سپر طاقت کے زوال کا ایک مؤثر ذریعہ

فرید زکریا کے مطابق گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جسے بظاہر معمولی سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے دور رس جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ — جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی اہم علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے شدید حریف رہے ہیں — نے پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے شہر مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ ایک دوسرے کے دفاع میں جنگ کریں گے۔

فرید زکریا کے نزدیک اس پیشرفت کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تو طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور سلامتی کے تعلقات موجود رہے ہیں، لیکن سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات اس کے برعکس شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک قطر، مصر اور اخوان المسلمون سمیت کئی علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مخالف رہے، جبکہ جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل نے اس اختلاف کو انتہائی سنگین بنا دیا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے بیانات سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ وہ اس قتل کی ذمہ داری براہِ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کرتے ہیں۔ ایسے پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان دونوں ممالک کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے تک کون سی قوت لے آئی؟

فرید زکریا کے خیال میں اس کا ایک اہم جواب خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، یا زیادہ درست الفاظ میں، امریکہ اور ٹرمپ کے وعدوں پر ان ممالک کا کم ہوتا ہوا اعتماد ہے۔ فرید زکریا کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے امریکی صدارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صرف گزشتہ برس سعودی عرب اور قطر دونوں کو ٹرمپ کی جانب سے سلامتی کی ضمانتیں دی گئی تھیں، لیکن اب ان ممالک کے لیے یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ امریکی یقین دہانیوں پر کس حد تک بھروسا کیا جا سکتا ہے۔

فرید زکریا نے یاد دلایا کہ ٹرمپ بارہا یہ اعلان کرتے رہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہونے والا ہے اور معاملہ چند ہی دنوں میں طے پا جائے گا۔ جون کے وسط تک ایسے کم از کم ۳۸ بیانات سامنے آ چکے تھے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ معاہدہ قریب ہے اور ایران شدت سے معاہدہ کا خواہشمند ہے۔ لیکن بعد میں ایک ایرانی سورس نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں کوئی قابلِ ذکر پیشرفت ہی نہیں ہوئی۔ فرید زکریا کے مطابق اس صورتحال نے دنیا کو ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات کو ایسی معلومات سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے جن میں حقیقت اور مبالغے کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

یہ صورتحال صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ یورپ میں بھی ٹرمپ کے بیانات اور امریکی پالیسی کے درمیان عدمِ تسلسل نے اتحادی ممالک کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مثال کے طور پر مئی میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجی واپس بلائے جائیں گے اور مزید کمی کا عندیہ بھی دیا۔ اس کے بعد پینٹاگون نے پولینڈ میں تقریباً چار ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا، لیکن چند ہی دن بعد ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ مزید پانچ ہزار فوجی پولینڈ بھیجے جائیں گے۔ کبھی وہ یورپ کو روس کے خلاف دفاع فراہم کرنے سے گریز کی بات کرتے ہیں اور کبھی اس کے برعکس یقین دہانی کراتے ہیں۔

فرید زکریا کے مطابق کسی یورپی وزیرِ دفاع کے لیے ایسے متضاد بیانات کے ماحول میں دس سالہ دفاعی منصوبہ بنانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ 

یہی مسئلہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، لیکن جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک حالیہ دن میں صرف ۱۴ بحری جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ ۱۳۰ سے زیادہ جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔

فرید زکریا کے نزدیک یہ معاملہ محض ٹرمپ کے اندازِ گفتگو یا سیاسی بیان بازی کا مسئلہ نہیں، بلکہ امریکی طاقت کی بنیاد سے متعلق ایک بنیادی سوال ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہازوں، جدید جنگی طیاروں اور فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ ایک اور انتہائی اہم اثاثہ بھی تعمیر کیا تھا جسے عالمی اعتماد کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکہ کے اتحادی یہ سمجھتے تھے کہ امریکی وعدے ایک حکومت سے اگلی حکومت تک برقرار رہیں گے، جبکہ مخالف قوتیں بھی جانتی تھیں کہ امریکی دھمکیوں میں اگرچہ کبھی مبالغہ شامل ہو سکتا ہے، لیکن ان کے پیچھے حقیقی قوت موجود ہے۔

امریکی پالیسی ہمیشہ مکمل طور پر غلطیوں سے پاک نہیں رہی۔ واشنگٹن نے ماضی میں وعدے توڑے اور غلط فیصلے بھی کیے، لیکن مجموعی طور پر ایک بنیادی تصور موجود تھا کہ امریکہ ایک قابلِ بھروسہ طاقت ہے اور امریکی صدر کے الفاظ کی کوئی نہ کوئی مستقل اہمیت ہے۔ فرید زکریا کے مطابق ٹرمپ اس کے برعکس وعدوں اور دھمکیوں کو ایک بڑے دھمکاوے یا سودے بازی کے کھیل کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کاروباری یا جائیداد کے سودے میں غیر یقینی پن شاید ایک حربہ ہو سکتا ہے، لیکن فوجی اتحاد میں یہی غیر یقینی پن انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

اگر اتحادی ممالک یہ نہیں جانتے کہ امریکی فوج کب ان کی مدد کے لیے آئے گی اور کب واپس چلی جائے گی، محصولات کب بڑھیں گے اور کب کم ہوں گے، یا آج کیا جانے والا کوئی معاہدہ کل بھی برقرار رہے گا یا نہیں، تو وہ زیادہ فرمانبردار نہیں بنتے بلکہ زیادہ خودمختار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ مختلف ممالک نے اپنے لیے متبادل ’’انشورنس پالیسیوں‘‘ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

فرید زکریا اس سلسلے میں متعدد مثالیں دیتے ہیں:

  • ڈنمارک نے امریکی پیٹریاٹ نظام کے بجائے فرانسیسی اور اطالوی فضائی دفاعی نظام اختیار کیا۔
  • کینیڈا اپنے ایف-۳۵ جنگی طیاروں کی خریداری پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔
  • یورپی حکومتیں اپنی مقامی دفاعی صنعتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
  • جنوبی کوریا یورپ میں نیٹو ممالک کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور خلیجی ممالک کو پیٹریاٹ سے کم قیمت کے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
  • اسی طرح نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی اہم کلاؤڈ سروسز ایک یورپی فراہم کنندہ کو منتقل کر دی ہیں۔
  • اور اب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان بھی ایک ایسے مشترکہ دفاعی ڈھانچے کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو مکمل طور پر واشنگٹن پر انحصار نہیں کرتا۔ 

فرید زکریا کے مطابق ان میں سے کسی ایک اقدام کو بھی امریکہ سے مکمل علیحدگی قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ سب مل کر ایک اہم رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں: 

’’امریکی وعدوں پر اعتماد میں بتدریج کمی۔‘‘

یہی رجحان امریکی دھمکیوں کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔ اگر واشنگٹن پہلے محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے، پھر کسی ملک سے رعایت حاصل کرے اور اس کے بعد دوبارہ محصولات کی دھمکی دے، تو دوسرے ممالک اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ امریکہ کے سامنے جھک جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ فرید زکریا کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ممالک یہ امید رکھیں کہ امریکی مطالبات کی مکمل تعمیل انہیں تحفظ فراہم کرے گی، تو ایسا ضروری نہیں۔

چنانچہ اس صورتحال کا فطری ردِعمل یہ بنتا ہے کہ ممالک اپنے لیے متبادل راستے اور متبادل طاقت کے مراکز تلاش کریں۔ فرید زکریا کے نزدیک بڑی طاقتیں عموماً کسی ایک ڈرامائی شکست کے نتیجے میں زوال پذیر نہیں ہوتیں، بلکہ اس وقت زوال کا آغاز ہوتا ہے جب دوسری ریاستیں خاموشی سے اپنے  معاملات کو اس طاقت کے گرد منظم کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ امریکہ اب بھی دنیا کی انتہائی طاقتور ریاست ہے۔ اس کے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج، جدید ترین ٹیکنالوجی، وسیع مالیاتی منڈیاں، مضبوط عالمی اتحاد اور امریکی ڈالر کی غیر معمولی حیثیت موجود ہے۔ لیکن عالمی سیاست میں ساکھ بھی ایک طاقت ہے، اور یہ ساکھ کئی نسلوں کی محنت سے تعمیر ہوتی ہے، جبکہ اسے ضائع کرنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔

فرید زکریا اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے سرد جنگ کے دور کے ایک تاریخی واقعے کی مثال دیتے ہیں۔ ۱۹۶۲ء کے کیوبا میزائل بحران کے دوران صدر جان ایف کینیڈی نے سابق وزیرِ خارجہ ڈین ایچیسن کو پیرس بھیجا تاکہ فرانسیسی صدر چارلس ڈیگال کو کیوبا میں سوویت جوہری میزائلوں کی موجودگی سے آگاہ کیا جا سکے۔ ایچیسن اپنے ساتھ امریکی جاسوسی طیاروں سے حاصل کردہ تصاویر بھی لے کر گئے تھے تاکہ سوویت میزائلوں کی موجودگی کا ثبوت پیش کیا جا سکے۔ لیکن ڈیگال نے ثبوت دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ان کے لیے امریکی صدر کا کہنا ہی کافی تھا۔ انہیں یہ یقین تھا کہ اگر امریکہ کا صدر کسی معاملے کے بارے میں کہہ رہا ہے تو مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔ 

فرید زکریا کے نزدیک آج کی دنیا میں اس منظر کا تصور کرنا ہی تقریباً ناممکن ہے۔ امریکی طاقت کی موجودہ صورتحال اور اُس دور کے درمیان یہی فرق ہے کہ جب امریکہ کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے وعدے پر دنیا کا اعتماد بھی تھا۔

https://youtu.be/s6qIYufgvg8


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات