بانوے سالہ زندگی کا سبق
بانوے سال کی زندگی: ایک تلخ حقیقت کا اعتراف
میں بانوے برس کا ہوں۔ میں اپنی بیوی سے زیادہ جیا، اپنے دوستوں سے زیادہ جیا، اپنے دشمنوں سے بھی زیادہ جیا۔ اور میں اُس اپنے پرانے وجود سے بھی آگے نکل آیا ہوں جو اس بات کی پروا کرتا تھا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ آج میں زندگی کی اس آخری چٹان کے کنارے کھڑا ہوں جہاں سے نیچے گہری کھائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اس کنارے سے آگے بڑھ جاؤں، میں پیچھے مڑ کر اُن لوگوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جو ابھی زندگی میں مصروف ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت وقت ہے۔
آپ لوگ ایک خوش فہمی میں جی رہے ہیں۔ آپ اپنے دنوں کو اس طرح خرچ کرتے ہیں جیسے وہ کبھی ختم نہ ہوں گے، جیسے وقت کا کوئی لامحدود خزانہ جمع ہو۔ میں ایک تلخ حقیقت بتانا چاہتا ہوں: ہم سب کو مرنا ہے، تم لوگ یہ بات ذہنی طور پر جانتے ہو، مگر تم نے اسے اپنے وجود میں محسوس نہیں کیا۔ اگر تم نے واقعی موت کی ٹھنڈی دھار کو اپنی گردن پر محسوس کیا ہوتا تو تم اس طرح زندگی نہ گزارتے۔
جیک کی کہانی: مؤخر کی گئی زندگی کا انجام
1968ء کی بات ہے۔ میرا ایک بہترین دوست تھا، جیک۔ وہ مجھ سے زیادہ ذہین، زیادہ خوش شکل اور زیادہ امیر تھا۔ ایک رات ہم ایک بڑی کاروباری کامیابی کا جشن منا رہے تھے۔ وہ سگار پیتے ہوئے مسکرا کر بولا، ’’فرینک، صرف پانچ سال اور۔ میں پانچ سال اور محنت کروں گا، پھر سب چھوڑ دوں گا۔ پھر میں اپنی بیوی میری کو اٹلی لے جاؤں گا، مصوری سیکھوں گا، اور اصل زندگی شروع کروں گا۔‘‘
اس کے پاس منصوبہ تھا، نقشہ تھا، مستقبل کا خواب تھا۔ مگر صرف تین دن بعد وہ اپنے دفتر کی عمارت سے باہر نکلا، سینے پر ہاتھ رکھا اور زمین پر گر پڑا۔ شدید دل کا دورہ۔ عمر صرف بیالیس برس۔ نہ وہ اٹلی جا سکا، نہ اس نے کوئی مصوری کی۔
میں اس کے تابوت کے پاس کھڑا تھا۔ المیہ یہ نہیں تھا کہ جیک مر گیا؛ ہم سب کو مرنا ہے۔ اصل المیہ یہ تھا کہ جیک نے پوری زندگی ’’جینے‘‘ کا انتظار کرتے ہوئے گزار دی۔ اس نے اپنی زندگی کو ایک انتظار گاہ سمجھا، ایک ایسے بہتر مستقبل کے لیے جو کبھی آیا ہی نہیں۔
ایک ہفتے بعد میں اس کا دفتر خالی کرنے گیا۔ اس کی ڈائری میں اگلے چھ ماہ کی مصروفیت درج تھی۔ خطوط کا ڈبہ پیغامات سے بھرا ہوا تھا۔ دنیا نہیں رکی۔ کمپنی نے دو ہفتوں میں اس کی جگہ نیا آدمی رکھ لیا۔ ایک سال میں گاہک اس کا نام بھی بھول گئے۔
آج میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے جیک نظر آتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ ترقی ملے گی تو خوش ہوں گے، بچے بڑے ہو جائیں گے تو سفر کریں گے، معافی تب دو گے جب دوسرا پہلے مانگے گا۔ ایک بانوے سالہ شخص کی بات سن لو: ’’بعد‘‘ میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو ہوتا ہے ’’اب‘‘ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے آج کو ایک غیر یقینی کل کے بدلے بیچتا ہے، وہ سب سے برا جوا کھیلتا ہے۔
مادّیت کا فریب: آخر میں کیا بچتا ہے؟
میں آج ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا ہوں۔ ایک بستر ہے، ایک کرسی ہے، اور اپنی بیوی کی ایک تصویر۔ کبھی میرے پاس بڑا گھر تھا، قیمتی گاڑیاں تھیں، سامان سے بھرا گیراج تھا۔ مگر انجام کی اس آخری منزل پر کھڑے ہو کر میں پوری وضاحت سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سب فضول تھا۔
میں نے بے شمار جنازے دیکھے ہیں۔ کبھی کسی میت کے پیچھے سامان سے بھرا ٹرک نہیں دیکھا۔ جب تم لوگ مرو گے تو تمہارے بچے کسی اجنبی کو بلائیں گے جو تمہارا نوّے فیصد قیمتی سامان کوڑے میں پھینک دے گا، اور باقی دس فیصد سستے داموں بیچ دے گا۔ یہی تمہاری مادّہ پرستی کا حاصل ہے: ’’مستقبل کا کوڑا‘‘۔
