newsmax.com
  • Trump jokes about needing God's help at prayer breakfast — Washington Examiner
  • Trump Celebrates 'So Strong' Return of Faith at Prayer Breakfast — Breitbart.com
  • Trump Questions if He's 'Pure in Heart' at Prayer Breakfast — People.com
  • Trump, 79, Rambles About His Chances of Getting Into Heaven — The Daily Beast
  • Trump defends Noem, Gabbard at National Prayer Breakfast — Reuters

اقسام مواد

خلاصہ جات, خطابات