پاکستان کا سیاسی بحران اب تک کیا ہوا ہے اور آئندہ کیا ہونا چاہیے؟
خطاب کے آغاز میں خواجہ محمد سعد رفیق نے واضح کیا کہ اُن کی اِس گفتگو کو مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کے طور پر نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے اور خیالات کے طور پر سنا جائے۔ ’’ہم نیوز‘‘ کے پروگرام میں ہونے والے اس اظہارِ خیال کا لنک آخر میں دیا گیا ہے۔
اختیارات کا ارتکاز اور اداروں کا کردار
برطانوی راج کے خاتمے کے بعد بھی ملک پر وہی استعماری سوچ اور اندازِ حکمرانی مسلط رہا۔ پاکستان میں اختیارات کو چند ہاتھوں میں محدود کرنے کے اس رجحان میں تمام تر طاقتور طبقات برابر کے شریک ہیں:
- اسٹیبلشمنٹ نے علانیہ اور غیر علانیہ مداخلت کے ذریعے سب سے بڑا حصہ ڈالا۔
- ابن الوقت سیاستدان اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے اس نظام کا آلہ کار بنے۔
- نظریۂ ضرورت والی عدلیہ آئین کی پاسداری کی بجائے ہمیشہ سمجھوتے کرتی رہی۔
- سول بیوروکریسی انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کی مرتکب ہوئی۔
انتقامی سیاست اور عوامی مینڈیٹ کی توہین
پاکستان کی سیاست میں انتقامی کارروائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ مخالفین کو صرف اقتدار سے الگ نہیں کیا جاتا بلکہ پاتال میں دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ملک کا کوئی بھی وزیراعظم عزت کے ساتھ رخصت نہیں ہو سکا۔ ہر مقبول رہنما کو جیل بھیجا گیا، یا غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا گیا۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود عوام نے ہمیشہ انہی رہنماؤں کو ووٹ دیا جنہیں قید و بند کا نشانہ بنایا گیا، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طبقات نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
آئینی تجاوزات اور ’بنانا اسٹیٹ‘ کا تاثر
- چوبیس کروڑ نفوس پر مشتمل یہ ایٹمی ریاست آج آئینی پامالیوں کی وجہ سے ایک Banana State جیسا روپ دھار چکی ہے۔
- آئین میں مسلسل تجاوزات کی جا رہی ہیں اور غیر منطقی و غیر قانونی تحفظ Immunity جیسے قوانین شامل کیے گئے ہیں۔
- مسائل کو تنازعات کے حل Conflict Resolution سے سلجھانے کی بجائے جبر، گرفتاریوں اور آوازوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، جس سے ملک کا مستقبل مزید تاریک اور محدود ہوتا جا رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان
- چار دہائیوں کی سیاسی جدوجہد کے بعد آج جمہوریت ایسے چوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سے کوئی راستہ واضح نہیں ہے۔
- سیاسی کارکن لیڈر پرستی میں شرک کی حد تک چلے گئے ہیں، جہاں قائدین کی غلطیوں پر بات کرنے یا اصلاح کی جرأت نہیں کی جاتی۔
- تقریباً ہر سیاسی پارٹی ایک خاندان کی جاگیر بن چکی ہے۔ جو جماعتیں خود اپنے اندر جمہوریت قائم نہیں رکھ سکتیں، وہ ملک میں جمہوریت کی خدمت کرنے سے قاصر ہیں۔
- جمہوری جدوجہد کے سفر کو بار بار مارشل لا یا غیر جمہوری مداخلت کے ذریعے دوبارہ صفر پر لا کھڑا کیا جاتا ہے، جس سے جمہوری پختگی حاصل نہیں ہو پا رہی۔
صوبائی و علاقائی بحران
صرف نئے انتظامی یونٹس یا بااختیار بلدیاتی نظام لانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک ’’نیت‘‘ صاف نہ ہو۔ آج ملک کے مختلف حصے سنگین انتظامی و سیاسی بحران کا شکار ہیں:
- بلوچستان کے عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی توہین نے صورتحال کو بگاڑا ہے، جہاں آزادانہ انتخابی نتائج کے بجائے مرضی کے افراد کو مسلط کیا گیا (چنتخب نظام)۔
- آزاد کشمیر میں ’’ریاست کی رِٹ‘‘ قائم کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور رِٹ کو ختم کیا جا رہا ہے۔
- خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک ابتر ہو چکی ہے کہ رات کے اوقات میں مسلح گروہ آزادانہ گشت کرتے ہیں اور ریاستی عملداری ختم ہو جاتی ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
نظام کو درست راستے پر لانے اور اس بند گلی سے نکلنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- سب سے پہلے ایک حقیقی اور منتخب پارلیمنٹ کا قیام یقینی بنایا جائے اور تمام ادارے (سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی) آئین کی مکمل پاسداری کا عہد کریں۔
- چونکہ سیاسی جماعتیں خاندانی اجارہ داریوں میں جکڑی ہوئی ہیں، اس لیے سول سوسائٹی، تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اقتدار کے ایوانوں پر عوامی دباؤ بڑھانا ہوگا۔
- ہر سیاسی جماعت کے اندر ایسے باضمیر لوگوں کا ہونا ضروری ہے جو غلط باتوں کی نشان دہی کر سکیں اور جماعت کے اندر اصلاح کا باعث بنیں۔
- صحافتی برادری کو دھڑے بندی اور جانبداری سے نکل کر حق اور سچ کا علم بلند کرنا ہوگا۔
اگر اب بھی عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا، آئین پر عملدرآمد نہ ہوا، اور اصلاحِ احوال کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے، تو ملک کو جو نقصان پہنچے گا اس کا بوجھ یہ ریاست برداشت نہیں کر سکے گی۔ اس تباہی کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان ملک اور قوم کا ہوگا اور تمام فریقین ناکام ٹھہریں گے۔
