خواتین کی وراثت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ
پی ٹی وی نیوز کی تجزیاتی نشست

میزبان سبوخ سید کی گفتگو

پروگرام کے میزبان سبوخ سید نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وراثت کا مسئلہ محض کسی ایک خاندان یا گھر کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق پورے معاشرے، اسلامی قوانین، عصرِ حاضر کے قانونی نظام اور بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں تمام مسائل کا حل موجود ہونے کا دعویٰ تو بہت کیا جاتا ہے، لیکن جب عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کا وقت آتا ہے تو ہم اکثر مذہب کے بجائے اپنی روایات اور ثقافتی رویّوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

سبوخ سید نے کہا کہ ہمارے ہاں کسی بزرگ کی وفات کے بعد ابتدا میں تو تعزیت اور غم کا ماحول ہوتا ہے، لیکن چند ہی دنوں بعد جب جائیداد کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ مرد الگ بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں اور بہنوں کو یہ کہہ کر ان کے حق سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ اب وہ اپنے گھروں کی ہو چکی ہیں، مشکل وقت میں بھائی ہی ان کا سہارا ہوں گے اور اگر جائیداد گھر سے باہر چلی گئی تو خاندان کا کیا بنے گا۔ یوں کبھی محبت، کبھی غیرت اور کبھی خاندانی عزت کے نام پر خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے برصغیر میں رائج بعض انتہائی افسوس ناک رسوم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بعض خاندانوں میں بیٹیوں کی شادیاں تک اس خوف سے نہیں کی جاتی تھیں کہ جائیداد خاندان سے باہر چلی جائے گی۔ بعض جگہ قرآن کے ساتھ شادی جیسے غیر اسلامی اور سنگین رواج بھی سامنے آئے، جن کا مقصد دراصل عورت کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنا تھا۔ سبوخ سید نے واضح کیا کہ یہ رویّے صرف ان پڑھ طبقے تک محدود نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور صاحبِ حیثیت خاندانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے گفتگو کے پس منظر میں حالیہ عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ خواتین کے حقِ وراثت کو کسی بھی طریقے سے مسخ یا غصب نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں انہوں نے ممتاز ماہرینِ شریعت اور قانون کو گفتگو میں شریک کیا تاکہ اسلامی تعلیمات، قانونی صورتِ حال اور عملی مشکلات تینوں پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے میزبان نے اس امر کو نمایاں کیا کہ قرآنِ کریم نے وراثت کے بارے میں نہ صرف بنیادی اصول بیان کیے بلکہ تفصیلی ضابطہ بھی فراہم کیا ہے۔ سبوخ سید نے اس گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا کہ قرآن میں مقرر کیے گئے وراثتی حصے محض اخلاقی مشورے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حقوق ہیں۔

انہوں نے اس تصور کو اجاگر کیا کہ ہم نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات کو اللہ کے احکامات سمجھ کر ادا کرتے ہیں، لیکن جب کسی دوسرے انسان کے حق کا معاملہ آتا ہے تو بعض اوقات اسے اپنی مرضی کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی رویہ ہمارے معاشرتی تضاد کی بنیادی علامت ہے۔

سبوخ سید نے خواتین کو ان کے حق سے محروم کرنے کے عام طریقوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بعض خاندانوں میں عورت سے اس وقت دستبرداری لکھوا لی جاتی ہے جب وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر فیصلہ کرنے کی عمر یا حالت میں بھی نہیں ہوتی۔ کبھی کم عمری میں، کبھی جذباتی دباؤ کے تحت اور کبھی خاندان سے تعلق ختم ہونے کے خوف سے عورت کو اپنے حق سے دستبردار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی خاتون کو یہ باور کرایا جائے کہ جائیداد کا مطالبہ کرنا بھائیوں سے دشمنی یا خاندان سے بغاوت کے مترادف ہے تو اس کے فیصلے کی آزادی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے محض کاغذ پر دستخط یا زبانی رضامندی کو حقیقی رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں۔

میزبان نے گفتگو کے ایک مرحلے پر ایک نہایت بنیادی نکتہ اٹھایا کہ وراثت کسی بھائی کی مہربانی یا خاندان کی عنایت نہیں۔ یہ وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص اللہ کے مقرر کردہ حق کو خود رکھ لیتا ہے اور اصل حق دار تک نہیں پہنچاتا تو وہ دراصل اس حق پر قبضہ کرتا ہے۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگ عبادات میں تو انتہائی محتاط ہوتے ہیں، لیکن بندوں کے حقوق کے معاملے میں وہی حساسیت نظر نہیں آتی۔ ان کے نزدیک معاشرے میں اس شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی کا حق روکنا محض ایک سماجی ناانصافی نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی جرم بھی ہے۔

نرگس سلطانہ کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے سبوخ سید نے اس امر کی نشاندہی کی کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے بعض اوقات جعلی وصیتیں، ہبہ نامے اور دیگر دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس رویے کو معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگ اپنے فوت شدہ والدین کے نام پر بھی جعلی دستاویزات بنانے سے گریز نہیں کرتے، حتیٰ کہ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جہاں میت کے ہاتھ یا انگوٹھے کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالتوں میں قرآنِ کریم کو گواہ بنا کر جھوٹی گواہی دینے کو انہوں نے ایک انتہائی سنگین تضاد قرار دیا۔

سبوخ سید نے کہا کہ جس قرآن کو سر پر رکھ کر جھوٹی گواہی دی جاتی ہے، اسی قرآن میں جھوٹ اور دھوکے سے روکا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ایسے حیلے دراصل اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں بلکہ انسان کا اپنے آپ کو دھوکا دینا ہیں۔

گفتگو کے دوسرے حصے میں سبوخ سید نے خواتین کے وراثتی مقدمات میں غیر معمولی تاخیر کو موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک خاتون کو اپنے حق کے حصول کے لیے سات دہائیاں انتظار کرنا پڑا اور فیصلہ آنے تک وہ دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وراثت کا بنیادی حق واضح ہے تو پھر اس کے حصول کے لیے نسلیں عدالتوں کے چکر کیوں لگاتی رہیں؟ ان کے مطابق انصاف میں تاخیر صرف عدالتی مسئلہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کی کمزوری ہے جس میں ریونیو ریکارڈ، جعلی دستاویزات، مختلف قانونی کارروائیاں اور مسلسل مقدمہ بازی شامل ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد کی گفتگو کی روشنی میں میزبان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی شخص خاتون کے حق کو جعلی دستاویزات کے ذریعے ہڑپ کرتا ہے تو اس عمل کو ابتدائی سطح ہی پر کیوں نہیں روکا جاتا۔ ان کے مطابق اگر ہر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچنے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ نچلی سطح پر کہیں نہ کہیں نظام اپنا کام درست طور پر نہیں کر رہا۔

سبوخ سید نے اس بات کی حمایت کی کہ ایسے مقدمات کے لیے خصوصی طریقۂ کار اور ادارہ جاتی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ خواتین کو دہائیوں تک عدالتوں میں نہ گھسیٹنا پڑے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین اور یتیم بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی ادارے یا عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں۔

مفتی شفیق احمد کی گفتگو کے حوالے سے سبوخ سید نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو ان کے حقِ وراثت سے آگاہ کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے منبر و محراب، میڈیا اور تعلیمی نصاب کو اس سلسلے میں اہم ترین ذرائع قرار دیا۔

بعد ازاں سبوخ سید نے میڈیا کے کردار کو مزید نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قوانین کے تحت عوامی آگاہی کے لیے مخصوص وقت دستیاب ہے، لہٰذا ٹی وی چینلز کو چاہیے کہ وہ خواتین کے حقِ وراثت کے بارے میں مسلسل اور سادہ زبان میں آگاہی فراہم کریں۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلوں، خواتین کے کامیاب مقدمات اور جعلی دستاویزات بنانے والوں کے خلاف ممکنہ سزاؤں سے متعلق معلومات بھی عوام تک پہنچائی جانی چاہئیں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ پارلیمنٹ ایسے افراد کے خلاف مؤثر قانون سازی کرے جو جان بوجھ کر جعلی دستاویزات تیار کرتے، عدالتوں کا وقت ضائع کرتے یا کمزور فریق کو برسوں تک مقدمے میں الجھائے رکھتے ہیں۔

نرگس سلطانہ کی تجاویز کی تائید کرتے ہوئے سبوخ سید نے اس امر کو اہم قرار دیا کہ کسی شخص کی وفات کے بعد اس کی جائیداد خودکار طور پر تمام قانونی ورثاء کے نام منتقل ہونے کا ایسا نظام بنایا جائے جس میں خاندان کے کسی فرد کو ریونیو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر وراثتی عمل خودکار، شفاف اور فوری ہو جائے تو جعلی انتقالات، ہبہ ناموں اور دیگر جعل سازیوں کے بہت سے راستے خود بخود بند ہو سکتے ہیں۔

پروگرام کے اختتامی حصے میں سبوخ سید نے سوال اٹھایا کہ معاشرہ ایسا کیا کرے کہ آنے والی نسلوں کو ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے آج کی خواتین گزر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی اصلاحات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن اصل تبدیلی ذہن اور رویّے کی تبدیلی سے آئے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ والدین کو اپنی زندگی ہی میں اپنے بچوں کو یہ تعلیم دینی چاہیے کہ بیٹی کا بھی جائیداد میں حق ہے۔ اسی طرح بھائیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بہن کا حق دینا احسان نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔

پروگرام کے اختتام پر سبوخ سید نے واضح کیا کہ وراثت نہ کسی بھائی کی مہربانی ہے، نہ کسی رسم و رواج کی عطا اور نہ خاندان کی رضامندی کا نتیجہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے جسے قانون نے بھی تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ عدالتیں کب اور کیسے یہ حق دلوائیں گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے دل، دماغ اور معاشرتی رویّے کب اس حق کو تسلیم کریں گے۔ اسلامی تعلیمات کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کو ایسا انسان بنانا بھی ہے جو دوسروں کے حقوق ادا کرے۔

اپنے اختتامی کلمات میں سبوخ سید نے اس تضاد کی طرف توجہ دلائی کہ ہم اکثر مغرب کے معاشروں میں حقوق کی پاسداری دیکھ کر ان کی تعریف کرتے ہیں، لیکن خود مذہب پر عمل کا دعویٰ کرنے کے باوجود بنیادی انسانی اور شرعی حقوق ادا نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک حقیقی دینی زندگی یہی ہے کہ انسان اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کا حق ادا کرے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ معاشرے کو حق دینے، اپنے فرائض پورے کرنے اور ایک ایسا نظام قائم کرنے کی توفیق دے جہاں کسی بہن، بیٹی یا کمزور وارث کو اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے پوری زندگی عدالتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کی گفتگو

وراثت کے اسلامی تصور پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے واضح کیا کہ قرآنِ کریم نے وراثت کے بارے میں محض اصول بیان نہیں کیے بلکہ ایک مکمل اور تفصیلی ضابطۂ کار دیا ہے۔ سورۂ نساء کی متعدد آیات، خصوصاً آیات 11، 12، 33 اور 176 میں ورثا کے حصوں، ان کی ترجیحات اور حقوق کی وضاحت موجود ہے، جبکہ احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی اس حوالے سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ ان کے مطابق وراثت ان چند معاملات میں سے ہے جن کی تفصیلات خود قرآنِ کریم نے بیان کی ہیں۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے زور دے کر کہا کہ کسی شخص کی وفات کے ساتھ ہی اس کی اپنی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ورثا کے حقوق قائم ہو جاتے ہیں۔ اگر میت پر قرض ہو یا اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو شرعی حدود کے اندر پہلے ان معاملات کو نمٹایا جاتا ہے، اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ ورثا میں تقسیم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے وراثت کے احکام کو ’’اللہ کی وصیت‘‘، ’’اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ‘‘ اور ’’اللہ کی حدود‘‘ قرار دیا ہے۔ اس لیے کسی وارث کا حق محض خاندان کی مرضی، رسم و رواج یا طاقت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے ’’حق اللہ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فقہاء کے ہاں اس سے مراد ایسے حقوق ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہوں اور جنہیں کوئی شخص اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتا۔ جدید قانونی اصطلاح میں اسے کسی حد تک ناقابلِ تنسیخ حق کہا جا سکتا ہے، لیکن اسلامی تصور اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کا جو حق مقرر کر دیا، اسے کوئی دوسرا شخص چھیننے کا مجاز نہیں۔

ڈاکٹر مشتاق احمد کے نزدیک وراثت کا ایک اہم معاشرتی مقصد دولت کے ارتکاز کو روکنا بھی ہے۔ اسلام انسان کو زندگی میں والدین، اولاد، رشتہ داروں اور ریاست سمیت مختلف حقوق ادا کرنے کا پابند بناتا ہے، لیکن اگر اس کے باوجود مال جمع ہو جائے تو وفات کے بعد اسے ورثا میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یوں دولت ایک خاندان کے ایک فرد یا چند افراد کے ہاتھ میں مستقل طور پر مرتکز نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے۔

پینل کے دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے ایک اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں کسی اولاد کو دیا جانے والا مال ’’وراثت‘‘ نہیں بلکہ ہبہ یا تحفہ ہوتا ہے۔ وراثت کا حق انسان کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس فرق کو واضح کرنا اس لیے ضروری سمجھا کہ ہمارے معاشرے میں زندگی میں دی گئی جائیداد اور وراثتی حصے کو اکثر ایک ہی معاملہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اولاد میں زندگی کے دوران تحفہ دینے کے معاملے میں بھی اسلام نے بڑی احتیاط اور عدل کی تعلیم دی ہے۔ ایک صحابیؓ نے اپنی اولاد میں سے ایک بچے کو کچھ دینے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بنانا چاہا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا باقی بچوں کو بھی یہی دیا جا رہا ہے؟ جب جواب نفی میں ملا تو آپ ﷺ نے اس عمل کی گواہی دینے سے انکار فرمایا۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کے مطابق فقہاء نے اس سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ زندگی میں اولاد کو دیے جانے والے تحائف میں بنیادی طور پر مساوات پیشِ نظر ہونی چاہیے۔ البتہ کسی بچے کی ضرورت زیادہ ہو یا اس نے غیر معمولی خدمت کی ہو تو حالات کے مطابق اس کا لحاظ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر واضح کیا کہ زندگی میں کسی کو کچھ دے دینا، خواہ وہ جائیداد ہی کیوں نہ ہو، اس کے وراثتی حق کو ختم نہیں کرتا۔ وراثت ایک الگ اور مستقل حق ہے، جو میت کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے۔

خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے معاشرتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات خاندان کی روایات، جذباتی دباؤ اور رشتوں کے نام پر خواتین کو ان کے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بعض خواتین واقعی اپنا حق چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جائیداد کا مطالبہ کریں گی تو بھائیوں سے تعلق خراب ہو جائے گا یا اپنے میکے میں ان کی آمدورفت اور عزت متاثر ہوگی۔

تاہم انہوں نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ایک نہایت اہم بات نقل کی کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ عورت نے اپنی مرضی سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے تو پہلے اسے اس کا حق مکمل طور پر دیا جائے، اس کے نام منتقل کیا جائے اور اس کا قبضہ بھی دیا جائے؛ پھر اگر وہ اسے واپس کرتی ہے تو اسے واقعی رضاکارانہ دستبرداری کہا جا سکتا ہے۔ محض عورت کو حق دیے بغیر یہ کہنا کہ اس نے اپنا حصہ معاف کر دیا، حقیقتاً حق دینے سے گریز ہے۔

ان کے مطابق یہی اصول اس معاملے میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ کسی خاتون سے یہ کہہ کر دستبرداری حاصل کر لی جائے کہ وہ اپنی مرضی سے بھائیوں کو جائیداد دے رہی ہے۔ اگر جائیداد ابتدا ہی سے اس کے قبضے اور اختیار میں نہیں آئی تو محض کاغذی طور پر اس کی ’’رضامندی‘‘ کو حقیقی رضامندی قرار دینا مشکل ہے۔

وراثتی مقدمات میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کے بارے میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کسی ایک ادارے یا صرف سپریم کورٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایک معروف مقدمے میں حتمی فیصلہ آنے تک 71 برس لگے، لیکن سپریم کورٹ میں یہ معاملہ نسبتاً آخری مرحلے میں پہنچا۔ اس سے پہلے نچلی عدالتوں میں بھی طویل عرصہ صرف ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں درخواست آنے کے بعد بھی تقریباً دس برس لگے، جو یقیناً قابلِ توجہ تاخیر ہے، لیکن اس سے پہلے کے کئی عشروں کی ذمہ داری پورے عدالتی نظام پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے عدالتی نظام کے بوجھ کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ 2002ء میں چارسدہ میں سول جج تھے تو ایک جج کے سامنے روزانہ اوسطاً تقریباً 70 مقدمات آتے تھے۔ ان کے بقول آج یہ بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ مقدمات میں متعدد ’’کازز آف ایکشن‘‘ اور مختلف قانونی راستوں کی موجودگی بھی معاملات کو طول دیتی ہے اور ایک تنازع مختلف مراحل سے گزرتا ہوا برسوں عدالتوں میں چلتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے اس مسئلے میں ریونیو حکام کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق جعلی ہبہ نامے، جعلی تمیلیکس، غلط انتقالات اور ریکارڈ میں مشکوک اندراجات اکثر اسی مرحلے پر سامنے آتے ہیں۔ اگر ابتدائی ریکارڈ ہی درست نہ ہو تو بعد میں معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا انتظامی مسئلہ طویل عدالتی تنازع بن جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کے جائیدادی حقوق کے تحفظ کے لیے خیبر پختونخوا میں مختلف ادوار میں قوانین بنائے گئے، جن کے تحت خواتین کو محتسب سے رجوع کرنے کا راستہ بھی دیا گیا، لیکن عملی مسئلہ یہ ہے کہ ایک فورم پر کارروائی شروع ہونے کے بعد دوسرا فریق سول عدالت یا ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر لیتا ہے۔ اس لیے صرف نئے قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ مختلف قانونی راستوں کے باہمی تصادم کو بھی دور کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے حالیہ عدالتی فیصلوں کو امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے یہ اصول واضح کیا ہے کہ جب کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنے کی بات ہو تو ریونیو حکام کو محض کاغذی کارروائی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ خاتون نے کوئی قدم آزادانہ مرضی سے اٹھایا ہے، اس پر کوئی دباؤ یا فراڈ نہیں ہوا اور دستاویزات حقیقی ہیں۔ عدالتوں کو بھی ایسے معاملات کو غیر معمولی احتیاط اور سخت جانچ پڑتال کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق اگر عدالتیں ایسے مقدمات میں محض جائیداد واپس دلانے تک محدود نہ رہیں بلکہ حق غصب کرنے والے فریق پر بھاری اخراجات یا جرمانے بھی عائد کریں تو اس سے غیر ضروری مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مقدمات میں عدالتوں نے کئی برس تک کسی خاتون کا حصہ روکنے والے فریق پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جو ایک مؤثر نظیر بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ چند برسوں کے متعدد عدالتی فیصلوں میں یہ اصول سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ بہن نے اپنا وراثتی حصہ معاف کر دیا تھا یا فریقین میں کوئی سمجھوتہ ہو گیا تھا تو عدالت کو ایسے دعوے کو معمول کی بات سمجھ کر قبول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے مکمل جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے اسلامی قانونی روایت میں کمزور طبقات کے تحفظ کے ایک اہم تصور کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق اسلامی نظام میں قاضی کی ذمہ داری صرف مقدمات کا فیصلہ کرنا نہیں تھی بلکہ معاشرے کے ایسے کمزور افراد کے حقوق کا تحفظ بھی تھا جو اپنے حقوق کی حفاظت خود نہیں کر سکتے، خصوصاً خواتین اور یتیم بچے۔

انہوں نے اردن کے ایک مطالعاتی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ’’قاضی حقوق القاصرین‘‘ کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے، جس کا مقصد نابالغوں اور ایسے کمزور افراد کے حقوق کا تحفظ ہے جو خود اپنے حقوق کے لیے مؤثر قانونی جدوجہد نہیں کر سکتے۔ ایسے افراد کو ہر مرتبہ خود مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ریاستی نظام ان کے حقوق کی نگرانی کرتا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کے مطابق اس نوعیت کے اداروں کی پاکستان میں بھی شدید ضرورت ہے، تاکہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے دہائیوں پر محیط عدالتی جنگ نہ لڑنا پڑے۔

آخر میں معاشرے کو آئندہ نسلوں کے لیے بہتر بنانے کے سوال پر ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بظاہر سوال آسان ہے لیکن اس کا جواب مشکل ہے۔ ان کے نزدیک انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطحوں پر کام کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے معاشرے میں تعلیم اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ خواتین کا وراثتی حق کسی بھائی کی مہربانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے۔

انہوں نے اس غلط فہمی کی بھی تردید کی کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنا صرف دیہی یا کم پڑھے لکھے طبقے کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ معاشرے کے اعلیٰ اور متمول طبقات میں بھی موجود ہے، بلکہ جہاں جائیدادیں لاکھوں کے بجائے کروڑوں اور اربوں کی ہوں، وہاں بعض اوقات جائیداد ہتھیانے کے حربے بھی زیادہ پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے محدود یا طبقاتی نہیں بلکہ ہمہ گیر کوشش درکار ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد کی گفتگو کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ خواتین کو وراثت دینا کسی کی عنایت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ذمہ داری ہے۔ زندگی میں کسی خاتون سے اس کا حق واپس لینے یا معاف کروانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسے حقیقی معنوں میں اس کے حق پر قبضہ اور اختیار دیا بھی گیا تھا یا نہیں۔ اسی طرح ریاست، عدالت، ریونیو نظام، وکلا اور معاشرہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کمزور وارث کو اپنے حق کے حصول کے لیے عمر بھر عدالتوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ اسلامی قانونی روایت کے کمزوروں کے تحفظ والے تصور کو جدید ریاستی اداروں میں مؤثر طور پر نافذ کیا جائے تو وراثتی تنازعات اور خواتین کے استحصال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر مفتی شکیل احمد کی گفتگو

پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر مفتی شکیل احمد نے خواتین کے حقِ وراثت کو اسلامی تعلیمات کا ایک نہایت اہم اور قطعی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عورت کو وراثت سے محروم کرنا محض ایک معاشرتی زیادتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حق کی پامالی ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے عورت کی معاشی اور سماجی حیثیت کیا تھی۔ بعض معاشروں میں تو صورتِ حال یہاں تک تھی کہ عورت کو خود وراثت میں حصہ دینے کے بجائے اسے وراثت کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر اس رویے کو یکسر بدل دیا اور عورت کو باقاعدہ مالی، ازدواجی اور وراثتی حقوق عطا کیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کے حقوق محض اصولی انداز میں بیان نہیں کیے بلکہ قرآنِ کریم نے وراثت کے معاملات میں غیر معمولی تفصیل کے ساتھ حصے متعین کیے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جن وارثوں کے حصے شریعت نے واضح طور پر مقرر کیے ہیں، یعنی "ذوی الفروض"، ان بارہ حصوں میں آٹھ عورتوں کے لیے ہیں اور چار مردوں کے لیے۔ ان میں بیوی، بیٹی، پوتی، مختلف رشتوں سے تعلق رکھنے والی بہنیں، ماں اور دادی شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن نے عورت کے حقِ وراثت کو کس قدر اہمیت دی ہے۔

مفتی شکیل احمد کے مطابق قرآنِ کریم نے صرف یہ نہیں کہا کہ عورت کو وراثت میں حصہ دیا جائے بلکہ مختلف حالات کے اعتبار سے اس کا حصہ بھی متعین کر دیا۔ کہیں بیوی کے لیے آٹھواں حصہ ہے، کہیں چوتھائی؛ بیٹی اکیلی ہو تو نصف، جبکہ متعدد بیٹیاں ہوں تو دو تہائی تک کا حق مقرر کیا گیا ہے۔ ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وراثت کوئی خاندانی رضامندی یا اختیاری معاملہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عورت کو اس کے وراثتی حق سے محروم کرنے کے سنگین نتائج ہیں۔ کسی کا حق دبانا قرآن و سنت کی روشنی میں ناجائز ہے اور اسے باطل طریقے سے مال کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے زمین پر ناجائز قبضے سے متعلق احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ دوسروں کے مال اور حقوق پر دست درازی معمولی گناہ نہیں۔ اس لیے کسی بہن، بیٹی یا دوسری خاتون وارث کو محض خاندانی دباؤ، محبت، غیرت یا روایتی سوچ کے نام پر اس کے حق سے محروم کرنا سخت قابلِ مذمت ہے۔

مفتی شکیل احمد نے خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے معاشرتی روایات، قانونی پیچیدگیاں اور سب سے بڑھ کر "آگاہی کی کمی" کارفرما ہے۔ ان کے نزدیک جب تک عورت خود یہ نہیں جانتی کہ قرآن نے اسے کیا حق دیا ہے، اس کے لیے اپنا حق حاصل کرنا مشکل رہے گا۔ اسی لیے دینی تعلیم اور جدید قانونی شعور دونوں ضروری ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں قرآن کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کو مثبت قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور بالخصوص بچیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وراثت میں ان کا شرعی حق کیا ہے، خواہ وہ نصف ہو، چوتھائی ہو یا آٹھواں حصہ۔ اس شعور کے بعد قانون کے ذریعے اپنے حق کا تحفظ اور حصول بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

گفتگو کے ایک اہم مرحلے میں جب خواتین کے اپنے حصے سے دست بردار ہونے یا اسے ’’محبت‘‘ اور ’’رضامندی‘‘ سے چھوڑنے کا سوال اٹھا تو مفتی شکیل احمد نے واضح کیا کہ محض زبانی طور پر کسی عورت سے حق چھوڑنے کا اقرار کرا لینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے اس کا حق واقعی دیا بھی گیا تھا؟ ان کے مطابق معاشرتی دباؤ میں آ کر عورت کا اپنے حق سے دست بردار ہونا ایک الگ مسئلہ ہے، جسے محض رضامندی کا نام دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے معاشرے میں اصلاح کے لیے تین بڑے ذرائع کی نشاندہی کی:

ان کے نزدیک منبر و محراب سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہے، کیونکہ جب کسی مسئلے کو قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے تو عوام اسے زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہر جمعے کے خطبے، عیدین اور دیگر دینی اجتماعات کو خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا اہم ذریعہ میڈیا ہے۔ مفتی شکیل احمد کے مطابق آج میڈیا، خصوصاً موبائل فون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تقریباً ہر شخص تک رسائی رکھتے ہیں۔ اگر ان ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا اہم ذریعہ نصابِ تعلیم ہے۔ ان کے خیال میں اگر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کو بنیادی طور پر یہ سمجھایا جائے کہ عورت کا وراثتی حق کیا ہے اور وہ اسے کیسے حاصل کر سکتی ہے تو آنے والی نسلوں میں اس مسئلے کے حوالے سے بڑی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

مفتی شکیل احمد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ صرف آگاہی کافی نہیں، بلکہ حق کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بحیثیت مفتی تقریباً ستائیس برس کے تجربے میں انہوں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے حق کے لیے عدالتوں کا رخ ہی نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات دادا یا دادی کے مقدمات کا فیصلہ پوتے پوتیوں کے دور میں جا کر ہوتا ہے۔ کئی خاندانوں میں دہائیوں پرانے تنازعات آج بھی موجود ہیں، کیونکہ متاثرہ افراد کے پاس مالی وسائل، قانونی معلومات یا عدالتوں تک رسائی نہیں ہوتی۔

اسی تناظر میں انہوں نے کمزور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی ادارہ قائم کرنے کی تجویز کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے ’’حقوق القاصرین‘‘ کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض مسلم ممالک میں ایسے ادارے موجود ہیں جہاں ان افراد کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ریاستی نظام کے تحت ادا کی جاتی ہے جو اپنے حقوق کا دفاع خود نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی خواتین، یتیموں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے ایسے مؤثر ادارہ جاتی انتظام کی ضرورت ہے۔

مفتی شکیل احمد نے عدالتی نظام میں تاخیر کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر ایک خاتون کو اپنا شرعی اور قانونی حق حاصل کرنے کے لیے کئی دہائیاں انتظار کرنا پڑے تو صرف قانون کا موجود ہونا کافی نہیں؛ ایسا نظام بھی ضروری ہے جو بروقت انصاف فراہم کر سکے۔ ان کے نزدیک شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی اور مالی رکاوٹوں کو ختم کرنا بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عورت کا وراثتی حق محض کسی بھائی یا خاندان کی طرف سے دی جانے والی مہربانی نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہے، اس لیے اسے ’’بخشش‘‘ یا ’’احسان‘‘ کے انداز میں پیش کرنا بھی درست رویہ نہیں۔ عورت کو اس کا حق دے کر پھر اگر وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی کو دینا چاہے تو یہ الگ معاملہ ہے، لیکن اسے حق دیے بغیر یہ کہنا کہ اس نے اپنا حصہ معاف کر دیا، انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

آخر میں مفتی شکیل احمد نے اس مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اسلامی تعلیمات ہمارے سامنے موجود ہیں، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو معاشرے میں نافذ کرنے کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔ خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے، ان کے حق کے حصول میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں اور ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو کمزور افراد کے حقوق کی حفاظت کریں۔

ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ خواتین کا حقِ وراثت کوئی اختیاری یا روایتی معاملہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ شرعی حق ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کو محض کتابوں اور خطبوں تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے عملی زندگی میں یقینی بنائے۔ آگاہی، دینی تعلیم، میڈیا، نصاب اور مؤثر قانونی اداروں کے ذریعے ہی آنے والی نسلوں کو ان طویل اور تکلیف دہ قانونی تنازعات سے بچایا جا سکتا ہے جو آج بہت سے خاندانوں کو کئی دہائیوں تک انصاف کے انتظار میں رکھتے ہیں۔

محترمہ نرگس سلطانہ ایڈووکیٹ کی گفتگو

پینل ڈسکشن میں گفتگو کرتے ہوئے محترمہ نرگس سلطانہ، جو وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنی لا فرم چلاتی ہیں، نے خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق معاشرتی رویوں، قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی نظام کی خامیوں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ ان کے مطابق سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں بہت کم خواتین اپنے حقِ وراثت کے حصول کے لیے عدالت کا رخ کرتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ غلط تصور ہے کہ اگر والدین نے بیٹی کو شادی کے موقع پر جہیز دے دیا ہو تو وہ وراثت میں مزید کسی حصے کی حق دار نہیں رہتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنا سراسر غلط ہے؛ بیٹی کو وہی حصہ ملنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ اور قانون نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔

محترمہ نرگس سلطانہ نے خاص طور پر اس تاثر کی تردید کی کہ خواتین کی وراثت ہڑپ کرنے کا مسئلہ صرف دیہی یا کم پڑھے لکھے طبقات تک محدود ہے۔ ان کے بقول وہ خود ایسے کیسز دیکھ رہی ہیں جن میں انتہائی تعلیم یافتہ اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت خاندانوں کی بیٹیاں اپنے والد کی وفات کے بعد وراثتی حقوق سے محروم کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی زندگی میں بہت سے معاملات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، مگر اپنی وفات کے بعد وراثت کی منصفانہ تقسیم کے بارے میں اولاد کو تعلیم اور رہنمائی دینے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک والدین کو اپنی زندگی ہی میں اولاد کو یہ شعور دینا چاہیے کہ بیٹی کا جائیداد میں حق بھی اتنا ہی شرعی اور قانونی حق ہے جتنا بیٹے کا۔

انہوں نے ایک حالیہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک معروف خاندان میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے مبینہ طور پر وصیت کا سہارا لیا گیا۔ ان کے مطابق فقہی اصولوں سے واقف ہونے کے باوجود وارث کے حق میں وصیت کے ذریعے بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں متاثرہ بہنیں عدالتوں میں خوار ہو رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ایسے واقعات اس امر کی علامت ہیں کہ وراثتی حقوق کی خلاف ورزی صرف لاعلمی کا نتیجہ نہیں بلکہ بعض اوقات دانستہ طور پر قانونی دستاویزات کو استعمال کرتے ہوئے بھی کی جاتی ہے۔

محترمہ نرگس سلطانہ نے سپریم کورٹ کے ایک اہم مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے 71 برس تک قانونی جنگ لڑنا پڑی۔ ان کے مطابق اس کیس میں اصل حق دار خواتین کے حصے کو مبینہ طور پر ہبہ کے ذریعے منتقل کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ خاندان اور معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے خواتین اکثر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے گریز کرتی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے معاشرتی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت سی خواتین اس خوف میں مبتلا رہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے بھائیوں سے جائیداد کا حصہ مانگیں گی تو خاندانی تعلقات خراب ہو جائیں گے، عید تہوار پر ان کا آنا جانا ختم ہو جائے گا یا سسرال میں بھی ان کی عزت متاثر ہوگی۔

انہوں نے ایک معمر خاتون کا واقعہ بھی بیان کیا جن کے والد کی وفات کو کئی دہائیاں گزر چکی تھیں، مگر ان کے بھائی نے اب تک زمین پر قبضہ کر رکھا تھا۔ خاتون سے جب اپنا حق لینے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ان کے خاندان میں پہلے کبھی کسی عورت نے وراثت نہیں لی اور آئندہ بھی کوئی نہیں لے گی۔ محترمہ نرگس سلطانہ کے نزدیک یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مسئلے کی جڑ میں قانونی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ شدید معاشرتی دباؤ اور آگاہی کی کمی بھی موجود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو ان کا حصہ خیرات یا احسان سمجھ کر نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے، اور حق دینے والے کو اسے عطیہ یا بخشش کا نام دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق معاشرے میں مذہبی عبادات پر تو بہت زور دیا جاتا ہے، لیکن حقوق العباد کے معاملے میں ہم وہ حساسیت نہیں دکھاتے جو دکھانی چاہیے۔

گفتگو کے دوران محترمہ نرگس سلطانہ نے جعلی ہبہ ناموں، انتقالات اور دیگر دستاویزات کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں ریونیو ریکارڈ میں ایسی تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں جن کے ذریعے خواتین کو ان کی جائیداد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا کردار اس پورے معاملے میں انتہائی اہم ہے، کیونکہ اکثر قانونی تنازعات کی بنیاد وہیں سے پڑتی ہے۔ اگر ریکارڈ میں غلط اندراج ہو جائے یا جعلی ہبہ، تملیک یا انتقال تیار کر دیا جائے تو متاثرہ خاتون کو پھر طویل عدالتی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔

انہوں نے زبانی ہبہ کے دعووں پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اگر کسی خاتون کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ اس نے اپنی جائیداد کسی بھائی یا دوسرے رشتہ دار کو تحفے میں دے دی تھی تو اس بات کی مکمل جانچ ضروری ہے کہ خاتون کی رضامندی واقعی آزادانہ تھی یا نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ خاتون نے اپنی مرضی سے جائیداد دے دی؛ اس بات کو بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جائیداد واقعی اس کے قبضے اور اختیار میں تھی یا نہیں اور اس نے کسی دباؤ، دھمکی یا خاندانی مجبوری کے بغیر فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔

انہوں نے اس مسئلے کو ایک سادہ مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون سے ایک چیز لے کر یہ دعویٰ کرے کہ خاتون نے وہ اسے تحفے میں دے دی ہے، تو پہلے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ وہ چیز حقیقتاً خاتون کے قبضے میں تھی اور اس نے آزادانہ طور پر اسے منتقل کیا۔ ان کے مطابق جائیداد کے معاملات میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے: پہلے خاتون کو اس کا حق، ملکیت اور قبضہ دیا جائے، اس کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے کسی کو منتقل کرنا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔

محترمہ نرگس سلطانہ نے عدالتی نظام میں بنیادی سطح پر اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات کو سپریم کورٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی مؤثر انداز میں نمٹایا جانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس کی بہن، والدہ یا کسی دوسری خاتون رشتہ دار نے اپنی جائیداد اسے دے دی ہے تو عدالت کو ایسی دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر دستاویزات میں بنیادی قانونی تقاضے پورے نہ ہوں، خاتون کے دستخط مشکوک ہوں، گواہ موجود نہ ہوں یا دیگر شرائط پوری نہ کی گئی ہوں تو ایسے دعووں کو ابتدا ہی میں مسترد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسا مؤثر نظام بنایا جائے جس کے تحت کسی شخص کی وفات کے فوراً بعد اس کے تمام قانونی ورثاء کے نام اس کی جائیداد خودکار طور پر منتقل ہو جائے۔ ان کے خیال میں وراثتی عمل کو اس قدر آسان اور خودکار ہونا چاہیے کہ خواتین کو پٹواری، اراضی مرکز اور مختلف ریونیو افسران کے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں بعض اوقات بہن کا نام ہی ریونیو ریکارڈ سے نکال دیا جاتا ہے اور جائیداد بھائیوں کے نام منتقل ہو جاتی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاتون کو ایک طویل قانونی جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے ریونیو اہلکاروں کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں ریونیو افسر کو شکایت کے بعد وقتی طور پر معطل تو کر دیا جاتا ہے، لیکن بعد میں وہ تمام مراعات کے ساتھ بحال ہو جاتا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کی مشکلات جوں کی توں رہتی ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک باقاعدہ قانون سازی ضروری ہے تاکہ خواتین کو محروم کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ اس عمل میں شریک سرکاری اہلکاروں کو بھی مؤثر اور قابلِ عمل سزا دی جا سکے۔

محترمہ نرگس سلطانہ نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب سپریم کورٹ خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ کے لیے واضح اصول وضع کر چکی ہے تو ماتحت عدالتوں میں بعض ایسے مقدمات کیوں زیرِ سماعت آتے ہیں جن کی بنیاد بظاہر ناقص یا مشکوک دستاویزات پر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق نچلی سطح پر ہی جعلی ہبہ، وصیت یا بیع کی دستاویزات کی قانونی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بہت سے مقدمات اعلیٰ عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔

خواتین کو عملی طور پر اپنے حق کے حصول کا طریقہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام صوبوں میں خواتین کے لیے محتسب کے ادارے کو وراثتی معاملات میں بھی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان کے ذاتی تجربے کے مطابق محتسب کے ذریعے بعض معاملات نسبتاً جلدی اور کم خرچ میں حل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کے پاس جائیداد کے مکمل کاغذات موجود نہ ہوں تو محتسب ریونیو ریکارڈ طلب کر سکتا ہے اور متعلقہ جائیداد کی تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس طریقۂ کار میں خواتین کا مالی بوجھ بھی نسبتاً کم ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں وہ وکیل کے بغیر بھی اپنی شکایت پیش کر سکتی ہیں۔

آخر میں محترمہ نرگس سلطانہ نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ کے لیے محض عدالتی فیصلے کافی نہیں، بلکہ ایک ایسا مؤثر اور خودکار قانونی و انتظامی نظام ضروری ہے جو ابتدا ہی میں حق تلفی کے امکانات ختم کر دے۔ ان کے نزدیک قانون سازی، ریونیو نظام کی اصلاح، ماتحت عدالتوں کی مؤثر نگرانی اور خواتین میں قانونی آگاہی—یہ سب اقدامات مل کر ہی اس دیرینہ مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ عورت کو اس کا وراثتی حق حاصل کرنے کے لیے دہائیوں پر محیط قانونی جنگ لڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے؛ ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس کا حق بروقت، آسان اور باعزت طریقے سے اسے دلایا جائے۔


اقسام مواد

انٹرویوز