سعودی معاہدہ جس نے ڈالر کو طاقتور بنایا

سن 2025ء میں دنیا نے تقریباً تین کھرب ڈالر کا تیل خریدا، اور اس کی تقریباً پوری ادائیگی ایک ہی کرنسی میں کی گئی۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ دنیا کی سب سے مضبوط یا سب سے مستحکم کرنسی تھی، بلکہ اس کے پیچھے 1974ء میں سعودی عرب کے صحرا میں ہونے والا ایک خفیہ معاہدہ تھا۔ اس نظام کو “پیٹرو ڈالر” کہا جاتا ہے، ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ جس نے کئی دہائیوں تک دنیا کی معیشت کو اپنے گرد گھمائے رکھا، مگر جس کے بارے میں عام لوگوں کو بہت کم بتایا گیا۔

بریٹن ووڈز نظام اور ڈالر کی طاقت

15 اگست 1971ء کو امریکی صدر رچرڈ نکسن ٹیلی وژن پر آئے اور اعلان کیا کہ امریکہ عارضی طور پر ڈالر کو سونے میں تبدیل کرنے کا عمل معطل کر رہا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک عالمی مالیاتی نظام قائم کیا گیا تھا جسے “بریٹن ووڈز” کہا جاتا تھا۔ اس نظام کے تحت امریکی ڈالر سونے سے منسلک تھا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اگر ڈالر رکھتا تھا تو وہ امریکہ سے مطالبہ کر سکتا تھا کہ ان ڈالرز کے بدلے اسے سونا دیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈالر دنیا کی سب سے قابلِ اعتماد کرنسی بن گیا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ امریکہ نے اپنی معیشت، جنگوں، سماجی پروگراموں اور سرد جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اتنے زیادہ ڈالر چھاپ دیے کہ ان کے مقابلے میں سونا کم پڑنے لگا۔ دنیا کے ممالک کو شک ہونے لگا کہ امریکہ کے پاس اتنا سونا موجود نہیں جتنا ڈالر گردش میں آ چکے ہیں۔ چنانچہ مختلف ممالک نے اپنے ڈالر واپس لا کر سونا مانگنا شروع کر دیا۔ اس دباؤ کے تحت نکسن نے سونے کا دروازہ بند کر دیا۔ اب ڈالر کے پیچھے سونا نہیں تھا، صرف اعتماد تھا، اور اعتماد بھی تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔

1973ء کی جنگ اور امریکی بحران

1973ء میں (1967ء کی جنگ کے جواب میں) مصر اور شام نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا، جسے “یومِ کپور جنگ” کہا جاتا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی بھرپور فوجی مدد کی۔ اس کے جواب میں تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک، خاص طور پر اوپیک، نے امریکہ کے خلاف تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ تیل کی پیداوار کم کر دی گئی، امریکہ پر پابندی لگا دی گئی، اور تیل کی قیمت تقریباً 3 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 12 ڈالر تک پہنچ گئی۔ امریکہ میں پٹرول پمپ خشک ہو گئے، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، اور “آج پٹرول نہیں ہے” ایک معمول کا جملہ بن گیا۔ اب امریکہ کے پاس ایک ایسی کرنسی تھی جس کے پیچھے سونا نہیں تھا، مہنگائی بڑھ رہی تھی، اور دنیا کی سب سے اہم چیز یعنی تیل اس کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔ امریکہ کو ایک نئے منصوبے کی ضرورت تھی، ایسا نظام جو دنیا کو دوبارہ ڈالر استعمال کرنے پر مجبور کر دے۔

سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کا تاریخی معاہدہ

امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر سعودی عرب پہنچے۔ انہوں نے سعودی شاہی خاندان کو ایک پیشکش دی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر بیٹھا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ مسلسل خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ امریکہ نے تجویز دی کہ سعودی عرب اپنا تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت کرے، اور اس سے حاصل ہونے والی اضافی رقم امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کرے۔ بدلے میں امریکہ سعودی عرب کی حفاظت کرے گا، اسے اسلحہ فراہم کرے گا، اور اس کے تیل کے ذخائر کا دفاع کرے گا۔ چنانچہ 1974ء میں سعودی عرب اس معاہدے پر راضی ہو گیا، اور جلد ہی اوپیک کے دیگر ممالک نے بھی یہی راستہ اختیار کر لیا۔ یوں “پیٹرو ڈالر” نظام وجود میں آیا۔

