علامہ محمد اقبال کی نظم ’’شِکوَہ‘‘ موضوعاتی ترتیب اور مختصر تشریح کے ساتھ
- علامہ محمد اقبال نے ’’شکوہ‘‘ اپریل 1911ء میں انجمنِ حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھی۔ اس نظم میں انہوں نے اس دور کے مسلمانوں کی زبوں حالی، معاشی و سیاسی پستی اور زوال کا نوحہ ایک منفرد انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے بظاہر اللہ تعالیٰ سے یہ گلہ کیا کہ دنیا بھر میں اسلام کا نام روشن کرنے والے مسلمان آج در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہے ہیں، جبکہ غیر مسلم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔
- اور ’’شکوہ‘‘ کی مقبولیت اور اس پر ہونے والی تنقید کے بعد علامہ محمد اقبال نے 1913ء میں موچی دروازہ لاہور کے ایک جلسے میں ’’جوابِ شکوہ‘‘ پیش کی۔ یہ نظم دراصل ’’شکوہ‘‘ میں کیے گئے گلہ کا مصلحانہ جواب ہے جس میں اللہ کی جانب سے مسلمانوں کو ان کی پستی کی حقیقی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ وہ اسلاف کے نقشِ قدم سے بھٹک چکے ہیں۔ اس نظم کا اختتام امید اور اس مشہور پیغام پر ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اپنے عمل اور عشقِ رسولؐ کو خالص کر لیں تو وہ دوبارہ دنیا کی قیادت و سیادت حاصل کر سکتے ہیں۔
ذیل میں ہم پہلی نظم ’’شکوہ‘‘ کو موضوعاتی ترتیب اور مختصر تشریح کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
1۔ دردِ دل اور جرأتِ اظہار
علامہ محمد اقبال اس حصے میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہونے کا جواز اور اپنے دل کی بے چینی بیان کرتے ہیں۔
فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں؟
تشریح: اقبال ایک تخلیقی اضطراب کے ساتھ سوال کرتے ہیں کہ میں کیوں اپنی ذات کو نقصان پہنچانے والا (زیاں کار) بنوں اور اپنے فائدے (سود) سے غافل رہوں؟ کیا میں صرف ماضی کی عظمتوں (غمِ دوش) کا ماتم کرتا رہوں اور آنے والے کل (فکرِ فردا) کی منصوبہ بندی نہ کروں؟ یہاں اقبال مسلمانوں کی اس پست ذہنی کیفیت پر ضرب لگاتے ہیں جو حال کی جدوجہد چھوڑ کر محض اسلاف کے قصوں پر جیتے ہیں، اور ماضی کے ماتم کے بجائے حال کی فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔
کیا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟
تشریح: یہاں اقبال بلبل اور گل (پھول) کے استعارے استعمال کرتے ہیں۔ بلبل فریاد کرتی ہے اور پھول چپ چاپ سنتا رہتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میں باغِ جہاں میں صرف دوسروں کے نوحے سننے والا یا خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ وہ امت کی خاموشی اور بے حسی پر احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کو بدلنے کے لیے خود کو ’’صدا‘‘ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
تشریح: شاعرِ مشرق اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سے شکوہ کرنا بظاہر گستاخی اور منہ میں خاک ڈالنے کے مترادف (خاکم بدہن) ہے، لیکن میری شاعری کی طاقت (تابِ سخن) اور ملت کا دکھ مجھے اس جرات پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ ایک عاشق کا اپنے محبوبِ حقیقی سے وہ ناز بھرا لہجہ ہے جہاں وہ حدِ ادب کے اندر رہ کر دل کی کیفیت ظاہر کر رہا ہے اور اللہ سے گلہ کرنے کی جسارت کا سبب بتا رہا ہے۔
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
تشریح: اقبال کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم مسلمان ’’تسلیم و رضا‘‘ (خدا کے حکم کے سامنے سر جھکانے) کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن آج جو ہم اپنا دکھڑا سنا رہے ہیں، یہ بغاوت نہیں بلکہ ہماری انتہا درجے کی مجبوری اور بے بسی کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ تسلیم و رضا کے باوجود قصۂ درد سنائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
تشریح: یہاں ساز کا استعارہ نہایت بلیغ ہے۔ جیسے ایک ساز پس پردہ ہونے کے باوجود اپنے اندر موسیقی چھپائے ہوتا ہے، ویسے ہی مسلمانوں کے دل فریاد (نالہ) سے بھرے ہوئے ہیں۔ اور یہ سلسلہ چونکہ گزشتہ چند صدیوں سے چلا آ رہا ہے، اس لیے اگر اب یہ فریاد لبوں تک آ گئی ہے تو اس کا سبب وہ تڑپ ہے جو حد سے گزر چکی ہے۔
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
تشریح: اَربابِ وفا (وفاداروں) کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ اے باری تعالیٰ! ہم وہی ہیں جو تیری حمد و ثنا کے عادی (خوگر) ہیں، مگر آج تھوڑی دیر کے لیے ہمارا گلہ بھی سن لے۔ یہ شعر بندے اور خدا کے درمیان اس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جہاں محبت میں شکایت کا حق بھی محفوظ ہوتا ہے۔ یوں اربابِ وفا کی طرف سے یہ التجا ایک ناز بھرے گلہ کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔
2۔ ظہورِ اسلام اور توحید کی اشاعت
علامہ محمد اقبال اس حصے میں دنیا کے اس تاریخی منظر کو پیش کرتے ہیں جب اسلام سے پہلے دنیا شرک میں ڈوبی ہوئی تھی، اور جسے بدلنے کے لیے مسلمانوں نے اپنی ہر چیز قربان کر دی۔
پھول تھا زیبِ چمن، پر نہ پریشاں تھی شمیم
تشریح: یہاں پھول سے مراد ’’ذاتِ باری تعالیٰ‘‘ اور شمیم (خوشبو) سے مراد ’’توحید کا پیغام‘‘ ہے۔ اقبال اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تیری ذات تو ہمیشہ سے تھی، مگر دنیا کے اس چمن میں تیری توحید کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی نہیں تھی، اسے پھیلانے والا کوئی نہ تھا۔ یعنی ذاتِ خداوندی اور توحید کے پیغام کی ازلیت اپنی جگہ حق ہے، مگر اس حقیقت سے ہر کوئی واقف نہ تھا۔
بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم؟
تشریح: اقبال خدا کی صفتِ عدل کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے سب پر کرم کرنے والے (صاحبِ الطافِ عمیم)! انصاف تو یہ ہے کہ پھول کی خوشبو (اسلام) کو پھیلنے کے لیے بادِ صبا (نسیم) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں ہم مسلمان وہ ’’نسیم‘‘ ثابت ہوئے جس نے تیرے نام کا پیغام کونے کونے تک پہنچایا۔ علامہ کے مطابق توحید کا پیغام پھیلانے میں مسلمانوں کا کردار ویسا ہی ہے جیسے پھول کی خوشبو پھیلانے کے لیے صبح کے وقت ہوا چلتی ہے۔
ورنہ امت ترے محبوبؐ کی دیوانی تھی
تشریح: اقبال امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کا نہایت بلیغ انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں جو تھوڑی بہت ذہنی یکسوئی (جمعیتِ خاطر) حاصل ہے، اگر یہ فکری انتشار اور باہمی اختلاف نہ ہوتے تو حقیقت میں امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی عاشق اور دیوانی ہوتی۔ علامہ اِس شعر کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ مسلمانوں کی کمزوری کی اصل وجہ مقصد سے دوری ہے، ورنہ ان کے اندر عشقِ رسولؐ کی وہ طاقت موجود ہے جو انہیں عروج تک پہنچا سکتی ہے۔
کہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر
تشریح: یہاں ظہورِ اسلام سے پہلے کی جاہلیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ عقائد کے میدان میں انسان بھٹکا ہوا تھا، کہیں وہ بے جان پتھروں کے سامنے سجدہ ریز تھا اور کہیں درختوں (شجر) کو اپنا معبود مان رہا تھا۔ دنیا شرک کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟
تشریح: انسان کی نظر صرف ان چیزوں کو ماننے کی عادی تھی جو نظر آتی ہیں (پیکرِ محسوس)۔ ایسے مادہ پرست ماحول میں ایک واحد اور اَن دیکھی ذات (اللہ) پر ایمان لانا محال تھا۔ یہ مسلمانوں کی محنت تھی جس نے انسان کو بتوں سے چھڑا کر خالقِ حقیقی سے جوڑا۔ دنیا جو اس سے پہلے عالمِ غیب کو خاطر میں نہ لاتی تھی وہ مسلمانوں کی اس جدوجہد کے نتیجے میں اَن دیکھے خدا پر ایمان لے آئی۔
قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
تشریح: اقبال بڑے مان سے کہتے ہیں کہ اے خدا! تو گواہ ہے کہ اس وقت توحید کا نام لیوا کوئی نہ تھا، یہ مسلمانوں کی تلوار اور ان کی ہمت تھی جس نے کفر کا زور توڑ کر تیرے دین کو زمین پر نافذ کیا اور قوتِ بازوئے مسلم سے توحید کا نفاذ ہوا۔
3۔ مسلمانوں کی عالمگیر جدوجہد اور فتوحات
علامہ محمد اقبال اس حصے میں مختلف اقوام، جغرافیائی خطوں اور تاریخی کارناموں کا تذکرہ کرتے ہیں جن کے ذریعے اسلام پھیلا۔
اہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی
اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی
تشریح: ان اشعار میں اقبال مختلف جنگجو اور صاحبِ اقتدار قوموں کا ذکر کرتے ہیں۔ سلجوق اور تورانی (وسطی ایشیا کے قبائل)، ساسانی (قدیم ایرانی سلطنت)، اہلِ چین، یونانی، یہودی اور نصرانی (عیسائی) سب اس زمین (معمورے) پر موجود تھے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی توحید کا عَلم بلند نہیں کیا۔
بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟
تشریح: یہ ایک فیصلہ کن سوال ہے۔ ان تمام طاقتور قوموں کی موجودگی کے باوجود، وہ کون تھے جنہوں نے صرف تیری رضا کے لیے تلوار اٹھائی؟ وہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے پُرفتن نظامِ عالم کو توحید کے ذریعے سنوارا، اور بگڑی ہوئی بات کو بنانے میں مسلمانوں کا ہی خون کام آیا۔
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
تشریح: اقبال مسلمانوں کی ہمہ جہت عسکری جدوجہد کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے کلمے کی خاطر صرف میدانوں میں برسرِ پیکار نہیں رہے بلکہ پانیوں کی لہروں سے بھی نبرد آزما رہے ہیں۔ علامہ کا یہ اشارہ فاتحِ اندلس طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جرنیلوں کی مہمات کی طرف ہے جنہوں نے اپنے لشکروں کے ذریعے سمندر پار مہم جوئی کی اور تاریخِ انسانی کے کامیاب فاتحین میں اپنا نام لکھوایا۔
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
تشریح: یہ دو جغرافیائی انتہاؤں کا ذکر ہے۔ ایک طرف یورپ کے عالی شان گرجا گھر (کلیسا) تھے جہاں مسلمانوں نے اللہ کی کبریائی بلند کی (جیسے اسپین)، اور دوسری طرف افریقہ کے دہکتے ہوئے ریگستان تھے جہاں تپتی ریت پر ’’احد احد‘‘ کی صدائیں گونجیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی تبلیغ اور جہاد کسی خاص علاقے تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ پوری زمین کو اللہ کا مسکن بنانا چاہتے تھے۔ اندلس سے لے کر افریقہ تک بانگِ تکبیر بلند کرنے میں مسلمانوں نے ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کیں۔
شہر قیصر کا جو تھا، اس کو کیا سر کس نے؟
