دو انتہاؤں کے درمیان رہنے کی حکمت

جب آپ کسی ایسی چیز کو دیکھتے ہیں جو اللہ کے قوانین کے خلاف ہو تو آپ کو غصہ آنا چاہیے، لیکن ایک جائز حد تک، کیونکہ غصے کی ایک غیر صحت مند شکل بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح حد سے زیادہ بےحسی بھی درست نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر غصہ، حسد، نفرت، محبت وغیرہ کی یہ صفات کیوں رکھی ہیں؟ یقیناً ان کے پیچھے کوئی مثبت حکمت ہے۔

سوچیے، اگر ہمارے اندر غصہ نہ ہوتا تو ہم اپنے خاندان کی حفاظت نہ کر پاتے، اپنے حقوق کا دفاع نہ کر پاتے، حتیٰ کہ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت نہ کر پاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ غصے کا ایک اچھا پہلو بھی ہے، ایک درست زاویہ بھی ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی آپ کو ایک گال پر تھپڑ مارے اور آپ دوسرا گال بھی پیش کر دیں، پھر اس کے لیے گانا گائیں اور اس کے پاؤں دبائیں۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ بالفرض ایک انتہا صفر ہے اور دوسری انتہا دس ہے تو ہمیں ان کے درمیان ایک متوازن مقام پر رہنا چاہیے۔

آپ کے اندر اتنا غصہ ضرور ہونا چاہیے کہ کوئی آپ کو کمزور نہ سمجھے، لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس غصے کو کب اور کیسے ظاہر کرنا ہے،کنٹرول کے ساتھ، حکمت کے ساتھ۔

مثال کے طور پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ اپنی ذات کے لیے کبھی غصہ ظاہر نہیں کرتے تھے، لیکن جب اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی تو پھر کوئی بھی آپ کے غصے کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ یعنی آپؐ صحیح چیز پر اور صحیح انداز میں غصہ کرتے تھے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرماتے تو یہ کوئی نرم و نازک انداز نہیں ہوتا تھا بلکہ آپؐ کا چہرہ ایسے سرخ ہو جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو خبردار کر رہے ہوں۔ اس میں طاقت بھی ہوتی، جلال بھی، اور ایک متوازن انداز میں غصے کا اظہار بھی۔

بہت سے لوگ ان صفات کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غصہ ہمیشہ برا ہے، یا برداشت ہر حالت میں اچھی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان چیزوں کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی انسان میں بہت زیادہ رحم ہو تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ بظاہر وہ عاجزی لگتی ہے، مگر اگر حد سے بڑھ جائے تو وہ کمزوری بن جاتی ہے۔ ایسا شخص کسی بات پر ’’نہ‘‘ نہیں کہہ پاتا اور ہر کسی کے سامنے مائل ہو جاتا ہے۔

فرض کیجیے کوئی دکاندار ہے، آپ اس سے رعایت مانگتے ہیں تو وہ کہتا ہے: ’’لے جائیے، مفت لے جائیے۔‘‘ ایک آدھ دفعہ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ ایسا ہی کرتا رہے تو اس کے بچے کہاں سے کھائیں گے؟ اس کا مطلب ہے کہ حد سے زیادہ رحم دراصل کمزوری بن جاتا ہے، جو رحمت نہیں بلکہ بے بسی ہے۔

دوسری طرف، اگر کسی میں بالکل رحم نہ ہو تو وہ سخت دل اور بے حس بن جاتا ہے۔ اس کا بچہ رو رہا ہے اور وہ کوئی ردعمل ہی نہیں دیتا کہ کوئی احساس نہیں، کوئی حرکت نہیں، جیسے کوئی مجسمہ ہو۔ یہ بھی ایک انتہا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہر صفت کی دو انتہائیں ہوتی ہیں اور ایک درمیانی متوازن حالت ہوتی ہے اور ہمیں اسی اعتدال کو اپنانا ہے۔

اسی طرح عاجزی یا تواضع کو دیکھ لیجیے۔ اگر کوئی غلط لوگوں کے سامنے بھی حد سے زیادہ عاجز بن جائے، مثلاً کوئی اسلام کو گالی دے رہا ہو، اس کی ماں کو برا کہہ رہا ہو، اور وہ کہے: ’’میں تو ایک عاجز انسان ہوں‘‘، تو یہ عاجزی نہیں بلکہ کمزوری ہے۔

اور اس کی دوسری انتہا تکبر ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ میں سب سے بہتر ہوں، دوسروں سے برتر ہوں، مثلاً‌ اپنی بات کے آگے کسی کی بات ہی نہ سننا۔ یہ انتہا بھی غلط ہے۔

کبھی کبھی حد سے زیادہ عاجزی بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی میٹنگ میں کوئی اہم بات ہو رہی ہو، مگر کچھ لوگ اتنے خاموش اور ’’عاجز‘‘ ہوتے ہیں کہ اپنی رائے ہی نہیں دیتے۔ باہر آ کر وہی لوگ غیبت شروع کر دیتے ہیں۔ ابن القیم کے مطابق اس طرح عاجزی گناہ میں بدل جاتی ہے۔

لہٰذا، کوئی بھی صفت اگر حد میں نہ رہے تو مسائل پیدا کرتی ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی ہو، خاندانی معاملات ہوں یا پیشہ ورانہ ماحول۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفات انسان میں پیدائشی ہوتی ہیں یا وقت کے ساتھ بنتی ہیں؟ مثال کے طور پر صبر کو دیکھ لیجیے۔ کچھ لوگ بہت صابر ہوتے ہیں، کچھ بہت جلد غصہ ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ فرق پیدائش سے ہوتا ہے یا ماحول سے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ وقت کے ساتھ سیکھا جاتا ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ انسان کچھ بنیادی خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: ’’آپ میں دو ایسی صفات ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں: بردباری اور تحمل۔‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’کیا میں نے یہ صفات خود سیکھی ہیں یا یہ مجھے پیدائشی طور پر ملی ہیں؟‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ آپ کو پیدائشی طور پر دی گئی ہیں۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ صفات انسان کی فطرت میں ہوتی ہیں، ایک بنیادی سطح پر۔ پھر ماحول، تربیت، اساتذہ، والدین اور زندگی کے تجربات ان صفات کو یا تو بہتر بنا دیتے ہیں یا کمزور۔ لہٰذا انسان کے اندر ایک بنیادی مزاج ہوتا ہے، مگر وہ اسے بدل بھی سکتا ہے، سنوار بھی سکتا ہے۔

جیسا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں: ’’میں صبر والا نہیں ہوں، میں صبر سیکھنا چاہتا ہوں‘‘ یا ’’میں بہت زیادہ ملنسار ہوں، اب اس میں کمی لانا چاہتا ہوں۔‘‘ یہ سب ممکن ہے، کیونکہ فطرت بنیاد دیتی ہے، اور زندگی اسے شکل دیتی ہے۔

https://youtu.be/9KPJ-qqi7pE


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات