پروفیسر جیانگ کی مزید تین پیشگوئیاں امریکہ ایران جنگ اور عالمی سیاست پر مہدی حسن کا انٹرویو
2024ء میں چینی استاذ شوئے جیانگ نے اپنے یوٹیوب چینل Predictive History پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے تین بڑی پیشگوئیاں کیں:
- پہلی یہ کہ ڈونلڈ دوبارہ صدر منتخب ہوں گے؛
- دوسری یہ کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرے گا؛
- اور تیسری یہ کہ امریکہ اس جنگ میں شکست کھائے گا۔
وقت گزرنے کے ساتھ، ان کی دو پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں، جس کے بعد وہ انٹرنیٹ پر خاصی شہرت حاصل کر گئے اور بعض حلقوں میں انہیں ’’چین کا نوسٹرے ڈیمس‘‘ بھی کہا جانے لگا۔
تاہم، ان کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان پر تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر ان کے بعض نظریات کو سازشی اور غیر روایتی قرار دیا گیا۔ مہدی حسن نے اسی تناظر میں ان کا انٹرویو کیا تاکہ نہ صرف ان کے خیالات کو سمجھا جا سکے بلکہ ان پر تنقیدی سوالات بھی اٹھائے جائیں۔
انٹرویو کے دوران پروفیسر جیانگ نے وضاحت کی کہ وہ ’’گیم تھیوری‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سیاست کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، دنیا کے ہر ملک کو ایک کھلاڑی سمجھا جا سکتا ہے جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک “زیرو سم گیم” میں مصروف ہے، جہاں ایک کی جیت دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے باعث برتری رکھتا ہے، جبکہ ایران ایک غیر روایتی (asymmetrical) حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ایران براہِ راست مقابلے کے بجائے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے اور خلیجی ممالک کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی پیشگوئی پر قائم ہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار جائے گا، تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس واضح حکمت عملی اور مقاصد ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت اب تک کوئی واضح ہدف یا حکمت عملی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث عوامی حمایت اور فوجی حوصلہ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
پروفیسر جیانگ نے مزید پیشگوئی کی کہ امریکہ ممکنہ طور پر زمینی افواج کو میدان میں اتارے گا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم، ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہوگا کہ حاصل کردہ علاقوں پر کنٹرول کیسے برقرار رکھا جائے، کیونکہ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے غیر روایتی جنگی حکمت عملی، جیسے ڈرونز اور میزائل حملوں، کی تیاری کر رہا ہے، جو امریکہ کے لیے طویل المدتی چیلنج بن سکتی ہے۔
اپنی پیشگوئیوں کے حوالے سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر جیانگ نے کہا کہ اگر کوئی عالمی سیاست کو قریب سے دیکھے تو ان نتائج تک پہنچنا مشکل نہیں تھا، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جب انہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی ایک پیشگوئی غلط ثابت ہوئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نکی ہیلی کو ٹرمپ کی نائب صدر منتخب کیا جائے گا، اس کے برعکس جے ڈی وینس کو منتخب کیا گیا، جو جنگ کے حوالے سے نسبتاً محتاط موقف رکھتے ہیں۔
چین کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر جیانگ نے کہا کہ چین بظاہر عالمی امن اور تجارت کا حامی ہے، مگر اس کے پاس امریکہ یا ایران پر اثرانداز ہونے کی محدود صلاحیت ہے۔ ان کے مطابق، یہ جنگ جزوی طور پر چین کی معیشت کو دباؤ میں لانے کے لیے بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے۔
انٹرویو کے دوران مہدی حسن نے پروفیسر جیانگ کے ماضی پر بھی سوال اٹھائے، جن میں ان کی 2002ء میں چین سے بے دخلی اور 2017ء میں چینی میڈیا پر تنقیدی مضمون شامل تھا۔ پروفیسر جیانگ نے وضاحت دی کہ انہیں جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا مگر بعد ازاں انہیں اس الزام سے بے گناہ قرار دیا گیا تھا، البتہ وہ ملک بدر کر دیے گئے تھے کیونکہ انہوں نے چینی حکومت کے خلاف رپورٹنگ کی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیالات چینی حکومت سے متاثر ہیں، تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا، تاہم یہ اعتراف کیا کہ ممکن ہے مختلف حکومتیں یا ادارے ان کے پیغام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔
انٹرویو کے آخری حصے میں، جیانگ کے متنازع نظریات، خصوصاً خفیہ تنظیموں اور عالمی سازشوں سے متعلق خیالات، زیر بحث آئے۔ مہدی حسن نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نظریات بعض اوقات انتہا پسندانہ یا متعصبانہ محسوس ہوتے ہیں۔ پروفیسر جیانگ نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’قیاسی تجزیہ‘‘ (speculative analysis) کے ذریعے تاریخ اور طاقت کے ڈھانچوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیاسی طور پر وہ ہمیشہ بائیں بازو سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ دولت کی تقسیم، آزادئ رائے، اور فردی خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں، نیز وہ جنگوں اور سلطنتوں کے خلاف ہیں۔
آخر میں مہدی حسن نے پوچھا کہ 2026ء کے بارے میں ان کی پیشگوئی کیا ہے؟ اس پر پروفیسر جیانگ نے تین نئی پیشگوئیاں پیش کیں:
- امریکہ زمینی جنگ میں الجھ جائے گا اور ممکنہ طور پر جبری بھرتی (draft) کا سہارا لے گا۔
- اس جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
- انہوں نے کہا کہ تیسری پیشگوئی جو کہ بہت متنازعہ ہے، یہ ہے کہ جنگ کے دوران کسی نہ کسی طرح مسجد اقصیٰ تباہ ہو جائے گی۔
ان کی آخری پیشگوئی پر مہدی حسن نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسا نہ ہونے کی دعا کی۔