تشریح: یہاں دو عظیم تاریخی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔ ’’درِ خیبر‘‘ اکھاڑنے سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وہ شجاعت ہے جس نے خیبر کا ناقابلِ تسخیر قلعہ فتح کیا۔ ’’شہرِ قیصر‘‘ سے مراد بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ اور اس کے مقبوضات کی فتح ہے، جس نے قیصر و کسریٰ کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے؟
تشریح: اقبال سوال کرتے ہیں کہ وہ کون تھے جنہوں نے انسانوں کے بنائے ہوئے جھوٹے خداؤں (مخلوق خداوندوں) کے بتوں (پیکر) کو پاش پاش کیا؟ وہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے کفر کے ٹڈی دل لشکروں کو اپنی شمشیرِ حق سے نیست و نابود کر دیا۔ بت شکنی اور کفر کے لشکروں کی پامالی کا سہرا مسلمانوں کے سر نہیں جاتا تو اور کون ہیں وہ لوگ جو اس کے دعویدار ہیں؟
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟
تشریح: یہاں ایران کی فتح کا حوالہ ہے۔ ایران میں صدیوں سے مجوسیوں (آتش پرستوں) کے آتش کدے روشن تھے، جنہیں اسلام کے نور نے بجھا دیا اور وہاں ’’یزداں‘‘ (خدائے واحد) کا ذکر دوبارہ زندہ کیا۔ مجوسیوں کے آتش کدوں کا بجھنا اور ذکرِ یزداں کا ہر سو پھیل جانا مسلمانوں ہی کا کارنامہ ہے۔
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
تشریح: اقبال مسلمانوں کی مہم جوئی کا ذکر اس فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم نے اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ریگستان (دشت) تو کیا، سمندروں کو بھی عبور کر لیا۔ ’’بحرِ ظلمات‘‘ (بحرِ اوقیانوس) کے بارے میں مشہور ہے کہ فاتحِ افریقہ حضرت عقبہ بن نافع نے اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈال دیے تھے اور افسوس کیا تھا کہ اگر آگے زمین ہوتی تو وہ وہاں بھی اللہ کا نام لے کر جاتے۔
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
تشریح: مسلمانوں نے دنیا (صفحہ دہر) سے جھوٹ اور باطل نظریات کا خاتمہ کیا۔ اسلام کا سب سے بڑا احسان یہ تھا کہ اس نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خدا کا غلام بنا دیا۔ انسانیت کو غیر اللہ کی پرستش سے نجات دلا کر ایک اللہ کی بندگی میں لے کر آنا ہی دراصل ظہورِ اسلام کا وہ بنیادی مقصد ہے جس کے لیے مسلمانوں نے اپنے عیش و عشرت اور سہل سامانی کو خیرباد کہہ دیا تھا اور انہوں نے رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر دنیا کے مختلف حصوں کا رخ کر لیا تھا۔
4۔ اخلاصِ عمل اور اسلامی مساوات
علامہ محمد اقبال کے یہ اشعار مسلمانوں کے بے غرض جذبے اور اس سماجی انقلاب کو ظاہر کرتے ہیں جس نے معاشرتی اونچ نیچ ختم کی۔
کلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کی
تشریح: اقبال مسلمانوں کی اس بے نیازی کا ذکر کر رہے ہیں جہاں انہیں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں (جہانداروں) کی شان و شوکت مرعوب نہیں کرتی تھی۔ کلمہ توحید ان کے لیے محض تسبیح کے دانوں کا نام نہ تھا، بلکہ وہ میدانِ جنگ میں دشمن کی تلواروں کے سائے تلے بھی اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرنے والے تھے۔ سلطنتوں کی آب و تاب سے نہ تو ان کے جرأتمندانہ ارادے ڈگمگاتے تھے اور نہ ان کے پائے ثبات میں لغزش آتی تھی، ان کا مطمحِ نظر صرف اور صرف اللہ کے نام کی سربلندی تھا۔
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
