علم یاد کرنے اور سمجھنے کا فرق

اس گفتگو میں یہ بتایا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام انسان کے سوچنے کی فطری صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ معروف نظریاتی ماہرِ طبیعات رچرڈ فائن مین کے حوالے سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ روایتی تعلیم بظاہر کامیابی تو دیتی ہے مگر حقیقی سمجھ بوجھ پیدا نہیں کرتی، بلکہ صرف کارکردگی دکھانے کی تربیت دیتی ہے۔

رٹّا بمقابلہ سمجھ کی ایک مثال

1952ء میں فائن مین نے ایک تشویشناک حقیقت دیکھی کہ ایک کلاس کے دوران طلبہ پیچیدہ سائنسی فارمولے مکمل درستگی کے ساتھ سنا سکتے تھے اور امتحانات میں اعلیٰ نمبر حاصل کر رہے تھے، لیکن جب ان سے ایک سادہ سا عملی سوال پوچھا گیا تو کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ طلبہ نے علم کو صرف یاد کیا تھا، سمجھا نہیں تھا، اور وہ اسے حقیقی دنیا میں استعمال کرنے کے قابل نہیں تھے۔ اور یہ مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ عالمی تعلیمی نظام میں موجود ایک بنیادی خامی ہے۔

تعلیم کا اصل ہدف اور حقیقتِ حال

نظامِ تعلیم کا مقصد تو اور دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ انسان کو سوچنا سکھاتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ لگی بندھی پیروی اور نمبروں کے حصول کو ترجیح دیتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں بچے فطری طور پر سوال کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں، ہر چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جیسے جیسے وہ تعلیمی نظام میں داخل ہوتے ہیں، ان کی یہ صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ وہ سوال کرنے کے بجائے صرف وہی یاد کرنے لگتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور ان کا مقصد محض اچھے گریڈز حاصل کرنا رہ جاتا ہے۔

تعلیمی نظام طلبہ کو الفاظ، تعریفیں اور فارمولے تو یاد کرواتا ہے مگر انہیں حقیقی دنیا سے جوڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔ نتیجتاً طلبہ امتحان تو پاس کر لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں اس علم کو استعمال نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کتابیں پڑھنے کے کچھ ہی عرصے بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ان علوم کی عملی مثالیں موجود نہیں ہوتیں۔

تصدیق اور پرکھ سے دستبرداری

ایک اور بڑی خرابی یہ ہے کہ روایتی تعلیم طلبہ کو خود تحقیق کرنے کے بجائے ماہرین پر بلا سوچے سمجھے اعتماد کرنا سکھاتی ہے۔ طلبہ کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ وہ کسی دعوے کی سچائی کو خود کیسے پرکھیں۔ نتیجتاً وہ صرف مستند ناموں اور اداروں پر یقین کر لیتے ہیں اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔

تجسس اور جستجو کا فقدان

روایتی تعلیم کا سب سے گہرا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے فطری تجسس کو ختم کر دیتی ہے۔ بچے فطری طور پر سیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں، مگر تعلیمی نظام انہیں صرف امتحان اور کیریئر کے لیے پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس طرح سیکھنے کا مقصد سمجھ حاصل کرنا نہیں بلکہ کامیابی حاصل کرنا بن جاتا ہے، اور انسان نئی چیزیں اور طریقے دریافت کرنے کی جستجو کھو دیتا ہے اور صرف پرانی معلومات اور اطوار پر انحصار کرنے لگتا ہے۔

روایتی تعلیمی نظام اور رچرڈ فائن مین

موجودہ تعلیمی نظام ایسے افراد پیدا کرتا ہے جو امتحانات میں کامیاب ہو سکتے ہیں، مگر آزادانہ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ علم کو دہرا سکتے ہیں مگر اسے تخلیق یا عملی طور پر استعمال نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود خود کو غیر پراعتماد اور نااہل محسوس کرتے ہیں۔ رچرڈ فائن مین نے اس نظام سے ہٹ کر ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ہر چیز کو خود سمجھنے کی کوشش کی، ماہرین کی باتوں کو بغیر تحقیق قبول نہیں کیا، اور اپنی دلچسپی کے موضوعات پر کام کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نہ صرف علم کو گہرائی سے سمجھ سکے بلکہ نئے خیالات بھی دنیا کے سامنے لا سکے۔

آخرکار یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ انسان کی ذہانت سے کہیں زیادہ تعلیمی نظام میں ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ انسان دوبارہ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ کرے، یعنی علم کو حقیقت سے جوڑے، ہر بات کی خود تصدیق کرے، اپنی پرکھ اور جستجو کو بحال کرے۔ یہی وہ بنیادی صلاحیتیں ہیں جو ہر انسان میں بچپن سے موجود ہوتی ہیں، اور انہی کو بروئے کار لانا اصل کامیابی کی کنجی ہے۔

https://youtu.be/bfWBBIYB39g


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات