سید علی حسینی خامنہ ای کی زندگی اور شخصیت
سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو مشہد میں پیدا ہوئے اور 28 فروری 2026ء کو ایک فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ وہ ایران کے دوسرے سپریم لیڈر تھے اور 1989ء سے 2026ء تک تقریباً 37 سال اس منصب پر فائز رہے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ اپنی وفات کے وقت وہ مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین حکمران تھے۔
سید علی خامنہ ای ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید جواد خامنہ ای عالم دین اور مجتہد تھے، جبکہ والدہ خدیجہ میردامادی مشہد سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ آٹھ بچوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے خاندان کا تعلق آذربائیجان کے علاقے خامنہ سے تھا، اور بعد میں یہ خاندان مشہد منتقل ہو گیا۔ ان کے آباء و اجداد میں سید حسین تفرشی شامل تھے، جن کا سلسلہ امام زین العابدین تک پہنچتا تھا۔
خامنہ ای نے چار سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔ انہوں نے مشہد کے حوزہ علمیہ میں ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں وہ شیخ ہاشم قزوینی اور آیت اللہ میلانی جیسے اساتید سے فیض یاب ہوئے۔ 1958ء میں وہ قم چلے گئے جہاں انہوں نے آیت اللہ بروجردی اور امام خمینی کے دروس میں شرکت کی۔ مشہد میں قیام کے دوران وہ سیکولر دانشوروں کے حلقوں میں بھی شامل رہے اور مختلف فکری مباحث میں حصہ لیا۔
خامنہ ای نے شاہ مخالف تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا۔ شاہی حکومت نے انہیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور تین سال کے لیے جلاوطن کیا۔ وہ امام خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے اور انقلاب ایران کی کامیابی میں ان کا اہم کردار رہا۔ انقلاب کے بعد انہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں آستان قدس رضوی کے سربراہ اور نائب وزیر دفاع شامل ہیں۔
27 جون 1981ء کو خامنہ ای مجاہدین خلق کے ایک بم حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ تہران کی ابوذر مسجد میں ایک ٹیپ ریکارڈر میں نصب بم دھماکے سے وہ بال بال بچے۔ اس حملے میں ان کا دایاں بازو مستقل طور پر مفلوج ہو گیا اور ان کی آواز کی ڈوریاں اور پھیپھڑے بھی متاثر ہوئے۔ کئی ماہ تک ان کا علاج جاری رہا۔
عہدِ صدارت (1981ء تا 1989ء)
صدر محمد علی رجائی کے قتل کے بعد اکتوبر 1981ء میں خامنہ ای بھاری اکثریت سے ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے عالم دین تھے۔ 1985ء میں وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔
ایران عراق جنگ کے دوران انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور سپاہ پاسداران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔ وہ عسکری، بجٹ اور انتظامی امور میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ 1982ء میں جب عراقی فوج کو ایران سے نکال دیا گیا تو خامنہ ای نے عراق کے اندر جوابی حملہ جاری رکھنے کی مخالفت کی۔
سپریم لیڈر کا عہدہ (1989ء تا 2026ء)
امام خمینی کی وفات کے بعد 4 جون 1989ء کو مجلس خبرگان رہبری نے خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ اس وقت وہ آیت اللہ کے بجائے حجۃ الاسلام کے لقب سے جانے جاتے تھے، جس کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی۔
خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن مقاصد کے لیے حمایت کی اور فتویٰ جاری کر کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیا۔ انہوں نے صنعتوں کی نجکاری کی حمایت کی اور ایران کو توانائی کی سپر پاور بنانے کی کوشش کی۔
ان کی قیادت میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے غیر معمولی ترقی کی اور یہ ادارہ داخلی کنٹرول اور علاقائی اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ بن گیا۔
خامنہ ای کی خارجہ پالیسی اخوانی شیعیت اور ایرانی انقلاب کے فروغ پر مرکوز رہی۔ ان کے دور میں ایران نے محور مزاحمت کے تحت شام، عراق، یمن اور غزہ میں مختلف تنازعات میں حمایت فراہم کی۔ 2001ء کے سانحہ نائن الیون کے تناظر میں انہوں نے افغانستان پر امریکی حملوں کی سخت مخالفت کی۔ جبکہ ان کی زندگی کے آخری سالوں کے دوران ہونے والی روس یوکرین جنگ میں ایران نے روس کی پشت پناہی کی۔
وہ اسرائیل اور صہیونیت کے سخت ناقد تھے اور فلسطینیوں کی حمایت کرتے تھے۔ ان کی تقاریر میں اسرائیل کی تباہی کے مطالبات شامل رہے۔ ان کے دور میں ایران اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ پراکسی تنازعات میں ملوث رہا، جو بالآخر 2025ء اور 2026ء میں براہ راست جنگ تک جا پہنچا۔
خامنہ ای نے ایک سخت گیر رہنما کے طور پر بائیں بازو کے دھڑوں، معتدل دینی طبقات، اور سیاسی مخالفین کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ ان کے دور میں کئی احتجاجی تحریکیں ہوئیں، جن میں 1999ء کے طلبہ احتجاجات، 2009ء کے انتخابی احتجاجات، 2017-2018ء کے احتجاجات، مہسا امینی کی موت پر مظاہرے اور 2025-2026ء کے احتجاجات شامل ہیں۔ ان کے دور میں سپریم لیڈر کی توہین کے الزامات پر صحافیوں، بلاگرز اور دیگر افراد پر مقدمات چلائے گئے، جو اکثر توہین مذہب کے مقدمات کے ساتھ منسلک ہوتے تھے۔
دو اہم فتوے
خامنہ ای نے دو اہم فتوے جاری کیے:
- قمہ زنی (محرم میں تلوار زنی) کی رسم کو حرام قرار دیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے مذہب اہل بیت بدنام ہوتا ہے۔
- اتحاد بین المسلمین کے پیش نظر امہات المومنین اور صحابہ کرام کی توہین کو حرام قرار دیا۔
ذاتی زندگی
خامنہ ای کی شادی منصورہ خجستہ باقر زادہ سے ہوئی، جن سے ان کے چار بیٹے (مصطفیٰ، مجتبیٰ، مسعود اور میثم) اور دو بیٹیاں (بشریٰ اور ہدیٰ) پیدا ہوئے۔ ان کے بیٹوں کی شادیاں معروف سیاسی خاندانوں میں ہوئیں۔
ان کے تین بھائی ہیں، جن میں محمد خامنہ ای اور ہادی خامنہ ای شامل ہیں۔ ان کی ایک بہن بدری حسینی خامنہ ای 1980ء کی دہائی میں جلاوطنی اختیار کر گئیں اور علی خامنہ ای کی ناقد رہی ہیں۔
خامنہ ای سادہ طرز زندگی کے لیے معروف تھے۔ وہ وسطی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں رہائش پذیر تھے، جسے بیت رہبری کہا جاتا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی عیش و عشرت کے زندگی بسر کرتے تھے، سادہ لباس پہنتے اور سادہ کھانا کھاتے تھے۔
خامنہ ای کو شاعری سے خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ امین کے تخلص سے شاعری کرتے تھے اور مشہد کی ادبی انجمنوں میں شرکت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعری کو انقلاب اسلامی کا ہراول دستہ ہونا چاہیے۔ ان کی تقاریر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا تذکرہ ملتا ہے۔
وہ ناولوں کے بھی شوقین تھے اور انہوں نے وکٹر ہیوگو کے ناول بد نصیب کو تاریخ کا بہترین ناول قرار دیا۔ وہ ژاں پال سارتر، برٹرینڈ رسل، میخائل شولوخوف اور بالزاک سے متاثر تھے۔
عربی زبان پر عبور رکھنے والے خامنہ ای نے متعدد کتابوں کا عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا، جن میں سید قطب کی تصانیف شامل ہیں۔
خامنہ ای کی صحت سے متعلق مختلف اوقات میں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ 2014ء میں ان کا پروسٹیٹ کا آپریشن ہوا، جسے معمول کا آپریشن قرار دیا گیا۔ ستمبر 2022ء میں آنتوں کی رکاوٹ کے باعث ان کی سرجری ہوئی۔
وفات
28 فروری 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے دوران ایک فضائی حملے میں خامنہ ای شہید ہو گئے۔ اس حملے میں ان کی بیٹی، داماد اور نواسہ بھی ہلاک ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔
خامنہ ای کی 37 سالہ قیادت میں ایران نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اہم تبدیلیاں دیکھیں۔ وہ بعض حوالوں سے ایک متنازع شخصیت تھے، ان کے حامی انہیں استعمار مخالف رہنما اور مذہبی پیشوا سمجھتے تھے، جبکہ ناقدین انہیں جابر حکمران قرار دیتے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ایران میں ان کی میراث پر بحث جاری ہے۔
