تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو
اس سے تیری آبرو ہے اس سے میری آبرو

اس سے تیرا نام ہے اس سے میری پہچان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

اک دیارِ نور و نگہت وادیِ مہران ہے
نور آنکھوں کا میری خاکِ بلوچستان ہے

دل ہے سرحد کی زمین، پنجاب جسم و جان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

یہ میرے قائد کی جیتی جاگتی تصویر ہے
شاعرِ مشرق کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے

یہ وطن پیارا وطن سرمایائے ایمان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے

اس نظم میں امجد حسین نے پاکستان سے اپنی گہری محبت، عقیدت اور وابستگی کا اظہار نہایت پُرجوش انداز میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان صرف کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ اسی لیے ہر پاکستانی کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت ہونی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر اس کی حفاظت اور سربلندی کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ امجد حسین کے نزدیک پاکستان کی آزادی بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے، کیونکہ اس کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں کا خون شامل ہے۔ یہی وطن ہماری عزت، نام اور پہچان کا ذریعہ ہے، اس لیے پاکستان کی عزت کو اپنی عزت سمجھنا چاہیے۔

نظم کے اگلے حصے میں امجد حسین پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں کی خوبصورتی اور اہمیت بیان کرتے ہیں۔ وہ سندھ کو روشنی، خوشبو اور حسن سے بھرپور سرزمین قرار دیتے ہیں اور بلوچستان کی خاک کو اپنی آنکھوں کی روشنی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ سرحد کی زمین کو اپنے دل اور پنجاب کو اپنے جسم و جان سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان تشبیہات کے ذریعے وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان کے تمام صوبے اور علاقے مل کر وطن کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہر خطہ اپنی الگ خوبصورتی اور اہمیت رکھتا ہے، لیکن سب کی مشترکہ شناخت پاکستان ہے۔

اس کے بعد امجد حسین پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد کی جیتی جاگتی تصویر قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ملک شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے اس خواب کی حسین تعبیر ہے جس میں مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا تصور موجود تھا۔ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کی جدوجہد، قربانیوں اور امیدوں کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے شاعر اسے اپنا پیارا وطن اور ایمان کا سرمایہ قرار دیتا ہے۔

آخر میں امجد حسین دوبارہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان سب کا مشترکہ وطن ہے۔ وہ وطن سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی سلامتی، عزت اور سربلندی کے لیے دل اور جان دونوں قربان کیے جا سکتے ہیں۔ پوری نظم میں حب الوطنی، قومی یکجہتی، قربانی اور پاکستان سے وفاداری کا جذبہ نمایاں ہے۔ شاعر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے وطن کی قدر کرنی چاہیے، اس کی عزت و سلامتی کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

fb.com/reel/1312857627399947


اقسام مواد

شعر و ادب