چائنہ کو سپرپاور بناتے ہوئے صدر ٹرمپ
نیپولین سے منسوب مشہور کہاوت ہے کہ جب تمہارا دشمن کوئی غلطی کر رہا ہو تو نہ اسے روکو، نہ ہی اسے ٹوکو۔ اور ایسا لگتا ہے کہ ایران جنگ اور اس سے پہلے بھی امریکہ، اور خاص طور پر صدر ٹرمپ کی غلطیوں کو چین یا تو خاموشی سے دیکھتا رہا یا پھر بیانات کے علاوہ خاموش رہا، اور پھر بظاہر عملی طور پر کچھ دکھائے بغیر خاموشی سے امریکہ کے مخالفوں کی مدد بھی کرتا رہا۔ ایران کو سیٹلائٹ کے ذریعے چینی مدد کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں۔
اور پھر صدر ٹرمپ اور چینی صدر کی ملاقات میں یہ نظر آیا کہ شاید یہ پہلی دفعہ تھا کہ امریکی صدر کسی دوسرے سربراہِ مملکت کے ساتھ میٹنگ میں تھے اور اس کمرے میں موجود سب سے طاقتور شخص امریکی صدر نہیں بلکہ چینی صدر لگ رہے تھے۔ اس کمرے میں موجود زیادہ بااختیار امریکی صدر نہیں بلکہ چینی صدر لگ رہے تھے۔ اس کمرے میں موجود دونوں صدور میں سے موجودہ مسائل کے حل کی توقع امریکی صدر سے نہیں بلکہ چینی صدر سے تھی۔ ایران جنگ نیتن یاہو کے کہنے پر ٹرمپ نے چھیڑی، مگر امن کے لیے وہ چینی صدر کی طرف دیکھتے نظر آئے۔
ناظرین، عام طور پر ٹرمپ جب اپنی کابینہ میٹنگ کرتے ہیں تو ان کے وزراء ان کی خوب چاپلوسی کرتے ہیں، اور دنیا کو وہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو پہلے کبھی کسی امریکی صدر کے دور میں نہیں دیکھنے کو ملے۔ مگر صدر ٹرمپ کی چینی صدر شی سے ملاقات میں بھی وہ مناظر دیکھنے کو ملے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے، کیونکہ جس طرح صدر ٹرمپ کے وزراء ان کی تعریفیں کرتے ہیں ویسے ہی صدر ٹرمپ چینی صدر شی کی تعریفیں کر رہے تھے۔ اور خود امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ ہیڈ لائن لگائی ہے کہ ٹرمپ کا انداز خوشامدانہ تھا جبکہ چینی صدر شی زیادہ سنجیدہ نظر آئے، اور یہ فرق بہت کچھ ظاہر کر رہا تھا۔
ناظرین، ایران جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے ان چینی آئل ریفائنریز پر پابندیوں کا اعلان کر دیا جو ایرانی تیل خریدتی ہیں، اور چین نے وہ پابندیاں مسترد کر دیں اور اپنی کمپنیوں اور بینکوں سے کہا کہ ان ریفائنریز کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ اور آج چین سے واپسی پر اپنے طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا اور کہنا پڑا کہ وہ یہ پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے سوچیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کا آغاز پوری دنیا سمیت چین پر ٹیرف لگا کر کیا، اور دعویٰ کیا کہ چین کو بہت بڑا ٹریڈ سرپلس ہوتا ہے اور امریکہ خسارہ کرتا ہے۔ پھر چین کو دھمکیاں دیں، ٹیرف 145 فیصد تک پہنچا دیے، اور کہا کہ ٹیرف سے امریکہ کو فائدہ اور چین کو نقصان ہوگا۔ مگر پھر چین نے جواب میں ان “ریئر ارتھ منرلز” کی ایکسپورٹس پر ہی پابندیاں لگا دیں جو امریکہ کی دفاعی اور دیگر انڈسٹریز کے لیے بہت ضروری ہیں، اور صدر ٹرمپ کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا۔
پھر صدر ٹرمپ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، کیونکہ 2025ء میں چین نے اپنی تاریخ کا سب سے بلند یعنی 1.2 ٹریلین ڈالرز، یعنی بارہ سو ارب ڈالرز، کا ٹریڈ سرپلس دے دیا، جو G20 میں شامل ملک سعودی عرب کے پورے معاشی سائز کے برابر ہے۔ یعنی ایک سال میں اتنا ٹریڈ سرپلس جتنی سعودی عرب کی معیشت ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چین اپنی ایکسپورٹس کو ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک ڈائیورسیفائی کر چکا ہے۔ 2026ء کے ابتدائی چار ماہ میں بھی چین 347 ارب ڈالرز کا ٹریڈ سرپلس دے چکا ہے۔ 85 ارب ڈالرز کا ٹریڈ سرپلس تو صرف اپریل کے مہینے میں ریکارڈ کیا گیا ہے، یعنی سلوڈاؤن کے باوجود۔ 2026ء میں بھی چین ایک ہزار ارب ڈالرز یعنی ایک ٹریلین ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دینے جا رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کا 2025ء میں تجارتی خسارہ نو سو ارب ڈالرز رہا۔ اور اب اس سال صرف مارچ کے مہینے میں امریکہ کا تجارتی خسارہ ساڑھے چار فیصد اضافے کے ساتھ 61 ارب ڈالرز رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چین امریکہ کے اتحادیوں کو قریب لا رہا ہے جبکہ صدر ٹرمپ ان پر تنقید کر کے انہیں امریکہ سے دور کر رہے ہیں۔ نیٹو، جو کہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور جس کے چارٹر کے تحت اگر رکن ممالک پر حملہ ہوگا تو ہی تمام ممالک ردعمل دیں گے۔ اس نیٹو اتحاد پر بھی ٹرمپ ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر تنقید کرتے نظر آئے اور امریکہ کو اس اتحاد سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے نظر آئے۔ حالانکہ ایران نے امریکہ پر نہیں، بلکہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ہے، اور نیٹو کے چارٹر کے تحت رکن ممالک اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کے پابند نہیں ہیں۔ اور انہوں نے صدر ٹرمپ کو واضح جواب بھی دے دیا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے تو امریکہ خود لڑے، ہم کیوں لڑیں؟
جبکہ اسپین اور دیگر اتحادیوں نے امریکہ کو اس جنگ میں اپنے ملک میں موجود بیسز استعمال کرنے سے بھی روک دیا۔ جبکہ اسپین اور کینیڈا کے وزرائے اعظم چین گئے تو وہ چین کی تعریفیں کرتے نظر آئے، تعلقات آگے بڑھانے کی بات کرتے نظر آئے، جبکہ یہ دونوں ہی صدر ٹرمپ کے نشانے پر رہے ہیں۔
اور گزشتہ دنوں تو خود امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ میں ایک تجزیہ شائع ہوا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کو ایک ایسے صدر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ایشیا کو چائنہ کے ہاتھوں کھو دیا؟ اور چین جو کر رہا ہے بغیر ملٹری کے استعمال کے کر رہا ہے، اور امریکہ کو کوئی موقع نہیں دے رہا۔
ایران جنگ کے بعد ٹرمپ اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ساتھ ایشیا کے اتحادیوں پر بھی حملہ آور ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ کوریا اور جاپان کو بھی طعنہ دیا اور کہا کہ جاپان میں ہمارے پچاس ہزار فوجی ہیں، جنوبی کوریا میں ہمارے پینتالیس ہزار فوجی ہیں تاکہ ہم ان دونوں ممالک کو نارتھ کوریا سے محفوظ رکھ سکیں، مگر ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں ہماری مدد تک نہیں کی۔ اور ٹرمپ یہی نہیں رکے۔ ٹرمپ نے نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ اُون کے بارے میں کہا کہ وہ تو میری بڑی تعریفیں کرتا ہے۔ اور دی اکانومسٹ کے مطابق ساؤتھ کوریا اور جاپان روس سے تیل خریدنے کا سوچ رہے ہیں، جو ان دونوں ممالک کے دشمن نارتھ کوریا کا اتحادی ہے، جس کے سربراہ کی ٹرمپ تعریفیں کر رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے وہ ٹرمپ کی تعریفیں کرتے ہیں۔
اس سے پہلے بھارتی وزیراعظم مودی ٹرمپ کو اپنا بہترین دوست کہتے تھے۔ ٹرمپ کے صدر بننے پر مودی میڈیا جشن مناتا رہا، چین سے مقابلے کے دعوے کرتا رہا، اور پھر ٹرمپ نے جو کیا اس کے بعد وزیر اعظم مودی چین کے قریب آنے کی کوششیں کرتے نظر آتے۔ مگر دوسری طرف دیکھیے چین کیا کر رہا ہے۔ اس وقت امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو چین خاموشی سے ایران سے پہلے سے زیادہ تیل خریدتا نظر آیا۔ ماضی میں پابندیوں کے باوجود بھی چین ایران سے تیل خریدتا رہا۔ ماضی میں روس پر پابندیاں لگیں تو چین نے پہلے سے زیادہ تیل اور گیس روس سے خریدنا شروع کر دیا۔
بحرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد پیش کرنا چاہی کہ جس کے تحت آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایران کے خلاف فورس کا استعمال شامل تھا، تو چین نے روس کے ساتھ مل کر اس کی مخالفت کی اور اس قرارداد سے فورس کا استعمال نکالنا پڑا۔
اس سے پہلے چین، ایشیا، افریقہ، یہاں تک کہ امریکہ کے خطے کے ممالک کو قرض دیتا رہا یا وہاں سرمایہ کاری کرتا رہا۔ پاکستان سمیت متعدد ممالک چین کے سولر پینلز لگانے کی وجہ سے اس وقت تیل اور گیس کے بحران کے باوجود بجلی کے بحران سے بہتر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں چینی حکام سمجھتے ہیں کہ انہیں اور فائدہ ہوگا۔ اب بہت سے ممالک اپنی تیل کی ضروریات کو ڈائیورسیفائی کرنے کے لیے چین کے سولر اور ونڈ پینلز خریدیں گے۔ چینی الیکٹرک گاڑیوں کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہوگا۔ دی اکانومسٹ نے چین میں ڈویلپرز، ایڈوائزرز، اسکالرز، ایکسپرٹس، اور موجودہ و سابق حکام سے گفتگو کی ہے، اور وہ سب ہی ایران جنگ کو امریکہ کی ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہیں۔ اور زیادہ تر حکام کو لگتا ہے کہ اس جنگ سے ہی امریکہ کا زوال یعنی Decline شروع ہوگا، کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں چین کو اپنا معاشی اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کا زبردست موقع ملے گا۔ زیادہ تر حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی ایران جنگ، امریکہ کے کم ہوتے ہوئے سپر پاور اسٹیٹس کی نشانی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انیسویں صدی میں اپنے زوال کے وقت برطانوی سلطنت جنگیں لڑ رہی تھی۔ اور اس طرح خطے میں چین کے مزید عروج کا آغاز ہو جائے گا۔
تاہم کچھ خطرات ممکن ہیں، کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا میں اکنامک ریسیشن چین کی ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ چین، جو خود تیل اور گیس کا سب سے بڑا امپورٹر ہے، اور آبنائے ہرمز سے اس کی ضرورت کا چالیس سے پچاس فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے، مگر گزشتہ برسوں میں چین نے اپنی انرجی کی ضروریات کے لیے پروڈکشن کو ڈائیورسیفائی کیا، بجلی کے لیے سولر پینلز اور پھر الیکٹرک گاڑیوں کی طرف رجحان بڑھایا۔ تو اس سب کے بعد بھی چین دنیا کا سب سے بڑا آئل اینڈ گیس امپورٹر تو ہے، مگر رینیوایبل انرجی کی طرف تیزی سے ڈائیورسیفائی کرنے کی وجہ سے چین کی اپنی کل انرجی ضروریات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل اور گیس پر انحصار محض سات فیصد رہ گیا ہے۔
چین میں الیکٹرک کاروں کا استعمال تقریباً پوری دنیا میں الیکٹرک کاروں کے مجموعے کے برابر ہے۔ یعنی ایک طرف چین کی الیکٹرک گاڑیاں اور دوسری طرف پوری دنیا کی الیکٹرک گاڑیاں۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ چین میں تیل کی کھپت چالیس فیصد گاڑیوں کے ذریعے ہوتی ہے، اور اب چین میں جتنی گاڑیاں بکتی ہیں ان میں سے آدھے سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں ہوتی ہیں۔ یعنی آٹو سیکٹر میں چین کی آئل کنزمپشن میں باقی دنیا کی طرح اضافہ نہیں ہو رہا۔ بلکہ ٹرمپ کی ایران جنگ کے بعد تو مغربی میڈیا یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ مہنگا تیل خریدنے سے بچنے کے لیے اچانک امریکہ میں ایران جنگ کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی سیل میں اضافہ ہو گیا۔
اس کے علاوہ بھی چین نے اپنی اسٹریٹیجک ریزروز میں تقریباً 1.2 ارب بیرل تیل جمع کیا ہوا تھا، جو اس کی چار ماہ کی ضروریات کے لیے کافی ہے، اور اس وقت بھی روس سے ہی تیل خرید رہا ہے۔ یعنی چین اس بحران کا شکار نہیں ہے جس کی اس جنگ کے شروع میں توقع کی جا رہی تھی، بلکہ اس وقت چین مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہا ہے، اور صدر ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کے لیے چین کی طرف دیکھتے نظر آ رہے ہیں۔
