برصغیر میں انگریز دور کا ریلوے نظام

یہ گفتگو بنیادی طور پر برطانوی دورِ حکومت میں ہندوستان میں ریلوے کے قیام کے پسِ پشت مقاصد اور اس کے معاشی، عسکری، ماحولیاتی اور انسانی اثرات کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ میشا نور کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان میں ریلوے محض عوام کی سہولت یا ترقی کے لیے نہیں بنائی تھی، بلکہ اس کا اصل مقصد ہندوستان پر اپنا سیاسی و عسکری قبضہ مضبوط کرنا، یہاں سے خام مال برطانیہ منتقل کرنا اور ہندوستانی معیشت سے زیادہ سے زیادہ دولت برطانیہ منتقل کرنا تھا۔ اس حوالے سے وہ یہ دعویٰ پیش کرتی ہیں کہ عالمی صنعتی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ 1750ء میں تقریباً 24.5 فیصد تھا، جو 1913ء تک کم ہو کر 1.4 فیصد رہ گیا۔

ریلوے کا ایک اہم مقصد برطانوی فوج کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تیزی سے منتقل کرنا تھا۔ خصوصاً 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران ریلوے کے ذریعے برطانوی فوجی دستوں کو دور دراز علاقوں سے لا کر مزاحمت کو کچلنے میں مدد لی گئی۔ میشا نور کے مطابق ریلوے کا نقشہ بھی اس انداز سے ترتیب دیا گیا تھا کہ فوجی چھاؤنیوں کو بندرگاہوں اور اہم مراکز سے جوڑا جا سکے۔ اس سے ایک طرف برطانوی فوج کو پورے ہندوستان میں منتقل کرنا آسان ہوا، تو دوسری طرف ہندوستان سے کپاس، جوٹ، گندم اور دیگر خام مال بندرگاہوں تک پہنچا کر برطانیہ بھیجنے کا انتظام مضبوط ہوا۔

وہ ریلوے کی مالی اعانت کے لیے نافذ کیے گئے ’’گارنٹی سسٹم‘‘ کو بھی ہندوستان کے استحصال کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ اس نظام کے تحت برطانوی کمپنیوں کو ہندوستان میں ریلوے میں سرمایہ کاری پر کم از کم پانچ فیصد منافع کی سرکاری ضمانت دی گئی، اور اگر حقیقی منافع اس سے کم ہوتا تو ہندوستانی حکومت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے اس کمی کو پورا کرتی۔ میشا نور کے مطابق اس نظام کے نتیجے میں برطانوی سرمایہ کاروں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا اور تقریباً 350 ملین پاؤنڈ ہندوستان سے برطانیہ منتقل ہوئے۔ وہ یہ تقابل بھی پیش کرتی ہیں کہ اسی زمانے میں ہندوستانی ریلوے کی تعمیر فی میل تقریباً 17 ہزار پاؤنڈ جبکہ امریکا میں تقریباً 2 ہزار پاؤنڈ فی میل پڑتی تھی، جسے وہ برطانوی مالیاتی نظام کی غیر مؤثر اور استحصالی نوعیت کی مثال قرار دیتی ہیں۔

میشا نور کے مطابق ریلوے نے ہندوستان کی مقامی صنعت، خصوصاً کپڑے کی صنعت، کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ برطانوی نظام کے تحت ہندوستان سے خام کپاس کم قیمت پر برطانیہ بھیجی جاتی، وہاں مشینی کارخانوں میں کپڑا تیار ہوتا اور پھر ریلوے کے ذریعے وہ تیار شدہ مصنوعات ہندوستانی منڈیوں تک پہنچائی جاتیں۔ نتیجتاً مقامی دست کاری اور ہینڈلوم کی صنعتیں برطانوی مشینی مصنوعات کا مقابلہ نہ کر سکیں اور بڑے پیمانے پر بند ہوتی گئیں۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ جب ہندوستانی صنعت کار خود ریلوے کے انجن اور دیگر سامان تیار کرنے میں کامیاب ہونے لگے تو ایسے قوانین نافذ کیے گئے جن کے ذریعے مقامی پیداوار کی حوصلہ شکنی اور برطانوی مصنوعات کے لیے ہندوستانی منڈی محفوظ رکھی گئی۔

وہ ریلوے کے ماحولیاتی اثرات کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ ریلوے لائنیں بچھانے اور لکڑی کے سلیپر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگلات کاٹے گئے۔ مثال کے طور پر دہلی سے راجستھان جانے والی ایک ریلوے لائن کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ لکڑی کے سلیپر استعمال ہونے کا ذکر کرتی ہیں، اور بتاتی ہیں کہ ہر سلیپر کے لیے ایک مکمل درخت استعمال ہوتا تھا۔ اس کے نتیجے میں بنگال اور ہمالیہ کے دیودار کے جنگلات سمیت کئی علاقوں میں وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی ہوئی۔ بعض جنگلات کو ریلوے کے لیے مخصوص کر دیا گیا، جس کے باعث ان علاقوں میں رہنے والی مقامی آبادی بھی اپنے روایتی وسائل سے محروم اور بعض اوقات بے دخل ہوئی۔

میشا نور ریلوے اور قحط کے تعلق پر بھی خاص توجہ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ریلوے کے ذریعے اناج کو ان علاقوں سے باہر منتقل کیا جاتا تھا جہاں قحط یا خوراک کی کمی ہوتی، کیونکہ برطانوی تجارتی مفادات کے تحت اسے ان مقامات تک پہنچایا جاتا جہاں زیادہ قیمت مل سکتی تھی۔ وہ 1896ء کے بڑے قحط کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس دوران بھی ہندوستان سے بڑی مقدار میں گندم برطانیہ برآمد کی گئی، جبکہ مقامی لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ ان کے مطابق 1886ء تک برطانیہ کی تقریباً 23 فیصد گندم ہندوستان سے جاتی تھی۔ یوں ان کے بقول ریلوے نے ایک طرف ہندوستان سے غذائی اجناس کی برآمد آسان بنائی اور دوسری طرف قحط زدہ علاقوں میں خوراک کی دستیابی کے مسئلے کو مزید سنگین کیا۔

ریلوے کی تعمیر اور نقل و حرکت نے وباؤں کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کیا۔ میشا نور کے مطابق پہلے بعض بیماریاں ایک مخصوص علاقے تک محدود رہتی تھیں، لیکن تیز رفتار نقل و حمل کے باعث متاثرہ افراد اور بیماریاں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک تیزی سے پہنچنے لگیں۔ خصوصاً ریلوے تعمیر کرنے والے مزدور انتہائی خراب حالات میں رہتے تھے؛ انہیں تنگ جگہوں میں رکھا جاتا، صفائی اور نکاسیٔ آب کا مناسب انتظام نہیں ہوتا اور طبی سہولتیں بھی ناکافی تھیں۔ وہ 1859ء میں ہیضے کی ایک وبا کے دوران ایک تعمیراتی مقام پر تقریباً چار ہزار مزدوروں کی ہلاکت کا ذکر کرتی ہیں۔ اسی طرح ریلوے کی تعمیر کے دوران کھدائی اور پانی کے جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا، جسے وہ ملیریا کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتی ہیں۔

آخر میں میشا نور اس تصور کو چیلنج کرتی ہیں کہ برطانوی ریلوے ہندوستانی عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ تھی۔ ان کے مطابق ریلوے کے اندر بھی نوآبادیاتی طبقاتی تفریق واضح تھی۔ انگریزوں کے لیے شاندار اور آرام دہ ویٹنگ رومز اور فرسٹ کلاس ڈبے موجود تھے، جبکہ ہندوستانیوں کو عموماً بھیڑ بھاڑ، ناقص صفائی اور کم سہولت والے تھرڈ کلاس ڈبوں تک محدود رکھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ دولت مند ہندوستانی بھی بعض صورتوں میں فرسٹ کلاس میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ مزید یہ کہ ریلوے کی ترجیحات بھی عام مسافروں کے بجائے برطانوی فوج اور تجارتی ضروریات کے مطابق طے ہوتی تھیں۔

مجموعی طور پر، میشا نور کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ برطانوی ہندوستان میں ریلوے کو جدید ترقی کے غیر جانب دار منصوبے کے طور پر دیکھنا تاریخی تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ ان کے مطابق اس کا بنیادی ڈھانچہ نوآبادیاتی اقتدار، فوجی کنٹرول، خام مال کی برآمد، برطانوی مصنوعات کی فروخت اور ہندوستانی دولت کے انخلا کے لیے استعمال ہوا، جبکہ اس کے ساتھ مقامی صنعت، ماحول، مزدوروں اور غذائی تحفظ کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ ان کی گفتگو کا اختتامی نکتہ یہ ہے کہ ماضی میں نوآبادیاتی نظام کے طریقۂ کار کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ دور میں بھی اسی نوعیت کے استحصالی نمونے مختلف شکلوں میں دہرائے جا سکتے ہیں۔

https://youtu.be/vPIURazIvZ0


اقسام مواد

خلاصہ جات