مولانا فضل الرحمٰن کا سیاسی سفر اور نقطۂ نظر
معروف صحافی ریحان اللہ والا کی طرف سے کیے گئے انٹرویو کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے سیاسی سفر اور نقطۂ نظر کے حوالے سے بہت اہم گفتگو کی ہے، جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم و تربیت
مولانا فضل الرحمٰن ۱۹۵۳ء میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں عبدالخیل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی بچپن اپنے ہی گاؤں کے خالص دیہاتی اور سادہ ماحول میں گزرا۔ ان کی ابتدائی دینی تعلیم، ناظرہ قرآن اور ابتدائی کتب کی تدریس ان کے چچا خلیفہ محمد صاحب نے انجام دی۔
بچپن میں عام بچوں کی طرح دیہاتی زندگی کے تمام معمولات ان کے شب و روز کا حصہ رہے۔ صبح پڑھائی کے بعد گھر کے مویشی لے کر پہاڑ اور صحرا کی طرف نکل جاتے، ان کو چراتے اور ان کے لیے گھاس کاٹ کر لاتے تھے۔ چھٹی جماعت میں ان کا داخلہ ملت ہائی اسکول ملتان میں کرایا گیا، جہاں سے ۱۹۷۰ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
میٹرک کے بعد دینی تعلیم کے لیے وہ مختلف دیہاتوں میں مقیم رہے۔ ان علاقوں میں پینے کے میٹھے پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہ تھیں۔ پینے کا پانی دریا سے لایا جاتا تھا، جبکہ رات کے وقت پڑھائی اور سبق یاد کرنے کا کام لالٹین کی روشنی میں ہوتا تھا۔ کبھی تیل ختم ہو جانے کی صورت میں طلبہ سڑک پر نکل آتے تاکہ وہاں سے گزرنے والی بسوں یا ٹرکوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں کاپی کھول کر اپنا سبق یاد کر سکیں۔
بعد ازاں انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخلہ لیا اور ۱۹۷۹ء میں دورۂ حدیث مکمل کر کے فراغت حاصل کی۔ ۱۹۸۰ء میں جامعہ قاسم العلوم ملتان میں تدریس کا آغاز کیا۔
والد مفتی محمود کی صوبائی حکومت اور سیاسی حالات
۱۹۷۲ء میں ون یونٹ (مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان) ٹوٹنے کے بعد ان کے والد مولانا مفتی محمود صوبہ خیبر پختونخوا (سابقہ سرحد) کے پہلے چیف منسٹر بنے۔ نو ماہ کی مختصر حکومت میں انہوں نے پس ماندہ دیہاتوں کے لیے بجلی، پینے کا پانی، ڈسپنسریز اور اسکولوں کا ایک جامع منصوبہ منظوری کے لیے پیش کیا۔ اگرچہ حکومت ختم ہونے پر بیشتر منصوبے رک گئے، تاہم ان کے گاؤں میں پہلی بار بجلی اسی دور میں آئی۔
۱۹۸۰ء میں والد صاحب حج کی روانگی کے دوران کراچی میں وفات پا گئے، جس کے بعد جماعت کے دوستوں کے مشورے اور اصرار پر مولانا فضل الرحمٰن نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اس کی وجہ سے ان کا تدریسی سلسلہ متاثر ہوا۔ جب وہ مدرسے کو باقاعدہ وقت نہ دے سکے تو انہوں نے تنخواہ لینا بند کر دی اور بعد میں ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہو کر ’’جامعۃ المعارف الشرعیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، جو آج بھی تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔
مارشل لاء کے دور میں سیاسی جدوجہد کا آغاز
والد صاحب کی وفات کے وقت وہ جنرل ضیاء الحق حکومت کی پالیسیوں سے مایوس ہو چکے تھے اور بحالیِ آئین کے لیے پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی فورسز کو اکٹھا کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے میدانِ سیاست میں قدم رکھتے ہی مارشل لاء کا مقابلہ کیا۔ ایم آر ڈی (Movement for the Restoration of Democracy) کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کے دوران انہوں نے وقتاً فوقتاً ایک کافی عرصہ سی-کلاس (اور کبھی بی-کلاس) جیلوں میں کاٹے۔ گرفتاری اور جیل ان کی زندگی کا معمول بن چکی تھی۔
انہوں نے ۱۹۸۵ء کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ۱۹۸۸ء میں ضیاء الحق کے سانحہ کے بعد جب الیکشن ہوئے، تو وہ پارلیمانی سیاست میں داخل ہوئے اور تب سے مسلسل سیاسی اور پارلیمانی عمل کا حصہ ہیں۔
جدید سیاسی تناظر میں نظریاتی جدوجہد کی ضرورت
نوجوانوں کے سیاسی راہنمائی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مولانا نے دو بنیادی اصول بیان کیے:
نظریاتی سیاست
سیاست کسی ویژن اور نظریے کے تحت ہونی چاہیے۔ سوویت یونین کے دور میں دنیا کے اندر سرمایہ داری اور اشتراکیت کے درمیان نظریاتی جنگ تھی، اور علماء ان کے درمیان اسلامی معاشی نظام کا اعتدال پسند راستہ پیش کرتے تھے۔ سوویت یونین کے خاتمے اور سانحہ گیارہ ستمبر کے بعد عالمی تناظر بدل گیا۔ اب نظریاتی سیاست کے بجائے صرف ’’کرپشن‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ کے عنوانات سے سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں آئین کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی تمام ناگزیر قوانین فوراً پاس کر لیے جاتے ہیں۔
دیانتداری اور قومی امانت
سیاسی رہنما کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملکی سرمائے کو عام آدمی کی امانت سمجھے، جاگیرداری اور سرمایہ داری کے بجائے قناعت اور شفافیت کو اپنائے اور صوابدیدی اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرے۔
قومی تقاضے اور حکومتی ترجیحات
اقتدار ملنے کی صورت میں انہوں نے تین اہم ترجیحات سامنے رکھیں:
امن و امان اور انصاف
ہر شہری کی جان، مال اور عزت کا تحفظ اور قوانین کی پاسداری کے ذریعے عدل و انصاف کی فراہمی۔
خودکفیل معیشت
آئی ایم ایف، بیرونی قرضوں اور بیرونی خیرات پر انحصار ختم کر کے ملکی وسائل پر اعتماد کرنا۔ بیوروکریسی اور مفاد پرست طبقات کے کمیشن کلچر کو ختم کر کے اپنے وسائل سے معاشی ترقی حاصل کرنا۔
تدریجی اسلامی اصلاحات
اسلامی نظریاتی کونسل کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں قرآن و سنت کے مطابق تدریجی قانون سازی کرنا۔ انقلاب کے بجائے تدریجی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا تاکہ نظام تباہی سے محفوظ رہے۔
عالمی امور: مغربی پالیسیاں اور بھارت کا طرز عمل
امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پیغام
تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے؛ عالمی وسائل کو تمام انسانوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ غریب ملکوں کا استحصال کر کے انہیں چند ڈالر بطور خیرات دیے جائیں؛ اور دوسرے ممالک میں اپنی مرضی کے حکمران مسلط کرنے اور سیاسی مداخلت کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بھارت اور مسئلہ کشمیر
مولانا فضل الرحمٰن نے کشمیر کو محض ایک کمیٹی یا حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ قرار دیا۔ کشمیری عوام ہندوستانی ظلم اور پاکستانی تذبذب کے درمیان پِس رہے ہیں۔ بھارت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کشمیر کو محض اپنا اندرونی مسئلہ نہ کہے بلکہ سنجیدہ دوطرفہ مذاکرات کرے یا بین الاقوامی ثالثی قبول کرے۔
اس کے علاوہ، بھارت کی جانب سے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کی زراعت کو بنجر کرنے جیسے اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔ ریاستوں کے اختلافات اپنی جگہ، لیکن عوامی سطح (People-to-People) کے رابطے خطے میں امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی عوام کے نام پیغام
پاکستانی عوام کو چاہیے کہ ووٹ دیتے وقت ان لوگوں کو ترجیح دیں جو پاکستان کے نظریے، اسلامی شناخت، اقلیتوں و خواتین کے حقوق اور معاشی خودکفالت کے لیے مخلص ہیں۔ ذاتی مفادات اور بین الاقوامی ایجنڈوں پر کام کرنے والے عناصر کے بجائے نظریاتی کمٹمنٹ رکھنے والی قیادت کو سپورٹ کرنا ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔
