دولت کمانے کا اصول قرآن مجید سے
یہ گفتگو ایک ایسے شخص کا تجربہ پیش کرتی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اس نے دولت کمانے کے بارے میں جتنا سیکھا، وہ کسی بھی بزنس کتاب سے زیادہ قرآنِ مجید سے سیکھا۔ اور یہ کہ دنیا کی بہت سی کاروباری حکمتِ عملیاں دراصل انہی اصولوں پر مبنی ہیں جو قرآن پہلے ہی سکھا چکا ہے، مگر فرق صرف سمجھ اور نیت کا ہے۔
’’دینے سے اضافہ‘‘ کا قرآنی اصول
قرآن کا ایک بنیادی اور بار بار دہرایا جانے والا اصول یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں دیا جائے، وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ خاص طور پر صدقہ اور خیرات کو دولت میں اضافے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ بظاہر انسان کو لگتا ہے کہ اس کے پیسے کم ہوگئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک ایسی جگہ محفوظ ہو جاتے ہیں جہاں سے کئی گنا بڑھ کر واپس ملتے ہیں۔ اور یہ بات نہ صرف آخرت بلکہ دنیا کے متعلق بھی درست ہے۔
حدیث کی روشنی میں انفاق کی تفہیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں تین افراد کی مثال دی گئی: ایک شخص جس کے پاس 10 درہم تھے اور اس نے 1 درہم صدقہ دیا، دوسرے کے پاس 100 درہم تھے اور اس نے 10 درہم دیے، تیسرے کے پاس 10,000 درہم تھے اور اس نے 1,000 درہم دیے۔ صحابہؓ نے پوچھا، ان میں سے کون افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تینوں نے برابر صدقہ دیا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ صدقہ کا اجر آدمی کو اس کی استطاعت کے اعتبار سے ملے گا۔
شیطان کا دھوکہ اور اصل حقیقت
انسان جب صدقہ دیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس کا بینک بیلنس کم ہوگیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں شیطان وسوسہ ڈالتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک دنیا کا ظاہری بینک اکاؤنٹ ہے، اور ایک حقیقی اکاؤنٹ ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ اللہ کے ہاں جمع کیا گیا سرمایہ کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ اس پر کئی گنا منافع ملتا ہے، کبھی 10 گنا، کبھی 100 گنا یا اس سے بھی زیادہ۔
کاروبار کا اصل راز کیا ہے؟
قرآنی اصولوں کو جب ہم کاروباری زندگی پر لاگو کرتے ہیں تو ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے: کاروبار دراصل دوسروں کے مسائل حل کرنے کا نام ہے۔ جب کوئی شخص لوگوں کی مشکلات کم کرتا ہے، ان کی زندگی آسان بناتا ہے، تو وہ نہ صرف اجر حاصل کرتا ہے بلکہ دنیاوی کامیابی بھی اس کا مقدر بنتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ جو شخص دوسروں کی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ اس کی تکلیف دور کرتا ہے۔ چنانچہ اس سے یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ اور یہی بات کاروبار کی ایک قدرتی بنیاد ہے۔
سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت
کاروبار میں اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب انسان اپنی سوچ بدلتا ہے۔ پہلے اس کی سوچ یہ تھی کہ میں کتنا پیسہ کما سکتا ہوں؟ اب اس کی سوچ یہ ہے کہ میں کتنے لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں؟ جب توجہ اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں کی خدمت پر آتی ہے تو محنت بامقصد لگتی ہے، کام میں اخلاص اور عمدگی آجاتی ہے، جبکہ پیسہ خودبخود آنا شروع ہو جاتا ہے۔انسانوں کے اللہ سے تعلق کی تین حالتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) صرف اپنی ضرورت کے لیے عبادت کرنے والے، یعنی جو صرف اپنی خواہشات کے لیے دعا کرتے ہیں۔ (۲) اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے والے، جو عبادت میں لذت محسوس کرتے ہیں اور زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ (۳) شکر اور محبت کے ساتھ عبادت کرنے والے، جو صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ انہیں اللہ کے قریب ہونے کا موقع ملا۔ ان میں سے تیسری قسم سب سے اعلیٰ ہے اور یہی اصول کاروبار پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
جب انسان کاروبار کو عبادت سمجھ کر کرے تو اس کا مقصد بدل جاتا ہے: وہ لوگوں کی مدد کو ترجیح دیتا ہے، ایمانداری اور خلوص اختیار کرتا ہے، وہ نتائج اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس سوچ کے ساتھ کیا گیا کام نہ صرف دنیا میں کامیابی دیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر کا باعث بنتا ہے۔
ایک عملی پیغام
اگر آپ دولت اور کامیابی چاہتے ہیں تو اپنی توجہ خود سے ہٹا کر دوسروں پر مرکوز کریں، لوگوں کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، اپنی نیت کو خالص رکھیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ آپ کی محنت کا بہترین بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ، اخلاص اور دوسروں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں حلال اور بابرکت رزق دے، اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
https://youtu.be/fcD-EIJE3Fc