یومِ تکبیر — 28 مئی 1998ء کی کہانی
پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین دن ’’یومِ تکبیر‘‘ 28 مئی 1998ء کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے جس نے ان لمحات کو خود تخلیق کیا ہو۔ جاوید چوہدری نے ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے پاکستان کے دفاعی نظام، ایٹمی صلاحیتوں، اور تاریخی فیصلوں پر کھل کر بات کی۔
پاکستان کا دفاع کتنا محفوظ ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وضاحت کی کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے بہترین سسٹمز کو سمو کر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1998ء اور 1999ء میں انہوں نے خود اس کا پہلا مسودہ تیار کیا تھا، جو بعد ازاں دفاعی ماہرین کی آراء سے مزید بہتر ہوا۔ دہشت گردی کے مشکل ترین دور میں جب ملک کے طول و عرض میں دھماکے ہو رہے تھے اور اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہا، اس نظام کی آزمائش ہوئی اور وہ کامیاب رہا۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی مواد کا ایک گرام بھی مشکوک نہیں ہوا، جبکہ ہمسایہ ملک میں تھوریم اور پلوٹونیم چوری کی خبریں عام ہیں۔ اس کارکردگی سے متاثر ہو کر عالمی ایٹمی ادارے (IAEA) نے اسلام آباد میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کروایا، جہاں دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں نے پاکستانی نظام کا معائنہ کیا اور اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔
پاکستان اور بھارت کے میزائل سسٹمز اور ایٹمی صلاحیتوں کے موازنے پر ڈاکٹر صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے میدانِ جنگ کی ضروریات کے پیشِ نظر ٹیکٹیکل ہتھیار تیار کیے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم کڑی میزائل ’’نصر‘‘ ہے، جو محض ساٹھ ستر کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے اور انتہائی درستگی کے ساتھ دشمن کی آرمرڈ ڈویژنز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اس کے وارہیڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی ممالک بھی یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اتنا چھوٹا اور طاقتور وارہیڈ پاکستان نے کیسے بنا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے کروز میزائلز کا ذکر کیا جو سب میرینز سے فائر کیے جا سکتے ہیں اور پانچ سو سے آٹھ سو کلومیٹر دور زمینی اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں۔ فتح ون اور فتح ٹو میزائلز کی درستگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ کارروائیوں میں ان کی کامیابی کی مثالیں دیں، جن میں دشمن کے ایئر بیسز اور ٹریننگ سکول تباہ کیے گئے۔
شاہین سیریز کے میزائلز پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ان کی رینج اور درستگی کا تفصیلی نقشہ کھینچا۔ شاہین ون سے لے کر شاہین تھری تک، ہر میزائل کی رینج اور ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت کا تذکرہ کیا۔ شاہین تھری کی درستگی 0.0001 بتاتے ہوئے انہوں کہا کہ یہ تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دس فٹ کے دائرے میں موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی شفاف پالیسی کا بھی ذکر کیا کہ تمام میزائل ٹیسٹ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے، بحری اور فضائی ٹریفک کو روک کر اور پوری دنیا کو اطلاع دے کر کیے جاتے ہیں، جس کے برعکس ہمسایہ ملک کے میزائل اپنی سرحد کے اندر جا گرتے ہیں اور ان کے سسٹمز ناکام ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی تین ریڈ لائنز کا تعین کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ پانی روکنا، زمین پر قبضہ کرنا اور بندرگاہوں کو بلاک کرنا قابلِ قبول نہیں۔ جاوید چوہدری نے پانی بند کیے جانے کے حوالے سے عوام کے تشویشناک سوال کو ان کے سامنے رکھا۔ اس پر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے واضح کیا کہ اس صورتِ حال میں پاکستان کے پاس متعدد آپشنز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض تین بٹن دبانے کی ضرورت ہے اور تین ڈیم اڑ جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے ایک جدید ترین آپشن کا انکشاف کیا کہ پاکستان سائبر حملے کر کے ان ڈیمز کے گیٹس بیٹھے بٹھائے کھول سکتا ہے، جیسا کہ ماضی قریب میں ان کی ستر فیصد بجلی بند کرنے کی مثال موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلی دی کہ روایتی ہتھیاروں سے بھی ان ڈیمز کو تباہ کیا جا سکتا ہے، اور یہ کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی نے طاقت کا توازن قائم کر رکھا ہے جو ہمسایہ ملک کی طاقت سے کہیں برتر ہے۔
