کرد فورسز کا شام کی فوج میں انضمام
مظلوم عبدی کا موقف
کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے سربراہ مظلوم عبدی نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم نے شامی فوج میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب یہ ایک آزاد مسلح فورس کے طور پر کام نہیں کرے گی۔
معاہدے کے تحت کرد جنگجو شامی فوج کا حصہ بنیں گے، جبکہ شام کے آئین میں کرد عوام کے ثقافتی، شہری اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی۔
عبدی کے مطابق کرد فورسز اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گی، لیکن ان کی جدوجہد کا مقصد مستقل جنگ نہیں تھا بلکہ ایسا شام تھا جہاں عوام امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے اس پیشرفت کو میدانِ جنگ سے تعمیر و ترقی اور اسلحے کے دور سے امن کے دور کی طرف منتقلی کا آغاز قرار دیا۔
شامی حکومت کے لیے اہم پیشرفت
صدر احمد الشرع کی حکومت کے لیے یہ معاہدہ اہم ہے، کیونکہ حکومت کے بڑے اہداف میں ملک میں استحکام اور سکیورٹی کے قیام کے ساتھ مختلف مسلح گروہوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو دوبارہ مرکزی ریاست کے تحت لانا شامل ہے۔
کرد ڈیموکریٹک فورسز کی سابقہ حیثیت
2015ء میں کرد اور عرب مسلح گروہوں کے اتحاد سے قائم ہونے والی ایس ڈی ایف نے خانہ جنگی کے دوران شمال مشرقی اور مشرقی شام کے وسیع علاقوں پر کنٹرول قائم کیا تھا۔
ایس ڈی ایف نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ اور مغربی ممالک کی اہم اتحادی فورس کے طور پر کردار ادا کیا اور اسے امریکہ سے اسلحہ، مالی معاونت، انٹیلیجنس اور تربیت سمیت مختلف مدد ملتی رہی۔
حالیہ طاقت کا توازن
گزشتہ ڈیڑھ برس میں حالات تبدیل ہوئے اور امریکہ نے دمشق حکومت کی حمایت بڑھانا شروع کی۔ جنوری 2026ء میں شامی حکومتی افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان لڑائی میں ایس ڈی ایف کو بھاری نقصان ہوا اور اس نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کا بڑا حصہ کھو دیا۔
انضمام کا معاہدہ اور عملی نفاذ کا چیلنج
فوجی نقصان کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ ہوا، جس کے تحت ایس ڈی ایف نے شامی ریاست کے اداروں میں ضم ہونے پر اتفاق کیا۔
گزشتہ تقریباً سات ماہ سے ایس ڈی ایف کے جنگجو دمشق کے قریب تربیتی مراکز میں آتے رہے، جہاں انہیں شامی فوج میں شمولیت کے لیے تربیت دی گئی۔
منصوبے کے مطابق سابق ایس ڈی ایف جنگجوؤں کو شامی فوج کی تین بریگیڈز میں شامل کیا جائے گا۔
انضمام کے باوجود بھاری ہتھیاروں کے مستقبل اور ایس ڈی ایف کی خواتین جنگجوؤں — YPJ — کی حیثیت جیسے معاملات ابھی اہم ہیں۔
YPJ جنگجو خود کو پیشہ ور فوجی قرار دیتے ہوئے وزارتِ دفاع کے تحت شامی فوج میں شامل ہونا چاہتی ہیں، جبکہ دمشق انہیں وزارتِ داخلہ کے تحت پولیس میں شامل کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ شمال مشرقی شام میں معاہدے کو عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے گا اور سابق ایس ڈی ایف جنگجوؤں، اس کے ہتھیاروں اور مقامی انتظامی ڈھانچے کا مستقبل کیا ہوگا۔
ماہرین کا تجزیہ
بعض ماہرین کے مطابق ایس ڈی ایف کا خاتمہ طویل خانہ جنگی کے بعد شام کو دوبارہ ایک مرکزی ریاست کے تحت متحد کرنے کی کوشش میں اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔
شامی نژاد امریکی پروفیسر اور مصنف اوصالی بابرک کے مطابق ایس ڈی ایف کا خاتمہ طویل تنازع کے ایک باب کے اختتام کی علامت ہے اور موجودہ معاہدہ کامیاب ہوا تو اس کے اثرات شام کے جنوب اور ممکنہ طور پر مغربی علاقوں کے دیگر مسلح گروہوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شام کا مستقبل ایک متحد ملک کی حیثیت سے وابستہ ہے، لیکن اس اتحاد کے لیے ملک کے مذہبی، مسلکی، لسانی اور نسلی تنوع کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔
ایس ڈی ایف کے انضمام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ فوجی انضمام، کرد حقوق، خواتین جنگجوؤں کی حیثیت، ہتھیاروں اور شمال مشرقی شام کے انتظام سے متعلق باقی معاملات کس حد تک باہمی رضامندی سے حل کیے جاتے ہیں۔
