ایپسٹین فائلز اور عالمی اشرافیہ

جیفری ایپسٹین (1953ء–2019ء) ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس کی زندگی دولت، طاقت اور سنگین نوعیت کے جنسی جرائم کے گرد گھومتی رہی۔ بروکلین (نیویارک) کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہونے والے ایپسٹین نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایک نجی سکول میں ریاضی کے استاد کے طور پر کیا، لیکن جلد ہی وہ وال سٹریٹ کی مالیاتی دنیا میں شامل ہو گیا اور بے پناہ دولت کمائی۔ وہ دنیا کی طاقتور ترین شخصیات، بشمول سابق صدور، برطانوی شاہی خاندان کے افراد اور بڑے تاجروں کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے مشہور تھا۔ تاہم، 2008ء میں اسے پہلی بار کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے جرم میں سزا ہوئی، اور 2019ء میں اسے دوبارہ بڑے پیمانے پر جنسی اسمگلنگ (Sex Trafficking) کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ البتہ مقدمے کی سماعت سے قبل ہی وہ نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پایا گیا جسے طبی معائنے کے بعد خودکشی قرار دیا گیا، اگرچہ اس کی موت آج بھی ایک معمہ ہے۔ امریکہ کی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ "ایپسٹین فائلز" نے اس کے مجرمانہ نیٹ ورک اور اس میں شامل بااثر افراد کے بارے میں مزید تفصیلات دنیا کے سامنے پیش کی ہیں۔ 

ایپسٹین فائلز نے عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور فلاحی اداروں سے وابستہ طاقتور شخصیات کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف وِلاگ نگار امتنان احمد کی اس تفصیلی گفتگو میں ان دستاویزات جائزہ لیا گیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح دنیا کے بااثر ترین افراد کے نام ان فائلوں میں سامنے آ رہے ہیں اور اس کے باوجود انصاف کا نظام معطل نظر آتا ہے۔ یہ رپورٹ امتنان احمد کی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتی ہے جبکہ اصل ویڈیو کا لنک آخر میں دیا گیا ہے۔

امتنان احمد خود کو محض ایک تبصرہ نگار نہیں بلکہ ایک مسلسل متنبہ کرنے والی آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ برسوں سے شیطانی رسومات، عالمی ایلیٹ کے جرائم، بچوں کے استحصال، دجالی نظام، جعلی ریاستی بیانیوں، اور عالمی طاقت کے غلط استعمال پر بات کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس راہ میں شدید مخالفت، تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر انہوں نے اپنا موقف ترک نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج ایپسٹین فائلز کی صورت میں وہی حقائق ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں جن کی نشاندہی ماضی میں کی جاتی رہی تھی، حتیٰ کہ ڈاکٹر اسرار احمد جیسے مفکرین نے بھی سوشل میڈیا کے وجود میں آنے سے پہلے ان خطرناک رجحانات کی طرف توجہ دلائی تھی۔

امتنان احمد واضح کرتے ہیں کہ ایپسٹین فائلز میں موجود ہر چیز حتمی طور پر تصدیق شدہ نہیں، مگر جو مواد تصدیق شدہ ہے وہ اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہے۔ ان فائلز میں ای میلز، تصاویر، ویڈیوز، مالی لین دین، اور خفیہ ملاقاتوں کی ایسی دستاویزات شامل ہیں جن میں جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کے ساتھ دنیا کے طاقتور ترین افراد کے تعلقات کا ذکر بکثرت پایا گیا ہے۔ امتنان احمد کے بقول اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باوجود سوالات کے جواب دینے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر جانے سے انکار کیا تھا۔ تاہم امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ ای میلز اس دعوے سے متصادم نظر آتی ہیں۔ ان ای میلز میں نہ صرف جزیرے پر جانے کی منصوبہ بندی کا ذکر ملتا ہے بلکہ پارٹیوں کے بارے میں سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔ امتنان احمد کے نزدیک یہ معاملہ اس بڑے مسئلے کی علامت ہے کہ کس طرح دولت اور شہرت رکھنے والے افراد کے بیانات کو بغیر سوال کے قبول کر لیا جاتا ہے، جبکہ دستاویزی شواہد کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔

بل گیٹس کا معاملہ امتنان احمد کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ ایپسٹین کی ڈرافٹ ای میلز میں بل گیٹس کے حوالے سے سنگین نوعیت کے دعوے ملتے ہیں، جن کی قانونی طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، مگر ان کے اثرات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں بل گیٹس کی سابقہ اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس کے بیانات کو خاص اہمیت حاصل ہے جنہوں نے عوامی طور پر کہا ہے کہ ان معاملات نے ان کی ازدواجی زندگی کے تکلیف دہ پہلوؤں کی یاد تازہ کر دی ہے اور ان سوالات کے جواب بل گیٹس کو خود دینے چاہئیں۔

امتنان احمد اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ ایک سزا یافتہ جنسی مجرم کے ساتھ 2008ء کے بعد بھی تعلقات رکھنا بذاتِ خود ایک اخلاقی سوال ہے، خاص طور پر جب معمالہ عالمی صحت، ویکسین اور وباؤں کی منصوبہ بندی کا ہو۔ ایپسٹین فائلز میں 2011ء سے 2014ء کے درمیان عالمی وبا کی سمیولیشن اور منصوبہ بندی کے شواہد سامنے آتے ہیں، جو کووِڈ-19 سے کئی سال پہلے کے ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق عالمی صحت کو ایک بزنس ماڈل کے طور پر دیکھنے کی سوچ زیرِ بحث رہی۔ امتنان احمد کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ یہ سرگرمیاں درست تھیں یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ تیاری انسانیت کے تحفظ کے لیے تھی یا طاقت، کنٹرول اور منافع کے حصول کے لیے؟

برطانوی پرنس اینڈریو کا معاملہ ایپسٹین فائلز کا ایک اہم اور حساس حصہ ہے۔ ان فائلز میں تصاویر، ای میلز اور گواہیاں شامل ہیں جن کی بنیاد پر برطانوی شاہی خاندان کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک متاثرہ خاتون ورجینیا گیفری کے الزامات اور بعد میں ہونے والا مالی تصفیہ اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ امتنان احمد سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر الزامات بے بنیاد تھے تو بھاری مالی تصفیہ کیوں کیا گیا۔

امتنان احمد نے رپورٹ میں برطانوی سیاستدان پیٹر مینڈلسن کا کیس ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح ایپسٹین صرف جنسی جرائم تک محدود نہیں تھا بلکہ ریاستی، معاشی اور مالیاتی معلومات تک بھی رسائی رکھتا تھا۔ حساس حکومتی دستاویزات اور مارکیٹ سے متعلق معلومات کا تبادلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ نیٹ ورک محض اخلاقی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی تھا۔

بل کلنٹن کا نام ایپسٹین فائلز میں بارہا سامنے آتا ہے جن میں نجی پروازیں، تصاویر اور ای میل رابطے شامل ہیں، اس کے باوجود قانونی کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ امتنان احمد کے مطابق یہ اس نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقتور افراد قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں۔

ایپسٹین کی ای میلز میں نریندر مودی سے متعلق کیے گئے دعووں کو بھارتی حکومت نے سختی سے مسترد کیا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ امتنان احمد کے خیال میں فائلز کا مکمل اجرا ابھی باقی ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

ایپسٹین کے جزیرے پر مبینہ طور پر اسلامی علامات سے مشابہ اشیاء کی موجودگی نے مسلم دنیا میں شدید اضطراب پیدا کیا۔ تاہم امتنان احمد اس معاملے میں احتیاط کی تلقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غیر مصدقہ باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بے حرمتی اور گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔

فائلز میں ایسے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے پیزا گیٹ جیسے سکینڈلز کی تصدیق ہوتی ہے، جہاں مخصوص الفاظ کو بچوں کے جنسی استحصال کے لیے کوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ امتنان احمد کے مطابق یہ ان لوگوں کے لیے ایک کھلا جواب ہے جو برسوں تک ان معاملات کو محض سازشی نظریات کہہ کر مسترد کرتے رہے۔

رپورٹ میں ایک چونکا دینے والا پہلو یہ بھی ہے کہ ایپسٹین کو بٹ کوائن جیسے ڈیجیٹل مالی نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔ خفیہ پیغامات، فنڈنگ اور مشکوک لین دین اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا کرپٹو کرنسی کو بلیک میلنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

امتنان احمد کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بے شمار دستاویزات، شواہد اور متاثرین کے بیانات کے باوجود انصاف نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق یہ محض چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی ہے۔ جب معصوم بچوں کے استحصال پر بھی طاقتور افراد سے سوال نہ ہو، تو یہ معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ امتنان احمد اس گفتگو کو ایک تنبیہ کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اندھی تقلید، شخصیت پرستی اور دولت کی پرستش آخرکار انسانیت کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اپنی گفتگو کا اختتام انہوں نے اس شعر پر کیا ہے ؎

جو عبرت سے بھی نہ سمجھیں، دلائل بھی جو نہ مانیں
قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی

https://youtu.be/rInQpCHmECw


اقسام مواد

خلاصہ جات