نبی کریم کا سیدہ عائشہ سے نکاح
لیم ٹفس: نبی محمد کی عمر 56 سال تھی اور اُنہوں نے 9 سالہ بچی سے جنسی تعلق کیا۔ درست ہے یا درست نہیں ہے؟
ڈوئی: آج کے دور میں یہ ٹھیک نہیں ہوگا، لیکن مجھے اس کا تھوڑا سا پس منظر بتانے دیں۔ یہ سوال خاص طور پر مسلمانوں سے کیا جاتا ہے، کسی اور سے نہیں کیا جاتا:
- آپ نے کبھی کیتھولکس سے نہیں پوچھا کہ مریم کی عمر 12 تھی اور یوسف کی 90۔
- آپ نے کبھی یہودیوں سے نہیں پوچھا کہ ريبيكا کی عمر 3 تھی اور اسحاق کی 40۔
تو ہم اس معاملے میں ’’پریزینٹ ازم‘‘ والا استدلال استعمال کر رہے ہیں، یعنی آج کی روایات، ثقافتوں اور قوانین کے ساتھ ماضی کی کسی چیز کو پرکھنا۔
- 1880ء میں، اِس ملک میں جنسی تعلق کی قانونی عمر 9 سال تھی۔
- امریکہ جب آزاد ہوا تو وہاں قانونی عمر 7 سال مقرر کی گئی تھی۔ امریکہ میں ہونے والی کم عمری کی شادیاں دنیا میں کہیں بھی ہونے والی ایسی شادیوں سے زیادہ ہیں۔ تو یہ آج کے دور کی بات ہے، 1880ء میں یہ عمر 9 سال تھی، جو کہ اب قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ اور اگر نبی محمد آج زندہ ہوتے تو یہ قابلِ قبول نہ ہوتا۔
زیادہ تر مسلم ممالک جن میں حکومت ہے، وہاں جنسی تعلق اور شادی کی قانونی عمر کیا ہے؟
لیم ٹفس: میرا خیال ہے 18۔
ڈوئی: تو اسلام میں شادی کے لیے تین شرائط ہیں جو پوری ہونی چاہییں:
- ایک جسمانی ہے۔ بلوغت کو پہنچنا ضروری ہے۔ NHS ویب سائٹ کے مطابق لڑکیاں 8 سے 13 سال کے درمیان اور لڑکے 9 سے 14 سال کے درمیان بلوغت کو پہنچتے ہیں۔ ایسی تحقیقات بھی ہوئی ہیں کہ برسوں پہلے گرم ممالک میں اوسط عمر بہت کم تھی۔ لوگ 30 سے 40 برس تک جیتے تھے۔ زندگی مشکل تھی، اس لیے لوگوں کو جسمانی طور پر جلد بالغ ہونا پڑتا تھا۔
- ایک اور شرط ذہنی پختگی کی ہے۔ جس لڑکے یا لڑکی کی شادی ہو رہی ہے اس میں یہ ذہنی پختگی ہونی چاہیے کہ وہ جانتے ہوں وہ کیا کر رہے ہیں۔
- تیسری شرط یہ ہے کہ دونوں طرف سے کسی قسم کے ضرر کا معاملہ نہ ہو۔ تو ہمیں معلوم ہے کہ نبی کے انتقال کے بعد عائشہ دہائیوں تک زندہ رہیں اور اُنہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ کبھی نہیں کہا کہ میں بہت کم عمر تھی، یا مجھے کوئی صدمہ تھا، یا مجھے انتظار کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہمیشہ اس شادی کے بارے میں خوش رہیں؟
لیم ٹفس: 9 سال کی عمر میں عائشہ کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کیا تھی؟
ڈوئی: جسمانی طور پر وہ بالغ ہوں گی۔ ورنہ 6 سال کی عمر میں رخصتی کیوں نہیں ہوئی؟ 9 تک انتظار کیوں کیا؟ تو جسمانی شرط پوری تھی، ذہنی شرط یقیناً پوری تھی، اور کوئی ضرر نہیں ہوا کیونکہ کبھی صدمے یا تکلیف کی شکایت نہیں آئی۔ وہ اس کے بعد دہائیوں تک بالکل ٹھیک رہیں۔
پھر یہ کہ نبی کی اور کتنی بیویاں کم عمر تھیں؟ اُن کی پہلی بیوی خدیجہؓ اُن سے 20 سال سے بھی زیادہ بڑی تھیں۔ تو بات یہ ہے کہ اگر ہم آج کے ذہن کے ساتھ ماضی میں جائیں، اپنے 2026ء والے ذہن کے ساتھ، تو ظاہر ہے کہ (قابلِ قبول) نہیں۔ لیکن اگر آپ اُسی دور میں پیدا ہوتے، تو آپ اِس طرح نہ سوچتے جیسے آج سوچ رہے ہیں۔
youtube.com/shorts/jdbu2magK_c
نوٹ: نبی کریم کا سیدہ خدیجہ کے ساتھ پہلا نکاح پچیس سال تک رہا اور اس دوران آپ نے کوئی اور نکاح نہیں کیا۔ یعنی پچاس برس کی عمر تک نبی کریم کی ایک ہی شادی رہی۔ نبی کریم سے سیدہ خدیجہ پندرہ سے بیس سال بڑی تھیں۔ جبکہ سیدہ عائشہ سے نکاح کی بنیادی حکمت یہ تھی کہ نبی کریم کی نجی اور گھریلو زندگی کی روایات کو رہتی دنیا تک محفوظ کرنا مقصود تھا۔
