پاکستان کے 1998ء کے جوہری تجربات فیصلہ سازی — تیاریاں — عملدرآمد
پس منظر
1998ء میں بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دوبارہ حکومت بننا دنیا کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ اس پارٹی نے 24 سال بعد بھارت کے جوہری تجربات کا فیصلہ کیا، حالانکہ پچھلی حکومتوں نے بھی اس کی تیاریاں کر رکھی تھیں۔ بھارت کی طرح پاکستان نے بھی برسوں تک جوہری تجربات کی تیاریاں کی تھیں، چنانچہ مختصر نوٹس پر جوابی کارروائی ممکن تھی۔
اس سے قبل 6 اپریل 1998ء کو پاکستان نے اپنے 'غوری' میزائل کا پہلا تجربہ کیا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ 1100 کلومیٹر کے ہدف تک پہنچا، جبکہ حقیقت میں یہ 800 کلومیٹر ہی تھا۔ یہ میزائل دراصل شمالی کوریا کا نو ڈونگ تھا، جسے مقامی طور پر تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اگرچہ اس تجربے نے بھارت کے جوہری منصوبوں کو براہِ راست متاثر نہیں کیا، تب بھی اس نے خطے میں وہ کشیدہ فضا پیدا کر دی جس میں 11 مئی 1998ء کو بھارت نے تین جوہری تجربات کیے اور دو دن بعد مزید دو تجربات کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
تجربے کا فیصلہ: عوامی دباؤ، سیاسی کشمکش، حکمتِ عملی
بھارت کے تجربات نے وزیراعظم نواز شریف کے لیے صورتِ حال ناقابلِ برداشت بنا دی۔ پاکستان کو اپنی فنی برتری ثابت کرنے، طاقت کا توازن بحال کرنے، اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے جوابی تجربات کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ سیاسی جماعتوں کے تمام دھڑوں بشمول حزب اختلاف کی رہنما بینظیر بھٹو نے تجربات کی حمایت کی۔ وزیر خارجہ گوہر ایوب خان اور فوجی قیادت، جو پاکستان میں اصل اختیار کی حامل تھی، برسوں سے تجربات کی خواہاں تھی۔ نواز شریف پر اتنا شدید دباؤ تھا کہ اگر وہ مزاحمت کرتے تو ان کی حکومت فوری طور پر ختم ہو سکتی تھی۔
تاہم ماہرین کے مطابق، یہ جوابی اقدام حکمتِ عملی کے لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوا۔ پریسلر ترمیم کے تحت پابندیوں کا سامنا کرنے والے پاکستان کے لیے یہ بہتر موقع تھا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے 'ذمہ دار فریق' کا درجہ حاصل کر لیتا، جس سے پابندیوں کے خاتمے کے امکانات بڑھ جاتے۔ جوابی تجربات نے یہ تمام مواقع ختم کر دیے اور مزید پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
فیصلہ سازی کے مراحل: ڈیفنس کمیٹی سے حتمی حکم تک
پہلا مرحلہ: ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس (15 مئی 1998ء)
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ڈیفنس کمیٹی آف کیبنٹ (DCC) کا اجلاس ہوا، جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، اور سینئر سائنسدان شریک ہوئے۔ چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) ڈاکٹر اشفاق احمد بیرونِ ملک تھے، اس لیے تکنیکی جائزہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پیش کیا، جو PAEC کے انتہائی خفیہ ادارے ڈائریکٹوریٹ آف ٹیکنیکل ڈیولپمنٹ (DTD) کے سربراہ تھے اور 1983ء سے کولڈ ٹیسٹ کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی شریک تھے۔
اجلاس میں دو اہم سوالات زیر بحث آئے: اول، کیا پاکستان کو جوابی جوہری تجربات کرنے چاہئیں؟ دوم، اگر کرنے ہیں تو یہ ذمہ داری PAEC کو دی جائے یا خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) کو؟
