دعا و تدبیر: امت کے لیے نجات کا راستہ

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے اس خطاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کسی بھی جائز مقصد کے حصول کے لیے دعا اور عملی کوشش دونوں لازم ہیں۔ محض دعا بھی کافی نہیں اور صرف اپنی کوشش پر بھروسا کرنا بھی درست نہیں۔ اسی اصول کو انہوں نے فرد کی اصلاح سے لے کر امتِ مسلمہ کی آزادی اور دفاع تک کے معاملات پر منطبق کیا ہے۔ یہاں ان کے خطاب کے اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں:

  • مسلمان کی کامیابی کا بنیادی اصول دعا اور کوشش کا امتزاج ہے۔ انسان کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور کوشش کرنی چاہیے، لیکن کامیابی کا دارومدار صرف اپنی کوشش پر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق بھی مانگنی چاہیے۔
  • اصلاحِ نفس میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اگر کوئی شخص سچا اور پکا مسلمان بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانا ہوگا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی ہوگی کہ وہ اسے اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔
  • نماز باجماعت کی پابندی کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں باجماعت نماز کے لیے نہیں اٹھ پاتا، اسے صرف یہ دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ اسے پابندی کی توفیق دے، بلکہ نماز کا وقت آنے پر خواہ طبیعت آمادہ ہو یا نہ ہو، اپنے نفس پر جبر کرکے مسجد کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔
  • گناہ سے بچنے کا طریقہ بھی یہی ہے۔ اللہ سے گناہ سے نجات کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو گناہ کے اسباب اور مواقع سے خود کو بچانے کی عملی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ دعا کے ساتھ عمل نہ ہو تو مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔
  • یہی اصول امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت، مغربی طاقتوں پر انحصار اور سیاسی و دفاعی غلامی سے نجات کے لیے صرف شکوہ یا زبانی تبصرے کافی نہیں؛ اللہ تعالیٰ سے رجوع کے ساتھ عملی تدابیر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
  • فلسطین اور غزہ کی صورتِ حال کو اسی تناظر میں بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب نے اسرائیلی جارحیت، غزہ کے محاصرے اور وہاں کے مسلمانوں کی مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان حالات میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور پر رجوع اور دعا کرنی چاہیے۔
  • پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو انہوں نے امید کی ایک کرن قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسے تاریک عالمی ماحول میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے دفاع کا عہد ایک اہم اور خوش آئند پیشرفت ہے، جس سے امتِ مسلمہ میں باہمی تعاون کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
  • اس معاہدے کو حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا گیا۔ مفتی صاحب کے مطابق پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ سعودی عرب اور بالخصوص حرمین شریفین کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرے گا، جبکہ سعودی عرب بھی پاکستان کے دفاع میں اس کا ساتھ دے گا۔
  • انہوں نے پاکستان کی دفاعی خودکفالت کو دعا اور کوشش کے نتیجے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کو بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اپنی دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اس کی دفاعی قوت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
  • پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پاکستانی افواج کی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تعبیر کیا اور اسے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور خود انحصاری کے اظہار کے طور پر پیش کیا۔
  • ان کے نزدیک پاکستان کی ایٹمی قوت اور دفاعی صلاحیت نے عالمِ اسلام میں اس کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اسی پس منظر میں سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
  • پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو انہوں نے محض سیاسی تعلق نہیں بلکہ دینی اور روحانی وابستگی بھی قرار دیا۔ سعودی عرب کی اہمیت حرمین شریفین کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے خصوصی تقدس رکھتی ہے، اس لیے دونوں ممالک کا قریب آنا ایک قابلِ مسرت امر ہے۔
  • انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دفاعی تعاون آگے چل کر دوسرے مسلم ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ اگر عالمِ اسلام کے مختلف ممالک باہمی اتحاد اور تعاون کی طرف بڑھیں تو بیرونی طاقتوں کے لیے انہیں غلام بنانا یا ان کے حقوق پامال کرنا آسان نہیں رہے گا۔
  • غزہ کے لیے جاری بحری امدادی قافلے کا بھی ذکر کیا۔ مفتی صاحب نے صمود نامی بحری قافلے کو اسرائیلی محاصرے اور جارحیت کے خلاف ایک علامتی اور پُرامن کوشش قرار دیا اور اس کی کامیابی و حفاظت کے لیے مسلمانوں سے دعا کی اپیل کی۔
  • انہوں نے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کو ہر مسلمان کی ذمہ داری قرار دیا۔ ان کے مطابق ہر نماز میں غزہ، فلسطین اور دنیا بھر میں ظلم کا شکار مسلمانوں کے لیے دعا کی جانی چاہیے، کیونکہ عام مسلمان شاید میدانِ عمل میں کوئی بڑا کردار ادا نہ کر سکے، لیکن دعا ہر شخص کے اختیار میں ہے۔
  • دعا کو انہوں نے مومن کا ایک بڑا ہتھیار قرار دیا۔ جس طرح انسان اپنی صحت، روزگار اور ذاتی ضروریات کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہے، اسی طرح اسے امتِ مسلمہ، پاکستان، سعودی عرب اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے بھی باقاعدگی سے دعا کرنی چاہیے۔

خطاب کا آخری اور جامع پیغام یہی ہے کہ مسلمانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر امت اپنے حالات بدلنے کے لیے عملی کوشش بھی کرے اور پوری اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگے تو اللہ کی رحمت سے غلامی، ظلم اور مصیبت کے موجودہ حالات سے نجات کی راہ نکل سکتی ہے۔

https://youtu.be/Y-nJcneMvjI


اقسام مواد

نکات