دورۂ امریکہ 1957ء : وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کا انٹرویو
پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کا 1957ء میں دورۂ امریکہ کے دوران مشہور امریکی ٹیلی ویژن پروگرام ’’فیس دی نیشن‘‘ (Face the Nation) میں دیا گیا انٹرویو سیاسی بصیرت، سفارتی پختگی اور دوٹوک گفتگو کا عکاس ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی گفتگو کے اہم حصے مرتب انداز میں یہاں پیش کیے جا رہے ہیں:
1. دورۂ امریکہ کے مقاصد اور ذاتی سفارت کاری کی اہمیت
وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے اپنے دورۂ امریکہ کے محرکات کو واضح کرتے ہوئے اس تاثر کو یکسر مسترد کیا کہ وہ واشنگٹن سے کچھ مانگنے یا کوئی مادی فائدہ حاصل کرنے آئے تھے۔ انہوں نے سفارت کاری میں ذاتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں دونوں ممالک کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے سیاسی نظریات، پالیسیوں اور سوچ کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا مقصد محض دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا، دوست بنانا اور نظریات کا تبادلہ کرنا تھا، کیونکہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے اس اخلاقی فلسفے کے معترف تھے جس کے تحت ایک بڑی طاقت دوسرے چھوٹے ممالک کی ترقی میں مددگار بنتی ہے۔
2. پاکستان کی دفاعی ضروریات، بیرونی امداد اور عالمی معاہدے
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی اتحادوں (سیٹو اور بغداد پیکٹ) پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صاف گوئی سے کام لیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کے موجودہ مالی وسائل اور ریونیو پاکستان کی دفاعی افواج کو اس معیار پر برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہیں جو ملک کو کسی بھی امکانی جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔
انہوں نے امریکی امداد کے حوالے سے دو اہم پہلو واضح کیے:
تعمیری تعاون کا تحفظ: پاکستان امریکہ سے اتنی فوجی امداد کا خواہاں ہے جو اسے کسی بھی بیرونی حملے کے خوف سے آزاد کر کے ملکی تعمیر و ترقی پر توجہ دینے کے قابل بنائے۔ وہ اتنی زیادہ امداد کے طلب گار نہیں جسے ملکی نظام ہضم نہ کر سکے۔
امدادی وابستگی کا سچ: انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ سے ملنے والی مالی اور ترقیاتی امداد ملکی پالیسیوں پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ پاکستان اپنے بنیادی نظریاتی اور مذہبی اصولوں کی بنیاد پر مغرب کا اتحادی بنا ہے، نہ کہ اقتصادی مجبوریوں کے تحت۔ اگر امریکہ یہ امداد روک بھی دے، تب بھی پاکستان اپنے اصولی راستے پر قائم رہے گا۔
3. مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات
کشمیر کے دیرینہ تنازعے پر بات کرتے ہوئے حسین شہید سہروردی نے بھارتی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا، جس میں پاکستان پر فوجی حملے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی (1950ء اور 1951ء) میں بھارت نے دو بار اپنی افواج پاکستان کی سرحدوں پر منتقل کیں، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن رویہ اپنایا کیونکہ بھارت فوجی لحاظ سے پاکستان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اسی لیے پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے۔ سہروردی نے امید ظاہر کی کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ اور سفارتی وزن کو استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں پاکستان کے منصفانہ موقف کی حمایت کرے گا تاکہ کشمیریوں کو انصاف مل سکے۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے اس موقف پر کہ "پاکستان نے کشمیر سے فوجیں نکالنے کی اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہیں کیا"، سہروردی نے دوٹوک جواب دیا کہ اقوام متحدہ خود اس بھارتی دعوے کو مسترد کر چکی ہے اور یہ محض نہرو کی ہٹ دھرمی کا ایک بہانہ ہے۔
4. پاک بھارت آبی تنازعہ اور بقا کی جنگ
دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے بھارتی دھمکیوں اور ڈیموں کی تعمیر پر سہروردی نے انتہائی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے نکلنے والے دریا پاکستان کی زرعی زندگی کی شہ رگ ہیں اور بھارت ان کا پانی روک کر پاکستان کو قحط سالی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے متبادل فراہم کیے بغیر پانی بند کرنے کا کوئی وحشیانہ قدم اٹھایا تو پاکستانی عوام پیاس اور بھوک سے مرنے کے بجائے لڑ کر مرنے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ یہ جارحیت کی بدترین شکل ہوگی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری اور قیامِ امن کے ذمہ دار ممالک بھارت کو ایسا کوئی بھی غیر انسانی قدم اٹھانے سے روکنے کے لیے بروقت مداخلت کریں گے۔
5. پاک بھارت مذہبی تاریخ اور اقلیتوں کا تحفظ
تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے خون خرابے اور مابعد کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر ہونے والا تنازعہ تقسیم کے ساتھ ہی اصولی طور پر طے پا چکا تھا۔ پنجاب میں ہونے والے سانحات وقتی جذبات کا نتیجہ تھے، جس کے بعد حالات معمول پر آ گئے۔
انہوں نے دونوں ممالک میں اقلیتوں کے سلوک کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اپنی غیر مسلم اقلیت (جو کل آبادی کا آٹھواں حصہ تھی) کے ساتھ انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے پوری طرح کاربند ہے۔ 1950ء میں ہونے والے "نہرو-لیاقت معاہدے" کے بعد سے پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف کوئی فساد نہیں ہوا، جبکہ اس کے برعکس بھارت میں اس دوران مسلمانوں کے خلاف 402 دنگے فسادات ریکارڈ کیے گئے، جو بھارتی دعووں کی نفی کرتے ہیں۔
6. ناوابستگی کی پالیسی اور نہرو کا سیاسی تضاد
بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی "غیر وابستگی" (Neutrality) کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سہروردی نے کہا کہ مسٹر نہرو خود اپنی پوزیشن واضح طور پر نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی ایک بین الاقوامی بلاک کی طرف جھکتے ہیں اور کبھی دوسرے کی طرف، تاکہ دونوں دنیاؤں سے بہترین مفادات حاصل کر سکیں۔
جب سہروردی سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان بھی ماضی میں غیر وابستہ تھا، تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 1953ء یا 1954ء تک وہ اپوزیشن میں تھے اور حکومت نے دفاعی معاہدوں پر ملک یا اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، اس لیے معلومات کی کمی کی وجہ سے وہ کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم، اقتدار میں آنے اور حالات کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کا واحد راستہ ان دفاعی معاہدوں کا حصہ بننا ہی ہے۔
7. چین کے ساتھ تعلقات اور تجارتی پالیسی
کمیونسٹ چین کے حوالے سے سہروردی نے پاکستان کی متوازن اور حقیقت پسندانہ پالیسی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی کسی بھی ملک کے خلاف کینہ نہ رکھنے پر مبنی ہے، اس لیے جب تک چین پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، پاکستان کو بھی اس کے امور میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ پاکستان کے سفارتی تعلقات تائیوان کے بجائے بیجنگ کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ ہیں، تاہم یہ تعلقات خالصتاً باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ روئی کی فروخت اور کوئلے کی درآمد جیسی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ تجارت ایسی نوعیت کی نہیں ہے جسے کوئی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دے سکے۔ چین کو تسلیم کرنے کے امریکی موقف پر انہوں نے امریکی وزیر خارجہ جان فوسٹر ڈالس کے دلائل سے اتفاق کیا۔
8. مشرقِ وسطیٰ، مسئلہ فلسطین اور مسلم دنیا کی قیادت
حسین شہید سہروردی نے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کے حل کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ امریکہ اور پاکستان دونوں فریقین کو اقوام متحدہ سے باہر ایک میز پر لا کر ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کا قیام ایک تاریخی غلطی اور ایک "ناخوشگوار حقیقت" ہے، لیکن چونکہ وہ اب وجود رکھتا ہے، اس لیے عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان کسی ایسے معاہدے کا ہونا ضروری ہے جو خطے میں پائیدار امن لا سکے۔
مصری صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے مسلم دنیا کی قیادت کے سوال پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا:
’’میری مسلم دنیا کی قیادت کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ میرا واضح مؤقف ہے کہ جو ملک بھی مسلم دنیا کی قیادت کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، وہ اسلامی ممالک کو متحد کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ میری تمنا صرف اتنی ہے کہ تمام مسلم ممالک ایک میز پر بیٹھیں، اپنے تنازعات خود حل کریں اور عالمی امن کے لیے مشترکہ تجاویز پیش کریں۔‘‘
9. نظریاتی خطرات، اندرونی دراندازی اور ایشیا میں جمہوریت کا مستقبل
ملک کو درپیش نظریاتی خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں کمیونزم کی دراندازی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کمیونسٹ ممالک براہِ راست سامنے آنے کے بجائے بعض غیر جانبدار ممالک اور ان کے ایجنٹوں (جیسے بھارتی ایجنٹ) کے ذریعے پاکستان میں اس نظریے کا پرچار کر رہے ہیں، جو ملکی سلامتی کے لیے ایک چیلنج ہے۔
انڈونیشیا کے صدر سوکارنو کے اس نظریے پر کہ "ایشیا کے لوگ ابھی وسیع جمہوریت کے لیے تیار نہیں ہیں"، سہروردی نے شدید اختلاف کیا۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ یہ بات انڈونیشیا کے لیے درست ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کے لیے نہیں۔ برطانوی دورِ حکومت نے پاکستانی عوام کو ایک مضبوط جمہوری پس منظر اور ماحول دیا ہے، اور وہ اپنے ملک میں عام اور وسیع انتخابات کے ذریعے مکمل جمہوریت لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
