ریاضی خدا کا راستہ کیسے دکھاتی ہے

اس ویڈیو کی گفتگو میں آکسفورڈ کے پروفیسر جان لینکس (John Lennox) اور انٹرویو نگار ایرک میٹاکسس (Eric Metaxas) کے درمیان ایک گہرا اور فکری مکالمہ پیش کیا گیا ہے جس میں ریاضی، سائنس اور ایمان کے باہمی تعلق پر گفتگو کی گئی۔ یہ گفتگو “سقراط اِن دی سٹی (Socrates in the City)” کے ایک پرانے سیشن سے لی گئی ہے جس میں پروفیسر جان لینکس نے اپنے فکری اور روحانی سفر کی داستان بیان کی۔

پروفیسر جان لینکس بتاتے ہیں کہ انہیں بچپن ہی سے ریاضی سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ وہ شمالی آئرلینڈ میں پلے بڑھے، جہاں ان کے والدین نے انہیں سوچنے اور سوال کرنے کی آزادی دی۔ اگرچہ ان کا تعلق ایک مسیحی گھرانے سے تھا، مگر ان کے والدین نے انہیں مختلف نظریات کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی۔ جب وہ تیرہ برس کے تھے تو ان کے والد نے انہیں “کمیونسٹ مینی فیسٹو (The Communist Manifesto)” از کارل مارکس (Karl Marx) پڑھنے کے لیے دی اور کہا کہ دوسروں کے خیالات کو جاننا ضروری ہے۔ اسی واقعے نے ان میں سوال اٹھانے اور مکالمہ کرنے کی عادت پیدا کی، جسے وہ سقراطی اندازِ فکر سے تعبیر کرتے ہیں۔

آج وہ آکسفورڈ میں کاروباری شخصیات کے ساتھ مکالمے میں افلاطون (Plato) کے افکار کو بروئے کار لاتے ہیں اور زندگی کے بڑے سوالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ جب سائنس اور خدا کے تعلق کا سوال اٹھتا ہے تو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق “ایمان” کا مطلب صرف مذہب نہیں بلکہ اعتماد اور یقین بھی ہے، اور سائنس کی بنیاد میں بھی ایک قسم کا اعتماد شامل ہے۔

پروفیسر جان لینکس کے مطابق ان کی مسیحی تربیت نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ریاضی سائنس میں کہاں فٹ ہوتی ہے اور سائنس کائنات کے بڑے منظرنامے میں کس مقام پر ہے۔ نوجوانی میں انہوں نے یوہانس کیپلر (Johannes Kepler) کے خیالات پڑھے، جن میں کہا گیا تھا کہ خدا نے کائنات کے راز ریاضی کی زبان میں آشکار کیے ہیں۔ اسی زمانے میں انہوں نے سی۔ ایس۔ لیوس (C. S. Lewis) کو پڑھا، جنہوں نے جدید سائنس کی ابتدا پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گیلیلیو گیلیلی (Galileo Galilei)، کیپلر اور آئزک نیوٹن (Isaac Newton) جیسے سائنس دان خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ لیوس کے مطابق لوگوں نے فطرت میں قوانین کی توقع اس لیے کی کیونکہ وہ ایک قانون دینے والے پر یقین رکھتے تھے، اور یہی ایمان جدید سائنس کے فروغ کا محرک بنا۔

گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ ریاضی کا کائنات پر غیر معمولی طور پر مؤثر ہونا بذاتِ خود حیران کن ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) کا قول نقل کیا گیا کہ کائنات کی سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابلِ فہم ہے۔ اسی طرح یوجین ویگنر (Eugene Wigner) نے 1961ء میں “ریاضی کی غیر معقول مؤثریت” کے عنوان سے مضمون لکھا، جس میں انہوں نے اس امر پر حیرت ظاہر کی کہ انسانی ذہن میں جنم لینے والے ریاضیاتی تصورات کس طرح خارجی کائنات کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ رچرڈ فائن مین (Richard Feynman) نے بھی اس حقیقت کو نہایت حیران کن قرار دیا تھا۔

پروفیسر جان لینکس کے نزدیک یہی سوال انہیں اس نتیجے تک لایا کہ ریاضی کی معقول مؤثریت کو سب سے بہتر طور پر خدا پر ایمان کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بطور سائنسدان ملحد نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سائنس کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کائنات کو محض مادی اور بے مقصد عمل کا نتیجہ سمجھا جائے تو پھر انسانی عقل پر اعتماد کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔

اسی ضمن میں تھامس نیگل (Thomas Nagel) کا ذکر بھی آیا، جنہوں نے انسانی عقل اور شعور کے مسئلے پر ملحدانہ مادیت کو چیلنج کیا ہے۔ پروفیسر جان لینکس کا استدلال ہے کہ اگر ذہن کو محض دماغ کا نتیجہ، اور دماغ کو اندھے اور غیر رہنمائی یافتہ عمل کا پیداوار سمجھا جائے، تو پھر انسانی استدلال کی صداقت مشکوک ہو جاتی ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں اپنے ساتھی سائنسدانوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ سائنس کس چیز سے کرتے ہیں؟ اگر جواب “دماغ” ہے، اور دماغ ایک بے شعور عمل کا نتیجہ ہے، تو پھر اس پر مکمل اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟

گفتگو آگے چل کر یونانی فلسفے تک پہنچتی ہے، جس کے مطابق سقراط (Socrates)، افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) مادی دنیا سے ماورا حقیقت کے قائل تھے۔ جبکہ ڈیموکریٹس (Democritus) اور لیوسیپس (Leucippus) نے ایٹمی نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ہر چیز ایٹموں سے بنی ہے۔ پروفیسر جان لینکس وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ ایٹمی نظریہ سائنسی اعتبار سے اہم ہے، لیکن اسے حتمی حقیقت قرار دینا ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے جسے مادیت کہا جاتا ہے۔

آخر میں پروفیسر جان لینکس یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک حتمی حقیقت مادہ نہیں بلکہ خدا ہے، جو روح ہے۔ ان کے مطابق انسانی ذہن خدا کی شبیہ پر بنایا گیا ہے، اسی لیے ریاضی، جو ذہن کی پیداوار ہے، کائنات کی ساخت کو سمجھنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سولہویں صدی میں سائنس کی غیر معمولی ترقی اسی ایمان کی بنیاد پر ہوئی جسے نیوٹن اور اس کے ہم عصر سائنسدانوں نے اختیار کیا تھا (جو خدا پر ایمان رکھتے تھے)۔

https://youtu.be/CklAhwO6QuI


اقسام مواد

انٹرویوز, خلاصہ جات