یہود مسلم کشمکش اور مسئلہ فلسطین
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے 2006ء / 2007ء کے دوران مسئلہ فلسطین پر ایک خطاب کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
میں سرزمینِ فلسطین کے جغرافیائی تنازع سے ہٹ کر اس دیرینہ اور تاریخی کشمکش پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان دعوتِ اسلامی کے آغاز سے چلی آ رہی ہے۔ موجودہ فلسطین کے سنگین حالات اور مسلمانوں کی مشکلات کوئی نیا واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل تاریخ کا نتیجہ ہیں، جس کو سمجھے بغیر ہم اس کی اہمیت، مختلف پہلوؤں اور اس کے حقیقی حل تک نہیں پہنچ سکتے۔ فلسطین ہمارے لیے دو اہم ترین وجوہات کی بنا پر بنیادی حیثیت رکھتا ہے:
- اول، یہ کہ یہ سو فیصد مسلم آبادی کا علاقہ ہے جہاں ہمارے بھائی بہنوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور بحیثیت امتِ مسلمہ ان کی مدد ہمارا فرض ہے۔
- دوم، یہ کہ یہ سرزمینِ انبیاء ہے اور یہاں مسلمانوں کا قبلۂ اول بیت المقدس واقع ہے، جس کا تحفظ اور دفاع ہمارے لیے بالکل اسی طرح لازم ہے جیسے حرمین شریفین کا تحفظ۔
بیت المقدس کی قرآنی اور تاریخی حیثیت
قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے ماحول کو بابرکت قرار دیا ہے اور واقعۂ معراج کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھانا بیان کیا ہے۔ کئی ہزار سال تک یہ سرزمین نبوت کا مرکز اور قبلۂ انبیاء رہی ہے کیونکہ جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کا بڑا حصہ، بشمول حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام (جن کا لقب اسرائیل تھا) یہیں آباد ہوا۔ جب نبوت کا یہ سلسلہ جاری تھا تو انسانوں اور مسلمانوں کی سہولت کے لیے بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا۔ بیت المقدس اصل میں ایک بڑی عمارت کا نام ہے جس میں بنیادی طور پر دو چیزیں شامل ہیں:
- ایک تو وہ سنہرا گنبد صخرہ ہے جو خلیفہ عبدالملک نے ایک خاص چٹان پر تعمیر کرایا تھا (جو کوہِ صفا و مروہ جیسی ایک چٹان ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چٹان سے معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہی چٹان ایک طویل عرصے تک قبلہ رہی۔
- دوسری عمارت مسجدِ عمر ہے، جہاں فتحِ بیت المقدس کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کھلے میدان میں نماز پڑھی تھی اور بعد میں وہاں خلیفہ عبدالملک نے مسجد تعمیر کرائی۔
اس پوری عمارت کو مسجدِ اقصیٰ یا بیت المقدس کہتے ہیں۔ اس شہر کے کئی قدیم نام ہیں جیسے یروشلم یا ایلیا، لیکن چونکہ القدس اور بیت المقدس خالص عربی اور اسلامی اصطلاحات ہیں، اس لیے مسلمانوں کو یہودیوں میں رائج لفظ یروشلم کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ ہماری اسلامی شناخت ممتاز رہے۔
قبلۂ اول اور تحویلِ قبلہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام، اور ان کے نانا حضرت زکریا علیہ السلام، ان سب کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا اور ان سب کا قبلہ بیت المقدس ہی تھا جس کی طرف وہ رخ کرتے تھے۔ اللہ کی سنت کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو سابقہ شریعت کے احکام کے تحت مکہ کے تیرہ سالہ دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بیت المقدس کی طرف ہی رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ تاہم، اس نئے دین کا مزاج یہ تھا کہ کعبۃ اللہ کی ابراہیمی مرکزیت بحال ہو۔ اسی لیے مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے جنوب مشرق میں اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ رخ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف ہو جائے، کیونکہ بیت المقدس مکہ سے شمال مغرب میں ہے۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد جب اسلامی ریاست اور قوانین نافذ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدت سے قبلۂ ابراہیمی کی بحالی کا انتظار رہنے لگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی خواہش پر تحویلِ قبلہ کا حکم فرما کر مسلمانوں کا رخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر دیا۔ اس طرح بیت المقدس کم و بیش پونے پندرہ سال تک مسلمانوں کا قبلہ رہا۔
