امریکی صحافی ایڈوِن نیومین کا اسرائیل کی وزیراعظم گولڈا مائیر سے انٹرویو
1967ء کی جنگ، جس میں اسرائیل نے شام کی گولان پہاڑیوں، مصر کے صحرائے سینا، اور اردن کے زیر انتظام یروشلم شہر بشمول بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا، اس جنگ کے تین سال بعد کے ماحول میں 1970ء کے دوران اس وقت کی اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مائیر سے امریکی صحافی ایڈوِن نیومین نے ایک انٹرویو کیا تھا، اس کی رپورٹ تب کے اسرائیل کے سرکاری موقف کے طور پر پیش کیا جا رہی ہے۔
مشہور صحافی ایڈون نیومین نے مارچ 1969ء میں بننے والی اسرائیل کی وزیراعظم گولڈا مائیر کے سامنے ریاست اسرائیل کو درپیش مسائل کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے۔ اس انٹرویو میں وزیراعظم اسرائیل نے اپنے موقف، تاریخ، اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو کی۔
فلسطینیوں کی عسکری سرگرمیاں
نیومین نے انٹرویو کا آغاز اُن فلسطینی عرب گروپوں کے حوالے سے کیا جو ہائی جیکنگ اور میونخ میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے قتل جیسے واقعات میں ملوث پائے گئے۔ گولڈا مائیر نے سے کہا:
”کسی بھی قانونی حیثیت کے تحت، اگر جس سرزمین کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اسرائیل ہے تو کوئی فلسطینی قوم نہیں ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے یہاں کوئی آزاد عرب ریاست نہیں تھی۔ فلسطین کا پورا علاقہ بحرِ روم سے عراق کی سرحد تک تھا۔ 1922ء میں پہلی تقسیم ہوئی، جب اردن کو الگ کر دیا گیا۔ 1947ء میں دوسری تقسیم ہوئی۔ اگر عرب واقعی ایک فلسطینی ریاست چاہتے تھے تو وہ 1948ء سے 1967ء کے درمیان جب مغربی کنارہ اردن کے قبضے میں تھا، ایسا کر سکتے تھے۔ یہ محض اسرائیل کو ختم کرنے کی ایک چال ہے۔“
پناہ گزینی کا المیہ
جب نیومین نے انسانی ہمدردی کے تحت پناہ گزینوں کے شکار ہونے کی بات کہی تو گولڈا مائیر نے جواب دیا:
”میں تسلیم کرتی ہوں کہ لاکھوں افراد دکھی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن انہیں دوبارہ آباد کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ خود عرب ممالک ہیں۔ انہوں نے ان پناہ گزینوں کو ایک ہتھیار بنا رکھا تھا۔ اسرائیل نے ان کے پیچھے چھوڑی گئی جائیدادوں کا معاوضہ دینے کی پیشکش کی، اور ہزاروں کو ان جگہوں پر واپس آنے دیا جہاں سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن عرب قیادت نے انہیں کیمپوں میں ہی رکھنا پسند کیا تاکہ وہ اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکیں۔“
”ہم یہودی پناہ گزینوں کی قوم ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ہم اجنبیوں کے درمیان تھے، جبکہ یہ عرب اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہیں۔ ہم نے عراق، شام، یمن سے آنے والے لاکھوں یہودی پناہ گزینوں کو جذب کیا۔ عربوں کے لیے بھی ایسا کرنا ممکن تھا لیکن انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔“
عسکری سرگرمیوں کے خلاف اسرائیل کا موقف
نیومین نے دہشت گردوں کے خلاف اسرائیل کی سخت پالیسی پر سوال اٹھایا تو گولڈا مائیر نے جواب دیا:
”معصوم جانیں ہر صورت میں قیمتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گرد یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھی قیدیوں کو رہا کیا جائے، تاکہ وہ مزید اسرائیلیوں کو قتل کر سکیں؟ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے، لیکن اسرائیل یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’اگر اسرائیلی مر رہے ہیں تو کوئی بات نہیں‘۔ ہم نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے، کیونکہ اس کا مطلب مزید قتل و غارت گری ہو گی۔“
عرب حکمرانوں کا خوف
نیومین نے کہا کہ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق عرب رہنماؤں کے لیے اسرائیل سے امن قائم کرنا سیاسی خودکشی ہو گی۔ اس پر گولڈا مائیر نے تبصرہ کیا:
”ہم سب کو اس بارے میں سوچنا ہے۔ لیکن کیا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان ممالک کے اندرونی معاملات دیکھیں؟ وہ جمہوری نہیں ہیں، وہ آمریتیں ہیں۔ ہر ڈکٹیٹر نے اپنے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ اسرائیل کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اگر وہ اچانک امن کی بات کریں تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ وہ ڈرے ہوئے ہیں، اپنے دوستوں پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔ جبکہ ہماری جمہوری نظام میں اگر حکومت کوئی فیصلہ کرتی ہے اور پارلیمنٹ میں ہار جاتی ہے تو نئے انتخابات ہوتے ہیں، لیکن ریاست قائم رہتی ہے۔ وہاں تو لیفٹیننٹ بندوق اٹھا کر صدر کو جیل بھیج سکتا ہے۔ یہ المیہ ہے۔“
مشرقِ وسطیٰ میں روس، امریکہ اور مصر کی حکمتِ عملی
نیومین نے روسی انخلا اور مصر کے انور سادات کے امریکہ اور یورپ سے قریب ہونے کے بعد دوبارہ روس کی طرف لوٹنے پر سوال کیا۔ گولڈا مائیر نے کہا:
”سادات نے روسیوں کو اس لیے بھیجا کہ شاید اسرائیل پر دباؤ ڈال کر امریکی انہیں خوش کریں گے ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر انہوں نے یورپ سے مدد مانگی، وہ بھی نہ ملی۔ اب وہ دوبارہ روس کے پاس جا رہے ہیں۔ یہ ڈر اور بے یقینی کا نتیجہ ہے۔ امریکہ اور یورپ نے صاف کہہ دیا کہ مذاکرات ضروری ہیں، اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا کوئی حل نہیں۔ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، چاہے بلاواسطہ ہی کیوں نہ ہوں۔“
مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں
جب نیومین نے فلسطینیوں کے مکانوں کو گرانے اور اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تو گولڈا مائیر نے کہا:
”ہم بستیاں اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ 1967ء کی سرحدیں ہمارے لیے محفوظ نہیں تھیں۔ لیکن یہ جھوٹ ہے کہ ہم عرب گھروں کو تباہ کر کے بستیاں بناتے ہیں۔ غزہ میں کچھ گھر دہشت گردوں کے ٹھکانے ہونے کی وجہ سے تباہ کیے گئے، اور وہ بھی سڑکوں کو چوڑا کرنے اور لوگوں کی بہبود کے لیے۔ ہم فرشتے نہیں ہیں، لیکن اتنے بُرے بھی نہیں جتنا بتایا جاتا ہے۔ جہاں تک انتظامی حراست کا تعلق ہے، وہ دہشت گردوں کے لیے ہے، اور ہم نے 1967ء کے بعد کسی کو پھانسی نہیں دی۔ ہر سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا۔“
گولڈامائیر کا ذاتی سفر: روس سے ملواکی اور وہاں سے یروشلم
نیومین نے گولڈا مائیر کی ذاتی زندگی کا بھی احوال پوچھا۔ کیف میں پیدائش، پنسک، پھر ملواکی اور بالآخر 1921ء میں تل ابیب آمد۔ گولڈا مائیر نے کہا:
”میری پہلی یاد یہ ہے کہ میرے والد اور پڑوسی دروازوں پر کِلیں ٹھوک رہے تھے کیونکہ افواہ تھی کہ ایک اور قتلِ عام ہونے والا ہے۔ یہودی ہونے کی وجہ سے اس خوف نے میری زندگی کی سمت طے کی۔ آج میرے پوتے پوتیاں اس خوف سے آزاد ہیں۔ وہ فوج میں جاتے ہیں، جنگیں لڑتے ہیں، لیکن چھپنے کا خوف نہیں رکھتے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“
اسرائیل میں یہودی آبادکاری کی گنجائش
نیومین نے پوچھا کہ اسرائیل کتنے لوگوں کو سہارا دے سکتا ہے؟ گولڈا مائیر نے بتایا:
”برطانوی رائل کمیشن نے کہا تھا کہ اس ملک میں بلی بھی نہیں گھوم سکتی۔ ڈاکٹر وائزمین نے کہا تھا کہ ہر آنے والے یہودی کے سوٹ کیس میں کچھ اور یہودیوں کی جگہ ہوتی ہے۔ آج ہم 30 لاکھ ہیں، اور زمین کا بڑا حصہ غیر کاشتہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، صنعت، سائنس — یہ سب ہمیں اور زیادہ لوگ لینے کی صلاحیت دیتے ہیں۔“
کسی بات کا افسوس؟
جب نیومین نے پوچھا کہ کیا انہیں کبھی کسی چیز کا افسوس ہوا — بیوٹی پارلر نہ جانا، محدود کپڑے، مشکل وقت — تو گولڈا مائیر نے جواب دیا:
”میں کبوتس میں استاد نہیں تھی بلکہ مرغیاں پالنے والی اور روٹی پکانے والی تھی۔ اور نہیں، مجھے کبھی کسی چیز کا افسوس نہیں ہوا۔ ایسا شخص جو یہ دیکھ لے کہ پناہ گزینوں کی قوم سے یہودی ایک خودمختار قوم بن گئی ہے جس پر اب کوئی ترس نہیں کھاتا — اسے اور کیا چاہیے؟“
