ڈچ سیاستدان یورام فین کلیفرین کا قبولِ اسلام

عمران گارڈا کے سوالات

عمران گارڈا نے انٹرویو کا آغاز یورام فین کلیفرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کسی کو نیدرلینڈز کے ایک ایسے سابق انتہائی دائیں بازو کے رکنِ پارلیمنٹ سے بات کرنے کا موقع ملے جو کبھی اپنے ملک میں اسلام پر پابندی لگانا چاہتا تھا، پھر اچانک یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے اپنا ذہن بدل لیا ہے، وہ مسلمان بننا چاہتا ہے، اور اب وہ اپنے پرانے عقائد کو رد کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ سب کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے فریڈم پارٹی کے رہنما گیرٹ ولڈرز کا حوالہ دیا اور اندازہ ظاہر کیا کہ یورام فین کلیفرین یقیناً ان کے مداح رہے ہوں گے اور سیاسی طور پر ان سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ پھر انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اسلام قبول کرنے کے بعد کیا ان دونوں کے درمیان کبھی بات چیت ہوئی یا نہیں۔ اس کے بعد عمران گارڈا نے گیرٹ ولڈرز کی شخصیت اور سیاست پر بات کی اور سوال اٹھایا کہ کیا وہ واقعی صرف مسلمانوں اور عمومی طور پر غیر ملکیوں کو نیدرلینڈز سے باہر رکھنا چاہتے ہیں، آیا وہ محض ایک اسلام دشمن یا سفید فام قوم پرست ہیں، یا ان کی سوچ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہوں نے وضاحت چاہی کہ اس جماعت اور اس قیادت کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔

پھر انہوں نے گفتگو کو یورام فین کلیفرین کی اُس وقت کی ذہنیت کی طرف موڑا اور جاننا چاہا کہ جب وہ نیدرلینڈز میں اسلام پر پابندی لگانے کے حامی تھے تو ان کے ذہن میں کیا تصور تھا۔ کیا وہ مساجد کے بارے میں سوچ رہے تھے، قرآن کے بارے میں، یا مراکشی اور ترک پس منظر رکھنے والے لوگوں کے بارے میں؟ جب وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ معاشرے کے لیے خطرہ ہیں اور ایک برے نظریے کی نمائندگی کرتے ہیں، تو اصل میں ان کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔

انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فریڈم پارٹی کا موقف بائبل اور قرآن کے تقابل پر مبنی نہیں تھا بلکہ اسلام کو بذاتِ خود ایک برائی سمجھا جاتا تھا، اور سوال کیا کہ آیا یہ سب کچھ ایک خالص سیکولر نقطۂ نظر سے دیکھا جا رہا تھا۔ اسی تسلسل میں انہوں نے 2014ء کے اُس واقعے کی طرف اشارہ کیا جب انتخابی ریلی میں مراکشی لوگوں کے بارے میں نسل پرستانہ نعرے لگوائے گئے، اور واضح کیا کہ یہی وہ مقام تھا جہاں نظریے کی مخالفت نسل پرستی میں بدلتی نظر آئی۔

انہوں نے کھل کر کہا کہ یہی سیاست کا بدصورت رُخ ہے، اور پھر گفتگو کو اس مرحلے تک لے آئے جہاں یورام فین کلیفرین نے سیاست چھوڑنے اور اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا، تاکہ وہ خود کو محض ایک متعصب دائیں بازو کے سیاست دان کے بجائے ایک فکری اور فلسفیانہ نقطۂ نظر رکھنے والا شخص ثابت کر سکیں۔ انہوں نے اس خواہش کو بھی اجاگر کیا کہ شاید وہ دائیں بازو کے اندر ایک “معقول آواز” بننا چاہتے تھے۔

اس کے بعد عمران گارڈا نے تاریخ اور مذہب کی مثالیں دیتے ہوئے اس تبدیلی کو ایک کلاسیکی کہانی سے تشبیہ دی، جیسے سینٹ پال یا عمر بن الخطابؓ کا واقعہ، اور پوچھا کہ کیا واقعی یورام فین کلیفرین کے ساتھ بھی ایسا ہی کوئی لمحہ یا عمل پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ گفتگو آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے نومسلم دانشور عبدالحکیم مراد (ٹموتھی ونٹر) کا ذکر کیا اور اس فکری سفر کے دوران سامنے آنے والے سوالات، شکوک اور جوابات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے مہمان سے سوال کیا کہ کیا قبولِ اسلام سے پہلے کوئی غیر معمولی نشانی یا کوئی فرشتہ وغیرہ بھی نظر آیا تھا۔

پھر انہوں نے یورام فین کلیفرین کے قبولِ اسلام کے بعد ان کی اہلیہ کے ردِعمل کے بارے میں سوال کیا کہ کس طرح پرانے دوستوں اور حامیوں نے اس تبدیلی کو دھوکہ سمجھا تھا۔ انہوں نے اس احساس کی نشاندہی کی کہ لوگ اس لیے خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کرتے تھے کیونکہ یورام فین کلیفرین پہلے انہیں مسلمانوں کے خلاف قائل کرتے رہے تھے، اور اب خود اسی سمت جا رہے تھے۔

آخر میں عمران گارڈا نے گفتگو کو موجودہ مسلم دنیا کے مسائل کی طرف موڑا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اسلام قبول کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ دہشت گردی، آمریت، سیاست اور مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مغرب میں اسلام دشمن انتہاپسند ہیں، اسی طرح مسلم دنیا میں بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو نہیں چاہتے کہ لوگ یورام فین کلیفرین یا عبدالحکیم مراد جیسا فکری سفر طے کریں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک نئے مسلمان کے طور پر یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔

گفتگو کے اختتام پر عمران گارڈا نے یورام فین کلیفرین کی شخصیت کو پرکشش قرار دیا، وقت کی کمی کا ذکر کیا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو واقعی بہت عمدہ رہی۔

یورام فین کلیفرین کی گفتگو

ابتدائی زندگی اور فکری پس منظر

یورام فین کلیفرین بتاتے ہیں کہ ان کی پرورش نیدرلینڈز کے ایک روایتی پروٹسٹنٹ گھرانے میں ہوئی۔ اگرچہ وہ ایمسٹرڈیم جیسے آزاد خیال شہر میں رہتے تھے، مگر ان کا گھریلو اور مذہبی ماحول خاصا قدامت پسند تھا۔ بچپن مجموعی طور پر اچھا گزرا، مگر وہ ایک سنجیدہ اور کتابیں پڑھنے والے لڑکے تھے۔ ان کی زیادہ تر مطالعہ کی دلچسپی مذہب کے گرد گھومتی تھی۔ انہوں نے کیلون، مارٹن لوتھر اور زونگلی جیسے پروٹسٹنٹ مفکرین کو پڑھا، جن کے اسلام کے بارے میں خیالات نہایت سخت اور منفی تھے۔ انہی تحریروں اور چرچ کے ماحول نے کم عمری میں ہی ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں ایک منفی تصور قائم کر دیا۔ جب وہ اپنے والدین یا چرچ کے لوگوں سے اسلام کے بارے میں سوال کرتے تو انہیں یہی بتایا جاتا کہ مسلمان بطور انسان تو ٹھیک ہیں، مگر ان کا عقیدہ غلط ہے۔ ان کے ایک قریبی دوست کے والد، جو خود پادری تھے، اسلام کے بارے میں انتہائی منفی خیالات رکھتے تھے، جس کا اثر ان پر اور گہرا ہو گیا۔

11 ستمبر کا سانحہ اور اسلام سے خوف

یورام فین کلیفرین کے مطابق ان کے ذہن میں موجود تعصب کو ایک فیصلہ کن دھچکا اس وقت لگا جب انہوں نے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور عین اسی دن 11 ستمبر 2001ء کے حملے ہوئے۔ وہ پہلے ہی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بدگمان تھے، اور جب انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہوتے دیکھے تو ان کے ذہن میں یہ تصور پختہ ہو گیا کہ یہ لوگ واقعی خطرناک ہیں۔ چند سال بعد نیدرلینڈز میں فلم ساز تھیو فان گوگ کا قتل ہوا، جو ان کے پرانے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اس واقعے نے ان کے خوف اور غصے کو مزید بڑھا دیا۔ ان کے نزدیک اب یہ محض نظریاتی اختلاف نہیں رہا تھا بلکہ معاشرے کے تحفظ کا سوال بن چکا تھا۔ انہوں نے خود سے کہا کہ اگر اس ’’برے نظریے‘‘ سے ملک کو بچانا ہے تو سیاست میں جانا ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔

سیاست میں آمد اور فریڈم پارٹی

اسی سوچ کے تحت انہوں نے نیدرلینڈز کی سب سے زیادہ اسلام مخالف جماعت تلاش کی اور فریڈم پارٹی تک پہنچے، جس کی قیادت گیرٹ ولڈرز کر رہے تھے۔ انہوں نے انہیں ایک خط لکھا، جس کے جواب میں انہیں پارٹی میں خوش آمدید کہا گیا۔ یوں ان کا سیاسی سفر شروع ہوا۔ سیاسی لحاظ سے وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے گیرٹ ولڈرز سے بہت کچھ سیکھا۔ پارٹی کا بنیادی مقصد اسلام سے لڑنا تھا، اور اندرونی طور پر انہیں صاف لفظوں میں بتایا جاتا تھا کہ صحت، تعلیم یا دیگر پالیسی معاملات ثانوی ہیں؛ اصل جنگ اسلام کے خلاف ہے۔ تقریباً ہر سیاسی بحث کا مرکز اسلام ہی ہوتا تھا، اور اگر کسی معاملے کا اسلام سے تعلق نہ بھی ہوتا تو ایسا کوئی تعلق بنا لیا جاتا تھا۔

ملک میں اسلام پر پابندی کا تصور

یورام فین کلیفرین بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک اسلام پر پابندی کا مطلب مسلمانوں کو بطور فرد نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ اسلام کی ’’بڑی علامتوں‘‘ کو ختم کرنا تھا۔ قرآن، مساجد، اسلامی اسکول، حجاب، حلال کھانا وغیرہ، یہ سب ان کے نزدیک ایسے مظاہر تھے جن پر پابندی لگنی چاہیے تھی۔ اگرچہ پارٹی خود کو سیکولر کہتی تھی، مگر وہ ذاتی طور پر ایک مذہبی عیسائی تھے۔ ان کے نزدیک یہ فرق اہم نہیں تھا، کیونکہ مقصد دونوں کا ایک ہی تھا: اسلام کی مخالفت۔

نسل پرستی سے اختلاف اور سیاست سے علیحدگی

2014ء میں پارٹی کے ایک انتخابی جلسے میں جب مراکشی لوگوں کے خلاف کھلے عام نعرے لگوائے گئے تو یورام فین کلیفرین کو پہلی بار محسوس ہوا کہ معاملہ محض نظریے تک محدود نہیں رہا بلکہ نسل پرستی میں بدل چکا ہے۔ انہوں نے اس کی مخالفت کی، کیونکہ ان کے نزدیک اسلام سے نفرت اور کسی نسل یا قوم سے نفرت ایک جیسی چیز نہیں تھیں۔ جب انہیں بتایا گیا کہ یہ ’’ضمنی نقصان‘‘ ہے تو انہوں نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے پارٹی کو واضح کیا کہ یا تو اس رویے کو بدلا جائے یا وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔ جواب میں انہیں سنجیدہ نہیں لیا گیا، مگر انہوں نے واقعی استعفیٰ دے دیا۔ ان کے نزدیک یہ سیاست کی بدترین شکل تھی۔

اسلام کے خلاف کتاب لکھنے کا ارادہ

سیاست چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایک دیرینہ خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کیا، اور وہ تھی اسلام کے خلاف ایک فکری اور فلسفیانہ کتاب لکھنا۔ وہ نعرے بازی نہیں بلکہ علمی انداز میں یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اسلام ان کے نزدیک کیوں خطرناک ہے، اور کیوں عیسائی تہذیبی وراثت اس سے بہتر ہے۔ لیکن اسی عمل کے دوران انہیں ایک عجیب بحران کا سامنا ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے بارے میں ان کا زیادہ تر علم غیر مسلم مصنفین کی کتابوں پر مبنی ہے، چاہے وہ قدیم مستشرقین ہوں یا جدید ناقدین۔ انہیں احساس ہوا کہ اس سے تصویر یکطرفہ اور مسخ شدہ بنتی ہے۔

عبد الحکیم مراد سے مکالمہ

اسی الجھن میں انہوں نے مختلف مذہبی علماء کو خطوط لکھے، جن میں کیمبرج یونیورسٹی کے عبد الحکیم مراد بھی شامل تھے۔ انہیں زیادہ یقین نہیں تھا کہ جواب آئے گا، کیونکہ انہوں نے اپنے خط میں اپنا ویکیپیڈیا لنک بھی شامل کر دیا تھا جس میں ان کے اسلام مخالف خیالات درج تھے۔ اس کے باوجود چند ہفتوں بعد انہیں ایک تفصیلی اور سنجیدہ جواب ملا۔ عبد الحکیم مراد نے وضاحت کی کہ اگر کوئی عیسائیت کو سمجھنا چاہے تو وہ کسی ملحد کی نہیں بلکہ کسی عیسائی کی کتاب پڑھتا ہے، اسی طرح اسلام کو سمجھنے کے لیے مسلمانوں کی کتابیں پڑھنا ضروری ہے۔ یہ بات یورام فین کلیفرین کو نہایت منطقی لگی۔

توحید، بائبل اور عیسائی عقائد پر سوالات

اسی دوران ان کے بچپن کے دبے ہوئے شکوک دوبارہ زندہ ہو گئے۔ تثلیث، کفارہ، پیدائشی گناہ جیسے عقائد جن پر وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکے تھے، اب پھر سامنے آئے۔ جب انہوں نے اسلام کے تصورِ توحید کو عیسائیت سے تقابل کے ساتھ دیکھا تو انہیں یہ زیادہ واضح اور عقلی محسوس ہوا۔ انہوں نے بائبل کو نئے سرے سے پڑھا، خاص طور پر یسوعؑ کے اپنے الفاظ کو، اور دیکھا کہ وہ بھی ایک خدا کی عبادت کی بات کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر ان کے دل میں پہلی بار یہ خیال آیا کہ شاید اسلامی تصور میں کوئی گہری سچائی موجود ہے۔

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شخصیت اور فیصلہ کن موڑ

ابھی تک ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ نبی محمد ﷺ کی شخصیت تھی، کیونکہ بچپن سے انہیں ان کے بارے میں انتہائی منفی تصویر دکھائی گئی تھی۔ لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کی لکھی ہوئی سیرت کی کتابیں پڑھیں، خاص طور پر مارٹن لنکس کی تصنیف، تو انہیں ایک بالکل مختلف شخصیت نظر آئی: ایک باپ، ایک استاد، ایک دوست، اور ایک رہنما۔ خاص طور پر ہند بنت عتبہ کے واقعے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ دشمن کو معاف کرنے، انتقام نہ لینے، اور عام معافی کے اعلان نے ان کے ذہن میں موجود تمام پرانی تصویریں توڑ دیں۔ ان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔

ایک دن جب وہ اپنی کتاب لکھنے سے مایوس ہو کر کتابیں سمیٹ رہے تھے تو قرآن زمین پر گر گیا، وہ کھلا ہوا پڑا تھا، تو ان کی نظر سورہ حج کی آیت 46 پر پڑی:

"یہ آنکھیں نہیں بلکہ دل ہیں جو اندھے ہوتے ہیں۔"

اس لمحے انہیں احساس ہوا کہ مسئلہ علم یا دلائل کا نہیں بلکہ دل کا ہے۔ انہوں نے ایک سادہ سی دعا کی، اور اگلی صبح انہوں نے غیر معمولی سکون اور اطمینان محسوس کیا۔ اسی دن انہوں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ مسلمان بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

قبولِ اسلام پر ردِعمل اور نئی زندگی

ان کی بیوی نے اس تبدیلی کو سکون سے قبول کیا، کیونکہ وہ فکری تبدیلی کا سفر پہلے ہی دیکھ چکی تھیں۔ تاہم ان کے بہت سے پرانے دوست، حامی اور ووٹرز غصے میں آ گئے۔ کچھ نے انہیں غدار کہا۔ حتیٰ کہ انہیں ’’نسل کا غدار‘‘ بھی کہا گیا، کیونکہ لوگوں کے نزدیک یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ کوئی سفید فام یورپی مسلمان کیسے ہو سکتا ہے۔ یورام فین کلیفرین کے مطابق یہ ردِعمل یورپ میں اسلام کے خلاف گہرے تاریخی تعصب کی علامت ہے۔ مگر ان کے لیے اب راستہ واضح تھا۔

مسلم انتہاپسندی کا تصور

آخر میں وہ واضح کرتے ہیں کہ جس طرح KKK جیسی تنظیمیں خود کو عیسائی کہتی ہیں مگر عیسائیت کی نمائندہ نہیں، اسی طرح بوکو حرام اور دیگر دہشت گرد گروہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ کسی مذہب کو اس کے ماننے والوں کے جرائم سے رد کرنا منطقی نہیں۔ ان کے نزدیک دنیا میں ہر جگہ خبطی اور انتہا پسند لوگ موجود ہیں، مگر یہ بات سچ کی تلاش کا راستہ نہیں روک سکتی۔

https://youtu.be/IeuWdpFp9nY


اقسام مواد

تراجم, انٹرویوز