امریکی جنگی اسلحہ اتنا مہنگا کیوں ہے؟
صرف ایک ایف-35 لڑاکا طیارے کی قیمت 100 ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے مہنگا ہتھیاروں کا نظام ہے۔اور یہاں اسکرین پر یہی جدید ترین طیارہ آسمان سے گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس مخصوص حادثے کی وجہ دورانِ پرواز ایندھن بھرنے میں پیش آنے والی خرابی تھی۔ لیکن جب بھی ان میں سے کوئی طیارہ تباہ ہوتا ہے تو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، اور یہ رقم امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے جاتی ہے۔
اندازہ ہے کہ 2026ء میں امریکی دفاعی اخراجات پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنا زیادہ پیسہ خرچ کرنے کے باوجود امریکی حکومت اپنے ہتھیار خود مرمت نہیں کر سکتی، بلکہ اسے انہی کمپنیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جنہوں نے یہ ہتھیار بنائے ہوتے ہیں۔ ہتھیار اکثر اندازوں سے زیادہ مہنگے ثابت ہوتے ہیں، ان کی فراہمی میں تاخیر معمول بن چکی ہے، اور موجودہ نظام بظاہر اس مقصد کے بالکل برعکس کام کرتا ہے جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ یہاں تک کیسے پہنچا؟ اور امریکی ہتھیار غیرمعمولی طور پر اتنے مہنگے کیوں ہو گئے؟
ابتدائی فوجی معاہدے اور بڑھتے ہوئے اخراجات
امریکی فوجی معاہدوں کی تاریخ خود امریکی آئین سے بھی پرانی ہے۔ ہتھیاروں پر زیادہ اخراجات کے بارے میں خدشات بھی کوئی نئی بات نہیں۔ 1903ء میں ایک نئی اور تجرباتی ٹیکنالوجی نے دنیا کا مستقبل بدلنے کی بنیاد رکھی۔ اورول اور ولبر رائٹ نے پہلی بار ایندھن سے چلنے والے طیارے کو کامیابی سے اڑایا۔ صرف 12 سیکنڈ کی اس پرواز نے ثابت کر دیا کہ انسان فضا میں اڑ سکتا ہے۔ چھ سال بعد رائٹ برادران نے امریکی حکومت کو پہلا فوجی طیارہ 30 ہزار ڈالر میں فروخت کیا، جو آج کے حساب سے تقریباً 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران نئی ٹیکنالوجی اور بحری جہاز سازی میں سرمایہ کاری نے دفاعی اخراجات میں زبردست اضافہ کر دیا۔ صرف 1917ء کے ابتدائی ہفتوں میں امریکی محکمہ جنگ نے 30 ہزار سے زائد معاہدے کیے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 7.5 ارب ڈالر تھی، جو آج کے حساب سے تقریباً 200 ارب ڈالر بنتی ہے۔ جنگ ختم ہوتے ہوتے امریکہ کا قومی قرض ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔ اسی دوران کانگریس نے محسوس کیا کہ دفاعی اخراجات پر نگرانی ضروری ہے، چنانچہ ’’گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس‘‘ یعنی GAO قائم کیا گیا تاکہ دفاعی بجٹ کی نگرانی کی جا سکے۔
دوسری جنگِ عظیم اور صنعتی انقلاب
1941ء میں پرل ہاربر پر (جاپان کے) حملے کے بعد امریکی کانگریس نے صدر روزویلٹ کو غیرمعمولی اختیارات دے دیے۔ امریکہ نے تیزی سے پرامن صنعتوں کو فوجی پیداوار میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ کار ساز کمپنیاں ٹینک بنانے لگیں، فیکٹریاں بمبار طیارے تیار کرنے لگیں، اور دفاعی پیداوار حیرت انگیز رفتار سے بڑھ گئی۔ ہنری فورڈ نے ڈیٹرائٹ کے قریب ایک دیوہیکل فیکٹری قائم کی جسے ’’ولو رن بمبار پلانٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ فیکٹری ہر گھنٹے ایک نیا بمبار طیارہ تیار کر سکتی تھی۔ فورڈ کی اسمبلی لائن تکنیک نے طیاروں کی تیاری کو تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا۔ 1944ء میں ایک B-17 بمبار طیارے کی قیمت تقریباً 2 لاکھ ڈالر تھی، جو آج کے حساب سے تقریباً 35 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آج کا ایف-35 طیارہ 80 سے 110 ملین ڈالر تک کا ہو سکتا ہے (1000 لاکھ ڈالر کا)۔
