کیونکہ وہ سب یاد آئے گا!

میں نے دو سال آئی سی یو میں کام کیا ہے۔ ICU سمجھتے ہیں؟ Intensive Care Unit (انتہائی نگہداشت کا کمرہ)۔ حساس مریض ہوتے ہیں: گردہ فیل، جگر فیل، دل فیل۔ اِدھر سے نلی، اُدھر سے نلی، اِدھر سے نلی۔ یعنی ایک سے زیادہ اعضاء کی خرابی۔ اس میں سے آدھے مرنے والے ہوتے ہیں۔ تو ہم کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ جانے والا ہے، یہ جانے والا ہے۔ کچھ لوگ بے ہوش ہوتے ہیں، کچھ لوگ ہوش میں ہوتے ہیں۔ 

ابھی میں نے کیا دیکھا کہ ایک بھائی، ستر سال کی عمر ہے، جانے والا ہے، اس کو پتہ ہے، رو رہا ہے، ہوش میں ہے لیکن رو رہا ہے۔ تو مجھے بہت محسوس ہوا، میں نے سوچا، یہ جانے والا ہے، یہ رو کیوں رہا ہے؟ میں گیا، ہاتھ رکھا، میں نے پوچھا، بھائی صاحب! کیوں رو رہے ہو؟ تو بولا، مجھے پوری زندگی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ آخر میں ہوتا ہے، پوری فلم نظر آتی ہے۔

میں نے پوچھا، کیا دکھائی دے رہا ہے؟ ایک ہی جملے میں اس نے پتا ہے کیا کہا؟ دھیان سے سننا۔ 

اس نے کہا: جو نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کیا، اور جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔

میں نے پوچھا، کیا کیا؟

تو بولا: بہت لوگوں کا اپمان کیا، بے عزتی کی، برے لفظوں کا استعمال کیا۔ آج ان لوگوں سے میں معافی بھی نہیں مانگ سکتا ہوں کیونکہ میں جانے والا ہوں۔

اور میں نے پوچھا، کیا کرنا چاہیے تھا؟

بولا: میرے پاس پیسہ تھا، پاور تھی، پوزیشن تھی، میں بہت لوگوں کی مدد کر کے دعا لے سکتا تھا۔ میں نے وہ نہیں کیا۔

میں نے پوچھا، کیوں نہیں کیا؟

بولا: اکڑ بہت تھی، ego تھی، اور مزا آتا تھا دوسروں کو تکلیف دینے میں۔ آج مرتے وقت وہ سب یاد آ رہا ہے کہ میں نے اپنا جیون ضائع کیا۔ اس لیے میں روتے ہوئے جا رہا ہوں۔ اور میں ایسے ہی مروں گا، روتے روتے ہی مروں گا۔

Realization at the time of death

میرا آپ لوگوں سے ایک ہی سوال ہے، آپ کیسے مرنا چاہتے ہو؟ ہنستے ہنستے یا روتے روتے؟

بڑی معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ اعمال بہت اچھے چاہئیں، لمبے عرصے کے اعمال اچھے ہوں گے تبھی ہنستے ہوئے جا سکتے ہیں۔ نہیں تو مشکل ہے۔ کیونکہ وہ سب یاد آئے گا۔

facebook.com/reel/1288255110153998


اقسام مواد

تراجم