تشریح: یہاں اقبال مسلمانوں کے مقصدِ تخلیق کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہماری زندگی عیش و عشرت کے لیے نہیں بلکہ حق کی خاطر جدوجہد اور جنگوں کی سختیاں جھیلنے کے لیے تھی، اور ہماری موت کا واحد مقصد تیری ذات کی بڑائی اور تیرے دین کی سربلندی تھا۔ ہماری زندگی اور موت کا واحد مقصد عظمتِ باری تعالیٰ ہی تو تھا۔
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے؟
تشریح: اقبال واضح کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تلوار زنی (تیغ زنی) محض زمین پر قبضے یا سلطنتیں پھیلانے کے لیے نہیں تھی۔ کیا ہم دنیا (دہر) میں اپنی جانیں ہتھیلی پر لیے (سربکف) مال و زر اکٹھا کرنے کے لیے پھرتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایک بے غرض خدمت تھی۔ یہ سربکفی کسی دولت یا زمین کے لیے حصول کے لیے نہیں تھی، بلکہ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے تھی۔
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی؟
تشریح: یہاں ایک اہم تاریخی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ جب سلطان محمود غزنوی نے سومنات کا بت توڑنا چاہا تو پجاریوں نے اسے بچانے کے لیے ڈھیروں سونا پیش کیا۔ سلطان نے جواب دیا: ’’میں بت فروش (بت بیچنے والا) نہیں بلکہ بت شکن (بت توڑنے والا) بننا پسند کرتا ہوں‘‘۔ اقبال اسی واقعے کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم دولت کے پجاری ہوتے تو بت توڑنے کے بجائے انہیں بیچ کر مال کما لیتے۔ چنانچہ یہاں محمود غزنوی کی یہ مثال بت فروشی کے بجائے بت شکنی کے حوالے سے سامنے آتی ہے۔
پاؤں شیروں کے بھی میدان سے اکھڑ جاتے تھے
تشریح: یہ مسلمانوں کی جنگی ثابت قدمی کا بیان ہے کہ جب ہم حق کی خاطر میدان میں ڈٹ جاتے تو پھر وہاں سے ہٹنا ہماری فطرت میں نہ تھا۔ ہماری ہیبت کا یہ عالم تھا کہ بہادری کی علامت سمجھے جانے والے شیر صفت دشمن بھی ہمارے سامنے ٹک نہ پاتے تھے۔ ہم شیروں کو بھگا دینے والی شجاعت لے کر میدان میں اترتے تھے اور انہیں پسپا کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔
تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
تشریح: اللہ کے نام کی غیرت مسلمانوں کا خاصہ تھی۔ اگر کوئی اللہ کے دین کی اشاعت میں رکاوٹ ڈالتا تو مسلمان خاموش نہ رہتے۔ اس دور میں جب تلوار (تیغ) عام تھی، تب بھی مسلمانوں نے اپنے ایمانی جذبے کے زور پر موت کا سامنا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا، اور پھر جب اس سے بڑے ہتھیاروں کا زمانہ آیا تو ان کی جرأتِ ایمانی میں چنداں فرق نہ آیا کہ وہ توپوں کے سامنے بھی بے خوف کھڑے ہو جاتے تھے۔
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
تشریح: مسلمانوں کا اصل کارنامہ دلوں کو فتح کرنا تھا۔ انہوں نے کائنات کے ہر گوشے میں توحید کی حقیقت کو نقش کر دیا۔ یہاں تک کہ جب دشمن کا خنجر ہماری گردنوں پر ہوتا، تب بھی زبان پر ’’اللہ احد‘‘ کا ہی پیغام ہوتا تھا۔ یعنی جان چلی جانے کا خوف انہیں پیغامِ توحید سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہ کر سکتا تھا۔
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
تشریح: یہ شعر مسلمانوں کی بندگی کی معراج دکھاتا ہے۔ جب جنگ و جدل عروج پر ہوتا اور عین اس وقت نماز کا بلاوا آجاتا، تو مسلمان سپاہی (قومِ حجاز) موت کے سائے میں بھی قبلہ رخ ہو کر سجدہ ریز (زمیں بوس) ہو جاتے تھے۔ ان کے لیے خدا کا حکم ہر خوف سے بڑا تھا۔ میدانِ جنگ میں مسلمانوں کی سجدہ ریزی ان کی شجاعت اور عجز کا حسین امتزاج تھی۔
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
تشریح: یہ اسلامی مساوات کی عظیم ترین مثال ہے۔ سلطان محمود غزنوی (بادشاہ/بندہ نواز) اور اس کا غلام ایاز (بندہ) مسجد میں ایک ہی صف میں برابر کھڑے ہو گئے۔ اسلام نے طبقاتی فرق مٹا کر آقا اور غلام کو ایک ہی مقام پر لا کھڑا کیا۔ یہ اسلامی تاریخ کا مشہور ترین استعارہ ہے۔ سلطان محمود غزنوی (بادشاہ) اور اس کا غلام ایاز نماز میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے تھے۔ اس لیے کہ اسلام نے روزانہ کی اس پانچ وقتی عبادت میں طبقاتی اونچ نیچ ختم کر کے مالک اور ماتحت کی تمیز ختم کر دی اور سب کو ایک ہی خالق کے سامنے برابر کر دیا۔
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
تشریح: خدا کی بارگاہ میں دنیاوی حیثیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ غلام (بندہ)، مالک (صاحب)، فقیر (محتاج) اور دولت مند (غنی) سب ایک ہی حیثیت میں آجاتے ہیں۔ اسلام کا یہ سماجی انقلاب دنیا کے لیے بے مثال تھا۔ بارگاہِ الٰہی میں امیر و غریب کی برابری کا یہ عملی اظہار اُن کی معاشرتی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا، جس سے ان سماجی خرابیوں پر قابو پانے میں مدد ملتی جو طبقاتی اونچ نیچ سے پیدا ہوتی ہیں۔
5۔ شکوۂ زوال اور موجودہ صورتحال
علامہ محمد اقبال اس حصے میں موجودہ مسلمانوں کی بے بسی اور غیروں کو ملنے والی نعمتوں پر شکوہ کا اظہار کرتے ہیں۔
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
تشریح: یہاں اقبال شکوے کا عروج بیان کرتے ہیں۔ وہ گلہ کرتے ہیں کہ اے اللہ! تیری نعمتیں اور رحمتیں تو غیروں کے گھروں (کاشانوں) پر برس رہی ہیں، اور جب آزمائش یا تباہی کی بجلی (برق) گرتی ہے تو وہ صرف مسلمانوں کے حصے میں آتی ہے۔ یہ حالیہ دور کے مسلمانوں کی معاشی اور سیاسی پستی کی جذباتی تصویر کشی ہے۔
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
تشریح: اقبال دشمنوں کی خوشی کا تذکرہ کرتے ہیں کہ بت کدوں (صنم خانوں) میں بت پرست جشن منا رہے ہیں کہ اب وہ قوم مٹ گئی ہے جو بت توڑا کرتی تھی۔ انہیں اس بات کا سکون ہے کہ اب کعبے کی حفاظت کرنے والے غیرت مند مسلمان باقی نہیں رہے۔ کعبے کے نگہبانوں کا زوال دشمنوں کی مسرت کا باعث بنا ہے۔
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
تشریح: ’’حدی خوانی‘‘ وہ نغمہ ہے جو اونٹ چلانے والے عرب سفر کے دوران گاتے تھے۔ اقبال استعارہ استعمال کرتے ہیں کہ وہ سچے مسلمان جو قرآن کو اپنے سینے سے لگائے زندگی کے سفر پر رواں دواں تھے، اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یعنی اب وہ عملی مسلمان نظر نہیں آتے جو قرآن کی تعلیمات کے وارث تھے۔ قرآن کی رہنمائی کے ذریعے نسلِ انسانی کو اس دنیاوی سفر میں آگے لے جانے والے لوگ اب ناپید ہو گئے ہیں۔
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟
تشریح: اقبال اللہ تعالیٰ سے بڑے کرب کے ساتھ مخاطب ہیں کہ اے باری تعالیٰ! تیرے دین کا انکار کرنے والے (کفر) مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کر جو ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں (خندہ زن ہیں)، کیا اس کا تجھے احساس نہیں ہے۔ مسلمان تو مٹ رہا ہے، لیکن کیا تجھے اپنی اس توحید کی عزت (پاس) کا خیال ہے جس کا پرچم ہم نے بلند کیا تھا؟ علامہ دراصل اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اپنے پیغام کی رسوائی پر کفر کا یہ استہزا تجھے مسلمانوں کی مدد پر آمادہ نہیں کرتا؟
اور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور!