پھر کیوں تم ساٹھ گھنٹے ہفتہ وار کام کرتے ہو؟ کیوں اپنی بیٹی کے بچپن کو اس گاڑی کی قسطوں کے لیے قربان کرتے ہو جو ٹریفک میں پھنسی رہتی ہے؟ یہ دیوانگی ہے۔ مگر تمہیں اِس کا احساس تب ہوگا جب تم میری جگہ بیٹھے ہو گے، اور تب واپسی ممکن نہیں ہو گی۔
کامیابی کا سراب: تالیوں کی وقتی گونج
1979ء میں مجھے اپنے شہر کا ’’بزنس مین آف دی ایئر‘‘ ایوارڈ ملا۔ شاندار تقریب تھی، سیاہ سوٹ، تالیوں کی گونج، اسٹیج کی روشنی۔ میں خود کو فاتح سمجھ رہا تھا۔ رات کو جب ٹرافی ہاتھ میں لے کر گھر پہنچا تو گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ میری بیوی ایلیانور سو رہی تھی۔ بچے بھی سو رہے تھے۔
میں باورچی خانے کی میز پر اکیلا بیٹھا اس شیشے کے ٹکڑے کو دیکھتا رہا۔ تالیوں کی آواز ختم ہو چکی تھی۔ تقریب کے لوگ مجھ سے محبت نہیں کرتے تھے؛ وہ میرے فائدے سے محبت کرتے تھے۔ اور جو لوگ واقعی مجھ سے محبت کرتے تھے، میں انہیں مہینوں نظرانداز کرتا رہا۔ میں نے اپنے بیٹے کے کھیلوں سے چشم پوشی کی، سالگرہ کی تقریبات میں نہ پہنچا، صرف اِس ٹرافی کے لیے۔
آج وہ ٹرافی نیچے تہہ خانے میں کسی ڈبے میں پڑی ہے، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہاں۔ مگر اپنی بیوی کی آنکھوں کی اداسی کی یاد آج بھی میرے ساتھ ہے۔
تم سمجھتے ہو تمہارا کیریئر تمہاری میراث ہے۔ نہیں، وہ ایک لین دین ہے۔ تم اپنی زندگی کے گھنٹے بیچتے ہو، کسی اور کا محل بنانے کے لیے، ایسے گھنٹے جو کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اگر آج تم مر جاؤ تو تمہاری اسامی کا اشتہار تمہارے تعزیتی نوٹ سے پہلے آن لائن آ جائے گا۔ اپنے کیریئر کو مت پوجو، اسے تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔
اصل دولت: جو دیا وہی باقی رہا
اگر پیسہ فریب ہے، کیریئر جال ہے، سامان کوڑا ہے، تو آخر بچتا کیا ہے؟ صرف وہ جو تم نے دیا۔ محبت جو تم نے بانٹی، وقت جو تم نے کسی کو دیا، رشتے جو تم نے نبھائے۔
میں آج اپنی کاروباری کامیابیوں کو یاد نہیں کرتا۔ میں اتوار کی صبحیں یاد کرتا ہوں جو ایلیانور کے ساتھ گزریں۔ میں اپنی تین سالہ بیٹی کی ہنسی کی آواز یاد کرتا ہوں۔ میں اس اجنبی کو یاد کرتا ہوں جس کی گاڑی برف میں پھنس گئی تھی اور میں نے اس کی مدد کی تھی۔ اصل دولت بس ایسی یادیں ہی ہیں۔
زندگی کی حکمتِ عملی: انا کی سرکوبی اور لمحے کی قدر
اب میری آخری نصیحت سن لو۔ اپنی انا کو ختم کرو۔ تم اس خوف میں جیتے ہو کہ لوگ کیا کہیں گے، اسی لیے خطرہ مول نہیں لیتے، محبت کا اظہار نہیں کرتے، خواب شروع نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی تمہیں اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی تم خود دیتے ہو۔ ہر شخص اپنی فکر میں گم ہے۔
لمحوں کی قدر کرنا سیکھو۔ ہر کام یہ سوچ کر کرو کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تم یہ کام آخری مرتبہ کرو گے۔ ایک دن تم اپنے بچے کو آخری بار گود میں اٹھاؤ گے۔ ایک دن اپنے شریکِ حیات کو آخری بار چومو گے۔ ایک دن کافی کا گھونٹ آخری دفعہ پیو گے۔ اگر تم اس شعور کے ساتھ جیو گے تو کوئی لمحہ معمولی نہیں لگے گا۔
اور یہ وقت احساس کا ہے۔ تمہارے پاس صحت ہے، جوانی ہے، طاقت ہے، مگر تم اسے اسکرین کو اسکرول کرنے پر ضائع کر رہے ہو۔ باہر نکلو، ہوا کو محسوس کرو، آسمان کو دیکھو، اپنی ماں کو فون کرو، اپنے دشمن کو معاف کرو کہ نفرت کا بوجھ اٹھانے کے لیے وقت بہت کم ہے۔
ہم سب کو مرنا ہے، یہ واحد یقینی بات ہے۔ مگر زیادہ تر لوگ جیتے نہیں، صرف موجود رہتے ہیں، محفوظ رہتے ہیں، آرام میں رہتے ہیں، اور پھر خاموشی سے ختم ہو جاتے ہیں۔ جیک مت بنو۔ پانچ سالہ منصوبے کا انتظار مت کرو۔ اچھا کھانا آج کھاؤ۔ ٹکٹ آج خریدو۔ محبت کا اظہار پہلے کرو۔ گھڑی چل رہی ہے، تمہارا وقت ختم ہونے کی گھڑی، کیا تم اس کی آواز سن سکتے ہو؟ میں تو تھک چکا ہوں، ہاں، تمہارے پاس جینے کا وقت ہے۔
