پاکستان کا قومی ترانہ فارسی میں کیوں ہے؟
شبنم نسیمی اپنی گفتگو میں ایک دلچسپ سوال اٹھاتی ہیں: آخر پاکستان کا قومی ترانہ فارسی میں کیوں ہے، جبکہ ملک کی سرکاری زبانیں اردو اور انگریزی ہیں؟ وہ بتاتی ہیں کہ ترانے کے پچاس الفاظ میں سے صرف ایک لفظ خالص اردو کا ہے، باقی سب فارسی کے ہیں۔ اس کی وجہ سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً ایک ہزار سال پیچھے جانا پڑے گا۔ گیارہویں صدی میں قائم غزنوی سلطنت کی طرف، جس کا مرکز غزنی (موجودہ افغانستان) تھا۔ سلطان محمود غزنوی وہ حکمران تھا جس نے برصغیر میں پہلی بار فارسی زبان کو متعارف کروایا۔
خود اردو زبان کا لفظ ترکی زبان کے لفظ "اردو" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے لشکر یا فوجی کیمپ۔ اٹھارہویں صدی تک اس زبان کو ’’زبانِ اردوئے معلیٰ‘‘ کہا جانے لگا، یعنی شاہی لشکر کی زبان۔ یہ زبان اُس وقت وجود میں آئی جب ترک سپاہی، فارسی ایڈمنسٹریٹرز اور مقامی ہندوستانی لوگ بارہویں اور تیرہویں صدی میں دہلی میں آپس میں گھلنے ملنے لگے۔ بعد میں امیر خسرو، مرزا غالب اور پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال جیسے شعرا کو فارسی اور ابتدائی ہندوستانی زبانوں پر یکساں عبور حاصل رہا ہے۔
پھر وقت آتا ہے 1947ء کا، جب پاکستان ایک نیا ملک بن کر ابھرتا ہے اور اس کے رہنماؤں کو ایک قومی ترانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سوال یہ تھا کہ یہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے؟ بظاہر جواب واضح تھا: اردو، کیونکہ یہی قومی زبان ہے۔ لیکن ایک مسئلہ تھا کہ اردو اور ہندی زبانوں کی ستر فیصد روزمرہ لغت مشترک تھی۔ اگر ترانہ سادہ اردو میں لکھا جاتا تو وہ ہندوستانی انداز کا محسوس ہوتا۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ فارسی کا سہارا لیا جائے، ایسی زبان جو مسلم سیاسی عظمت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
پاکستان کو اپنا قومی ترانہ منتخب کرنے میں سات سال لگے۔ اس عمل کا آغاز 1948ء میں ہوا جب جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان تاجر اے آئی غنی (عبد العزیز عیسٰی غنی) نے قومی ترانے کی بہترین دُھن اور شاعری کے لیے پانچ ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔ حکومت نے اس مقابلے کی تشہیر کی اور دسمبر 1948ء میں باضابطہ طور پر قومی ترانہ کمیٹی قائم کی گئی۔ آخرکار 723 تحریروں میں سے حفیظ جالندھری کا کلام منتخب ہوا۔ جالندھری کوئی عام شاعر نہیں تھے؛ ان کے استاد غلام قادر گرامی ایک فارسی شاعر تھے، اور حفیظ جالندھری خود فارسی ادبی روایت سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔
پھر 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں عربی زبان کو فروغ دینے کی ایک مہم شروع کی۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان زیادہ عربی اور زیادہ اسلامی نظر آئے، اسی لیے ’’خدا حافظ‘‘ جیسے فارسی الفاظ کو ’’اللہ حافظ‘‘ جیسے عربی الفاظ سے تبدیل کیا گیا۔ لیکن اس مہم میں بھی قومی ترانے کو نہیں چھیڑا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ ترانہ محض فارسی زبان کے الفاظ نہیں، بلکہ ایک دعویٰ ہے۔ ایک ایسی تہذیب کا دعویٰ جو استنبول سے دہلی تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان محض ایک نیا ملک نہیں ہے، بلکہ ایک ہزار سالہ تاریخی ورثے کا وارث ہے۔