تشریح: یہاں اقبال دنیاوی نعمتوں کی تقسیم پر ایک عاشقانہ احتجاج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ستم تو یہ ہے کہ جو تیرا منکر ہے اسے دنیا میں ہی خوبصورت عورتیں (حور) اور محلات (قصور) میسر ہیں، جبکہ تیرا وفادار مسلمان محض مرنے کے بعد کی جنت اور ’’وعدۂ حور‘‘ پر جی رہا ہے۔ یہاں حور و قصور کا استعارہ دنیاوی عیش و عشرت کے لیے استعمال ہوا ہے۔
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں؟
تشریح: شاعر ماضی کی اس قربت کو یاد کرتا ہے جو خدا اور مسلمانوں کے درمیان تھی۔ وہ پوچھتا ہے کہ اب وہ پہلے جیسی مہربانیاں (الطاف و عنایات) کیوں نہیں رہیں؟ کیا وجہ ہے کہ اب ہماری وہ قدر و منزلت (مدارات) تیری بارگاہ میں نہیں رہی جو اسلاف کے دور میں تھی؟ خدا اور بندے کے تعلق میں پہلی سی گرمجوشی ختم ہونے کا سبب کیا ہے؟
رہروِ دشت ہو سیل زدۂ موجِ سراب
تشریح: اقبال خدا کی قدرتِ کاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیری طاقت تو وہ ہے کہ اگر تو چاہے تو خشک ریگستان (سینۂ صحرا) سے پانی کے بلبلے (حباب) نکال دے اور صحرا کے مسافر کو ریتیلی چمک (سراب) کے ذریعے ایسے سیراب کر دے جیسے وہ کسی سیلاب کی موجوں میں ہو۔ یعنی مسلمانوں کے حالات بدلنا تیرے لیے ناممکن نہیں ہے۔ یوں علامہ دراصل قدرتِ خداوندی سے حالات بدلنے کی استدعا کر رہے ہیں۔
قیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا
تشریح: نجد (عرب کا علاقہ)، قیس (مجنوں) اور محمل (لیلیٰ کی سواری) کے استعارات سے اقبال بتاتے ہیں کہ اب وہ پہلا سا عشق باقی نہیں رہا۔ مجنوں کی زنجیروں کا شور (شورِ سلاسل) خاموش ہو چکا ہے، یعنی اب مسلمانوں میں وہ تڑپ اور جذباتی جنون ختم ہو گیا ہے جو کبھی ان کی پہچان تھا۔
6۔ وفاداری کا دعویٰ اور حرفِ آخر
علامہ محمد اقبال اس حصے میں اپنی وفاداری ثابت کرتے ہیں اور اللہ سے رحم و کرم کی دعا مانگتے ہیں۔
بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
تشریح: اقبال دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم نے تیری عبادت چھوڑ دی؟ یا تیرے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے منہ موڑ لیا؟ کیا ہم نے بتوں کو توڑنے کا اپنا موروثی پیشہ چھوڑ کر بت بنانا (بت گری) شروع کر دیا ہے؟ ان سب کا جواب نفی میں ہے، یعنی علامہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اب بھی تیرے ہی وفادار ہیں اور عہدِ وفا پر قائم رہنے کی گواہی دیتے ہیں۔
رسمِ سلمانؓ و اویسِ قرنیؓ کو چھوڑا؟
تشریح: یہاں دو عظیم شخصیات کا حوالہ ہے۔ حضرت سلمان فارسی (عشقِ رسول میں ہجرت کرنے والے) اور حضرت اویس قرنی (عشقِ رسول کی انتہا)۔ اقبال کہتے ہیں کہ کیا ہم نے ان بزرگوں کی طرح عشق کی دیوانگی (آشفتہ سری) اور ان کی روایات کو ترک کر دیا ہے؟ سلمان فارسیؓ اور اویس قرنیؓ کی روایات سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے علامہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے کہ مسلمانوں نے عشقِ رسول کو چھوڑ دیا ہے، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت پر قائم و دائم ہیں۔
زندگی مثلِ بلالِ حبشیؓ رکھتے ہیں
تشریح: یہاں حضرت بلال حبشی کی شخصیت بطور استعارہ آئی ہے۔ جیسے حضرت بلال نے تپتی ریت پر بھی ’’احد احد‘‘ کی صدا بلند کی اور مشکلات جھیلیں، ویسے ہی آج کا مسلمان بھی کسمپرسی کی حالت میں بھی اپنے سینے میں ایمان کی آگ اور اللہ کی بڑائی (تکبیر) چھپائے ہوئے ہے۔ علامہ دورِ حاضر کے مسلمانوں کی طرف سے بلالِ حبشیؓ جیسی استقامت کا دعویٰ کر رہے ہیں جو اس سامراجی دور میں بھی اپنے ایمان پر قائم ہیں۔
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری
تشریح: شکوہ کے آخر میں یہ اہم ترین اشعار میں سے ہے۔ اقبال اعتراف کرتے ہیں کہ میرا اندازِ بیاں یا پیالہ (خم) عجم (غیر عرب/ایرانی) اثرات رکھتا ہے اور میرا نغمہ ہندوستان کا ہے، لیکن اس شاعری کے اندر جو اصل روح اور پیغام (شراب / مے) ہے، وہ خالصتاً حجاز (مکہ و مدینہ یعنی اسلام) سے ماخوذ ہے۔ ہندوستانی ہونے کے باوجود میرا فکری مرکز مدینہ ہے۔ علامہ بتا رہے ہیں کہ نغمہ تو ہندوستانی ہے مگر اس کا پیغام اور روح مکہ مدینہ سے تعلق رکھتی ہے یعنی اسلامی ہے۔
مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے
تشریح: نظم کے آخر میں اقبال دعا گو ہیں کہ اس امت پر رحم فرما جس کی حالت اب مرے ہوئے انسان (مرحوم) جیسی ہو چکی ہے۔ ایک کمزور چیونٹی (مورِ بے مایہ) کو حضرت سلیمان علیہ السلام (جو اپنی شان و شوکت اور حکمرانی کے لیے مشہور تھے) کے برابر رتبہ عطا فرما۔ یعنی ہمیں دوبارہ دنیا میں عروج بخش۔ علامہ امت کے لیے عروج اور سلیمانی شان کی دعا کر رہے ہیں۔
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے
تشریح: اقبال التجا کرتے ہیں کہ وہ سچی محبت جو اب دنیا سے ختم (نایاب) ہو چکی ہے، اسے دوبارہ عام (ارزاں) کر دے۔ اور ہندوستان کے بت کدوں (دیر) میں رہنے والوں کے دلوں کو نورِ اسلام سے منور فرما دے۔ علامہ عشقِ رسولؐ کی بحالی اور اشاعتِ اسلام کی تمنا کر رہے ہیں۔