مسلمانوں اور یہودیوں کی باہمی کشمکش
اگر آپ قرآن مجید کی سورتوں پر غور کریں تو سورہ بقرہ کے آغاز سے ہی یہودیوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے، جبکہ سورہ آل عمران میں عیسائیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہودیوں سے مسلمانوں کا واسطہ ایک طویل عرصے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی تک جاری رہنے والا ہے۔ مسلمانوں کو اس معرکے کے لیے تیار کرنے کی خاطر قرآن نے ان کی تاریخ، کمزوریوں، جرائم اور نعمتوں کا ذکر کیا تاکہ ہم ان سے معاملہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ لہٰذا اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے سورہ بقرہ، سورہ نساء اور سورہ اسراء کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے بہت ضروری ہے۔
یہودیوں کا عروج، سرکشی اور زوال
حضرت موسیٰ علیہ السلام یہودیوں کو فرعون کے مظالم سے نجات دلا کر فلسطین کی طرف لائے اور ان کے جانشین حضرت یوشع علیہ السلام کے ہاتھوں انہیں ارضِ موعود یعنی وعدہ شدہ سرزمین حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فضیلت عطا کی، دنیاوی اقتدار بخشا اور حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہما السلام جیسے بادشاہ اور نبی عطا کیے۔ مسلمان حضرت سلیمان علیہ السلام کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ یہودی اپنے لٹریچر میں انہیں صرف ایک مادی اور دنیوی ہیرو یا بادشاہ (Solomon the king) مانتے ہیں۔ جب یہودیوں نے پے در پے نافرمانیاں کیں اور انبیاء کو بے دردی سے شہید کیا تو اللہ نے ان سے یہ نعمت چھین لی۔ سورہ اسراء کے مطابق ان کی دو بڑی سرکشیوں کے نتیجے میں ان پر عذاب مسلط کیا گیا۔
پہلی سرکشی پر ایرانی (بابلی) بادشاہ بخت نصر نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے صدیوں پہلے ان کا نام و نشان مٹا دیا، ہیکلِ سلیمانی کو ڈھایا اور دنیا سے تورات کا واحد نسخہ بھی ضائع کر دیا۔ پھر، صدیوں بعد حضرت عزیر علیہ السلام نے معجزاتی طور پر اپنی یادداشت سے تورات دوبارہ لکھوائی، جس سے یہ قوم دوبارہ مجتمع ہوئی اور بیت المقدس پر قابض ہوئی۔ لیکن ان کی دوبارہ گمراہی پر اللہ نے وہاں عیسائیوں کو مسلط کر دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش تک وہاں حاکم رہے۔
بیت اللہ کی عالمگیر مرکزیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد علاقائی مرکزیت ختم ہو گئی اور بیت اللہ کو، جو دنیا کی قدیم ترین عمارت اور مرکزِ توحید ہے، ہمیشہ کے لیے پوری انسانیت کا آخری قبلہ قرار دے دیا گیا۔ ہیکلِ سلیمانی تو کعبہ کی تعمیر کے ہزاروں سال بعد بنا تھا۔ تمام سابقہ انبیاء جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام بھی بیت اللہ کا طواف کرتے رہے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزولِ ثانی کے بعد بھی یہاں کا عمرہ کریں گے۔ اب کعبہ ہی آخری مرکز ہے۔ یہودی یہ بات جانتے تھے، اسی لیے انہوں نے مکہ کے دور سے ہی کفارِ مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سکھا پڑھا کر شبہات میں مبتلا کرنا شروع کیا اور جب مدینہ میں اسلامی ریاست بنی تو انہوں نے منافقت کے ساتھ مسجدِ ضرار جیسی سازشوں سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی۔
میثاقِ مدینہ اور یہود کی عہد شکنیاں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے فوراً بعد میثاقِ مدینہ کی صورت میں انسانی تاریخ کا پہلا تحریری دستور پیش کیا تاکہ یہودیوں کو برابر کے حقوق اور امان حاصل ہو، لیکن بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ نے ایک ایک کر کے اس معاہدے کو توڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازشیں کیں اور مشرکینِ مکہ سے ساز باز کی۔ نتیجتاً انہیں مدینہ اور پھر خیبر سے نکالا گیا، لیکن انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کبھی بند نہیں کیں اور نہ ہی عیسائیوں کو آرام سے بیٹھنے دیا۔
معاہدۂ عمریؓ اور مسلم دورِ حکومت میں یہود کا مقام
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں بیت المقدس عیسائیوں سے فتح ہوا تو عیسائی حکمرانوں نے چابیاں دینے کے لیے کچھ شرائط طے کیں، جنہیں ’’عُہدہ عمریہ‘‘ یا ’’شروطِ عمریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر حضرت عمرؓ، حضرت ابوعبیدہؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور کبار صحابہ کے دستخط موجود ہیں۔ اِس معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ یہودیوں کو فلسطین میں مستقل آباد ہونے، زمین یا جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ وہ عارضی زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے ساڑھے تیرہ سو سال اس شرط کی پاسداری کی۔
اس شرط کے علاوہ، دنیائے اسلام کے دیگر تمام حصوں میں یہودیوں کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل تھے۔ خود یہودی مورخین مانتے ہیں کہ ان کی تاریخ کا سنہرا ترین دور وہ تھا جب وہ اسلامی اندلس (اسپین)، سلطنتِ عثمانیہ، مصر اور عراق میں عباسی دور کے تحت آزاد شہری کے طور پر رہتے تھے۔ مسلمانوں نے انہیں یہ آزادی دے رکھی تھی کہ ان کے جج ان کے اپنے یہودی قوانین کے مطابق فیصلے کریں، جو آزادی آج کے جدید مغرب یا امریکہ میں بھی کسی کو حاصل نہیں۔ اس تمام تر حسنِ سلوک کے باوجود انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، یہاں تک کہ سلطان نور الدین زنگی کے دور میں دو یہودی کارندوں نے سرنگ کھود کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ مبارک کو نکالنے اور توہین کرنے کی ناپاک سازش کی جسے سلطان نے ناکام بنایا۔ اِس پوری تاریخ سے یہودیوں کی مسلم دشمنی اور ان کے عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ کا تاریخی کردار اور دفاعِ فلسطین
ترکوں کی قائم کردہ سلطنتِ عثمانیہ نے کم و بیش سات سو سال تک اسلامی دنیا، حرمین شریفین اور بیت المقدس کا تحفظ کیا، جو میراث انہوں نے عباسیوں، امویوں اور خلفائے راشدین کے تسلسل سے حاصل کی تھی۔ عثمانی سلاطین نے ہمیشہ ’’شروطِ عمریہ‘‘ کی سختی سے پابندی کی اور 1920ء تک اس امانت کی حفاظت کا حق ادا کیا۔ ایک دور میں عثمانیوں کی فتوحات وسطی یورپ تک پھیل چکی تھیں اور سلطان بایزید یلدرم ویانا کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ مگر افسوس کہ وسطی ایشیا کے ایک مسلم حکمران نے پشت سے سلطنتِ عثمانیہ پر حملہ کر دیا، جس کی وجہ سے بایزید یلدرم کو دفاع کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا اور اس نے دونوں اطراف سے گھیرے میں آ کر شکست کھائی۔ اس کے بعد ترکوں کو مشرقی یورپ سے ایک ایک کر کے نکالا جاتا رہا۔ ترکوں نے اپنے ایک ایک شہر کا دفاع کرتے ہوئے لاکھوں قربانیاں دیں، وہ مغربی طاقتوں اور یہودیوں کے مقروض ہوتے چلے گئے، مگر انہوں نے حرمین اور بیت المقدس کے تحفظ میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کی۔
سلطان عبد الحمید ثانی کا پختہ موقف اور سلطنتِ عثمانیہ کا زوال
انیسویں صدی کے آخر میں جب سلطنتِ عثمانیہ کو ’’یورپ کا مردِ بیمار‘‘ کہا جاتا تھا اور ان کے پاس مشرقی یورپ کے بہت تھوڑے علاقے رہ گئے تھے، عثمانی سلطنت شدید مالی بحران کا شکار تھی۔ 1902ء میں اس وقت کے خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی سے استنبول میں یہودیوں کا ایک وفد ملا جس کی قیادت صہیونی تحریک کا بانی اور ’’دی جیوش اسٹیٹ‘‘ کتاب کا مصنف ڈاکٹر تھیوڈور ہرزل کر رہا تھا۔ اس وفد نے پیشکش کی کہ اگر سلطنتِ عثمانیہ یہودیوں کو بیت المقدس میں زمین اور مکان خریدنے کی اجازت دے دے، تو دنیا کے یہودی عثمانیوں کا سارا قرضہ اتار دیں گے اور اگلے دس سال کے مالی وسائل بھی فراہم کریں گے۔ سلطان عبد الحمید ثانی نے انتہائی غصے میں انہیں نکل جانے کا حکم دیا اور تاریخی جملہ کہا کہ میں شروطِ عمریہ کی خلاف ورزی کرنے والا پہلا مسلمان بن کر اس امانت کا سودا ہرگز نہیں کروں گا۔ اس واقعے کے ٹھیک چھ سال بعد سلطان کو معزول کر کے قید کر دیا گیا اور دکھ کی بات یہ ہے کہ معزولی کا پروانہ لے جانے والا وہی یہودی ڈاکٹر ہرزل تھا۔ سلطان کی معزولی کے بعد آنے والی حکومت نے یہودیوں کو زمین خریدنے کی اجازت دی اور یہودیوں نے مارکیٹ سے کئی گنا مہنگی قیمت دے کر عیسائیوں سے زمینیں خریدیں، جس کے نتیجے میں 1908ء سے 1918ء کے دوران فلسطین میں یہودیوں کی آبادی چھ فیصد تک پہنچ گئی اور انہوں نے اپنے الگ وطن کا مطالبہ شروع کر دیا۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد تقسیمِ فلسطین اور صہیونی عزائم
پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا، مگر بدقسمتی سے انہیں شکست ہوئی اور برطانیہ و فرانس نے اس پوری سرزمین کے حصے بخرے کر دیے۔ لبنان اور شام فرانس کے قبضے میں چلے گئے، جبکہ عراق اور اردن انگریزوں کے حصے میں آئے۔ اسی دوران ایک چھوٹا حصہ کاٹ کر یہودیوں کو دے دیا گیا جسے اسرائیل کا نام ملا، حالانکہ ان کی آبادی محض چھ فیصد تھی۔ یہودیوں نے 1899ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بیزل کے اجتماع میں ہی یہ طے کر لیا تھا کہ وہ فلسطین میں یہودی سلطنت اور ہیکلِ سلیمانی دوبارہ قائم کریں گے۔ اس سلطنت کا نقشہ آج بھی اسرائیلی پارلیمنٹ پر آویزاں ہے، جس کے تحت پورا عراق، اردن، شام، لبنان، مصر کا ایک تہائی حصہ بشمول صحرائے سینا اور ڈیلٹا، اور مدینہ منورہ سمیت آدھا سعودی عرب اسرائیل کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا حتمی مقصد قبلۂ اول اور مسجدِ عمری کو گرا کر ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنا ہے۔
القدس کو یہودیانے کی پالیسی اور موجودہ صورتحال
اسرائیل ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت ’’تہويدِ القدس‘‘ (Judaization of Al-Quds) پر عمل پیرا ہے، جس کے ذریعے اسلامی اوقاف اور قبرستانوں کو مٹا کر مبینہ یہودی آثار نکالنے کے لیے کھدائیاں کی جا رہی ہیں اور مسلمانوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ اسرائیلی قانون کے مطابق دنیا کا کوئی بھی یہودی جیسے ہی وہاں پہنچے گا، وہ خودبخود وہاں کا شہری بن جائے گا، لیکن ڈیڑھ ہزار سال سے رہنے والا کوئی فلسطینی اگر ملک سے باہر چلا جائے تو اسے واپسی کی اجازت نہیں ملتی۔
میرا اور ہر دیانتدار آدمی کا پختہ موقف یہی ہونا چاہیے کہ فلسطین پورا کا پورا مسلمانوں اور عربوں کا ہے اور اس پر یہودیوں کا دعویٰ سراسر جھوٹا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ، حضرت ابوعبیدہؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کے دستخطوں سے ہونے والے معاہدے کے تحت یہاں یہودیوں کا بسنا ممنوع تھا۔ لہٰذا جنہوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا یا اس کی امانت کا سودا کیا، چاہے وہ یاسر عرفات ہوں یا محمود عباس، انور سادات ہوں یا حسنی مبارک، وہ اسلام اور حضرت عمرؓ کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے تو ہم بھی کر لیں گے، مگر فلسطین کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، یہ امتِ مسلمہ کا قبلۂ اول اور ایک مقدس امانت ہے۔ یاسر عرفات نے شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ اوسلو اور کیمپ ڈیوڈ معاہدے کیے، جس کے تحت فلسطین کے محض بارہ فیصد سے بھی کم حصے پر، جہاں تمام بیرونی اختیارات، ویزا، پاسپورٹ اور کرنسی اسرائیل کی چلے گی، ایک کٹھ پتلی داخلی انتظامیہ کو قبول کر کے وہ خود کو آزاد فلسطین کا صدر کہلوانے لگے۔ ان کے بعد محمود عباس فلسطین کے صدر بنے، جو بہائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اور بہائیت عرب دنیا میں بالکل اسی طرح کا مذہب ہے جیسے ہمارے ہاں قادیانیت ہے۔