ایٹم بم اور نئی فوجی دوڑ
دوسری جنگِ عظیم کے دوران لاس الاموس کی خفیہ لیبارٹری میں ایک ایسا ہتھیار تیار کیا جا رہا تھا جس نے جنگ کی تاریخ بدل دی — اور وہ تھا ایٹم بم۔ ’’مین ہیٹن پروجیکٹ‘‘ کی مجموعی لاگت اس وقت تقریباً 2 ارب ڈالر تھی، جو آج کے حساب سے 35 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک ہتھیار نہیں تھا بلکہ اس نے جدید، پیچیدہ اور انتہائی مہنگے فوجی نظاموں کے نئے دور کی بنیاد رکھ دی، جو بعد میں سرد جنگ کے زمانے میں مزید طاقتور ہو گئے۔
سرد جنگ اور خوف کی سیاست
1950ء کی دہائی تک امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی تھی۔ سوویت یونین نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر لیے تھے جو ہزاروں میل دور ایٹمی حملہ کر سکتے تھے۔ جان ایف کینیڈی نے انتخابی مہم میں دعویٰ کیا کہ امریکہ ’’میزائل گیپ‘‘ کا شکار ہے، یعنی سوویت یونین ایٹمی ہتھیاروں میں امریکہ سے آگے نکل رہا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا کوئی حقیقی فرق موجود نہیں تھا۔ مگر خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دفاعی بجٹ بڑھانے کا ایک مؤثر طریقہ بن چکا تھا۔ حکومتیں عوام کو یہ باور کرواتی رہیں کہ دشمن بہت طاقتور ہے، اس لیے مزید فوجی اخراجات ضروری ہیں۔
1993ء کی ’’لاسٹ سپر‘‘ میٹنگ
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایک وقت ایسا آیا جب امریکہ کو لگا کہ اب دفاعی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مگر 1993ء میں ایک خفیہ اجلاس منعقد ہوا جسے ’’لاسٹ سپر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں امریکی وزیر دفاع اور ملک کی بڑی دفاعی کمپنیوں کے سربراہ شامل تھے۔ اس میٹنگ کا پیغام واضح تھا: ’’ضم ہو جاؤ یا ختم ہو جاؤ۔‘‘ چند ہی سالوں میں 51 بڑی دفاعی کمپنیاں سکڑ کر صرف پانچ رہ گئیں: لوک ہیڈ مارٹن، ریتھیون، بوئنگ، جنرل ڈائنامکس اور نارتھروپ گرومن۔ اس انضمام نے دفاعی صنعت کو تقریباً اجارہ داری میں تبدیل کر دیا۔ اب حکومت کے پاس انتخاب کے لیے بہت کم کمپنیاں رہ گئی تھیں، اور ان کمپنیوں کی سودے بازی کی طاقت بے حد بڑھ گئی۔
ایف-35: جدید جنگی مشین کا مہنگا خواب
ایف-35 پروگرام 2001ء میں 9/11 حملوں کے فوراً بعد شروع کیا گیا۔ اس وقت توجہ لاگت پر نہیں بلکہ صلاحیت پر تھی۔ یہ طیارہ ہر کام کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا: نگرانی، معلومات جمع کرنا، میدانِ جنگ میں ڈیٹا شیئر کرنا اور مختلف طیاروں کی جگہ ایک ہی نظام فراہم کرنا۔ مگر اس بلند ہدف کی قیمت بھی بہت زیادہ نکلی۔ پہلی فراہمی 2008ء میں ہونی تھی لیکن طیارہ 2011ء میں جا کر فراہم کیا گیا۔ جی اے او کی 2020ء رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی منصوبوں میں مجموعی طور پر 628 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات ہوئے، جبکہ اوسط تاخیر دو سال سے زیادہ رہی۔ 2024ء میں ایف-35 طیاروں کی فراہمی اوسطاً 238 دن تاخیر کا شکار رہی۔
اصل قیمت: اسلحہ سازی، مرمت، دیکھ بھال
اصل خرچے صرف ہتھیار بنانے تک محدود نہیں رہتے۔ ان کی مرمت، دیکھ بھال اور مسلسل آپریشنل حالت میں رکھنے پر دہائیوں تک اخراجات جاری رہتے ہیں۔ کئی پروگراموں میں مجموعی لاگت کا تقریباً 70 فیصد حصہ صرف ’’سسٹینمنٹ‘‘ یعنی دیکھ بھال پر خرچ ہوتا ہے۔ لوک ہیڈ مارٹن کے سابق انجینئر پال سونیر کے مطابق ایف-35 کے لیے اسپیئر پارٹس اور سپلائی چین سب سے بڑا خرچ بن چکے ہیں۔ اور مسئلہ صرف طیاروں تک محدود نہیں۔
لِٹرل کومبیٹ شپ: ایک ناکام بحری منصوبہ
2004ء میں امریکی بحریہ نے ایک جدید جنگی جہاز بنانے کا منصوبہ شروع کیا جسے ’’لِٹرل کومبیٹ شپ‘‘ کہا گیا۔ یہ جہاز تیز رفتار، ہلکا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونا تھا۔ مگر عملی طور پر اس میں مسلسل مکینیکل خرابیاں سامنے آتی رہیں۔ کچھ جہاز سمندر سے زیادہ وقت بندرگاہ میں کھڑے رہتے تھے۔ ابتدائی تخمینہ 220 ملین ڈالر فی جہاز تھا، مگر اصل لاگت تقریباً 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ نئے جہاز بنتے رہے جبکہ پرانے ریٹائر کیے جانے لگے۔
مرمت کے حقوق اور کمپنیوں کا اختیار
ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ امریکی فوج بہت سے ہتھیاروں کی مکمل تکنیکی ملکیت نہیں رکھتی۔ مثلاً ایف-35 کی ٹیکنالوجی کے حقوق لوک ہیڈ مارٹن کے پاس ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بعض مرمتیں صرف وہی کمپنی کر سکتی ہے۔ یعنی امریکی فوج اپنے ہی طیاروں کو کمپنی کی مدد کے بغیر مکمل طور پر مرمت نہیں کر سکتی۔ 2018ء سے 2023ء کے درمیان ایف-35 کے سسٹینمنٹ اخراجات کا تخمینہ 1.1 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 1.58 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ پورے پروگرام کی مجموعی لاگت تقریباً 2.1 ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
اصلاحات کی سرکاری کوششیں
امریکی کانگریس میں اب ایسے قوانین پیش کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد فوج کو ہتھیاروں کی مرمت کا مکمل اختیار دینا ہے۔ 2025ء میں ’’وارئیر رائٹ ٹو ریپیئر ایکٹ‘‘ متعارف کروایا گیا، جس کے تحت فوج کو ہتھیاروں کے ڈیٹا، ڈیزائن اور ٹیکنالوجی تک رسائی دی جانی تھی۔ حامیوں کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت کسی چیز کے لیے اربوں ڈالر ادا کرتی ہے تو اسے اسے خود مرمت کرنے کا حق بھی ہونا چاہیے۔ مگر ناقدین نے کہا کہ اس سے جدت متاثر ہو سکتی ہے اور سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بالآخر یہ شقیں 2026ء کے دفاعی بل سے نکال دی گئیں۔
مستقبل کا سوال
امریکی حکومت ایک طرف دفاعی اصلاحات کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف دفاعی بجٹ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 2025ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی کہ وہ مکمل طور پر نئے اور مخصوص ڈیزائن بنانے کے بجائے زیادہ تجارتی مصنوعات استعمال کرے۔ لیکن ساتھ ہی 2027ء کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ ماہرین کے مطابق اصل بحث صرف اس بات پر نہیں کہ امریکہ کتنا خرچ کر رہا ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، اور کیا یہ نظام واقعی فوجیوں اور ٹیکس دہندگان کو وہ نتائج دے رہا ہے جن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ بہت سے سابق فوجی افسران اور قانون ساز اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جدید ترین اور انتہائی مہنگے ہتھیار واقعی عام فوجیوں کی ضروریات سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں؟ کیونکہ آخرکار جنگ لڑنے میدان میں اربوں ڈالر کی مشینیں نہیں بلکہ نوجوان انسان جاتے ہیں۔
