رمضان المبارک اور رؤیتِ ہلال
رمضان المبارک اسلامی تقویم کا سب سے اہم اور بابرکت مہینہ ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس کے آغاز کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں لیکن ہر سال یہ سوال ضرور گردش کرتا ہے کہ رمضان کا چاند کب نظر آئے گا اور کیا سب ممالک میں ایک ہی دن اس کا آغاز ہو سکے گا؟ اس سوال کا تعلق ایک اہم اسلامی اور سائنسی مسئلے سے ہے جسے رؤیتِ ہلال کہا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ہم اس مسئلے کے دینی اور سائنسی دونوں پہلو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسلامی تقویم (کیلنڈر) کا نظام
اسلامی مہینے چاند کی گردش پر مبنی ہیں چنانچہ اسے قمری تقویم بھی کہتے ہیں۔ چاند تقریباً 27.3 دن میں زمین کا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ جبکہ ایک نئے چاند سے اگلے نئے چاند تک کا دورانیہ تقریباً 29.53 دن کا ہوتا ہے، اس لیے اسلامی مہینہ کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی 30 دن کا۔ جب پرانا چاند ختم ہوتا ہے اور نیا چاند پیدا ہوتا ہے تو اسے ولادتِ قمر (New Moon) کہتے ہیں۔ لیکن صرف چاند کی پیدائش کافی نہیں ہوتی، اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ نظر بھی آئے۔
نئے چاند کی باریک سی خمدار شکل کو ہلال کہتے ہیں۔ یعنی وہ باریک سا چاند جو سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی سمت تھوڑی دیر کے لیے دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ رؤیتِ ہلال کا مطلب ہے آنکھ سے اس نئے باریک چاند کو دیکھ لینا۔
رؤیتِ ہلال کے بنیادی سائنسی عوامل
(1) چاند کی پیدائش — New Moon
ولادتِ قمر یعنی چاند کی پیدائش کا وقت وہ ہوتا ہے جب سورج، چاند اور زمین تقریباً ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں، یعنی چاند اس وقت سورج اور زمین کے درمیان میں ہوتا ہے۔ اسے اقتران (Conjunction) کہتے ہیں۔ چونکہ اس وقت زمین سے چاند کا نظر آنے والا رُخ مکمل طور پر تاریک ہوتا ہے، سورج کی روشنی اس کے دوسرے رخ پر پڑ رہی ہوتی ہے، اس لیے زمین سے وہ بالکل نظر نہیں آتا۔ چاند اپنی پیدائش کے کئی گھنٹے بعد سورج کے سامنے سے ہٹتا ہے اور آہستہ آہستہ مغرب میں سورج کے غروب ہونے کے بعد نظر آنے کے قابل ہوتا ہے۔
(2) چاند کی عمر — Moon Age
چاند کی عمر سے مراد یہ ہے کہ اقتران سے اب تک کتنا وقت گزر چکا ہے؟ 15 سے 24 گھنٹے کی عمر کا چاند عام طور پر نظر آ سکتا ہے، تاہم صرف عمر کافی نہیں، بلکہ اُفق سے بلندی اور سورج سے اس کا زاویائی فاصلہ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
(3) اُفق سے بلندی — Degree / Altitude
اس سے مراد یہ ہے کہ چاند اُفق سے کتنی بلندی پر ہے۔ 0 ڈگری پر چاند بالکل نظر نہیں آتا، 5 ڈگری پر اس کا نظر آنا بہت مشکل ہے، 10 ڈگری تک بہتر نظر آسکتا ہے، اور 15 ڈگری تک زیادہ واضح نظر آنے کا امکان ہے۔ یعنی جتنی زیادہ بلندی پر چاند ہو گا، اس کی رؤیت کا امکان اتنا بہتر ہو گا۔ تاہم صرف بلندی کافی نہیں بلکہ سورج سے چاند کے زاویائی فاصلے کا بھی اس میں کردار ہوتا ہے۔
(4) سورج سے چاند کا زاویائی فاصلہ — Elongation
رؤیتِ ہلال کا دارومدار صرف چاند کی عمر یا افق سے اس کی بلندی پر نہیں ہوتا، بلکہ سورج سے اس کے زاویائی فاصلے پر بھی ہوتا ہے۔ جب تک چاند سورج سے کچھ حد تک دور نہ ہو جائے، اس کا روشن حصہ نہایت باریک اور مدھم رہتا ہے اور وہ غروبِ آفتاب کے بعد کی روشنی میں گم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ بہتر رؤیت کے لیے ضروری ہے کہ چاند کی عمر مناسب ہو، وہ افق سے معقول بلندی پر ہو، اور سورج سے اس کا زاویائی فاصلہ بھی اتنا ہو کہ اس کا باریک ہلال نمایاں ہو سکے۔
یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے: چاند کی عمر اور چیز ہے، سورج سے چاند کا زاویہ اور چیز ہے۔ زمین کے گرد چاند مکمل دائرے میں نہیں بلکہ بیضوی (ellipse) مدار میں گردش کرتا ہے، اس لیے چاند کبھی زمین کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور کبھی زیادہ دور ہوتا ہے۔ اور کششِ ثقل کے قانون کے مطابق کوئی سیارہ جب اپنے مرکزی جسم کے قریب ہوتا ہے تو وہ زیادہ تیزی سے گردش کرتا ہے، اور جب دور ہوتا ہے تو اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر چاند اس وقت زمین کے قریب ہو تو وہ سورج سے زاویائی طور پر نسبتاً تیزی سے دور ہوتا ہے۔ اور اگر چاند زمین سے دور ہو تو وہ سورج سے زاویائی طور پر نسبتاً کم رفتار سے دور ہوتا ہے۔ نتیجتاً دو مختلف مہینوں میں 18 گھنٹے کی عمر کا چاند ایک جیسا زاویائی فاصلہ نہیں رکھتا، یعنی اس عمر کا چاند ممکن ہے کہ ایک مہینے میں سورج سے 8 ڈگری کا زاویائی فاصلہ رکھتا ہے اور کسی دوسرے مہینے میں 10 ڈگری کا۔
(5) غروبِ سورج سے غروبِ چاند کا وقت — Lag Time
سورج غروب ہونے کے بعد چاند کتنی دیر تک آسمان پر موجود رہتا ہے؟ کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد چاند جتنا زیادہ وقت آسمان پر رہے گا، اتنا ہی آسمان تاریک ہوگا اور ہلال نمایاں ہونے کا امکان بڑھے گا۔ عموماً 40 سے 60 منٹ تک اگر چاند آسمان پر موجود رہے تو رؤیت کا امکان بہتر ہوتا ہے۔ تاہم فضائی شفافیت بھی اس کے لیے ضروری ہے۔
(6) مطلع / اُفق — Horizon
ہر علاقے کا مطلع مختلف ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں مطلع زمین کی وہ سطح ہوتی ہے جہاں سے سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ چنانچہ چاند کی پیدائش کا وقت، افق سے اس کی بلندی، اور آسمان پر اس کی موجودگی کا وقت ہر علاقے کے لیے مختلف ہوتا ہے، اسی لیے ایک ملک میں چاند نظر آ سکتا ہے اور دوسرے میں نہیں۔ اگر فقہی طور پر دیکھا جائے تو ’’مطلع‘‘ سے مراد کسی علاقے کے لیے چاند کے طلوع و غروب اور اس کی رؤیت کے حالات ہیں۔