وزیر خزانہ سرتاج عزیز واحد رکن تھے جنہوں نے معاشی بحران اور پابندیوں کے خدشات کی بنا پر تجربات کی مخالفت کی۔ وزیراعظم نے نہ حمایت کی اور نہ مخالفت، جبکہ باقی تمام شرکاء نے تجربات کی حمایت کی۔
تکنیکی جائزے میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ بھارت کا 11 مئی کو صرف ایک تجربہ کامیاب ہوا اور اگر تھرمونیوکلیئر ڈیوائس استعمال ہوئی تو وہ ناکام رہی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ PAEC کو حکم ملنے پر دس دنوں میں تجربات کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل ہے۔
دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ KRL نے یورینیم کی افزودگی سے لے کر بم کی ڈیزائننگ اور کولڈ ٹیسٹ تمام مراحل خود انجام دیے ہیں، اور وہ بھی دس دنوں میں تجربات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعزاز KRL کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مایوسی کا شکار ہو جائے گا۔
PAEC کو دو اضافی برتری حاصل تھی: پہلا، اس نے ہی چاغی (بلوچستان) میں تجرباتی سائٹ تیار کی تھی، اور دوسرا، اسے کولڈ ٹیسٹ کا زیادہ تجربہ تھا۔ یہ اجلاس بغیر کسی حتمی فیصلے کے ختم ہوا۔
دوسرا مرحلہ: امریکی جاسوسی اور عوامی دباؤ
اسی ہفتے کے آخر تک امریکی جاسوس سیٹلائٹس نے چاغی میں پہلے سے تیار سائٹ پر آلات کی آمدورفت دیکھ لی، جو ایران کی سرحد سے صرف 50 کلومیٹر دور تھی۔ سی آئی اے نے قیاس کیا کہ تجربہ 17 مئی کو ہو سکتا ہے۔ عوامی جذبات بھی فوری جواب کی حمایت میں تھے، اور بینظیر بھٹو نے تو بھارت پر پیشگی حملے کا مطالبہ کر دیا۔ گوہر ایوب خان نے صحافیوں کو بتایا کہ "پاکستان نے جوہری تجربہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، صرف وقت کا تعین باقی ہے۔" 17 مئی کو جرمن صدر ہیلمٹ کوہل کے غلط بیان سے سنسنی پھیل گئی جب انہوں نے کہا کہ انہیں معتبر اطلاع ہے کہ پاکستان نے دھماکہ کر دیا ہے، جسے فوری طور پر مسترد کر دیا گیا۔
تیسرا مرحلہ: وزیراعظم کی ذاتی مشاورت اور غیر سرکاری اجلاس
ڈاکٹر اشفاق احمد نے اپنا غیر ملکی دورہ مختصر کر کے 16 مئی کو وطن واپسی کی۔ 17 مئی کو انہیں اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو وزیراعظم سے ملاقات کے لیے بلایا گیا، جہاں انہوں نے PAEC کی تیاری کی تصدیق کی لیکن تجربے کے فیصلے سے گریز کیا۔
اسی دن یا اگلے روز ایک انتہائی محدود غیر سرکاری اجلاس ہوا جس میں صرف وزیراعظم، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور تینوں سربراہانِ افواج شریک ہوئے، کیونکہ اکیلا وزیراعظم یا آرمی چیف یہ فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس اجلاس میں دو تاریخی فیصلے ہوئے: پہلا یہ کہ بھارت کو بھرپور جواب دیا جائے گا، اور دوسرا یہ کہ تجربات کی ذمہ داری PAEC کو سونپی جائے گی۔
چوتھا مرحلہ: "دھماکہ کر دیں" کا حتمی حکم (18 مئی 1998ء)
اٹھارہ مئی کو ڈاکٹر اشفاق احمد کو دوبارہ وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، جہاں انہیں ڈیفنس کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کے الفاظ تھے: "دھماکہ کر دیں۔" یہی وہ تاریخی حکم تھا جس نے پاکستان کو جوہری طاقت بننے کا راستہ دکھایا۔
PAEC نے فوری طور پر عملے کو حکم دے دیا، اور فوج کے اداروں (12 کور، نیشنل لاجسٹکس سیل، آرمی ایوی ایشن کور، اور ایئر ٹرانسپورٹ اسکواڈرن) کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے PIA کو حکم دیا کہ وہ سائنسدانوں کو بلوچستان لے جانے کے لیے مختصر نوٹس پر بوئنگ 737 طیارہ فراہم کرے۔
جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ خبر ملی کہ یہ اعزاز PAEC کو دیا گیا ہے، تو انہوں نے آرمی چیف سے شدید احتجاج کیا۔ صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے فیصلہ ہوا کہ KRL کے عملے کو تجرباتی مقام کی حتمی تیاریوں میں شریک کیا جائے گا اور وہ تجربے کے وقت موجود ہوں گے۔
مراعات کی امریکی پیشکش اور پاکستان کا موقف
دوسری طرف امریکہ پاکستان کو تجربات سے روکنے کے لیے مراعاتی پیکج تیار کر رہا تھا۔ پریسلر ترمیم کی منسوخی، ادائیگی شدہ F 16 طیاروں کی فراہمی، اور اضافی امداد پر غور کیا جا رہا تھا، جبکہ پابندیوں کی دھمکی بھی دی گئی۔ تاہم یہ پیکج پاکستانی توقعات (خاص طور پر واضح حفاظتی ضمانتیں) پر پورا نہیں اتر سکا۔ وزیراعظم نے بظاہر فیصلہ ملتوی کر دیا، لیکن پس پردہ تیاریاں تیزی سے جاری تھیں۔
عملی تیاریاں: سائٹ، آلات اور رسد
منصوبہ بندی اور ڈیوائسز کا انتخاب
چیئرمین PAEC ڈاکٹر اشفاق احمد نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنسدانوں کے ساتھ منصوبہ بندی اجلاس کیا۔ فیصلہ ہوا کہ چونکہ بھارتی تجربات نے 14 سال بعد موقع دیا ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے گا۔ چھ مختلف ڈیزائنز کی جوہری ڈیوائسز کا انتخاب کیا گیا، جنہیں پہلے کولڈ ٹیسٹ کیا جا چکا تھا۔ راس کوہ پہاڑیوں کی سرنگ میں چھ تجربات کی گنجائش موجود تھی۔
جانگسل لاجسٹکس آپریشن
انیس مئی کو PAEC کے 140 سائنسدان، انجینئر اور تکنیکی ماہرین دو PIA کے بوئنگ 737 طیاروں پر چاغی روانہ ہوئے۔ کچھ افراد اور آلات کو سڑک کے راستے NLC کے ٹرکوں پر منتقل کیا گیا، جن کی حفاظت فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (SSG) کے کمانڈو کر رہے تھے۔
جوہری ہتھیاروں کو جزوی حصوں کی حالت میں ایک C-130 ہرکولیس طیارے پر منتقل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام حساس ڈیوائسز کو ایک ہی طیارے پر بھیجنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ چار F-16 طیارے اس کے ہمراہ تھے جنہیں خفیہ احکامات دیے گئے تھے: اگر C-130 پاکستانی فضائی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو اسے مار گرایا جائے۔ F-16 کی ریڈیو کمیونیکیشن بند رکھی گئی تاکہ متضاد احکامات نہ پہنچ سکیں۔
تنصیب اور سرنگ بندش
ہر جوہری ہتھیار کو کوہ کمبران کے نیچے بنائی گئی L شکل کی ایک کلومیٹر طویل سرنگ میں الگ اسمبلی روم میں جوڑا گیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پانچوں ڈیوائسز کی تنصیب کی ذاتی نگرانی کی، جس میں ایک دن سے زائد لگا۔ جانچ کی تاریں بچھائی گئیں جو مرکز سے 10 کلومیٹر دور مشاہداتی چوکی تک رابطہ فراہم کر رہی تھیں۔ پانچ دن میں تمام تیاری مکمل ہو گئی۔
امریکی انٹیلی جنس نے 25 مئی کو اطلاع دی کہ پاکستان کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں اور وہ کسی بھی وقت تجربہ کر سکتا ہے۔ 25 مئی کو پاکستان آرمی نے سرنگ کو سیل کرنا شروع کیا، جس میں 6000 سیمنٹ کی بوریاں استعمال ہوئیں، اور 26 مئی کی دوپہر تک یہ کام مکمل ہو گیا۔ 24 گھنٹے بعد ریگستانی گرمی میں سیمنٹ جم گیا اور سائٹ مکمل طور پر تیار قرار دے دی گئی۔
یومِ تکبیر: 28 مئی 1998ء – دھماکے کا لمحہ
27 مئی کو امریکی حکومت نے اطلاع دی کہ پاکستان تجرباتی سرنگ کو سیمنٹ سے بند کر رہا ہے۔ صدر بل کلنٹن نے اس رات 25 منٹ کی جذباتی کال میں وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ تجربہ نہ کریں، لیکن فیصلہ ہو چکا تھا: 28 مئی دوپہر 3 بجے۔
صبح سویرے پاکستان کے تمام سیسمک اسٹیشنوں کے بیرونی رابطے منقطع کر دیے گئے، فوجی اور اسٹریٹیجک تنصیبات ہائی الرٹ پر تھیں، اور فضائیہ کے F-16 اور F-7 طیارے فوری پرواز کے لیے تیار کھڑے تھے۔
چاغی میں ایک روشن، صاف دن تھا۔ سارا عملہ گراؤنڈ زیرو سے ہٹا دیا گیا۔ دس افراد مشاہداتی چوکی پر پہنچے جو دھماکے والی جگہ سے 10 کلومیٹر دور تھی۔ 1:30 بجے فائرنگ کے آلات کی جانچ کی گئی اور نماز ادا کی گئی۔
2:30 بجے ایک فوجی ہیلی کاپٹر سینئر سائنسدانوں اور عسکری افسران کو لے کر آیا: ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، چار دیگر سائنسدان (ڈاکٹر فخر ہاشمی، ڈاکٹر جاوید اشرف مرزا، ڈاکٹر نسیم خان، ایس منصور احمد) اور ایک فوجی ٹیم جنرل ذوالفقار علی کی سربراہی میں۔
3:00 بجے آخری ٹرک سائٹ سے گزرا، ایک منٹ بعد تمام کلیئرنس مل گئی۔ موجود بیس افراد میں سے ایک نوجوان چیف سائنٹیفک آفیسر محمد ارشد، جس نے ٹریگرنگ میکنزم تیار کیا تھا، کو بٹن دبانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہیں کہا گیا کہ "اللہ اکبر" کہہ کر بٹن دبائیں۔
ٹھیک 3:16 بجے بٹن دبایا گیا۔ کمپیوٹر نے فائرنگ کے چھ مراحل کا آغاز کیا، ہر مرحلے پر حفاظتی سوئچز بند ہوتے گئے اور پاور سپلائی آن ہوتی گئی۔ پانچوں جوہری آلات تک مائیکرو سیکنڈ کی ہم آہنگی کے ساتھ ہائی وولٹیج پہنچ گئی۔
بٹن دبانے کے تھوڑی دیر بعد راس کوہ کی پہاڑیوں میں زمین لرز اٹھی۔ مشاہداتی چوکی ہلنے لگی، پانچ مقامات سے دھواں اور گرد و غبار پھٹا۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہوا – اس کی سیاہ گرینائٹ کی چٹان تابکار قوتوں کے باعث ڈی آکسیڈائز ہو کر سفید ہو گئی، اور گرد و غبار کا ایک بڑا بادل پہاڑ پر چھا گیا۔
یہ سارا عمل – بٹن دبانے سے لے کر دھماکے تک – صرف تیس سیکنڈ پر محیط تھا۔ مشاہداتی چوکی میں موجود افراد کے لیے یہ ان کی زندگی کے طویل ترین لمحے تھے۔ یہ ایک ایسے سفر کی انتہا تھی جو دو دہائی قبل شروع ہوا تھا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری طاقت بن گیا۔ وزارت خارجہ نے اسے "پاکستان کی شاندار ترین گھڑی" قرار دیا۔
زلزلہ پیما ریکارڈنگ کے مطابق دھماکے کا وقت 10:16:17.6 UCT تھا (±0.31 سیکنڈ) اور شدت 4.8 سے 4.9 تھی۔
وزیراعظم کا تاریخی اعلان اور اس کے بعد کی صورتحال
28 مئی کو شام 8 بجے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ٹیلی ویژن تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ آج ہم نے حساب چکا لیا ہے اور پانچ کامیاب جوہری تجربات کیے ہیں۔ انہوں نے PAEC، KRL اور تمام متعلقہ اداروں کو مبارکباد پیش کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ترتیب میں PAEC کو اولین حیثیت دی گئی، حالانکہ عام طور پر KRL زیادہ معروف ہے۔
تقریر کے چند گھنٹے بعد پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے کہا کہ "قابل اعتبار اطلاعات" ملی ہیں کہ بھاری قبل از صبح پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں "فوری اور شدید جوابی کارروائی" کی جائے گی۔ اس کے فوراً بعد صدر رفیق تارڑ نے ہنگامی حالت اور بنیادی حقوق کی معطلی کا اعلان کر دیا۔
30 مئی 1998ء: دوسرا تجربہ (چاغی II)
30 مئی کو صبح پاکستان نے ایک چھٹا جوہری تجربہ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ایک عمودی شافٹ میں کیا گیا، جس کی جگہ صحرائی علاقہ تھی۔ اس کی شدت 4.6 اور تخمینی پیداوار 4 سے 6 کلوٹن بتائی گئی۔ پاکستان نے اسے 60 فیصد پیداوار والا چھوٹا آلہ قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دن بھی ابتدائی اطلاعات میں دو تجربوں کا ذکر تھا، لیکن سرکاری اعلان میں ایک تجربہ بتایا گیا، جس سے صحافیوں میں الجھن پیدا ہو گئی۔
تکنیکی وضاحتیں اور سائنسدانوں کے بیانات
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 30 مئی کو دی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پانچوں تجربات "یورینیم 235 استعمال کرنے والے بوسٹڈ فشن ڈیوائسز" تھے، جن میں سے کوئی بھی تھرمو نیوکلیئر نہیں تھا۔ ان کے مطابق پہلا بڑا بم 30 سے 35 کلوٹن کا تھا، جبکہ باقی چار چھوٹے ٹیکٹیکل ہتھیار تھے جو میدانِ جنگ میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
PAEC کے سابق چیئرمین منیر احمد خان نے کہا کہ یہ بوسٹڈ ڈیوائسز تھرمو نیوکلیئر بم اور ایٹم بم کے درمیانی مرحلے کی مانند ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 1984ء سے جوہری صلاحیت رکھتا ہے اور تمام آلات افزودہ یورینیم سے بنے ہیں۔
چاغی سے واپسی پر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے صرف آٹھ دنوں میں یہ کام مکمل کیا، اور اس دوران درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا۔ ایک گمنام سائنسدان نے بتایا کہ پاکستان نے پہلے کولڈ ٹیسٹ کیے تھے، اور اب ان کے پاس مستقبل میں کمپیوٹر سمیولیشن کے لیے مزید ڈیٹا موجود ہے۔
تکنیکی شکوک و شبہات اور علمی تجزیہ
رپورٹ میں کچھ ایسے نکات بھی اٹھائے گئے ہیں جو قارئین کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سرنگ میں پانچ دھماکے کرنے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی پیچیدگی بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگر ٹیلی میٹری ناکام ہو جاتی تو کچھ بھی ثابت نہ ہو پاتا۔ اس وقت پاکستان کے پاس صرف 210 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم تھا، اور اس تجربے میں 90 کلوگرام استعمال ہو گیا – جو ذخیرے کا بہت بڑا حصہ تھا۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اتنی پیچیدہ کارروائی صرف دس دنوں میں مکمل کرنا بہت مشکل لگتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی برسوں پہلے کر لی گئی تھی اور وزیراعظم کی منظوری ایک رسمی مرحلہ تھی۔ بہت سے مبصرین کے مطابق 28 مئی کو دراصل صرف دو تجربے کیے گئے تھے، لیکن وقار اور بھارت سے برابری کی خاطر پانچ کا دعویٰ کیا گیا۔
اختتامیہ
28 اور 30 مئی 1998ء کے جوہری تجربات نے جنوبی ایشیا کے عسکری اور جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ تجربات شدید داخلی دباؤ، امریکی مزاحمت، دو مسابقتی اداروں کے درمیان پیچیدہ ہم آہنگی، اور ایک ایسی قیادت کا نتیجہ تھے جس نے بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود اپنے ملک کو جوہری طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔ چاہے اس میں پانچ ہتھیار دھماکے ہوئے یا دو، چاہے پیداوار 40 کلوٹن تھی یا 9 کلوٹن، ایک حقیقت تاریخ میں ثبت ہو گئی: پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری ریاست بن چکا تھا۔
