عالمی حکومتیں کس کی مقروض ہیں؟

قومی قرضہ کسے کہتے ہیں؟ کسی ملک کو قرضہ کیوں لینا پڑتا ہے؟ کن ممالک پر سب سے زیادہ قرضہ ہے؟ کوئی ملک کس کا مقروض ہوتا ہے؟ اور اس سارے معاملے میں آخرکار فائدہ کس کا ہوتا ہے؟ اس تحریر میں ہم ان سوالوں کا جواب سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔

قومی قرضہ کیا ہوتا ہے؟

قومی قرضہ کسی ملک کی حکومت کی طرف سے لی گئی کل ادھار رقم ہوتی ہے۔ جب حکومت کو خرچ کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہو، مثلاً: مختلف محکمے چلانے، تعمیراتی کام کرنے، تعلیم اور صحت کی سہولتیں پہنچانے، تنخواہیں دینے وغیرہ وغیرہ کے لیے۔ عموماً‌ کسی بھی حکومت کے پاس ٹیکس کی اتنی رقم جمع نہیں ہو پاتی کہ اس سے حکومت کے سارے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ چنانچہ تقریباً‌ ہر حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قرض بذات خود بری چیز نہیں ہے بشرطیکہ (1) وہ واقعی کسی ضرورت کے لیے لیا جا رہا ہو (2) اور اس کا بالآخر فائدہ کسی مخصوص طبقے کو نہ ہو رہا ہو۔

کن ممالک پر سب سے زیادہ قرضہ ہے؟

سب سے زیادہ قرضہ امریکہ پر ہے جو کہ تقریباً‌ 36 ٹریلین ڈالرز ہے۔ اس کے بعد چین پر 15 ٹریلین ڈالرز، جاپان پر 11 ٹریلین ڈالرز، اور پھر یورپی ممالک مثلاً‌ برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی وغیرہ پر 3 ٹریلین ڈالرز سے کم قرضہ ہے۔ یعنی دنیا کے ممالک پر جتنا قرض ہے، اس میں اکیلا امریکہ ہی ایک تہائی کا مقروض ہے۔

قرضہ دینے والے کون ہیں؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔ حکومتوں کو قرض دینے والے دو طرح کے ہیں:

(1) غیر ملکی حکومتوں کا دیا ہوا قرضہ

بعض اوقات ایک ملک کی حکومت دوسرے ملک کی حکومت کو قرضہ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر: جاپان کی حکومت امریکہ کو قرضہ دیتی ہے۔ چین کی حکومت امریکہ کو قرضہ دیتی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت امریکہ کو قرضہ دیتی ہے۔ البتہ یہ تناسب کے لحاظ سے بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ امریکہ کے کل قرضے کا صرف 1/8 (آٹھواں حصہ) غیر ملکی حکومتوں کا دیا ہوا ہے۔ برطانیہ کے معاملے میں تو صرف 1/16 (سولہواں حصہ) غیر ملکی حکومتوں کا دیا ہوا ہے۔

البتہ حکومتوں کا دیا ہوا قرضہ بہت کم ہے۔ دنیا کا تقریباً‌ 20 فیصد قومی قرض ایسا ہے جو حکومتوں کا دوسری حکومتوں کو دیا ہوا ہے۔

(2) نجی اداروں یا افراد کا دیا ہوا قرضہ

دنیا کی حکومتوں کا 80 فیصد سے زیادہ قرضہ وہ ہے جو نجی افراد یا اداروں نے دیا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ اور ادارے ہیں جنہوں نے اپنی رقم یا اپنی بچت کسی حکومت کو قرض دی ہوئی ہے۔ مثلاً‌:

  • پنشن فنڈز کے ادارے سب سے بڑے قرض دینے والے ہیں۔
  • انشورنس کمپنیاں بھی قرض دیتی ہیں۔
  • امیر افراد براہ راست حکومتی بانڈز خریدتے ہیں۔
  • مالیاتی بینک بھی قرض دیتے ہیں۔

جاپان اس حوالے سے دنیا کی سب سے منفرد مثال ہے کہ اس کی حکومت کا قرضہ اگرچہ اس کی اپنی معیشت سے 200 فیصد سے بھی زیادہ ہے، لیکن یہ سب کا سب اس نے جاپان کے اپنے شہریوں اور اداروں سے لیا ہوا ہے۔ جاپان میں غیر ملکی قرض دہندگان کا حصہ تقریباً صفر ہے۔ یہ نظام زیادہ مستحکم ہے کیونکہ رقم ملک سے باہر نہیں جاتی اور جاپان کو غیر ملکی قرض دہندگان کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔

پنشن فنڈز کیا ہیں اور وہ حکومت کو قرضہ کیوں دیتے ہیں؟

پنشن فنڈز ایسا مالیاتی ادارہ ہوتا ہے جہاں لاکھوں کروڑوں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی رقم جمع ہوتی ہے۔ جب کوئی ملازم ریٹائر ہو جاتا ہے تو اس پنشن فنڈز سے اس کو ہر ماہ پنشن (وظیفہ) ملتا ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ماہ ملازمین کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ کر پنشن فنڈز میں ڈالی جاتی ہے، یوں کئی سالوں میں پنشن فنڈز میں بہت بڑی رقم جمع ہو چکی ہوتی ہے۔ چونکہ پنشن فنڈز سنبھالنے والے اداروں کو فوری طور پر اس رقم کی ضرورت نہیں ہوتی، تو وہ اس رقم سے سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ اس پر منافع حاصل ہو۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں رقم انویسٹ کریں اور وہ کمپنی دیوالیہ ہو جائے تو لاکھوں لوگوں کی پنشن ڈوب جائے گی۔ دوسری طرف کوئی بھی حکومت کبھی دیوالیہ نہیں ہوتی، کیونکہ وہ خود اپنی کرنسی چھاپ سکتی ہے، اس لیے حکومت کو قرضہ دینا سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر برطانوی حکومت کے کل قرضہ کا 30 فیصد پنشن فنڈز سے حاصل کردہ ہے۔ جبکہ باقی یورپ اور امریکہ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔

حکومتی قرضوں کا زیادہ فائدہ کسے پہنچتا ہے؟

آئیے قرض کے پورے نظام کو چند نکات میں ایک بار پھر دیکھ لیتے ہیں:

  1. عام ملازمین کی ہر تنخواہ سے کچھ رقم پنشن فنڈز میں جمع ہوتی ہے تاکہ جب وہ ریٹائر ہو جائیں تو ان کی اسی رقم سے ان کو وظیفہ دیا جا سکے۔
  2. پنشن فنڈز سنبھالنے والے ادارے کے پاس پنشن کی رقم بہت بڑی مقدار میں جمع ہو جاتی ہے۔
  3. حکومت کو اپنا نظام چلانے کے لیے اضافی رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پنشن فنڈز سے سود پر قرضہ لے لیتی ہے۔
  4. حکومت ہر سال عوام سے حاصل شدہ ٹیکس کی رقم سے اِس پنشن فنڈز کے قرضے پر سود ادا کرتی ہے۔
  5. پنشن فنڈز کی طرف سے یہ سود اور منافع ریٹائرڈ لوگوں کو پنشن کی صورت میں ملتا ہے۔

یہاں ایک اہم بات ہے کہ اصل فائدہ فنڈ اکٹھا کرنے والے اداروں کے عہدہ داران اٹھاتے ہیں۔ چونکہ فنڈز بھی ان کے پاس ہوتے ہیں اور سود کی رقم بھی انہی کے ہاتھ لگتی ہے تو وہ سارا نظام اس طرح سے بناتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ انہی کو پہنچے۔

مثال کے طور پر اگر ملازمین نے پنشن فنڈز کی مد میں 100 ارب جمع کرایا۔ یہ رقم حکومت کو 10 فیصد سود پر بطور قرض دے دی گئی، یعنی 10 ارب سود موصول ہوا۔ اب اس میں سے 2 ارب ادارے کے عہدہ داروں کی تنخواہوں کی مد میں جاتے ہیں، 1 ارب انتظامی فیس اور بونس وغیرہ میں، 1 ارب شیئر ہولڈرز کو منافع ملتا ہے، اور باقی 6 ارب عام ملازمین کو پنشن کے طور پر ملتی ہے جو کئی سالوں میں تقسیم ہوتی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ یہ عوام کے ٹیکس کی رقم ہے جو قرض کے سود کے طور پر ادا کی جا رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ ایک خاص طبقے کو ہو رہا ہے۔

نتیجہ

اس تحریر کا بنیادی محرک پروفیسر رچرڈ مرفی کی ایک گفتگو ہے، جس کا لنک درج ذیل دیا جا رہا ہے، ان کے مطابق دنیا کے امیر ترین لوگوں کی صرف سود سے سالانہ اوسط آمدنی 40,000 ڈالر ہے، جبکہ محنت کر کے کمانے والوں کی سالانہ اوسط آمدنی 13,500 ڈالر ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=Eh3iAzbLUqI


اقسام مواد

معلوماتِ عامہ