الحاد اور ردِ الحاد پر ایک مکالمہ
عمار خان یاسر کی گفتگو اور سوالات کا خلاصہ
عمار خان یاسر نے گفتگو کا آغاز استقبالیہ کلمات سے کیا، مفتی یاسر ندیم الواجدی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ شکاگو اور پاکستان کے درمیان وقت کے فرق کی وجہ سے اس نشست کا وقت طے کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے 2018 میں اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس وقت بھی ڈاکٹر صاحب نے شفقت سے وقت دیا تھا۔ انہوں نے سامعین کے لیے ڈاکٹر الواجدی کا تعارف بھی کرایا اور ان کی علمی خدمات خصوصاً ردِّ الحاد کے میدان میں کام کو سراہا۔
انٹرویو کے دوران عمار خان یاسر نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے جن کا خلاصہ یہ ہے:
تعلیمی و ذاتی پس منظر
- دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ اور ملائشیا تک پہنچنے کا سفر کیسے ہوا؟
- کیا مستقبل میں بھی امریکہ میں ہی دینی خدمات انجام دینے کا ارادہ ہے؟
ردِّ الحاد اور علمِ کلام
- الحاد کے میدان میں کام کرنے کا رجحان کیسے پیدا ہوا؟
- مدارس میں پڑھائی جانے والی کتاب شرح عقائد کی اہمیت کیا ہے اور اسے صحیح طریقے سے کیسے پڑھا جائے؟
- قدیم اور جدید علمِ کلام میں کیا فرق ہے؟
الحاد اور جدید فکری سوالات
- الحاد کن مفروضوں پر قائم ہے؟
- کیا سائنس خدا کے وجود کی نفی کرتی ہے؟
- کیا ریاضی کے ذریعے خدا کے وجود کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟
- جدید دور میں یونیورسٹیوں اور مدارس میں الحاد کیوں بڑھ رہا ہے؟
مصائب اور خدا کے وجود کا مسئلہ
- ملحدین کا یہ اعتراض کہ اگر خدا ہے تو بچوں کو تکلیفیں کیوں ہوتی ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟
- فلسطین کے بچوں کے قتل جیسے واقعات کو بنیاد بنا کر کیے جانے والے اعتراضات کا کیا جواب ہونا چاہیے؟
جدید فکری چیلنجز
- الحاد کے بعد مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا فکری خطرہ کون سا ہے؟
- جدیدیت، لبرلزم، فیمینزم اور سیکولرزم جیسے نظریات سے کیسے نمٹا جائے؟
تعلیمی اور دعوتی پہلو
- ردِّ الحاد پر شروع کیے گئے دو سالہ تخصص کورس کی نوعیت کیا ہے؟
- پاکستان میں اس نوعیت کے علمی کام کی کتنی ضرورت ہے؟
- نوجوان اور یونیورسٹی کے طلبہ دعوتِ دین کا کام کیسے کر سکتے ہیں؟
مباحثہ اور فکری مکالمہ
- پاکستان میں جاوید اختر جیسے افراد کے ساتھ علمی مباحثے کا ماحول کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
فکری تنازعات
- رینڈ کارپوریشن کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں کی حقیقت کیا ہے؟
- کیا بعض مذہبی خطباء کے انداز کی وجہ سے نوجوان الحاد کی طرف جا سکتے ہیں؟
- فرقہ واریت ختم کرنے کے دعوے کے باوجود بعض افراد نیا فرقہ کیوں بنا دیتے ہیں؟
- کتاب المہند علی المفند کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کی حقیقت کیا ہے؟
نظام تعلیم اور معاشرتی اصلاح
- پاکستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوان اسلام کے مطابق دعوتی کام کیسے کریں؟
- پاکستان کے اسلامی نظام کے بارے میں مختلف آراء کو کیسے سمجھا جائے؟
- بچوں کی ایسی تربیت کیسے کی جائے کہ وہ جدید فکری فتنوں سے محفوظ رہیں؟
مسلم شناخت اور تربیت
- موجودہ دور میں مسلمانوں کی شناخت کو درپیش خطرات کیا ہیں؟
- والدین اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کو شناخت کے بحران سے کیسے بچائیں؟
آخر میں انہوں نے ڈاکٹر الواجدی کا شکریہ ادا کیا، مزید نشستوں کی خواہش ظاہر کی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی کی گفتگو کا خلاصہ
مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اپنے تعلیمی اور خاندانی پس منظر سے گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق دیوبند سے ہے اور کئی نسلوں سے ان کا خاندان وہاں آباد ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر اور پھر دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی، افتاء اور ادبِ عربی کی تکمیل کی، بعد ازاں امریکہ اور ملائشیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی۔
ردِّ الحاد کی طرف رجحان
انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں تدریس کے دوران طلبہ کے سوالات نے انہیں الحاد کے موضوع پر سنجیدہ مطالعہ کرنے پر مجبور کیا۔ اس دوران انہوں نے اکابر علماء خصوصاً شاہ ولی اللہ، امام غزالی، حضرت تھانوی اور حضرت قاسم نانوتوی کی تحریروں کا مطالعہ کیا جس سے انہیں اسلام کی عقلی توضیح کا طریقہ ملا۔
علمِ کلام کی اہمیت
ان کے مطابق ردِّ الحاد کے لیے بنیادی سرمایہ وہی قدیم علمِ کلام ہے جو مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسے جدید مثالوں اور اصطلاحات کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اسی کو انہوں نے “جدید علمِ کلام” قرار دیا۔
سائنس، ریاضی اور خدا کا وجود
انہوں نے واضح کیا کہ:
- سائنس کا دائرہ صرف مشاہدہ شدہ کائنات تک محدود ہے۔
- سائنس خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر فیصلہ نہیں کر سکتی۔
- ریاضی کو فائن ٹیوننگ آرگیومنٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن براہِ راست ریاضی سے خدا کو ثابت کرنے کی کوئی معروف دلیل نہیں۔
الحاد کی اصل وجہ
انہوں نے اپنے مشاہدے کے مطابق کہا کہ تقریباً ستر اَسی فیصد الحاد کی بنیاد ذہنی صدمہ (mental trauma) ہوتا ہے، نہ کہ سائنس یا فلسفہ۔ بعد میں سوشل میڈیا، سائنٹزم اور لبرلزم جیسے نظریات اسے نظریاتی شکل دے دیتے ہیں۔
شر اور مصائب کا مسئلہ
انہوں نے کہا کہ:
- دنیا امتحان کی جگہ ہے، جنت نہیں۔
- اگر خدا کے وجود کو رد بھی کر دیا جائے تو بھی دنیا میں تکلیف ختم نہیں ہوتی۔
- آخری انصاف آخرت میں ہوگا، اس لیے مصائب سے خدا کے وجود کی نفی نہیں ہوتی۔
جدیدیت کا فتنہ
ان کے مطابق الحاد سے بھی بڑا خطرہ جدیدیت (Modernity) ہے جو لوگوں کو اسلام سے باہر نہیں نکالتی بلکہ شریعت سے دور کر دیتی ہے۔ اس کی اہم شکلیں یہ ہیں:
- لبرلزم
- فیمینزم
- سیکولرزم
- ٹرانس جینڈرزم
انہوں نے کہا کہ ان نظریات کا جواب صرف آیات و احادیث سے نہیں بلکہ عقلی و فکری دلائل سے دینا ضروری ہے۔
ردِّ الحاد کا تخصص
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک دو سالہ تخصص کورس شروع کیا تھا جس میں درج ذیل موضوعات شامل تھے:
- مغربی تہذیب کی تاریخ
- علمیات (Epistemology)
- الٰہیات (Theology)
- ڈارون کا نظریۂ ارتقاء
- جدید نظریات (فیمینزم، سیکولرزم وغیرہ)
- قرآن و سنت پر اعتراضات کے جوابات
یہ کورس اب چھ جلدوں کی صورت میں شائع ہو رہا ہے۔
مباحثہ اور فکری مکالمہ
انہوں نے کہا کہ علمی مباحثہ اسلامی روایت کا حصہ رہا ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنا چاہیے۔ باوقار اور بامقصد مکالمہ معاشرے میں فکری آگاہی کا باعث بنتا ہے۔
رینڈ کارپوریشن کا مسئلہ
انہوں نے وضاحت کی کہ رینڈ کارپوریشن نے مغربی پالیسی کے تحت ایسے لوگوں کو فروغ دینے کی سفارش کی تھی جو روایتی علماء سے ہٹ کر اسلام کی تعبیر کریں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ انہوں نے کسی خاص شخص پر براہ راست مالی تعلق کا الزام نہیں لگایا۔
فرقہ واریت
انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت ایک حقیقی مسئلہ ہے، لیکن اسے ختم کرنے کا طریقہ علماء کی توہین یا نئے تنازعات پیدا کرنا نہیں بلکہ علمی اور سنجیدہ مکالمہ ہے۔
نظامِ تعلیم کی اصلاح
انہوں نے زور دیا کہ مسلم معاشروں کی اصل کمزوری ان کا تعلیمی نظام ہے جو مغربی فکر پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق اسلامی علمیات تین ذرائع پر قائم ہے:
- حواس
- عقل
- وحی
جب تک تعلیم میں وحی کو بنیادی ماخذ نہ بنایا جائے، معاشرہ اسلامی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتا۔
برہان اکیڈمی کا نصاب
انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک ایسا نصاب تیار کیا جا رہا ہے جو:
- اسلامی اقدار پر مبنی ہوگا
- عالمی معیار کا ہوگا
- بچوں کو مغربی کہانیوں کے بجائے اسلامی تاریخ اور کرداروں سے روشناس کرائے گا۔
مسلم شناخت کا تحفظ
انہوں نے کہا کہ مسلم شناخت کا دارومدار تعلیم پر ہے۔ اگر تعلیمی نظام اسلامی نہ ہو تو معاشرہ بھی غیر اسلامی بنتا چلا جاتا ہے۔
بچوں کی تربیت
انہوں نے والدین کو نصیحت کی کہ:
- بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھیں
- ان کے سوالات سنیں اور علمی انداز میں جواب دیں
- گھریلو ماحول میں دینی اور فکری گفتگو جاری رکھیں
ان کے مطابق والدین کا اولاد کے ساتھ مضبوط تعلق بچوں کو فکری بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ گفتگو بنیادی طور پر جدید دور میں الحاد، جدیدیت، تعلیم، اور مسلم شناخت کے مسائل پر مرکوز تھی۔ ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی کے مطابق ان مسائل کا بنیادی حل اسلامی علمیات پر مبنی مضبوط تعلیمی نظام، علمِ کلام کی تجدیدی پیشکش، اور نوجوانوں کے ساتھ علمی مکالمہ ہے۔
