مسلم دنیا تاریخ کے نئے موڑ پر
مولانا فضل الرحمٰن کی ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس

داخلی سلامتی پر قومی مشاورت کی ضرورت

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی گفتگو کا آغاز ملک خصوصاً خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، وزیرستان، لکی مروت اور بنوں جیسے علاقوں میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دیہاتی آبادی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ لوگوں کو اپنی جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ریاستی رِٹ عملاً کہیں نظر نہیں آ رہی، جو ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات کو کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی ناکامی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، جس میں ملک کی حقیقی صورتحال عوام کے نمائندوں کے سامنے رکھی جائے اور اجتماعی دانش کے ذریعے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ ان کے مطابق، پالیسی سازی کو خفیہ رکھنے کے بجائے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

مسلم دنیا کے لیے نئے امکانات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

مولانا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو غیر واضح اور کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے چین، ایران، امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ابہام اور غیر یقینی صورتحال ملک کے لیے خطرناک ہے اور فوری طور پر واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اسلامی دنیا کے حوالے سے اپنی گفتگو میں کہا کہ ماضی میں مسلم ممالک نے اپنی سیاست، معیشت اور دفاع کا انحصار مغربی طاقتوں پر رکھا، جس کے نتائج آج عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور ایران پر مسلط کی گئی جنگوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو اب ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل، باہمی اقتصادی و دفاعی تعاون، اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کا ممکنہ کردار

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور امریکہ اب پہلے جیسی سپر پاور نہیں رہا۔ ان کے مطابق، دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین اور دیگر طاقتیں ابھرتی ہوئی قوتیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو خود اعتمادی کے ساتھ اپنی پوزیشن کا تعین کرنا ہوگا اور بدلتی عالمی صورتحال میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار غیر واضح ہے، تاہم موجودہ حالات میں ثالثی ایک ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان براہ راست کسی تنازع کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی سطح پر کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اپنی داخلی اور خارجی پوزیشن کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔

امریکی اثر و رسوخ سے نکلنے کی ضرورت

مولانا نے امریکہ کی پالیسیوں کو متضاد اور مفاد پرستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف مواقع پر مختلف مؤقف اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو کسی بھی عالمی طاقت کے جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیے اور اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ اہم قومی فیصلے محدود حلقوں میں کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے کیے جائیں۔ انہوں نے موجودہ حکومتی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہ لینا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

علاقائی تعاون اور ایشیائی اتحاد کی تجویز

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے علاقائی بلاکس کی طرف بڑھ رہی ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی ایشیائی سطح پر اتحاد اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق، مستقبل میں عالمی معیشت کا مرکز ایشیا ہوگا اور چین اس میں کلیدی کردار ادا کرے گا، اس لیے پاکستان کو اپنی علاقائی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

پاکستان کی افغان پالیسی پر تنقید

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کی طویل المدتی پالیسی کو ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان پر اثرانداز ہونے یا اسے زیرِ نگیں رکھنے کی سوچ ترک کرنی ہوگی۔ اس کے بجائے ایک خودمختار اور مستحکم افغانستان کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام اور عوامی روابط کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی کی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

بھارت کو اپنے علاقائی کردار پر نظرثانی کا مشورہ

بھارت کے حوالے سے انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے کشمیر کی صورتحال، بھارتی داخلی سیاست، اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ رویے پر تنقید کی اور کہا کہ بھارت کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

پاکستان کی تنزل پذیر معیشت اور حکومتی کارکردگی

آخر میں انہوں نے موجودہ حکومت کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں واضح حکمرانی کا فقدان ہے۔ انہوں نے معیشت کی زبوں حالی، روپے کی قدر میں کمی، اور مہنگائی میں اضافے کو مسلسل غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مسائل کسی ایک حالیہ بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ناکامی کا عکاس ہیں۔

https://www.facebook.com/share/v/1G7LgDNBS4