پیٹرو ڈالر نظام کیسے کام کرتا ہے؟

اس نظام کی بنیاد تین اہم بنیادوں پر ہے:

  1. دنیا بھر میں تیل کی قیمت صرف امریکی ڈالر میں مقرر کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے امریکی ڈالر حاصل کرنا پڑتے ہیں۔ چاہے جاپان ہو، جرمنی ہو یا کوئی اور ملک، سب کو ڈالر کی ضرورت ہے۔
  2. تیل فروخت کرنے والے ممالک کے پاس ڈالرز کے انبار لگنے لگے۔ سعودی عرب جیسے ممالک اتنا زیادہ تیل بیچتے تھے کہ وہ ساری رقم اپنے ملک میں خرچ ہی نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ یہ اضافی ڈالر دوبارہ امریکہ واپس جانے لگے، امریکی بینکوں، ٹریژری بانڈز اور مالیاتی منڈیوں میں۔ اس عمل کو “پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ” کہا گیا۔
  3. امریکہ انہی واپس آنے والے ڈالرز کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس سے امریکی حکومت کو آسانی سے قرض ملتا، شرح سود کم رہتی، اور فوجی طاقت برقرار رہتی۔ یہی فوج پھر ان تیل کے ذخائر کی حفاظت کرتی جو پورے نظام کو چلائے رکھتے تھے۔

یوں ایک سلسلہ قائم ہو گیا۔ امریکہ کو خود تیل بیچنے کی ضرورت نہیں تھی، صرف اتنا ضروری تھا کہ دنیا تیل خریدنے کے لیے ڈالر استعمال کرتی رہے۔

عالمی طاقت کے طور پر ڈالر کی حیثیت

1980ء کی دہائی تک یہ نظام پوری طاقت سے چلنے لگا۔ عالمی ذخائر میں ڈالر کا حصہ 70 فیصد سے اوپر چلا گیا۔ امریکی ٹریژری بانڈز دنیا کی سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے لگے، اور امریکی مالیاتی منڈیاں عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بن گئیں۔ امریکہ آسانی سے قرض لے سکتا تھا، بڑے بجٹ خسارے سنبھال سکتا تھا، اور مزید ڈالر چھاپ سکتا تھا، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کا بوجھ دنیا کے دوسرے ممالک برداشت کرتے تھے۔ ماہرینِ معاشیات نے اسے ’’غیر معمولی استحقاق‘‘ کہا، لیکن حقیقت میں یہ امریکہ کی بے مثال مالی طاقت تھی (جس کے پیچھے فوجی طاقت تھی)۔

اقتصادی پابندیاں: ڈالر کا سب سے خطرناک ہتھیار

وقت کے ساتھ ڈالر صرف ایک کرنسی نہیں رہا بلکہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد بن گیا۔ تجارت، بینکنگ، قرضے، ادائیگیاں اور عالمی ذخائر سب بڑی حد تک ڈالر کے نظام سے جڑ گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر امریکہ کسی ملک کو ڈالر نظام سے نکال دیتا، تو وہ ملک عالمی مالیاتی دنیا سے تقریباً کٹ جاتا۔ اسی لیے امریکی پابندیاں اتنی خوفناک سمجھی جاتی ہیں۔ اگر امریکہ کسی حکومت سے ناراض ہو جائے تو وہ اس کی معیشت کو مفلوج کر سکتا ہے۔

