انسان کو کتنی زمین چاہیے؟
ایک کسان کی سبق آموز کہانی!

آج سے سو سال پہلے ٹالسٹائی نے ایک کسان کی کہانی لکھی تھی۔ وہ کسان ایک محنتی اور عام سا کسان تھا۔ وہ بہت زیادہ لالچی اور برا انسان نہیں تھا مگر اس کے ذہن میں ایک ہی بات سوار رہتی تھی کہ اگر میرے پاس تھوڑی اور زمین ہو جائے تو میں دنیا کا سب سے خوشحال آدمی بن جاؤں گا، اور پھر مجھے کوئی فکر نہیں رہے گی یا مجھے کسی کا ڈر نہیں رہے گا۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت زمین خریدتا ہے لیکن جلد ہی اس سے اکتا جاتا ہے، کیونکہ وہ تو وہی ہو جاتی ہے۔ اسے ہمیشہ لگتا کہ ساتھ والے کسان کے پاس اس سے زیادہ اور اس سے بہتر زمین ہے، اور وہ اس سے زیادہ بہتر اور خوشحال کسان بن سکتا ہے۔

ایک دن اسے پتہ چلا کہ ساتھ والے ایک قبیلے میں بہت سستی زمین بک رہی ہے۔ وہ بھاگ کر صبح صبح وہاں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں قبیلے کا سردار اس کو ایک ایسی آفر دیتا ہے جس کو سن کر وہ حیران اور خوش بھی ہو جاتا ہے۔ سردار کہتا ہے کہ تم صبح سویرے سورج نکلتے ہی یہاں سے چلنا شروع کرو اور شام کو سورج ڈھلنے سے پہلے پہلے تم جتنا فاصلہ طے کر کے واپس اِس مقام پر آ جاؤ گے، وہ ساری زمین محض ایک ہزار ڈالر کے عوض تمہاری ہو جائے گی، لیکن شرط یہ تھی کہ اگر تم سورج ڈھلنے سے پہلے واپس اِسی مقام پر نہ پہنچے تو تمہارے پیسے بھی ڈوب جائیں گے اور تمہیں کوئی زمین نہیں ملے گی۔

خیر، کسان خوشی خوشی اگلی صبح پہنچتا ہے، اپنے جوگرز پہنتا ہے، تیار ہوتا ہے، پانی وانی پیتا ہے اور چلنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ جیسے جیسے آگے چلتا جاتا ہے، اسے پہلے سے بہتر، زرخیز اور خوبصورت زمین نظر آتی جاتی ہے۔ ہر لمحے پر جہاں اس کو ایک پڑاؤ نظر آتا ہے، وہ رکنے کی بجائے سوچتا ہے کہ تھوڑا سا اور آگے چلتا ہوں، اتنی اچھی زمین پھر کہاں سے ملے گی! تھوڑی دیر میں اگلے پڑاؤ پہ پہنچتا ہے، وہاں وہ رک سکتا ہے، پانی پی سکتا ہے، آرام کر سکتا ہے، لیکن وہ کہتا ہے کہ آج ٹائم ضائع کرنے کا نہیں ہے، آج مجھے زیادہ سے زیادہ زمین لینی ہے۔ اور آگے والی زمین اس کو پہلے سے زیادہ زرخیز نظر آ رہی ہوتی ہے، وہ اس کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے اور چلتا جاتا ہے۔

دوپہر گزر جاتی ہے لیکن چونکہ اس کو ہر وقت نئی زمین نظر آ رہی ہے، اس کی ہوس ختم نہیں ہوتی۔ جب وہ واپس مڑنے لگتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تو بہت دور نکل آیا ہے اور سورج تقریباً ڈھلنے والا ہے۔ اب واپسی کے سفر میں وہ چلنے کے بجائے بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا دل تیز دھڑک رہا ہے، سانس کی وجہ سے پھیپھڑے پھٹ رہے ہیں، اور پیروں سے خون بہہ رہا ہے، لیکن وہ پاگلوں کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔

آخری لمحات میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، وہ گرتے پڑتے سٹارٹنگ پوائنٹ پر پہنچ جاتا ہے جہاں سردار کا ڈیرہ ہوتا ہے، لیکن وہاں پہنچتے ہی وہ نیچے گر جاتا ہے۔ لوگ اسے اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مر چکا ہوتا ہے۔ زیادہ بھاگنے اور تھکن کی وجہ سے اس کا دل بند ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے ملازم آگے بڑھتے ہیں، ایک گڑھا کھودتے ہیں اور اسے دفنا دیتے ہیں۔ اس کسان کو سر سے پاؤں تک کل چھ فٹ زمین کی ضرورت تھی اور وہی اسے آخر میں ملتی ہے۔

دوستو! یہ صرف ایک کسان کی کہانی نہیں ہے، یہ انسانی نفسیات کی کہانی ہے۔ انسانی نفسیات ہی ایسی ہے کہ جب اسے کوئی چیز مل جاتی ہے، جس کی وہ خواہش کرتا ہے، تو تھوڑے ہی دنوں میں وہ نارمل ہو جاتی ہے اور وہ اس سے اگلی چیز کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ سائیکالوجی میں اس کو Happiness Treadmill یا Hedonic Treadmill کہتے ہیں۔ جیسے ہی نئی گاڑی، نیا گھر، نئی ملازمت، نیا لیپ ٹاپ، نیا موبائل فون، بڑا گھر، بڑی زمین، یا کسی دوسرے ملک کی امیگریشن جیسی چیزیں ہمیں ملتی ہیں، ہمارا دل اور دماغ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو ٹھیک ہے Taken for Granted، اب وہ جو اگلی منزل ہے، اگلی جو خواہش ہے، اگر مجھے وہ مل جائے گی تو پھر میں خوش ہو جاؤں گا، ابھی میں خوش نہیں ہوں۔ اس کے بعد ہم ایک نئی خواہش کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ہماری جو گول پوسٹ ہے، وہ فکس نہیں ہوتی جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا ہوتا ہے، بلکہ ہر تھوڑے عرصے بعد وہ آگے ہی آگے منتقل ہوتی جاتی ہے اور ہم اس کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔

دوستو! کسان کا مسئلہ زمین نہیں تھا، یہ نہیں تھا کہ اس کے پاس زمین نہیں ہے یا اس کے پاس روزگار نہیں ہے۔ اس کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے لیے کامیابی کا معیار مسلسل بڑھاتا جا رہا تھا، اور جب انسان اپنی خواہشات کی حد متعین نہیں کرتا تو وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہمیشہ اس سے آگے کوئی نہ کوئی چیز رہتی ہے اور ذہن نئی چیز دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ جو چیز موجود ہے اس کو دیکھ کر ہمارے ذہن میں وہ Dopamine نہیں نکلتی۔

آج ہم سب ایک نہ ایک طرح سے وہی کسان بن چکے ہیں۔ آج کی دنیا میں زمین کی جگہ پیسہ، دولت، عہدہ، دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ، سوشل میڈیا کے فالوورز، ڈیزائنر برانڈز، اور لائکس آ گئے ہیں؛ اور ہم اس Hustle Culture میں دن رات کاشتکار کی طرح مشغول رہتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم اپنے بچوں کو وقت نہیں دیتے، اپنی صحت خراب کر لیتے ہیں، اپنے ذہنی سکون کا سودا کر لیتے ہیں — صرف اس لیے کہ ہم کچھ اور حاصل کر سکیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ بس اگلی پروموشن، اگلا گھر، یا اگلی گاڑی مل جائے تاکہ ہم مطمئن ہو کر ریٹائر ہوں گے، لیکن اکثر یہ دن کبھی نہیں آتا، کیونکہ ہمارے لیے کیا کافی ہے، اس کی ہم نے کوئی حد متعین نہیں کی ہوتی۔ جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے بس وہ چاہیے۔ جو موجود ہے وہ کافی نہیں ہے۔

دوستو! اس کہانی کے آخر پہ میں کوئی نتیجہ نہیں نکالتا۔ میں بس آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ ہم نے کبھی اس چیز پر غور کرنے کی کوشش کی ہے، یا اپنے لیے یہ حد مقرر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے لیے کیا کافی ہے؟ تاکہ ہم اس حد پہ پہنچ کر مطمئن ہو جائیں اور باقی زندگی سکون سے گزار سکیں، نہ کہ آخری دم تک صرف مزید، مزید اور مزید، یعنی اگلی گاڑی، اگلے پروموشن اور اگلے بنگلے کے چکر میں اپنی زندگی خراب کرتے رہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے کمنٹس میں ضرور بتائیے۔

fb.com/reel/959789073291411


اقسام مواد

خطابات