حماس کی انتخابی کامیابی اور معاشی ناکہ بندی
محمود عباس کی صدارت کے دوران وہاں الیکشن ہوئے جس میں مسلمانوں کی مخلص تنظیم حماس نے حصہ لیا اور سو فیصد کامیابی حاصل کی۔ امریکی صدر جمی کارٹر اور مغربی پریس نے بطور مبصر تصدیق کی کہ یہ الیکشن بالکل شفاف تھے۔ مگر حماس کے جیتنے پر اسرائیل نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور امریکہ سمیت کویت اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک نے بھی دباؤ میں آ کر امداد بند کر دی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حماس کی حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتی اور ان کے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے کہ اگر عوام بھوکے رہیں گے تو وہ بھی بھوکے رہیں گے۔ اسرائیل نے ان کے فنڈز روک رکھے ہیں اور مسلمانوں کو جو علاقے دیے گئے ہیں وہ زرعی نہیں بلکہ شہری ہیں، جہاں کچھ اگا کر خوراک کی ضرورت نہیں پوری کی جا سکتی۔ حماس کے سامنے اب دو ہی راستے چھوڑے گئے ہیں کہ یا تو وہ بھوک سے مر جائیں یا حکومت چھوڑ دیں تاکہ اقتدار اسرائیل کے من پسند افراد کے پاس چلا جائے۔ اگرچہ پاکستان کی حکومت نے پینتیس لاکھ ڈالر اور ایران نے چار کروڑ ڈالر دیے ہیں، مگر حکومتیں ایسے نہیں چلتیں اور مسلم ممالک پر امریکہ کا شدید دباؤ ہے۔ حماس کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان آ کر اپیل کی تھی کہ اگر دنیا کا ہر مسلمان سال میں صرف ایک ڈالر بھی دے تو ان کا نظام چل سکتا ہے، مگر مغربی پابندیوں کے باعث رقم بھیجنے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں مل رہا۔
تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کا موقف اور ہماری ذمہ داری
ایک دور تھا جب برصغیر کے مسلمانوں کی فلسطین سے گہری وابستگی تھی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے فلسطین کے حق میں سینکڑوں بیانات دیے۔ علامہ اقبال نے تو فلسطین جا کر مفتیِ اعظم کے ساتھ مل کر مؤتمرِ عالمِ اسلامی قائم کی تھی۔ قائدِ اعظم نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا تھا۔ اور 1940ء کی قراردادِ پاکستان والے تاریخی اجلاس میں اسرائیل کی مذمت کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے جب امریکی کانگریس کا دورہ کیا تو امریکہ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے پاکستان کو ہزاروں مراعات کی پیشکش کی۔ لیاقت علی خان نے غیرتِ ایمانی کے ساتھ ایک تاریخی جملے میں جواب دیا تھا کہ ’’ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے‘‘۔
پاکستان کا اصولی موقف ہمیشہ یہی ہونا چاہیے کہ اسرائیل ایک ناجائز سلطنت ہے اور فلسطین صرف مسلمانوں کا ہے۔ ایک وقت ضرور آئے گا جب فلسطینی آزاد ہوں گے اور اسرائیل تباہ و برباد ہوگا، مگر یہ تبدیلی ہمارے اور آپ کے ذریعے ہی آئے گی کیونکہ اللہ کی سنت خودبخود فرشتے اتارنے کی نہیں بلکہ تب مدد کرنے کی ہے جب مسلمان خود قربانی کے لیے تیار ہوں۔ اگر ہم حالات کے جبر کے باعث وہاں جا کر لڑ نہیں سکتے، تو کم از کم لڑنے والوں کی مالی امداد کر سکتے ہیں، ان کے لیے دعا کر سکتے ہیں، ان کے حق میں مضبوط رائے عامہ پیدا کر سکتے ہیں اور ان کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے جو شخص جو بھی مثبت کام کر سکتا ہے، اسے وہ ہر حال میں کرنا چاہیے۔
