تحریکِ پاکستان میں علماء کا تاریخی کردار
تحریکِ پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کے ساتھ جہاں سیاسی شخصیات پیش پیش تھیں، وہیں نامور علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں نے بھی قیامِ پاکستان کے لیے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ محترمہ اطروبہ رضا کی گفتگو کی روشنی میں تحریکِ پاکستان میں فعال کردار ادا کرنے والے ۲۰ نمایاں علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں کی خدمات پر مبنی رپورٹ درج ذیل ہے:
تحریکِ پاکستان محض سیاسی رہنماؤں کی جدوجہد تک محدود نہیں تھی، بلکہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ملک گیر سطح پر علماء اور مشائخ عظام کا قوی تعاون اور حمایت حاصل تھی۔ علمائے کرام نے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کرنے، آل انڈیا مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچانے اور پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
۱. امیرِ ملت پیر سید جماعت علی شاہ
پیر سید جماعت علی شاہ نے اپنے لاکھوں مریدین کے ساتھ تحریکِ پاکستان کی کامیابی کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے پورے برصغیر کا طوفانی دورہ کیا اور مسلم لیگ کے حق میں بڑے بڑے جلسے منعقد کروائے۔ انہوں نے مذہبی و سیاسی بیداری پیدا کرتے ہوئے صوفیائے کرام اور سجادہ نشینوں کو خانقاہوں سے نکل کر آزادی کے میدانِ عمل میں آنے کی ترغیب دی۔
۲. مولانا شبیر احمد عثمانی
دارالعلوم دیوبند سے وابستگی کے دوران جب جمعیۃ علماء ہند نے کانگریسی نقطہ نظر کی حمایت کی، تو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اختلاف کرتے ہوئے جمعیۃ علماءِ اسلام کی بنیاد رکھی۔ قائد اعظم کا ساتھ دینے کی پاداش میں انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو دارالحکومت کراچی میں پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کا اعزاز مولانا عثمانی ہی کو حاصل ہوا اور انہوں نے ہی قائد اعظم کا نمازِ جنازہ پڑھایا۔
۳. مولانا عبدالحمید خان بھاشانی
بنگال سے تعلق رکھنے والے مولانا بھاشانی پہلے کانگریس میں شامل رہے، تاہم ۱۹۳۷ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا حصہ بنے۔ انہوں نے بنگال کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کا حمایتی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
۴. مولانا عبد العلیم صدیقی
میرٹھ (اتر پردیش) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبد العلیم صدیقی نے تحریکِ پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔ عالمی سطح پر قیامِ پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے انہوں نے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے قیام کے جواز سے آگاہ کیا۔ (علامہ شاہ احمد نورانی ان کے فرزند تھے)۔
۵. علامہ سید احمد سعید کاظمی
"غزالیِ زمان" کے لقب سے معروف علامہ احمد سعید کاظمی نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ۱۹۴۶ء میں بنارس میں منعقدہ تاریخی 'آل انڈیا سنی کانفرنس' کی کامیابی میں آپ کا محنتِ شاقہ کا بڑا عمل دخل تھا، جس نے برصغیر میں مسلم لیگ کی حمایت کو مضبوط کیا۔
۶. مفتی محمد شفیع دیوبندی
دارالعلوم دیوبند کے مفتیِ اعظم مفتی محمد شفیع نے مولانا حسین احمد مدنی کے سیاسی موقف سے اختلاف کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کو خیرباد کہا اور تحریکِ پاکستان کے لیے شب و روز کام کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی تشریف لائے اور "دارالعلوم کراچی" کی بنیاد رکھی۔ (مفتیِ اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی ان کے فرزند ہیں)۔
۷. پیر سید ابوالحسنات قادری
جامع مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب اور نامور عالمِ دین پیر سید ابوالحسنات قادری قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ بنارس کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے لیے بے مثال خدمات سرانجام دیں، جنہیں مسلم لیگ کی قیادت نے سراہا۔
۸. خواجہ قمر الدین سیالوی
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے سیال شریف کے سجادہ نشین خواجہ قمر الدین سیالوی نے ۱۹۴۶ء کے تاریخی انتخابات میں مسلم لیگ کی فتح کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مریدین کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کیا۔
۹. مولانا اشرف علی تھانوی
مولانا اشرف علی تھانوی نے جمعیۃ علماء ہند کی پالیسیوں سے الگ ہو کر قائد اعظم اور مسلم لیگ کی کھل کر حمایت کی۔ برصغیر میں پھیلے ہوئے ان کے لاکھوں مریدین اور خلفاء نے مسلم لیگ کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کی سیاسی بصیرت کو مسلمانوں کے مفاد کے مطابق قرار دیا۔
۱۰. مولانا ظفر احمد عثمانی
مولانا اشرف علی تھانوی کے بااعتماد خلیفہ مولانا ظفر احمد عثمانی نے مسلم لیگ کے پیغام کو عوام تک پہنچایا۔ قیامِ پاکستان کے وقت ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی سعادت مولانا ظفر احمد عثمانی ہی نے حاصل کی تھی۔
۱۱. مولانا عبدالحامد بدایونی
"فاتحِ آسام" کے نام سے معروف مولانا عبدالحامد بدایونی نے تحریکِ پاکستان کے لیے بے پناہ جدوجہد کی۔ ۱۹۴۶ء کے انتخابات کے موقع پر انہوں نے یوپی، بہار، اڑیسہ، بمبئی، بنگال اور پنجاب کا دورہ کر کے مسلمانوں کو منظم کیا۔
۱۲. مولانا عبدالستار خان نیازی
میانوالی سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالستار خان نیازی نے طالب علمی کے دور میں 'مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن' کی قیادت کی اور تحریکِ پاکستان میں متحرک رہے۔ بعد ازاں وہ قومی سیاست میں بھی متحرک رہے۔
۱۳. پیر صاحب مانکی شریف (سید امین الحسنات)
خیبر پختونخوا (سابقہ سرحد) سے تعلق رکھنے والے پیر صاحب مانکی شریف نے سرحد ریفرنڈم اور انتخابات میں مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی دلائی۔ ان کی دعوت پر قائد اعظم نے صوبہ سرحد کا تاریخی دورہ بھی کیا تھا۔
۱۴. علامہ ابن حسن جارچوی
شيعہ مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نامور عالمِ دین علامہ ابن حسن جارچوی آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے اور انہوں نے اپنے خطبات و تحاریر کے ذریعے قیامِ پاکستان کے نظریے کو عام کیا۔
۱۵. مولانا سید محمد سجاد ناظم آبادی
کراچی اور سندھ سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام میں مولانا سید محمد سجاد ناظم آبادی کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے حق میں فکری اور معاشی دلائل پیش کیے اور قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کی۔
تحریکِ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کا قیام صرف ایک سیاسی تحریک کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور مشائخ کی مشترکہ قربانیاں اور جدوجہد شامل تھی۔ ان شخصیات نے اپنے اپنے دائرہ اثر میں عوام کو آزادی کے لیے متحد کیا اور برصغیر میں ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب کو تعبیر دی۔
نوٹ: یہ تحریر محترمہ اطروبہ رضا کی گفتگو کا خلاصہ ہے جس میں انہوں نے تحریکِ پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والے بیس اکابر علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے، مکمل گفتگو کے لیے درج ذیل لنک پر ویڈیو ملاحظہ کیجیے:
