ترکیہ — رجب طیب اردگان کی قیادت میں

ترکیہ کے دیرینہ صدر رجب طیب اردگان سے الجزیرہ کے علی الدری نے حال ہی میں ایک انٹرویو لیا ہے جس میں انہوں نے اپنی قیادت کے بہت سے پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یہاں ہم اس انٹرویو کا تعارفی حصہ ویڈیو کے لنک کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔


رجب طیب اردگان گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ترکیہ کی سیاست کی مرکزی شخصیت ہیں۔ ان کا نام ملک کی معیشت، سیاسی نظام اور خارجہ پالیسی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ گہری طرح جڑا ہوا ہے۔ اردگان کے سیاسی سفر نے 1994ء میں اُس وقت عروج کی جانب بڑھنا شروع کیا، جب وہ ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے شہر کو درپیش نمایاں ترین بحرانوں سے نمٹا اور ایک ایسے عملی سیاست دان کے طور پر ابھرے جو مسائل کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

2001ء میں انہوں نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، جسے اے کے پارٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 2003ء تک اردگان ترکیہ کے وزیرِاعظم بن چکے تھے۔ انہوں نے مسلسل تین مدتوں تک وزارتِ عظمیٰ سنبھالی، جن کے دوران ملکی معیشت نے نمایاں ترقی کی۔

2014ء میں اردگان صدر منتخب ہوئے، 2018ء میں وسیع تر اختیارات کے ساتھ ایک اور صدارتی مدت کے لیے کامیاب ہوئے، اور 2023ء میں ایک تاریخی دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اردگان نے مزید پانچ سال کے لیے اقتدار سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ان کی مدتِ صدارت 2028ء تک جاری رہے گی۔

ان کی قیادت میں ترکیہ نے قومی ترقی اور ایک خود کفیل دفاعی صنعت کے ذریعے نمایاں تبدیلی کا سفر طے کیا ہے۔ عالمی سطح پر اردگان نے ایک عملی اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی اختیار کی ہے اور خود کو عالمی امن کے علم بردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اے کے پارٹی کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی انٹرویو میں اردگان نے الجزیرہ عربی کے علی الدری سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے اپنی قیادت کے دوران ترکیہ میں آنے والی بڑی تبدیلیوں پر بات کی۔

https://youtu.be/heGALpfFwb4


Article Series

انٹرویوز

Created: 24/Sep/2026 – 12:54pm
Updated: 24/Sep/2026 – 01:11pm