جدید جنگوں کے ایک اہم ہتھیار ڈرونز پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے پاس نہ صرف جدید ترین ڈرون ہیں بلکہ وہ دس سال پہلے سے دہلی اور کلکتہ تک جاسوسی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ڈرونز انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور ریڈارز کو چکما دیتے ہیں۔ انہوں نے ترکی کی طرف سے ڈرونز بھجوانے پر شکریہ کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے خود بھی ڈرونز کی مکمل رینج تیار کر رکھی ہے۔ حالیہ جنگ میں بھارت کی جانب سے اسرائیلی ڈرونز کی آمد اور پاکستان کی جوابی کارروائی پر انہوں نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے خود ساختہ جیمرز کے نظام سے دشمن کے ڈرونز کا ریڈیو کنٹرول لنک توڑ کر انہیں گرایا، جس کی واضح مثال وہ بڑا ڈرون ہے جو تیس سے چالیس ملین ڈالر مالیت کا تھا اور پاکستانی حدود میں گر کر تباہ ہوا۔
اٹھائیس مئی 1998ء کے یادگار دن کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم بیس مئی کو چاغی پہنچے۔ انہوں نے ایٹم بموں کو الگ الگ پارٹس میں کریٹس بند کر کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے منتقل کیا، اور ٹنلز میں جا کر اسمبل کیا۔ ان مشکل لمحات میں ان کے ذہن میں صرف یہ تھا کہ ’’کیا کرنا ہے‘‘، جبکہ انہیں ’’کیا ہو گا‘‘ کی فکر نہیں تھی۔ چار پانچ دن میں اسمبلنگ اور ٹنلز کو کنکریٹ سے بند کرنے کا کام مکمل ہوا۔ ستائیس کی رات کام ختم کرنے کے بعد اگلی صبح چار بجے اٹھ کر انہوں نے نماز پڑھی اور دعا مانگی۔ اس وقت پورے علاقے سے بریگیڈ کو ہٹا دیا گیا تھا اور ایک گھنٹے کے لیے وہاں کوئی انسانی روح موجود نہیں تھی، سوائے نصب شدہ ایٹم بموں کے۔
دھماکے کا انتظار اور اس کا منظر انتہائی سنسنی خیز تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ریموٹ کنٹرول آپریٹ کرنے والے انجینئر نے کہا کہ وہ خود یہ کام کریں، لیکن انہوں نے کہا کہ تم نے محنت کی ہے، تم ہی کرو۔ جب انجینئر نے الٹی گنتی شروع کرنے کی اجازت مانگی تو ڈاکٹر صاحب نے برجستہ کہا کہ گنتی کی کیا ضرورت ہے، اللہ اکبر کہہ کر بٹن دبا دو۔ چنانچہ ’’یومِ تکبیر‘‘ اسی طرح وجود میں آیا۔ بٹن دبانے کے بعد پینتیس سیکنڈ تک کچھ نہیں ہوا، پھر اچانک اتنا زبردست زلزلہ آیا کہ وہ گرتے گرتے بچے۔ کالے پتھر کے پہاڑ برف کی طرح سفید ہونے لگے اور پھر دھماکے والی جگہ سرخ ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑ کی مضبوطی نے دھماکے کو قابو میں رکھا اور ریڈی ایشن کا اخراج نہیں ہوا، البتہ اڑتالیس انچ موٹی بنکر کی دیواریں شاک ویو سے اس قدر پھٹ گئیں کہ ان میں سے پتلا آدمی گزر سکتا تھا۔
جاوید چوہدری نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر وزیراعظم نواز شریف کے کردار اور ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس کی روداد طلب کی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ وہ اس اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت فنانس منسٹر سرتاج عزیز نے امریکی پابندیوں اور معاشی بحران کا حوالہ دے کر ٹیسٹ نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ نواز شریف نے سب کی باتیں سنیں اور کھل کر بحث کی اجازت دی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پوائنٹ آف نو ریٹرن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت ٹیسٹ روکا جا سکتا ہے۔ جب یہی سوال ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ کنکریٹ کا پہلا پلگ ڈالنے کے ایک گھنٹے بعد صورتحال واپس نہیں پلٹ سکتی، کیونکہ بم ٹنل کے اندر کنکریٹ میں بند ہو چکے ہوتے ہیں۔
1945ء کے ہیروشیما بم اور آج کے جدید بموں میں فرق واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مینیچرائزیشن (ہتھیار کو مختصر کرنے) کی تکنیک نے بموں کو انتہائی چھوٹا اور طاقتور بنا دیا ہے۔ آج کا دس بارہ کلو ٹن کا بم ہیروشیما والے بم کے وزن کا پندرہواں یا بیسواں حصہ رکھتا ہے، جبکہ اس کی تباہی کی شدت کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہتھیار صرف ڈیٹرنس کے لیے ہیں، تاکہ کوئی غیر سنجیدہ قیادت پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
آخر میں جاوید چوہدری نے بھارتی وزیراعظم مودی کے لیے پیغام طلب کیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ مودی صاحب کو اپنے اندرونی مسائل، جیسے ناگالینڈ اور سکھوں کی تحریکیں، خود حل کرنے چاہئیں، انہیں پاکستان کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی قوم ایک "مارشل ریس" ہے اور اگر اس کا دماغ خراب ہوا تو اس کے نتائج بھارت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پرامن بقائے باہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔
