ذہنی تربیت کے دس طریقے

کیا آپ جانتے ہیں کہ آئن اسٹائن اپنی پیدائش سے ہی باصلاحیت نہیں تھا، ٹیسلا بہت دیر تک اندھیرے میں اکیلا کھڑا رہتا اور کچھ نہیں کرتا تھا، لیونارڈو ڈاونچی رات بھر سونے کی بجائے وقفوں سے صرف بیس منٹ آرام کرتا تھا؟ یہ لوگ بنے بنائے ذہین نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کی تربیت کی تھی۔ آج ہم تاریخ کے چند بڑے مفکرین اور موجدوں کے دماغی تربیت کے کچھ طاقتور طریقے جانیں گے جو آپ کی سوچ اور سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔

سوچ کے لیے خاموش وقت نکالنا

جب آپ کچھ نہیں کر رہے ہوتے، کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہوتے ہیں، یا نہاتے ہوئے سوچ میں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں، تب دراصل آپ کا دماغ سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔ ذہین لوگ جیسے آئن اسٹائن اور نیوٹن وغیرہ جان بوجھ کر ایسے لمحات استعمال کرتے تھے تاکہ نئے خیالات اور نظریات سامنے آئیں۔ روزانہ 10 سے 15 منٹ ایسے خاموش لمحات گزاریں، بغیر فون یا موسیقی کے، صرف اپنے خیالات پر دھیان دیں۔

کسی چیز کو سادہ انداز میں سمجھانا

ریچرڈ فین مین، جو فزکس میں نوبل انعام یافتہ تھے، ان میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ بچوں کو بھی کوئی بھی بھی پیچیدہ موضوع سمجھا سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کسی چیز کو آسان الفاظ میں سمجھا نہیں سکتے تو دراصل آپ نے اسے خود نہیں سمجھا۔ سیکھنے کے دوران کسی بھی تصور کو سادہ انداز میں لکھیں اور اسے کسی بچے کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ جہاں آپ پھنسیں، وہ آپ کی کمزوری ہے۔

یادداشت کو مضبوط کرنا

ہمارا دماغ سیکھنے کے بعد چیزوں کو بھولنے میں تیز ہے۔ لیکن وقفے وقفے سے معلومات کو دہرانے سے یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی نئی چیز کو ایک دن بعد دہرائیں، پھر تین دن بعد، پھر ایک ہفتے کے بعد، اور پھر ایک مہینے بعد۔ یہ طریقہ آپ کی یادداشت کو مستقل بناتا ہے۔

بنیادی اصولوں سے سوچنا

جب ایلون مسک سے کہا گیا کہ راکٹ بنانا بہت مہنگا کام ہے، تو اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے پوچھا کہ راکٹ اصل میں کس چیز سے بنتا ہے؟ بنیادی دھاتیں، ایندھن، اور دیگر مواد — یہ سب قیمت میں بہت کم ہیں۔ اس نے مسئلے کو بنیاد سے سمجھا اور حل دریافت کیا۔ آپ بھی مسائل کو حل کرتے وقت پہلے بنیادی حقائق معلوم کریں، پھر آسان ترین حل تلاش کریں۔

مختلف موضوعات کو ایک ساتھ سیکھنا

کئی گھنٹے ایک ہی مضمون پڑھنے سے دماغ پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے مختلف مضامین کو باری باری پڑھیں، جیسے تھوڑی دیر ریاضی، پھر زبان، پھر تاریخ۔ اس سے دماغ کو چیلنج ملتا ہے اور وہ خود کو زیادہ فعال اور مضبوط بناتا ہے۔

خیالات کو باقاعدگی سے لکھنا

لیونارڈو ڈاونچی اپنی تخلیقی صلاحیت بڑھانے کے لیے نوٹ بکس میں سوالات، خاکے اور آئیڈیاز لکھا کرتے تھے۔ ہاتھ سے لکھنے سے دماغ بہتر طریقے سے معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ ایک ایسی نوٹ بک رکھیں جس میں آپ روزانہ کی بنیاد پر اپنی یادداشتیں تحریر کر سکیں۔ اپنے خیالات لکھیں، سوالات لکھیں، اور مختلف خیالات کو باہم جوڑ کر نتائج اخذ کریں۔

وقفوں سے مختصر نیند کی عادت ڈالنا

ڈاونچی اور ٹیسلا عام لوگوں سے بہت کم نیند لیتے تھے لیکن ان کا دماغ ہمیشہ فعال رہتا تھا۔ دماغ کو وقفے وقفے سے بیس پچیس منٹ نیند کا عادی بنا لیں تو ساری رات سونے کی ضرورت نہیں رہتی اور کام کے لیے دن کا زیادہ تر حصہ دستیاب ہو سکتا ہے۔

مشکلات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا

اسٹوئک فلسفی روزانہ تصور کرتے تھے کہ دن میں کیا کچھ غلط ہو سکتا ہے۔ اس سے وہ غیر متوقع حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتے اور مشکل حالات میں بھی پُراعتماد رہتے۔ کسی بھی اہم کام سے پہلے یہ سوچیں کہ اس میں برے سے برا کیا ہو سکتا ہے اور میں اسے کیسے سنبھالوں گا؟

مختلف شعبوں کی معلومات حاصل کرنا

سٹیو جابز نے کہا کہ تخلیقی صلاحیت مختلف خیالات کو جوڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ مختلف شعبوں سے چیزیں سیکھیں: تاریخ، موسیقی، کھانا پکانا وغیرہ۔ جتنا زیادہ آپ مختلف نقطے جمع کریں گے، آپ کا دماغ اتنے مختلف طریقوں سے ان معلومات کو آپس میں مربوط کر سکتا ہے۔

مستقل مطالعہ کی عادت بنانا

کامیاب لوگ ہمیشہ سیکھتے رہے۔ بل گیٹس ہر سال 50 کتابیں پڑھتے ہیں، وارن بفٹ اپنا زیادہ وقت مطالعے میں گزارتے ہیں۔ آپ ہفتے میں کم از کم پانچ گھنٹے نئے علم، مطالعہ اور سوچ پر دیں۔ یہ عادت آپ کی صلاحیت میں مستقل اضافہ کرتی ہے۔

یہ طریقے کسی جادو کی طرح فوری طور پر مؤثر نہیں بنتے، لیکن مستقل مشق سے دماغ کی سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ نامور لوگ صرف اس لیے کامیاب نہیں ہوئے کہ وہ ذہین تھے، بلکہ انہوں نے اپنی دماغی صلاحیتوں کی تربیت کر کے انہیں اپنی کامیابی کے لیے استعمال کیا تھا۔

https://youtu.be/n6pWkGl6k24


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات