مغرب کے خوابِ غفلت کا نتیجہ

کشور محبوبانی نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خطاب سامعین کو بے آرامی میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر لوگ اپنے پرانے طرزِ فکر اور خودساختہ اطمینان کو ترک کر کے بے آرامی کا سامنا نہیں کریں گے تو وہ آنے والی نئی دنیا کی حقیقتوں کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ آنے والی دنیا مغربی دنیا کے موجودہ ذہنی تصورات سے اس قدر مختلف ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے پرانے نظریات کی قربانی دینا ضروری ہو چکا ہے۔

مغربی تسلط کے خاتمے کی بنیادی وجوہات

محبوبانی کے مطابق، گزشتہ دو سو سال سے زائد عرصے پر محیط مغرب کا عالمی تسلط اب اپنے حتمی اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ مغرب نے اس مقام تک پہنچنے کے بعد جن تزویراتی غلطیوں کا ارتکاب کیا، انہوں نے اس کے زوال کی راہ ہموار کی ہے۔

مغرب ایک ایسی تنہا اور خود پسند تہذیب بن چکا ہے جو اپنی ہی ذات اور کامیابیوں کی تعریف میں مگن ہے اور اسی ’’نرگسیت‘‘ کی وجہ سے وہ باقی دنیا کے ساتھ معاملے میں اپنی غلطیوں کو دیکھنے سے قاصر رہا ہے۔ 1990ء میں بغیر کوئی گولی چلائے سوویت یونین کی شکست کے بعد مغرب نے یہ فرض کر لیا کہ اس نے تاریخ کا اختتام End of History حاصل کر لیا ہے اور اب لبرل ڈیموکریسی ہی تمام انسانوں کی حتمی اور بہترین منزل ہے۔

سب سے بڑی غلطی عالمی آبادی کے حقائق کو نظر انداز کرنا ہے۔ مغرب دنیا کی کل آبادی کا محض 12 فیصد ہے جبکہ 88 فیصد آبادی مغرب سے باہر رہتی ہے۔ مغرب نے انتہائی تکبرانہ انداز میں یہ گمان کر لیا کہ باقی پوری دنیا انہی کی نقل بن جائے گی اور انہی کے ماڈل کی پیروی کرے گی۔ اسی تکبر نے مغرب کو غفلت کی نیند سلا دیا، اور وہ بھی ٹھیک اس وقت جب دنیا کی دیگر قدیم تہذیبیں بیدار ہو رہی تھیں۔

مغرب خود کو قانون کا پابند اور پرامن ملکوں کا گروہ گردانتا ہے، لیکن عملی طور پر گزشتہ تیس سالوں کے دوران اس کا رویہ انتہائی جنگ جویانہ رہا ہے۔ مغرب نے یہ عجیب منطق اپنا لی کہ آزادی اور جمہوریت پھیلانے کا بہترین طریقہ شہروں پر بمباری کرنا ہے:

  • 1990ء کی دہائی کے آخر میں بلگراد پر کی جانے والی بمباری بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی تھی، کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت فوجی کارروائی صرف ذاتی دفاع یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے ہو سکتی ہے۔
  • یہی رویہ 2003ء کی عراق جنگ میں بھی نظر آیا جو مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔ فرانس اور جرمنی جیسے قریب ترین اتحادیوں کی مخالفت اور تنبیہ کے باوجود امریکہ اور برطانیہ نے یہ پیش قدمی کی، اور مغرب کے اندر اس جنگی جنون کا عالم یہ تھا کہ فرانس کی مخالفت پر فرانسیسی شراب تک کا بائیکاٹ کیا گیا۔
  • اسی طرح لیبیا میں معمر قذافی کی آمریت کے باوجود وہاں کے عوام کو بہترین سہولیات میسر تھیں، مگر مغرب کی بمباری نے اس ملک کو ایک ناکام ریاست میں تبدیل کر کے چھوڑ دیا۔

ایک طرف مغرب دنیا بھر میں میرٹ کی بالادستی کا پرچار کرتا ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی معاشی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور عالمی بینک پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان اداروں کو تکنیکی طور پر پوری دنیا کی خدمت کرنی چاہیے اور ان کی قیادت عالمی میرٹ پر ہونی چاہیے۔

2008ء کے مالیاتی بحران کے دوران لندن میں منعقدہ جی20 اجلاس میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان اداروں کے سربراہان کا انتخاب اب سے میرٹ کی بنیاد پر ہوگا، لیکن اٹھارہ سال گزرنے کے بعد بھی صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا سربراہ صرف کوئی یورپی، اور عالمی بینک کا سربراہ صرف کوئی امریکی ہی بن سکتا ہے۔ دنیا کی اٹھاسی فیصد آبادی کو ان اداروں کی قیادت سے باہر رکھنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو بدلتی ہوئی دنیا میں مغرب کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔

نئی کثیر قطبی دنیا اور چین کا اَحیا

مغرب کے زوال کے ساتھ ہی دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مختلف تہذیبیں دوبارہ اپنا تاریخی مقام حاصل کر رہی ہیں، اور اس نئے دور کا سب سے اہم اور پیشرو عنصر چینی تہذیب کا احیا ہے۔

چینی تاریخ کے چار ہزار سالوں میں سے گزشتہ چالیس سال معاشی اور سماجی ترقی کے لحاظ سے بہترین ترین دور رہے ہیں۔ منطقی طور پر مغرب کو اس بات کا جشن منانا چاہیے تھا کہ کروڑوں انسان غربت سے نکل کر خوشحال ہوئے ہیں، لیکن اس کے برعکس مغربی میڈیا اور ایوانوں میں چین کی مسلسل منفی تصویر کشی کی جا رہی ہے۔

امریکہ میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کی رقابت کمیونسٹ پارٹی سے ہے، حالانکہ اصل مقابلہ کمیونسٹ نظریے سے نہیں بلکہ اس چار ہزار سال پرانی چینی تہذیب سے ہے جو اب دوبارہ عالمی افق پر نمودار ہو چکی ہے۔ چین مغرب کی طرف سے جمہوریت کی پیشکش کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کیونکہ سن 1842ء میں جب چین کمزور تھا تو مغرب نے اسے کوئی جمہوریت یا ترقی نہیں دی بلکہ اس پر افیون کی تجارت مسلط کی تھی۔ چینی قوم یہ سبق اچھی طرح سیکھ چکی ہے کہ کمزوری کی حالت میں مغرب استحصال کرتا ہے، اس لیے وہ اپنے بارے میں موجودہ مغربی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔

معاشی طاقت کا توازن اور مغربی رویے

طاقت کا عالمی توازن کس قدر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2000ء میں یورپی یونین کی معیشت چین کے مقابلے میں سات گنا بڑی تھی۔ آج دونوں معیشتیں تقریباً ایک ہی سطح پر ہیں، اور 2050ء تک یورپی یونین کی معیشت چین کے مقابلے میں آدھی رہ جائے گی۔ اتنی بڑی تبدیلیوں کے باوجود یورپی یونین کی قیادت کا رویہ چین کے ساتھ انتہائی متکبرانہ اور توہین آمیز ہے۔

کشور محبوبانی کے مطابق مغربی سیاستدانوں کے اس غیر منطقی اور سخت رویے کی جڑیں مغرب کے زوال پذیر ذہنی ساخت میں چھپے پرانے نسلی تعصب میں پیوست ہیں، جس کی تاریخی مثالیں 130 سال پرانے امریکی قانون 'چائنیز ایکسکلوژن ایکٹ' میں بھی ملتی ہیں۔

ایران اور تاریخی تہذیبوں کی واپسی

خطاب میں کشور محبوبانی نے ایران کے حالیہ عسکری و سیاسی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے تہذیبی طاقت کی ایک اور مثال پیش کی۔ مغرب کا اندازہ یہ تھا کہ عسکری طور پر غیر محفوظ نظر آنے والا ایران چند دنوں میں گھٹنے ٹیک دے گا، لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور ایک چھوٹا سا جغرافیائی اقدام پورے عالمی توازن کو متاثر کرنے کا سبب بن گیا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایرانی یا فارسی تہذیب تین ہزار سال قدیم ہے جس نے تاریخ میں کئی بار تباہی کے دہانے پر پہنچ کر خود کو سنبھالا ہے۔ کسی بھی قدیم اور جاندار تہذیب کو کمتر سمجھنا مغرب کی بہت بڑی تزویراتی غلطی ہے، اور اگر یہی غلطی چین کے معاملے میں دہرائی گئی تو اس کے نتائج اور بھی شدید ہوں گے۔

آئندہ کے تین ممکنہ عالمی منظر نامے

آنے والے دو سے تین دہائیوں کے دوران دنیا جس سمت میں پیش قدمی کرے گی، اس کے لیے کشور محبوبانی نے تین مختلف امکانات اور منظر نامے پیش کیے ہیں:

  1. پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی چین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے انتہائی دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ واشنگٹن میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان شدید سیاسی اختلاف کے باوجود چین کو روکنے پر مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اس بات کا بیس فیصد امکان ہے کہ یہ سخت محاذ آرائی جاری رہے گی، تاہم مغرب کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ سوویت یونین کے برعکس اس بار دنیا کے باقی ممالک (مثلاً انڈونیشیا، پاکستان، مصر وغیرہ) چین کا گھیراؤ کرنے کے لیے مغرب کا ساتھ نہیں دیں گے۔
  2. دوسرا اور سب سے زیادہ ممکنہ منظر نامہ، جس کے پچاس سے ساٹھ فیصد امکانات ہیں، یہ ہے کہ دنیا روایتی انداز میں معلق رہتے ہوئے اور روزمرہ کے مسائل کے ساتھ مل جل کر آگے بڑھتی رہے گی۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے بارے میں عملیت پسندانہ پالیسیاں ایک حد تک عالمی استحکام کا سبب بنی ہیں، جس کا فائدہ نہ صرف امریکہ اور چین کو بلکہ بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا جیسے خطوں کو حاصل ہو رہا ہے۔
  3. تیسرا منظر نامہ، جس کا امکان صرف بیس فیصد ہے، یہ ہے کہ مغرب کے اندر بالآخر دانشمندی اور بیداری پیدا ہو اور وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ وہ اب دنیا پر اپنا حکم نہیں چلا سکتا۔ اس صورت میں مغرب دیگر تمام تہذیبوں کو ان کے مختلف وجود کے ساتھ تسلیم کرے گا، ان کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم کرے گا اور باہمی تعاون کی بنیاد پر پرامن بقائے باہمی کی راہ اختیار کرے گا۔

پیغام

کشور محبوبانی نے اپنے خطاب کا اختتام اس فکر انگیز پیغام کے ساتھ کیا کہ مغربی دنیا اور اس کے تمام بااثر طبقوں کو یہ حقیقت دل سے قبول کرنی ہوگی کہ عالمگیر تسلط کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ باقی دنیا کبھی بھی مغرب کا چربہ نہیں بنے گی، لیکن اس کے باوجود مختلف تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام، مساوات اور پرامن بقائے باہمی کا رشتہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کا امن اور خود مغرب کا مستقبل اسی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔

https://youtu.be/M42GT-oPXYY


اقسام مواد

خلاصہ جات, خطابات