نیا شام — صدر احمد الشرع کی نظر میں
شام کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات اور نئے نظامِ حکومت کی سمت کو سمجھنے کے لیے صدر احمد الشرع کا حالیہ تفصیلی انٹرویو ایک اہم اور تزویراتی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ الجزیرہ نیٹ ورک کے نشر کردہ اس انٹرویو کی روشنی میں چھ دہائیوں پر محیط آمریت، خانہ جنگی اور بین الاقوامی تنہائی کے بعد شام اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے داخلی استحکام، معاشی بحالی اور عالمی برادری میں اپنے فطری مقام کا دوبارہ حصول جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر احمد الشرع کی گفتگو اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ نیا شام انتقامی سیاست سے بالاتر ہو کر شفافیت، حکمتِ عملی اور قانون کی بالادستی پر مبنی ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو ناصرف شامی عوام کے لیے امن اور ترقی کی ضمانت بنے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار اور خودمختار ریاست کے طور پر سامنے آئے۔
عالمی پابندیوں کا خاتمہ اور امریکا کے ساتھ تعلقات کی پیش رفت
شام پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ نئی حکومت کی سفارتی ترجیحات میں سب سے اہم عنصر رہا ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی پس منظر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے صدر احمد الشرع نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب نے ثالثی اور سفارت کاری کا کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت میں اہم معاونت فراہم کی۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں امریکی انتظامیہ شام پر سے عمومی پابندیاں اٹھانے پر آمادہ ہوئی۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی قیادت کے سامنے یہ مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا گیا کہ "قیصر ایکٹ" (Caesar Act) اور دیگر تمام اقتصادی پابندیاں سابقہ شامی نظام کے جرائم اور عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ردعمل میں عائد کی گئی تھیں۔ لہٰذا، جس عوام نے خود اس جابرانہ نظام سے نجات حاصل کی ہے، اس پر ان پابندیوں کا بوجھ مسلسل برقرار رکھنا نہ صرف غیر منطقی تھا بلکہ سراسر ناانصافی کے مترادف تھا۔
صرف قیصر ایکٹ کا خاتمہ ہی کافی نہیں تھا، کیونکہ شام کو "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست" قرار دینے کا امریکی فیصلہ کئی دہائیوں پرانا قانونی ڈھانچہ رکھتا تھا۔ اس لیے دمشق کا مقصد شام کو تمام قانونی پابندیوں کے جال سے مکمل طور پر آزاد کروانا ہے۔ اس عمل کے قانونی طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس فہرست سے شام کا نام نکالنے کی تجویز امریکی کانگریس کے سامنے مقررہ مدت کے لیے اعتراض کے مقصد سے پیش کی جاتی ہے، جس کے بعد امریکی صدر حتمی حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں۔ شامی حکومت نے امریکی کانگریس کے اہم ارکان، بالخصوص خارجہ امور سے متعلق شخصیات سے براہِ راست روابط قائم کیے ہیں اور ان تمام ارکان کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے اور نئے تعلقات کی استواری کے لیے مثبت رغبت کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں صدر احمد الشرع نے امریکی تعلقات کے حوالے سے اس بات پر زور دیا کہ لبنان یا حزب اللہ سے متعلقہ معاملات کو شام پر سے پابندیاں اٹھانے کے عمل سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ تمام الگ الگ سیاسی اور سفارتی راستے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں شامی وفد کا استقبال اور پابندیوں کا اٹھے جانا دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی اور مثبت سمت کی طرف گامزن کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی برادری میں شام کا دوبارہ فعال کردار ادا کرنا کوئی غیر معمولی یا انوکھا واقعہ نہیں، بلکہ شام کی تاریخ، محلِ وقوع اور تہذیبی پس منظر کی بنا پر یہی اس ملک کی "فطری حالت" ہے۔ ماضی کی غلط پالیسیوں نے شام کو دنیا سے کاٹ کر رکھا تھا، مگر اب نیا شام عالمی منظر نامے پر ایک پراعتماد اور متوازن فریق کی حیثیت سے آگے بڑھ رہا ہے۔
یورپ، روس اور چین کے ساتھ کثیر الجہتی خارجہ تعلقات
شام کی نئی خارجہ پالیسی محض ایک بلاک یا خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ متوازن، کثیر الجہتی اور قومی مفادات کے تابع ہے۔ مغربی دنیا کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے احمد الشرع نے بتایا کہ شام کے نئے اندازِ فکر کو نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک نے بھی کھلے دل سے قبول کیا ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، اسپین اور اٹلی جیسے کلیدی یورپی ممالک کے ساتھ روابط میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ شام اور یورپ کے درمیان نہ صرف سیکیورٹی اور تزویراتی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں بلکہ اقتصادی اور تجارتی راستوں کی بحالی بھی انتہائی اہم ہے۔ مزید برآں، یورپ بالخصوص جرمنی میں مقیم لاکھوں شامی مہاجرین کی موجودگی نے شامی اور یورپی معاشروں کے درمیان گہرے انسانی اور ثقافتی روابط استوار کر دیے ہیں، جہاں متعدد شامی اب مقامی شہریت حاصل کر کے باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔
روس کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ روس کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات کا آغاز سابقہ حکومت کے خاتمے سے چند دن قبل ہی شروع ہو چکا تھا جو بعد میں باقاعدہ ریاستی سطح کی بات چیت میں تبدیل ہو گیا۔ روس کے اہم فوجی مراکزی "حمیما" اور "طرطوس" کے مستقبل کے حوالے سے اگرچہ ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم دونوں ممالک کے باہمی تعلقات محض سابقہ نظام کے وجود سے مشروط نہیں تھے۔ شام کی زراعت، توانائی اور عسکری شعبے تاریخی طور پر روس سے منسلک رہے ہیں۔ ماسکو نے شام کی سیاسی تبدیلی اور اقتدار کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے نئی حکومت کے ساتھ باہمی احترام، معاہدوں کی پاسداری اور ایک معمول کی ریاستی شراکت داری پر مبنی تعلقات کے نئے باب کی شروعات کی ہے۔ روس کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ بھی شام کے سفارتی اور اقتصادی روابط قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو بلاکس کی کشمکش سے نکال کر ایک کھلی اقتصادی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکے۔
خطے کی سیکیورٹی: لبنان سے تعلقات اور اسرائیل کا کردار
خطے کے سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے صدر احمد الشرع نے اس بنيادی اور اٹل اصول کی وضاحت کی کہ ریاست ہی تمام قانون نافذ کرنے اور ہتھیار رکھنے کا واحد اختیار رکھتی ہے، اور جنگ یا امن کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ملک میں ریاستی اختیار سے باہر مسلح گروہوں کا وجود اور متوازی عسکری ساختیں نہ صرف خود اس ملک کے لیے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے تباہ کن ثابت ہوئی ہیں۔
لبنان اور شام کے درمیان گہرے تزویراتی اور جغرافیائی تعلق کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چونکہ لبنان کی تمام تر زمینی سرحد شام سے ملتی ہے، اس لیے لبنان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر شام پر پڑتا ہے اور اسی طرح گزشتہ چودہ برس کی شامی صورتحال نے لبنان کو متاثر کیا۔ حزب اللہ کی گزشتہ سالوں کے دوران شامی سرزمین پر کارروائیوں اور سابقہ حکومت کے ساتھ مل کر جنگ میں شرکت کے نتیجے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا، وہ انتہائی تلخ تھا۔ تاہم شام اب کسی نئی خانہ جنگی، خونریزی یا عجلت پسندانہ عسکری اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ شام فوجی مداخلت کے ذریعے لبنان کے مسائل حل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ وہ لبنانی حکومت کو مضبوط بنانے اور "طائف معاہدے" کے آئینی اصولوں کے مطابق ریاست کے ہاتھ میں ہتھیاروں کی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے اپنے سفارتی اور سیاسی وسائل لبنانی حکومت کے اختیارات میں دینے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک جامع، اقتصادی اور سیاسی حل سامنے آ سکے۔
اسرائیل کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے صدر الشرع نے کہا کہ شام جہاں غیر ریاستی گروہوں کے خطرات کو تسلیم کرتا ہے، وہیں لبنان اور شام پر اسرائیلی جارحیت اور دمشق تک کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شام فی الوقت اسرائیل کے ساتھ براہِ راست عسکری تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی معاہدے کے ذریعے صورتحال کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس معاہدے کا فوری مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی لانا ہے، تاہم طویل المدتی طور پر مقبوضہ جولان (گولان پہاڑیوں) پر اپنے قومی حق سے شام ایک انچ بھی دستبردار نہیں ہو گا۔ مزید برآں، شام ایک مستقل اور بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام کی کامل حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب اور فرانس کی عالمی کوششوں کا باقاعدہ حصہ ہے۔
علاقائی توازن، ایران کی پالیسیاں اور عراق کے ساتھ روابط
ایران کی علاقائی پالیسیوں اور مسلح ملیشیاؤں کی سرپرستی پر تبصرہ کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ کسی بھی ملک کے اندر بیرونی طاقتوں سے وابستہ عسکری گروہوں کا وجود مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ خطے کے ممالک کو ہمیشہ اسرائیلی یا ایرانی اثر و رسوخ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کی اپنی آزاد، خود مختار اور باوقار سیاسی شخصیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کی فکر شام میں ان کی طویل موجودگی کے باعث ہمارے لیے واضح ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی قیادت خلیجی ممالک کو سیاسی و تاریخی اسباب کی بنا پر ایک آسان ہدف تصور کر کے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت اور داخلی بحران کے باعث ایرانی فیصلہ سازوں اور مذاکرات کاروں کے درمیان رابطے کے فقدان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا۔ احمد الشرع نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تنازع خطے کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے، اس لیے شام، عرب لیگ کے معاہدوں کے تحت اپنے خلیجی بھائیوں کے تحفظ اور امن و سلامتی کے لیے مکمل طور پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
عراق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق کے درمیان تاریخی، قبائلی اور سماجی رشتے انتہائی گہرے ہیں۔ تاہم، عراق میں موجود ریاستی کنٹرول سے باہر سرگرم عسکری ملیشیاؤں اور 'حشد الشعبی' کے بعض عناصر سے شام کو سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق رہے ہیں۔ اس ابہام کو دور کرنے کے لیے شامی حکومت نے بغداد میں وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی حکومت سے براہِ راست رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دمشق 2014ء جیسے ناخوشگوار واقعات کا اعادہ ہرگز نہیں چاہتا، جس پر عراقی حکومت نے مثبت اور ذمہ دارانہ جواب دیا ہے۔
داخلہ پالیسی، عدمِ انتقام اور ادارتی اصلاحات
داخلی حکمرانی اور ریاستی تعمیرِ نو کے باب میں صدر احمد الشرع نے ایک سنہری اصول کا اعادہ کیا کہ ریاستیں انتقام، جذباتیت اور تصادم سے نہیں بلکہ ٹھوس حکمتِ عملی سے بنتی ہیں۔ سابقہ 60 سالہ جبر و استبداد کے بعد عوام کا غصہ اور انصاف کا مطالبہ بالکل بجا ہے، لیکن ریاست کا بنیادی مقصد اندھا دھند انتقام یا ظلم کا اعادہ کرنا نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں حقیقی عدل، انصاف اور شہری امن (Civil Peace) کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ان نظریات کی نفی کی جو شامی انقلاب کو "سنی بمقابلہ شیعہ" فرقہ وارانہ جنگ سے تعبیر کرتے تھے، اور کہا کہ شام کی نئی حکومت شفافیت اور سچائی کو اپنی پالیسی کا محور بنا چکی ہے۔
حکمرانی اور سیاسی نظام کے ماڈل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام کسی بھی مغربی یا بیرونی ماڈل کو من وعن برآمد (Import) نہیں کرے گا، بلکہ دنیا کے کامیاب تجربات سے روشنی حاصل کرتے ہوئے ایک ایسا نظام وضع کرے گا جو شامی معاشرے کی اقدار اور ثقافت کے مطابق ہو۔ اس سلسلے میں عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں "مجلس الشعب" (پارلیمنٹ) کو فعال کیا گیا ہے تاکہ عوام کو اپنے حکمرانوں اور قوانین کے انتخاب کا عملی حق مل سکے۔
ملک میں ادارتی اصلاحات، "ای گورنمنٹ" (ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن) اور سرکاری ملازمین کے طرزِ فکر کی تبدیلی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے ادلب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح نامساعد حالات اور چالیس لاکھ کی آبادی کے باوجود ادلب میں صنعتی اور انتظامی ماڈل قائم کیا گیا، اور وہی تجربہ اب پورے ملک کے اداروں کی ازسرِ نو بحالی میں مدددگار ثابت ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق، لاپتہ افراد اور اقلیتوں کا تحفظ
سابقہ نظام کے جرائم کا حجم اس قدر خوفناک ہے کہ اس کا اندازہ عام انسان کے تصور سے باہر ہے۔ لاپتہ اور مفقود الخبر افراد کے معاملے کو حل کرنے کے لیے شامی حکومت نے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مستقل اور بااختیار ہیئت (کمیشن) قائم کی ہے جو فورنزک شواہد اور بین الاقوامی ماہرین کی روشنی میں مکمل پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہی ہے۔
کرد برادری کے حوالے سے صدر احمد الشرع نے ایک اہم باریکی کی نشاندہی کی کہ مسلح تنظیم 'قسد' (SDF) اور عام کرد شہریوں میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ ماضی میں بنیادی حقوق سے محروم رکھے گئے کردوں کو صدارتی فرمان کے ذریعے مکمل شامی شہریت اور تمام تر ثقاقتی حقوق دیے جا چکے ہیں، جبکہ کردی تہوار "نوروز" کو سرکاری سطح پر قومی تعطیل قرار دیا گیا ہے۔ مسلح گروپ 'قسد' کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کم سے کم نقصان پر مبنی معاہدے کی کوششیں جاری ہیں اور اگرچہ رفتارسست ہے مگر پیشرفت موجود ہے۔
السویداء سمیت دیگر اقلیتوں کے علاقوں کے بارے میں انہوں نے دہرایا کہ ریاست ہر وہ قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کر رہی ہے جو شہریوں کو باہمی تصادم سے بچائے۔ منشیات کے کاروبار اور غیر قانونی اسلحے کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست کی پالیسی اٹل ہے کہ اسلحہ صرف اور صرف ریاست کے پاس رہے گا، اور اس اصول کی حمایت عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی کر رہی ہیں۔
معاشی بحالی، سرمایہ کاری اور روزگار کی پیشرفت
اقتصادی میدان میں شام اب امداد اور خیرات کا طالب ہونے کے بجائے باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری (Investment) کا خواہاں ہے۔ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت نے شام پر سے پابندیاں ہٹوانے کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔ شام ان ممالک کے کامیاب معاشی ماڈل سے سبق حاصل کر رہا ہے۔
ملک میں بنیادی ڈھانچے اور سرمائے کی فراہمی کے لیے توانائی اور بجلی کے نئے پاور پلانٹس؛ سعودی عرب، قطر اور ترکی کے تعاون سے ہوائی اڈوں کی جدید طرز پر ڈویلپمنٹ؛ دمشق و حلب شہروں کی توسیع؛ اور تاریخی شہر تدمر (Palmyra) و لاذقیہ اور طرطوس کی ساحلی پٹی پر بڑے سیاحتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کے تحت عراقی تیل کو شام کی بندرگاہ بانیاس کے ذریعے برآمد کرنے اور کرکوک پائپ لائن کو لبنانی شہر طرابلس سے جوڑنے پر گفتگو جاری ہے۔
مالیاتی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے صدر احمد الشرع نے بتایا کہ اگرچہ شام کا بجٹ 300 سے 400 فیصد تک بڑھا ہے، تاہم یہ ابھی مکمل معاشی نمو کے بجائے ماضی کے نقصان کی بھرپائی کا مرحلہ ہے۔ اس کے باوجود، 2025ء کے آغاز سے اب تک ملک میں 3,700 سے زائد نئی پروڈکشن لائنز (صنعتی خطوط) قائم ہو چکی ہیں اور نئے لائسنسوں کے اجراء میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے جس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔
مہاجرین کی واپسی اور شام کے معاشی مستقبل کا وِژن
سیاسی استحکام اور معاشی تحرک کے نتیجے میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اور بیرونِ ملک مقیم شامیوں میں سے 34 لاکھ (3.4 ملین) سے زائد افراد شام واپس لوٹ چکے ہیں اور ان کی اکثریت نے اپنے گھروں میں مستقل قیام اختیار کر لیا ہے۔ صدر احمد الشرع نے بیرونِ ملک مقیم تمام شامیوں پر زور دیا کہ وہ واپس آئیں اور دنیا بھر سے سیکھی گئی اپنی تمام تر صلاحیتوں اور مہارتوں کو اپنے وطن کی تعمیرِ نو میں صَرف کریں۔
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے شام کی شناخت کو پیچیدہ فلسفیانہ بحثوں سے آزاد کرتے ہوئے کہا کہ شام کی شناخت کسی ازم یا فرقے سے نہیں بلکہ صرف "شامی" ہونے سے ہے جو ہزاروں سال کی تاریخ اور تہذیب کا امین ہے۔ سنگاپور، روانڈا، ترکی اور خلیجی ممالک کی تاریخی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشی انقلاب کے ثمرات مکمل طور پر ظاہر ہونے میں 20 سے 25 سال کا عرصہ لگتا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ شام کی معاشی اور سیاسی ترقی کا گراف اب مسلسل اوپر کی طرف جا رہا ہے اور ہر آنے والا مہینہ شامی عوام کے لیے بہتری کا نیا پیغام لے کر آ رہا ہے۔