وہ ممالک جنہوں نے ڈالر کو چیلنج کیا

  • سن 2000ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے اعلان کیا کہ عراق اپنا تیل ڈالر کے بجائے یورو میں فروخت کرے گا۔ تین سال بعد عراق پر حملہ ہوا، اور صدام دور کے خاتمے کے بعد عراقی تیل دوبارہ ڈالر میں فروخت ہونے لگا۔
  • لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے افریقی تیل تجارت کے لیے سونے پر مبنی ایک نئی کرنسی ’’گولڈ دینار‘‘ متعارف کرانے کی کوشش کی۔ اس منصوبے کے لیے لیبیا نے تقریباً 143 ٹن سونا جمع کیا تھا۔ مگر 2011ء میں نیٹو کی مداخلت ہوئی، قذافی مارے گئے، اور یہ منصوبہ بھی ختم ہو گیا۔
  • وینزویلا نے ایک مختلف راستہ اپنایا۔ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر موجود تھے۔ 2018ء میں صدر مادورو نے ’’پیٹرو‘‘ نامی ایک کرپٹو کرنسی متعارف کروائی تاکہ ڈالر نظام سے باہر تجارت کی جا سکے۔ مگر یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں امریکہ نے وینزویلا پر پابندیاں مزید سخت کر دیں، اس کے تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، اور 2026ء میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔

اگرچہ ان تمام تنازعات کی وجوہات صرف ڈالر نہیں تھیں، مگر ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے: جو بھی عالمی مالیاتی سلطنت کو چیلنج کرتا ہے، اسے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

روس، چین اور نئے عالمی اتحاد

2022ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ نے روس کے تقریباً 300 ارب ڈالر کے غیر ملکی ذخائر منجمد کر دیے اور روسی بینکوں کو ’’سوئفٹ‘‘ نظام سے نکال دیا۔ اس اقدام نے دنیا کو چونکا دیا۔ کئی ممالک نے محسوس کیا کہ اُن کے ڈالر دراصل صرف اسی وقت تک اُن کے ہیں جب تک امریکہ اجازت دے۔ اس کے بعد عالمی منظرنامہ بدلنا شروع ہوا۔ چین نے امریکی ٹریژری بانڈز کم کرنا شروع کر دیے اور بڑی مقدار میں سونا خریدنا شروع کیا۔ روس اور چین نے اپنی تجارت یوآن اور روبل میں بڑھا دی۔ برازیل اور چین نے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کے معاہدے کیے۔ بھارت نے روسی تیل کی کچھ ادائیگیاں روپے میں کرنا شروع کیں۔ حتیٰ کہ سعودی عرب، جس نے پیٹرو ڈالر نظام کی بنیاد رکھی تھی، اس نے بھی کہا کہ وہ ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تجارت کے لیے تیار ہے۔

پیٹرو ڈالر کا مستقبل خطرے میں؟

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2001ء میں عالمی ذخائر میں ڈالر کا حصہ 72 فیصد تھا، جو کہ اب کم ہو کر 58 فیصد سے نیچے آ چکا ہے۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک ریکارڈ مقدار میں سونا جمع کر رہے ہیں۔ صرف 2024ء میں ایک ہزار ٹن سے زیادہ سونا خریدا گیا۔ چینی یوآن بھی آہستہ آہستہ عالمی ذخائر میں جگہ بنا رہا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ تیل کا مستقبل ہے۔ 2025ء میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والی ہر چار گاڑیوں میں سے ایک الیکٹرک تھی۔ اگر دنیا تیل پر کم انحصار کرے گی تو ڈالر پر بھی اس کا انحصار کم ہو سکتا ہے۔

اگرچہ آج بھی ڈالر عالمی تجارت اور فارن ایکسچینج کا سب سے بڑا ستون ہے، مگر پہلی بار پچاس سال میں اسے حقیقی مقابلے کا سامنا ہے۔ اب اس کے سامنے ایک ہی بڑا دشمن نہیں بلکہ درجنوں چھوٹے متبادل موجود ہیں۔ پیٹرو ڈالر کی مشین اب بھی چل رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ کب تک چلتی رہے گی؟

https://youtu.be/9r-45QPLl-Y


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات