جامعہ کراچی اور اعلیٰ تعلیم — مصنوعی ذہانت کے دور میں

یہ انٹرویو ’’آج نیوز‘‘ کے سینئر اینکر پرسن عامر ضیاء نے اپنے پروگرام ’’نیوز انسائٹ اسپیشل‘‘ میں کراچی یونیورسٹی (جامعہ کراچی) کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی سے کیا۔ عامر ضیاء عموماً سیاست، معیشت اور دہشت گردی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں، جبکہ اس پروگرام میں انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے موضوع کو منتخب کیا اور پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ کے سربراہ سے تعلیمی مسائل، نصاب کی تشکیلِ نو، مصنوعی ذہانت کے چیلنجز، جامعہ کراچی کے خستہ حال بنیادی ڈھانچے، مالی خسارے اور اصلاحات کے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر وسیم قاضی نے وائس چانسلر کے بدلتے ہوئے کردار، فیس بڑھانے کی بجائے اینڈومنٹ بنانے، ڈگریوں کو سکل بیسڈ بنانے، اساتذہ کی کمی، لائبریری کی نایاب تاریخی ورثے کی بحالی، اور بین الاقوامی تعاون جیسے اہم امور پر اپنے خیالات اور منصوبے پیش کیے۔

وائس چانسلر کے کردار میں تبدیلی

  • وائس چانسلر کا کردار شروع سے ہی کئی ذمہ داریوں پر مشتمل رہا ہے، جن میں تعلیمی قیادت، اساتذہ کی بھرتی، مالی استحکام، سہولیات کی فراہمی اور تحقیقی ماحول کی تشکیل شامل ہے۔
  • وائس چانسلر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، یہ ایک ٹیم ورک ہے جس میں وائس چانسلر ’’بینڈ ماسٹر‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔
  • ادارے کو منافع بخش بنانے، فیس بڑھانے اور فنڈنگ لانے کے بجائے اصل توجہ تعلیم و تحقیق پر ہونی چاہیے۔

مالی استحکام کے حوالے سے موقف

  • فیس بڑھانے سے مالی استحکام نہیں آتا، بلکہ اینڈومنٹ (وقف) بنا کر مالی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
  • طلبہ کو فیس کی فکر نہ ہو، اس کے لیے اینڈومنٹ اس طرح بنایا جائے کہ تعلیم مفت یا سستی ہو۔
  • ادارے کے اخراجات کم کرنے کے لیے مشترکہ کورسز (کامن کورسز) کو بڑے پیمانے پر پڑھایا جا سکتا ہے، جس سے اساتذہ کی ضروریات پوری ہوں اور معیار بھی بہتر ہو۔

ڈگری کی اہمیت اور نصاب کی تشکیل نو

  • دنیا میں ڈگریوں کا ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے، اب مائیکرو کریڈنشل اور سکل بیسڈ ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔
  • ہر کورس کا تعلق کسی نہ کسی مہارت (skill) سے ہونا چاہیے، جیسے تنقیدی سوچ، اخلاقی مہارت اور تکنیکی مہارت۔
  • نصاب کو عالمی اور ملکی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
  • ڈگری پروگراموں کی مکمل تشکیل نو کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، تکنیکی قابلیت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور انسانیت پسندانہ رویہ پیدا ہو-

دو قسم کے ڈگری راستے

  • کارپوریٹ ریڈی نیس پاتھ: پہلے دو سال وسیع تر ماحول سے واقفیت، ایک سال مضمون کی تعلیم، اور آخری سال صنعت میں تربیت۔
  • انٹرپرینیوریل پاتھ: طالب علم اپنا کاروباری آئیڈیا انکیوبیٹ کرکے ایکویٹی کے ساتھ گریجویٹ ہو۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور تعلیم

  • AI کے دور میں دستی مشقت کی بجائے تنقیدی سوچ، فلسفہ، نفسیات، ریاضی اور اخلاقیات جیسے مضامین کی اہمیت بڑھے گی۔
  • AI کو محض ایک مضمون کے طور پر پڑھانے کے بجائے اس کی سمجھ اور اسے کنٹرول کرنے کی تعلیم دینی چاہیے۔
  • AI سے انسان کی تخلیقی صلاحیت اور وجودیت کو خطرہ ہے، اس لیے انسان کو ’’مادی نقطہ نظر‘‘ سے نکل کر سوچنا ہوگا۔
  • اساتذہ خود بھی AI (جیسے چیٹ جی پی ٹی) سے پرچے اور کورس میٹیریل بنا رہے ہیں، یہ تشویشناک ہے۔
  • طلبہ کو سوچنا اور سیکھنے کا طریقہ سکھانا ضروری ہے، ورنہ وہ کہیں نہیں پہنچیں گے۔
  • اساتذہ کو پہلے نئی ٹیکنالوجی سکھائی جائے، ورنہ سب معاشرے کی تباہی کے ذمہ دار ہوں گے۔

جامعہ کراچی کے مسائل

  • جامعہ کراچی میں 47,000 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ اساتذہ کی تعداد 1000 سے کم ہے۔
  • 1975ء تک بنیادی ڈھانچہ بہت اچھا تھا لیکن اب 2026ء میں زیادہ تر عمارتیں خستہ حال ہیں، واش رومز اور کلاس رومز مرمت کے محتاج ہیں۔
  • گزشتہ تین سالوں میں لائبریری کے لیے صرف 2 لاکھ روپے کی کتابیں خریدی گئیں۔
  • لائبریری کا سالانہ بجٹ تقریباً 5 کروڑ روپے ہے جس کا مشی گن یونیورسٹی جیسے ادارے کی لائبریری سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔
  • لائبریری میں 1033ء عیسوی کا قرآنی نسخہ، بیدل کے ہاتھ کی تحریر، اور قیام پاکستان کے وقت کے پرانے نقشے موجود ہیں، لیکن ان کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔
  • 1958ء میں قائم شدہ شعبہ حیوانیات (Zoology) میں نایاب جنگلی حیات اور حشرات کے نمونے تہہ خانے میں محصور ہیں۔
  • 1975ء کے بعد جامعہ کی تاریخ لکھی ہی نہیں گئی۔

بحالی اور اصلاحات کے منصوبے

  • 4 سے 5 ارب روپے میں جامعہ کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی ممکن ہے، جسے مرحلہ وار نافذ کیا جا سکتا ہے۔
  • 6 سے 8 ماہ میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
  • 10 شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سیکیورٹی اور سرویلنس بھی شامل ہے۔
  • جامعہ کی سڑکیں راہ گزر بن گئی ہیں، جس سے چوریاں اور سیکیورٹی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
  • کلاس رومز کو جدید سامان سے لیس کرکے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم بنایا جائے۔
  • لرننگ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ بلیک بورڈ اور چاک کی بجائے ڈیجیٹل تعلیم ہو۔
  • 3 سے 4 ماہ میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار ہو جائے گا، جس سے مختلف جامعات کے اساتذہ کے لیکچرز سے طلبہ مستفید ہو سکیں گے۔
  • جدید اصلاحات سے کلاس روم کی شکل بدل جائے گی اور استاد معلومات دینے کے بجائے تصورات پر طلبہ سے بات چیت کرے گا۔

مالیاتی خسارہ اور اس کا حل

  • سندھ حکومت جامعہ کراچی کو 39 ارب روپے دے رہی ہے، جو خوش آئند ہے۔
  • تخمینی آمدنی تقریباً 11 ارب روپے ہے، جبکہ اخراجات تقریباً 13 ارب روپے ہیں، یعنی 2 ارب روپے کا خسارہ ہے۔
  • خسارہ کم کرنے کے لیے: ڈگری پروگراموں کی تشکیل نو، اسپن آف کمپنیاں (60-70 کمپنیاں گریجویٹ ہوں تو جامعہ کو ایکویٹی ملے گی)، ادارہ جاتی گورننس میں بہتری، اور مشترکہ کورسز کی بڑے پیمانے پر تعلیم۔
  • جامعہ کا اپنا میوزیم بنایا جائے جس میں نایاب نمونے، قرآنی نسخے اور ہال آف فیم شامل ہوں۔
  • شعبہ تصنیف و تالیف اور شعبہ تاریخ کو ملا کر جامعہ کی تاریخ لکھنے پر کام کیا جائے۔

اساتذہ کی بھرتی اور معیار

  • اساتذہ کی خالی آسامیاں جلد بھر دی جائیں گی، اشاعت کونسل کی ضروریات کے مطابق۔
  • بھرتی پالیسی کو پرکشش بنایا جائے تاکہ اچھے لوگ آئیں۔
  • ایک استاد کئی یونیورسٹیوں میں پڑھا رہا ہے، اس ڈراپ کو پورا کرنے کے لیے ’’ڈسٹری بیوٹڈ لرننگ ماڈل‘‘ اپنایا جائے۔
  • سندھ کی 33 جامعات کے بہترین شعبوں (جیسے فلسفہ، کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن) کے اساتذہ کو آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے منسلک کیا جائے۔ اس سے جامعہ کو مالی فوائد بھی ملیں گے اور اخراجات بھی نہیں بڑھیں گے۔

بین الاقوامی تعاون اور ثقافتی سفارت کاری

  • انسٹیٹیوٹ آف کنفیوشس کے ساتھ چین کے کونسل جنرل سے ملاقات ہوئی۔
  • زبان کو سائنس اور سوشل سائنسز کے مضامین کے ساتھ ملا کر ثقافتی ورثے اور تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
  • پاک چائنا سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی قائم کیا جائے۔
  • پاک چائنا، پاک آسٹریا، یا پاک یورپین میوزیم بنایا جائے جہاں تاریخ کے حوالے سے بات ہو۔
  • مختلف زبانوں (بنگالی، عربی، فارسی، فلسفہ، اردو، یورپین اسٹڈیز، پاکستان اسٹڈیز) کے شعبے بین الاقوامی طلبہ کو راغب کر سکتے ہیں۔
  • یہ شعبے ڈپلومیٹک سفارت کاری کے لیے بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔
  • یورپین اسٹڈی سینٹر اور پاکستان اسٹڈی سینٹر کو دوبارہ فعال کیا جائے۔
  • آن لائن ڈسٹینس لرننگ پلیٹ فارم بنا کر افریقی ممالک تک تعلیم پہنچائی جا سکتی ہے، جس سے آمدنی بھی ہو اور ملک کی شناخت بھی بڑھے۔

قیادت کا وژن

  • پہلا مرحلہ: اچھی ٹیم کی نشاندہی۔
  • دوسرا مرحلہ: ٹیم کے ساتھ اسٹریٹجک پلان بنانا۔
  • تیسرا مرحلہ: اسٹریٹجک پلان کے ساتھ ایکشن پلان بنانا۔
  • 10 ترجیحی شعبے: سیکیورٹی و سرویلنس، کلاس رومز کی جدید کاری، مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم، لرننگ کنٹینٹ کی مرکزیت، بھرتی، بین الاقوامی کاری، وغیرہ۔

تعلیم کا اصل مقصد

  • اچھا انسان بننا اصل مقصد ہے، اچھی نوکری ثانوی چیز ہے۔ اگر انسان سوچنا سمجھنا جانتا ہو تو نوکری خود مل جاتی ہے۔
  • ہماری قوم وہ ہے جسے ’’ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو‘‘ کا حکم دیا گیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ’’رب زدنی علما‘‘ ہے۔
  • نئی چیزیں سیکھنا اور پرانی غلط چیزوں کو بھلانا دونوں ضروری ہیں۔
  • 20ویں صدی کا کلاس روم کچھ اور تھا، 21ویں صدی میں ہم ابھی داخل نہیں ہوئے، یہ چند سالوں کی بات ہے۔

https://youtu.be/9qP9GE5S4kc


اقسام مواد

انٹرویوز, نکات