پاکستان — آزادی کے بعد
ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام ایک خصوصی یومِ آزادی پوڈکاسٹ میں ڈاکٹر نائمہ حسن نے معروف سیاسی تجزیہ کار اور سابق نگران وزیراعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے انٹرویو کیا ہے، جس میں سے ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے:
۱. قیامِ پاکستان کا تاریخی و سیاسی پس منظر
مسلمانوں کا علیحدہ تہذیبی اور ثقافتی تشخص برصغیر میں ہمیشہ سے موجود تھا اور وہ دیگر اقوام و مذاہب کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتے تھے۔ ماحول میں بنیادی تبدیلی ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد آئی، جب ۱۸۵۸ء میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان کا نظامِ حکومت براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد جو سیاسی، انتظامی اور قانونی اصلاحات نافذ کی گئیں، ان کے نتیجے میں مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اس نئے برطانوی نظام میں اپنے حقوق، مفادات اور جداگانہ تشخص کے تحفظ کے لیے انہیں سیاسی طور پر منظم ہونا پڑے گا۔ اسی فکر کے تحت دسمبر ۱۹۰۶ء میں ڈھاكہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مسلمانوں کے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے جا سکیں۔ اسی منظم سیاسی سفر کے نتیجے میں بالآخر ۱۹۴۷ء میں پاکستان وجود میں آیا۔
۲. قائدِ اعظم کی سیاسی حکمتِ عملی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن
قیامِ پاکستان کے مطالبے اور برصغیر کی تقسیم کی مخالفت ابتدائی طور پر برطانوی حکام کی طرف سے شدید انداز میں کی گئی۔ آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی آغاز میں تقسیم کے حق میں نہیں تھے، تاہم قائدِ اعظم کے برحق موقف اور مضبوط دلائل کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور حکومتِ برطانیہ کی منظوری سے ۳ جون ۱۹۴۷ء کا منصوبہ پیش کرنا پڑا۔
تقسیم کے فیصلے کے بعد بھی برطانوی حکام کی کوشش تھی کہ چند اہم امور میں دونوں ممالک کو مشترکہ رکھا جائے:
مشترکہ افواج
۱۹۴۷ء کے آغاز میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ ملک بے شک دو بن جائیں لیکن فوج ایک ہی رکھی جائے، جسے مسلم لیگ نے مکمل طور پر رد کر دیا۔
مشترکہ گورنر جنرل
کانگریس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دونوں ملکوں کا مشترکہ گورنر جنرل بنانے کی تجویز منظور کر لی تھی، لیکن مسلم لیگ نے اس سے بھی انکار کر دیا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل منتخب کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ کے نزدیک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا جھکاؤ بھارت کی طرف تھا اور قائدِ اعظم و پاکستان کے حوالے سے ان کا رویہ جانبدارانہ تھا۔
۳. قائدِ اعظم کی قیادت اور سہ طرفہ مخالفت
قائدِ اعظم کو اپنی جدوجہد کے دوران بیک وقت تین محاذوں پر مخالفت کا سامنا تھا:
♦ کانگریس عددی اکثریت کی بنیاد پر ہندوستان پر اقتدار چاہتی تھی۔
♦ برطانوی حکومت اولاً برصغیر کی تقسیم کے خلاف تھی۔
♦ مسلم آبادی کا ایک طبقہ قیامِ پاکستان کے نظریے کا مخالف تھا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود قائدِ اعظم کا غیر متزلزل عزم اور وسیع سیاسی تجربہ کام آیا۔ خصوصاً ۱۹۳۷ء سے ۱۹۳۹ء کے دوران چھ صوبوں میں قائم کانگریسی وزارتوں کے متعصبانہ رویے نے مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کا مستقبل صرف ایک آزاد وطن میں ہی محفوظ ہے۔ قائدِ اعظم نے دور اندیشی سے مستقبل کا دھندلاہٹ سے پاک منظر نامہ دیکھ لیا تھا اور اسی کے پیشِ نظر ۱۹۴۰ء کے اجلاسِ لاہور میں علیحدہ وطن کا تاریخی مطالبہ منظور کروایا۔
۴. قائدِ اعظم کی علالت اور سیاسی حکمتِ عملی
قائدِ اعظم کی بیماری کا علم ان کے ذاتی معالج (ڈاکٹر جے اے پٹیل) اور ان کے قریب ترین حلقے کو تھا، اور اس دور میں اس مرض کا علاج ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ خبر برطانوی حکام تک پہنچ جاتی تو وہ قیامِ پاکستان کے عمل کو انتہائی آسانی سے التوا میں ڈال سکتے تھے۔
ابتدائی طور پر آزادی کے لیے ۱۹۴۸ء کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جسے بعد میں ۳ جون کے منصوبے کے تحت ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء تک پہلے لایا گیا۔ اگر انگریز فیصلہ سازوں کو قائدِ اعظم کی صحت کا علم ہوتا تو وہ اس فیصلے کو مؤخر کر دیتے، جس کے بعد قیادت کے بحران کے باعث تاریخ کا رخ بدل سکتا تھا۔ اس خبر کو راز میں رکھنا ایک اہم سیاسی حکمتِ عملی ثابت ہوئی جس نے پاکستان کا قیام ممکن بنایا۔
۵. آزادی کے بعد کے غیر متوقع چیلنجز
قیامِ پاکستان سے قبل بنیادی مقصد مسلمانوں کا سیاسی و سماجی تحفظ تھا، لیکن آزادی کے فوراً بعد کچھ ایسے چیلنجز سامنے آئے جو پیشِ نظر نہیں تھے:
مہاجرین کا بحران
لاکھوں مہاجرین کی اچانک آمد کے معاشی و سماجی اثرات نے نوزائیدہ ریاست پر شدید دباؤ ڈالا۔
سیکیورٹی اور دفاعی مسائل
ہندوستان کے ساتھ ابتدائی دنوں سے ہی تعلقات کشیدہ ہو گئے، حالانکہ قائدِ اعظم کا تصور ایک اچھے پڑوسی کا تھا۔
جغرافیائی فاصلہ
مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کا مخالفانہ بھارتی علاقہ حائل تھا۔
ان غیر متوقع حالات کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں ملکی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوا۔
۶. پاکستان کی جغرافیائی اہمیت: قوت اور چیلنجز
پاکستان کی جغرافیائی موقعیت (Geographic Location) ایک طرف بڑی قوت ہے تو دوسری طرف مسائل کا سبب بھی ہے:
♦ ایران کے ساتھ بارڈر کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ سے رابطہ۔
♦ افغانستان کے راستے سے وسطی ایشیا تک رسائی۔
♦ شمال میں شاہراہِ ریشم اور کشمیر کے ذریعے چین سے جڑا ہوا خطہ۔
♦ بھارت کے ذریعے سے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ قربت۔
یہ جغرافیہ پاکستان کو تجارت اور ترسیل کا قدرتی مرکز بناتا ہے، لیکن علاقائی کشیدگی اور بین الاقوامی سیاست — مثلاً سوویت افغان جنگ اور اس کے بعد پھیلنے والی دہشت گردی — کی وجہ سے ہم اس کا مثبت فائدہ اٹھانے کے بجائے مسائل کا شکار رہے۔ اگر ہم خطے میں تجارت، توانائی کی ترسیل اور مواصلات کے روابط کو مضبوط کریں تو یہی جغرافیہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
۷. قدرتی وسائل اور ٹیکنالوجی کی ضرورت
پاکستان میں تیل، گیس اور دیگر قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ درکار مالی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ زمینی و سمندری ڈرلنگ ایک انتہائی مہنگا اور رسکی عمل ہوتا ہے جس میں کئی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس وقت ملک میں نکلنے والا تیل ہماری ضروریات کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔ اب غیر ملکی کمپنیوں کے تعاون سے بلوچستان (مثلاً ریکوڈک)، قبائلی اضلاع اور ساحلی علاقوں میں کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو ملکی معیشت استحکام کی طرف گامزن ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا حصول لازمی ہے۔
۸. تعلیمی نظام اور قائدِ اعظم کا وژن
برصغیر میں مسلمانوں کی جدید تاریخ اور قیامِ پاکستان کی بنیاد علی گڑھ تحریک اور سرسید احمد خان کی تعلیمی بیداری سے جڑی ہے۔ قائدِ اعظم اس بات سے خوب واقف تھے کہ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مواصلات کی تعلیم ہی قوم کی بقا اور ترقی کا ذریعہ ہے۔
بدقسمتی سے، ہم قائدِ اعظم کی خواہش کے مطابق تعلیم کو قومی ترجیح نہ بنا سکے۔ ملکی بجٹ کا ایک انتہائی محدود حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے، حالانکہ قومی ترقی کی کنجی تعلیم میں ہی مضمر ہے۔
۹. تعلیم، تربیت اور کردار سازی
تعليم کا ایک لازمی جزو ’’تربیت‘‘ ہے، جس کا مقصد اسکول کی سطح سے ہی بچوں کو ایک ذمہ دار شہری بنانا ہے۔ طالب علموں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ حقوق اور فرائض لازم و ملزوم ہیں؛ فرائض کی ادائیگی کے بغیر حقوق کا مطالبہ ممکن نہیں۔
قائدِ اعظم کی تاکید تھی کہ اخلاقیات اور شہری ذمہ داریوں کی تربیت اسکول کی سطح پر ہی مکمل ہونی چاہیے۔ ہمیں لسانی، جغرافیائی اور گروہی شناختوں سے بالاتر ہو کر خود کو بنیادی طور پر ’’پاکستانی‘‘ تسلیم کرنا ہوگا، یہی ہماری سب سے بڑی شناخت ہے۔
۱۰. موجودہ حالات اور قائدِ اعظم کا وژن
اگر قائدِ اعظم آج زندہ ہوتے تو ملکی حالات دیکھ کر یقیناً پریشان ہوتے، کیونکہ ہم ان کے قائم کردہ آئیڈیلز اور آئینی وژن سے دور ہو چکے ہیں۔ آئین میں عوام کے بنیادی حقوق، فلاحی ریاست کا تصور اور اداروں کی ذمہ داریاں واضح درج ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی کیفیت اور نفاذ انتہائی ناقص ہے۔ قائدِ اعظم نے بطور گورنر جنرل اپنی تقاریر میں جس پاکستان کا خاکہ پیش کیا تھا، اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
۱۱. روشن مستقبل کا فارمولا
پاکستان کے روشن مستقبل کا فارمولا صرف ایک جملے میں یہ ہے:
’’پاکستان کے آئین کو اس کے بنیادی اصولوں اور اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔‘‘
تمام سیاست دان، بیوروکریسی، اور عسکری قیادت اگر آئین کی پاسداری اور اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو پاکستان ہم سب کے لیے ایک مثالی اور ترقی یافتہ وطن بن سکتا ہے۔
